نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. جارجیا میں بائیڈن کی برتری بڑھتی جارہی ہے

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایسا لگ رہا ہے کہ کڑے مقابلے والی ریاستوں میں سے ایک جارجیا میں، جو بائیڈن کی برتری بڑھتی جارہی ہے۔ گنتی کی جانے والے ووٹوں میں ان کی برتری ناصرف برقرار ہے بلکہ بڑھتی جارہی ہے۔

    رات تک 99 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی تھی جن میں بائیڈن کو 4000 ووٹوں کی سبقت حاصل تھی۔

    بی بی سی کے اعداد و شمار کے مطابق، اب ڈیموکریٹک امیدوار کو 7،248 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

    جارجیا (16 الیکٹورل کالج ووٹوں کے ساتھ) روایتی طور پر ایک ریپبلکن ریاست ہے، اور 1992 کے بعد سے یہاں سے کسی ڈیموکریٹ نے صدارتی دوڑ میں کامیابی حاصل نہیں کی۔

  2. امریکی انتخاب کے نتائج نہ آنے پر اسد عمر کا تجزیہ: ’امریکی الیکشن میں پاکستانی مناظر نظر آ گئے‘

    امریکی انتخاب کے نتائج نہ آنے پر پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ٹویٹ کیا ’ہم جوانی میں دیکھتے تھے امریکہ میں الیکشن ہوتا ہے، ووٹ گنتی ہوتے ہیں، ہارنے والا جیتنے والے کو مبارکباد دیتا ہے اور اقتدار کی منتقلی ہو جاتی ہے۔ سوچتے تھے پاکستان میں کب ایسا ہو گا۔ وہ تو ابھی تک نہیں ہوا لیکن امریکی الیکشن میں پاکستانی مناظر ضرور نظر آ گئے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. امریکی صدارتی انتخاب اس بار اتنا منفرد کیوں ہیں؟

    امریکہ میں اس سال ہونے والا صدارتی انتخاب تاریخ میں سب سے منفرد ہے۔۔۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے یہ ویڈیو دیکھیں۔

  4. میک کونل: اگر جو بائیڈن نے صدارتی انتخاب جیت لیا تو ’یقیناً‘ اقتدار پُر امن طور پر منتقل ہو گا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ریپبلکن پارٹی کے میک کونل کا کہنا ہے کہ اگر جو بائیڈن نے صدارتی انتخاب جیت لیا تو یقیناً پرامن طور پر اقتدار کی منتقلی ہوگی۔

    کنیٹکی میں رپورٹر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’بالکل۔ ہم سنہ 1792 سے ہر چار سال بعد، نئی انتظامیہ کو پرامن طور پر اقتدار کی منتقلی کرتے آ رہے ہیں۔‘

    میک کونل کا تبصرہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملے جلے پیغامات کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ابتدائی طور پر اس سال کے شروع میں صدر نے اقتدار کی منتقلی کا عہد کرنے سے انکار کردیا تھا ، پھر پچھلے مہینے ان کا کہنا تھا کہ وہ بہتر طریقے سے اقتدار کی منتقلی کی حمایت کریں گے۔

    ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا ’پرامن منتقلی۔۔۔ میں قطعی طور پر یہ چاہتا ہوں لیکن مثالی طور پر، میں منتقلی نہیں چاہتا کیونکہ میں جیتنا چاہتا ہوں۔‘

    3 نومبر سے ہی انھوں نے بنا ثبوت پیش کیے بار بار ڈیموکریٹس پر انتخاب چوری کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں اور اہم ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کو چیلنج کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  5. بائیڈن کے گھر کے اوپر سے گزرنے والی پروازوں پر پابندی میں توسیع کردی گئی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ریاست ڈیلی ویئر کے شہر ولمنگٹن میں جو بائیڈن کے گھر کے اوپر سے گزرنے والی عارضی پروازوں پر لگائی گئی پابندیوں میں توسیع کر دی گئی ہے۔

