نیواڈا کے اٹارنی جنرل: الیکشن میں مداخلت ممکن نہیں

،تصویر کا ذریعہEPA
نیواڈا میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور وہاں ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان کڑا مقابلہ چل رہا ہے۔
ٹرمپ کی انتخابی مہم نے کئی ریاستوں میں بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا ہے اور قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
لیکن ریاست نیواڈا کے اٹارنی جنرل ایرون فورڈ نے کہا ہے کہ ان کے مطابق ان کی ریاست سے انتخاب سے متعلق کوئی مقدمہ سامنے نہیں آئے گا۔
سی این این سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قانونی اعتبار سے اس ریاست میں ووٹنگ کے نظام میں کوئی مداخلت ممکن نہیں۔
بدھ کو انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ تمام شواہد کے مطابق نیواڈا میں ’محفوظ اور کسی مداخلت کے بغیر الیکشن ہوا۔‘
’ہمیں علم تھا کہ اس عمل میں وقت لگے گا لیکن یہ نظام کام کر رہا ہے۔‘
انھوں نے اس کے بعد ووٹنگ کی گنتی اور ڈاک کے ذریعے جمع کرائے گئے ووٹوں کے بارے میں بتایا۔
’یہ بیلٹ دوبارہ مقامی کاؤنٹی کے رجسٹرار کو بھیجے جاتے ہیں اور دستخط کے ذریعے ان کی تصدیق کی جاتی ہے۔ پھر مصبرین انھیں گنتے ہیں۔‘
’ہر سطح پر تصدیق کا عمل ہوتا ہے تاکہ الیکشن کی ساکھ کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ نیواڈا کے نتائج یہاں کے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح جاری کیے جاسکیں گے۔ یعنی اس میں ابھی کچھ گھنٹے باقی ہیں۔


