    جب سے وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بنے ہیں، سیکریٹ سروس کی درخواست پر بائیڈن کے گھر کے آس پاس ایک میل کی دوری تک عارضی پروازوں پر پابندی (ٹی ایف آر)عائد ہے۔

    لیکن 4 نومبر کو اس فاصلے کو تین میل تک بڑھا دیا گیا ہے، اور جمعہ کے روز اس آرڈر میں کم از کم 11 نومبر تک توسیع کردی گئی ہے۔

    خلاف ورزی کرنے والوں کا پائلٹ کا لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کے علاوہ وفاقی جیل میں 12 ماہ تک کی سزا یا 100،000 ڈالر (76،000 پاؤنڈ ) تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

    بائیڈن کے گھر کے اوپر سے پروازوں کے گزرنے پر پابندی کو کسی نتائج کی پیش گوئی کے طور پر نہیں دیکھا نہیں جانا چاہیے، کیونکہ اعلیٰ سیاسی شخصیات کے گھروں کے اردگرد احتیاطی تدابیر اختیار کرنا معمول ہے۔

    تاہم صدر منتخب ہونے والوں کی سیکیورٹی میں یقینی طور پر اضافہ ہوگا - لہذا اگر بائیڈن یہ صدر بن جاتے ہیں تو ہم توقع کرسکتے ہیں کہ اس کی سکیورٹی میں اضافہ ہوگا۔

  6. کورونا سے متعلق صدر ٹرمپ کے ماضی میں دیے گئے بیانات

    امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب سے ایک ماہ قبل امریکی صدر اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کووڈ 19 سے متاثر ہو گئے ہیں۔

    ماضی میں کورونا سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیانات کی چند جھلکیاں دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  7. GoFundMe نے ’ووٹر فراڈ کی تحقیقات‘ کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے شخص کا صفحہ ہٹا دیا

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فنڈ ریزنگ سائٹ GoFundMe نے ووٹروں کی دھوکہ دہی کے بے بنیاد دعوؤں کی تحقیقات کے لیے نقد رقم طلب کرنے والے ایک قدامت پسند شخص کا صفحہ ہٹا دیا ہے۔

    میٹ برائنارڈ، جنھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کے صدارتی مہم میں بطور سیاسی مشیر کے طور پر کام کیا تھا، نے ٹویٹ کیا کہ ان کے پاس سوئنگ ریاستوں میں غیر حاضر ووٹوں اور ابتدائی رائے دہندگان سے متعلق اعداد و شمار موجود ہیں اور وہ غیرقانونی ووٹوں کی نشاندہی کرنے کے لیے اس کا موازنہ سوشل سیکیورٹی اور پتے کی تبدیلی والے ڈیٹا بیس سے کرنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اپنی تحقیق کے لیے انھیں ٹرمپ کی دوبارہ انتخابی مہم یا ریپبلکن پارٹی میں سے کسی سے بھی مالی اعانت حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔

    برینارڈ نے کہا کہ GoFundMe کی شرائط و ضوابط کو توڑنے کے لیے صفحہ ہٹانے سے پہلے ہی وہ دو لاکھ 20 ہزار ڈالر (167،000 پاؤنڈ) اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

    پولیٹیکو کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ فنڈ جمع کرنے والے نے ’انتخاب کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلانے کی کوشش کی تھی اسی لیے ان کے صفحے کو ہٹا دیا گیا ہے‘ کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ تمام عطیات واپس کردیے جائیں گے۔

    اس کے جواب میں برائنارڈ نے کہا کہ انھوں نے فنڈ ریزنگ کے ایک مختلف پلیٹ فارم پر ایک نیا صفحہ بنایا ہے۔

    صدر ٹرمپ ووٹروں کی دھوکہ دہی کے متعدد دعوے کرتے آ رہے ہیں- جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹوں سے ہے۔ لیکن اس سال کے انتخاب ابھی تک منظم دھوکہ دہی یا بے ضابطگیوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

  8. ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے سربراہ ڈیوڈ بوزی کون ہیں؟

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے انتخابی نتائج کے بعد کئی طرح کی قانونی کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق انھوں نے اس قانونی لڑائی کی سربراہی کرنے والے شخص کا انتخاب کر لیا ہے۔

    اور وہ شخص ہیں ڈیوڈ بوزی، سنہ 2016 میں صدر کی انتخابی کیمپین کے ڈپٹی منیجر۔

    سنہ 2000 سے وہ لابی گروپ سٹیزنز یونائیٹڈ کے صدر ہیں۔ ان کی نگرانی میں اس قدامت پسند گروہ نے سپریم کورٹ سے کارپوریشنوں کو بھی باقی افراد کی طرح آزادیِ اظہارِ رائے کے حقوق دینے کا ایک اہم فیصلہ منظور کرایا۔ اس گروپ کے مطابق ان حقوق کا استعمال سیاسی عطیات کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔

    کہا جاتا تھا کہ ٹرمپ کی ٹیم جیمز بیکر جیسے وکیل کی خدمات حاصل کرنا چاہتی تھی۔۔ بیکر ایک وکیل اور سینئر ریپبلیکن ہیں جنھوں نے 2000 میں فلوریڈا میں دوبارہ گنتی میں جارج ڈبلیو بش ٹیم کی قیادت کی تھی جس نے انھیں وائٹ ہاؤس پہنچایا تھا۔

    بوزی وکیل نہیں ہیں - انھوں نے سیاست میں حصہ لینے کے لیے یونیورسٹی چھوڑ دی تھی - لیکن ان میں وہ ساری خصوصیات موجود ہیں جن کی خواہش ٹرمپ کیمپ رکھتا ہے: وہ بغیر لگی لپٹی بات کرتے ہیں، اور اپنے موقف کا دفاع کرنے میں ثابت قدم رہتے ہیں۔

    بوزی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ انتخابی مہم کےدوران کیے گئے دعوؤں کو ووٹنگ کے امور اور بے ضابطگیوں سے ہم آہنگ کریں گے۔

    صدر ٹرمپ نے 4 نومبر سے تقریروں اور ٹویٹر پر غلط الزامات کے ثبوت فراہم کیے بغیر، اس طرح کے متعدد الزامات لگائے ہیں۔

  9. کملا ہیرس: ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی نائب صدارتی امیدوار کون ہیں؟

    امریکہ میں رواں برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹ جماعت کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے نائب صدر کے امیدوار کے لیے سینیٹر کملا ہیرس کا انتخاب کیا ہے۔

    یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی سیاہ فام خاتون کو بطور امیدوار اس عہدے کے لیے چنا گیا ہے۔ کملا ہیرس کے بارے میں جاننے کے لیے دیکھیے یہ ویڈیو۔

  10. برنی سینڈرز: جدوجہد ’ابھی شروع ہوئی ہے‘

    سابقہ ​​صدارتی امیدوار برنی سینڈرز نے وائٹ ہاؤس پہنچنے کی دوڑ میں جو بائیڈن کی واضح کامیابی‘ کو خیرمقدم کرتے ہوئے ایک پیغام ریکارڈ کیا ہے۔

    ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں سینڈرز نے کہا کہ یہ انتخاب اس بارے میں تھا کہ ’ہم نے وائٹ ہاؤس میں جھوٹ بولنے کا خاتمہ کرنا ہے اور ہمارے ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا ہے اور خدا کا شکر ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے یہ کر دکھایا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انھوں نے کہا ’آج کی رات، جو بائیڈن کی واضح انتخابی فتح کا جشن مناتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی ابھی شروع ہوئی ہے۔‘

    بی بی سی کے اعدادوشمار کے مطابق، بائیڈن نے 270 انتخابی کالج ووٹوں میں سے 253 میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اگرچہ حتمی نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن بقیہ چھ ریاستوں میں سے چار میں وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔

  11. پنسلوینیا: پولنگ سٹیشن کے قریب، بندوقیں رکھنے کے الزام میں دو افراد گرفتار

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمشیگن میں نکالی گئی ایک ریلی کے دوران لی گئی فائل فوٹو

    فلاڈیلفیا کے پولنگ سٹیشن کے قریب بندوقیں رکھنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر کا الزام ہے کہ یہ افراد پنسلوینیا کنونشن سینٹر کے قریب ہتھیار لے کر جارہے تھے جہاں اب بھی ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    جمعرات کو ایف بی آئی کو ورجینیا سے شہر جانے والے ایک مسلح گروہ کے بارے میں اطلاع ملی، جس کے بعد ان دونوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان افراد کے پاس پنسلوانیا میں ہتھیار لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

    اے بی سی نیوز کے مطابق ان کی گاڑی پر ایک ایسا سٹیکر بھی آویزاں تھا جس سے کیون آن سازشی تھیوری کو فروغ دیا جا رہا تھا۔

    یاد رہے اس شہر میں پولیس کو بم دھماکے کی دھمکی ملنے کے بعد جمعہ کے روز کنونشن سینٹر کے قریب ایک علاقہ خالی کرنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ تاہم، تلاشی میں کوئی دھماکہ خیز مواد سامنے نہیں آیا۔

    شہر میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن دونوں کے حامی مظاہرے کررہے ہیں۔

    20 الیکٹورل کالج ووٹوں کے ساتھ، پنسلوینیا ایک اہم ریاست ہے جو فاتح کا تعین کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔

  12. ہمیں ابھی تک معلوم نہیں کہ اگلا امریکی صدر کون ہو گا, اب تک کی صورتحال: کڑے مقابلے والی ریاستوں میں بائیڈن، ٹرمپ سے آگے ہیں

    جو

    آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ہمیں ابھی تک 3 نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں فاتح کا علم نہیں ہے۔

    ووٹوں کی گنتی آہستہ آہستہ جاری ہے لیکن اس رجحان میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔

    وائٹ ہاؤس پہنچنے کے لیے بائیڈن کو 270 میں سے مزید صرف 17 الیکٹورل کالج ووٹ درکار ہیں۔

    اب سے کچھ دیر قبل ایک تقریر میں بائیڈن نے واضح طور پر فتح کا اعلان کرنے سے گریز لیکن، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ’واضح اکثریت کے ساتھ انتخاب جیتنے والے ہیں، اور امریکی قوم ان کے ساتھ ہے۔‘

    تاہم انھوں نے ملک میں تقسیم کو تسلیم کیا اور امریکیوں پر زور دیا کہ ’غصہ اور دوسروں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں‘۔

    انھوں نے مزید کہا: ’ہم ایک دوسرے کے مخالف ہوسکتے ہیں، لیکن ہم دشمن نہیں ہیں۔‘

    کڑے مقابلے والی ریاستوں میں بائیڈن، ٹرمپ سے آگے ہیں:

    • پنسلوینیا، جہاں بائیڈن کو فی الحال 28،883 ووٹوں سے برتری حاصل ہے، باقی بچ جانے والی ریاستوں میں سے اس ریاست کے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور یہاں سے جیتنے کا مطلب ہے کہ بائیڈن کو ملنے والے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 270 سے تجاوز کر جائے گی
    • ایریزونا میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے، جہاں بائیڈن 29،861 ووٹوں کے ساتھ ٹرمپ سے آگے ہیں
    • نیواڈا میں بھی 22،657 ووٹوں کے ساتھ ڈیموکریٹک امیدوار کو برتری حاصل ہے
    • جبکہ جارجیا میں بائیڈن اور ٹرمپ کے ووٹوں کے تعداد تقریباً یکساں ہے اور دونوں کے درمیان صرف 4،395 ووٹوں کا فرق ہے۔ جارجیا کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہاں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے گی

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کوئی خطاب نہیں کیا لیکن انھوں نے ٹویٹر پر بائیڈن کو خبردار کیا تھا کہ وہ فتح کا دعویٰ نہ کریں اور کہا کہ قانونی کارروائی ’ابھی ابھی شروع ہوئی‘ ہے۔

  13. امریکہ کا صدارتی انتخاب 2020: ایک موچی کا بیٹا جو امریکہ کا صدر بنا

    جو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگرچہ ابھی امریکہ کے 46ویں صدر کا انتخاب ہونا باقی ہے تاہم کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ آج سے ٹھیک 160 سال قبل یعنی چھ نومبر 1860 کو ابراہم لنکن امریکہ کے 16ویں صدر منتخب ہوئے تھے۔ ابراہم لنکن کو امریکہ کے غریب ترین صدور میں سے ایک مانا جاتا ہے۔

  14. نسل اور سیاست، ایگزٹ پولز پر کس طرح اثر انداز ہوئی

    جو

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ہر کوئی ووٹوں کی گنتی کے انتظار میں ہے۔ لیکن کچھ ووٹوں کی تعداد سے نسل اور سیاست کے متعلق ایک دلچسپ کہانی سامنے آتی ہے۔

    پینسلوینیا اور جارجیا میں ایگزٹ پولز سے کچھ ایسی صورتحال سامنے آئی:

    پینسلوینیا میں، بائیڈن کے حامیوں میں 76 فیصد سفید فام، 15 فیصد سیاہ فام، 7 فیصد لاطینی اور ایک فیصد ایشین افراد تھے۔

    امریکی مردم شماری کے مطابق اس ریاست میں 81 فیصد سفید فام افراد رہائش پذیر ہیں۔

    پینسلوینیا میں زیادہ ترسفید فام ووٹروں نے صدر ٹرمپ کو ووٹ دیے جن کی تعداد 97 فیصد بنتی ہے، جبکہ انھیں صرف ایک فیصد سیاہ فام ، 2 فیصد لاطینی اور ایک فیصد سے بھی کم ایشیائی افراد کے ووٹ ملے۔

    بائیڈن کے سات فیصد ووٹروں کا یہ بھی کہا تھا کہ انھوں نے 2016 میں ٹرمپ کو ووٹ دیے تھے۔ جبکہ ٹرمپ کے چار فیصد ووٹرزکا کہنا تھا کہ انھوں نے کلنٹن کو ووٹ دیے تھے۔

    جارجیا میں، جہاں 60 فیصد سفید فام اور 32 فیصد سیاہ فام افراد رہتے ہیں، بائیڈن کو غیر سفید ووٹروں کی زبردست حمایت ملی۔

    ایگزٹ پولز کے مطابق جن لوگوں نے بائیڈن کے حق میں ووٹ دیا ان میں 53 فیصد سیاہ فام، 35 فیصد سفید فام، 8 فیصد لاطینی اور 2 فیصد ایشین شامل تھے۔

    ٹرمپ کو ایک بار پھر سے سفید فام رائے دہندگان کی جانب سے زیادہ حمایت ملی۔ ان کے حامیوں میں 85 فیصد سفید فام، سات فیصد سیاہ فام، چھ فیصد لاطینی اورایک فیصد ایشین شامل تھے۔

    مجموعی طور پر جارجیا سے بائیڈن کو 35 فیصد سفید فام افراد کے ووٹ اور 65 فیصد غیر سفید افراد کے ووٹ ملے جبکہ ان کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کو 85 فیصد سفید فام اور 15 غیر سفید فام افراد کے ووٹ حاصل ہوئے۔

  15. امریکی صدراتی انتخاب 2020: نیویارک میں کیسا ماحول ہے؟

    امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ووٹنگ کا مرحلہ ختم ہو گیا ہے اور سب کی نظریں نتائج پر ہیں۔ اس سب کے بیچ امریکہ کے شہر نیو یارک میں کیسا ماحول ہے؟ یہ بتا رہی ہیں امریکہ میں مقیم صحافی صباحت زکریا اپنے اس وی لاگ میں۔۔۔

  16. کیورڈ بیلٹ کیا ہوتا ہے؟

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ میں ہونے والے حالیہ انتخاب میں کورونا وائرس کے باعث بہت سارے ووٹروں کے لیے بذریعہ ڈاک ووٹ بھیجنے کا یہ پہلا موقع ہے۔ لیکن اس حوالے سے قواعد انھیں الجھا سکتے ہیں۔

    کسی بیلٹ پر دستخط نہ ہونا یا غلط دستخط کے باعث کوئی بیلٹ مسترد ہو سکتا ہے اور بہت سارے ووٹر اس قاعدے سے واقف نہیں ہوں گے۔

    اسی وجہ سے متعدد ریاستوں میں کیورڈ بیلٹ کا نظام موجود ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ رائے دہندگان کو ان کے بیلٹ سے متعلق مطلع کیا جائے گا اور انھیں موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ ان کو درست بنائیں۔

    عام طور پر اس میں ایک مقررہ مدت کے اندر حلف نامے پر دستخط کرکے اسے واپس کرنا شامل ہوتا ہے، اور جن ریاستوں میں اس کی اجازت ہے وہاں کیورڈ بیلٹ مکمل طور پر قانونی ہیں۔

    لیکن جن ریاستوں میں کیورڈ بیلٹ کی اجازت نہیں، وہاں بنا دستظ یا غلط دستخط والے ووٹوں کی گنتی نہیں کی جاتی۔

  17. صدر ٹرمپ کے چیف آف سٹاف میں کورونا وائرس کی تصدیق

    ReutersCopyright

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے چیف آف سٹاف مارک میڈوز میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    یہ خبر صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد انھیں ہسپتال لے جانے کے ایک ماہ بعد سامنے آئی ہے۔

    یادر ہے اب تک امریکہ میں کورونا وائرس کے باعث 236،000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 9.7 ملین امریکیوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

  18. جو بائیڈن: اگر صدر بنا تو پہلے ہی دن مسلم تارکین وطن پر پابندی ختم کر دوں گا

    GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ایک مرتبہ دوبارہ اپنے وعدے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ صدارتی انتخاب جیت گئے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے تارکین وطن کے ملک میں داخلے پر پابندی کے حکمنامے کو ختم کر دیں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جو بائیڈن نے امریکی صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سات مسلم ممالک کے افراد پر امیگریشن کی پابندی عائد کرنا اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔

    جو بائیڈن کا ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ اگر میں صدر بنا تو پہلے ہی دن مسلم تارکین وطن پر عائد پابندی ختم کر دوں گا۔

  19. جو بائیڈن: ’غصہ چھوڑ دیں‘

    جو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جو بائیڈن نے کورونا وائرس، معاشی مشکلات اور ایک مشکل مہم کی وجہ سے پیدا ہونے والی بحران کے دوران ملک میں گہرے اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سخت انتخابات کے بعد تناؤ زیادہ ہے۔‘

    تاہم انھوں نے امریکیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’غصہ اور دوسروں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں‘۔

    ان کا کہنا تھا ’ہمیں شدید مشکلات درپیش ہیں اور تعصب پسندی پر ضائع کرنے کے لیے ہمارے پاس مزید وقت نہیں ہے۔‘

    بائیڈن کا کہنا تھا ’ہم ایک دوسرے کے مخالف ہوسکتے ہیں ، لیکن ہم دشمن نہیں ہیں۔‘

    امریکیوں سے آپس میں اتحاد کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام امریکیوں کے صدر ہوں گے۔

    انھوں نے اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کا تذکرہ نہیں کیا سوائے یہ کہنے کے کہ وہ ووٹوں میں برسر اقتدار سے آگے ہیں۔

  20. بریکنگ, بائیڈن کا کورونا وائرس کے خلاف فوری ایکشن کا وعدہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ بھر میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے متاثرین کی تعداد کے پیشِ نظر جو بائیڈن نے اپنے خطاب میں وعدہ کیا کہ وہ اس وائرس کے خلاف فوری ایکشن لیں گے۔

    امریکہ میں مسلسل تیسرے دن یومیہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے-