نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. نیواڈا کے اٹارنی جنرل: الیکشن میں مداخلت ممکن نہیں

    نیواڈا کے اٹارنی جنرل: الیکشن میں مداخلت ممکن نہیں

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    نیواڈا میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور وہاں ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان کڑا مقابلہ چل رہا ہے۔

    ٹرمپ کی انتخابی مہم نے کئی ریاستوں میں بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا ہے اور قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    لیکن ریاست نیواڈا کے اٹارنی جنرل ایرون فورڈ نے کہا ہے کہ ان کے مطابق ان کی ریاست سے انتخاب سے متعلق کوئی مقدمہ سامنے نہیں آئے گا۔

    سی این این سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قانونی اعتبار سے اس ریاست میں ووٹنگ کے نظام میں کوئی مداخلت ممکن نہیں۔

    بدھ کو انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ تمام شواہد کے مطابق نیواڈا میں ’محفوظ اور کسی مداخلت کے بغیر الیکشن ہوا۔‘

    ’ہمیں علم تھا کہ اس عمل میں وقت لگے گا لیکن یہ نظام کام کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے اس کے بعد ووٹنگ کی گنتی اور ڈاک کے ذریعے جمع کرائے گئے ووٹوں کے بارے میں بتایا۔

    ’یہ بیلٹ دوبارہ مقامی کاؤنٹی کے رجسٹرار کو بھیجے جاتے ہیں اور دستخط کے ذریعے ان کی تصدیق کی جاتی ہے۔ پھر مصبرین انھیں گنتے ہیں۔‘

    ’ہر سطح پر تصدیق کا عمل ہوتا ہے تاکہ الیکشن کی ساکھ کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔‘

    حکام کا کہنا ہے کہ نیواڈا کے نتائج یہاں کے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح جاری کیے جاسکیں گے۔ یعنی اس میں ابھی کچھ گھنٹے باقی ہیں۔

  2. ’دھاندلی کے دعوؤں نے امریکی انتخاب کو داغدار کیا‘, بین الاقوامی مبصرین کی تنظیم کا بیان

    ٹرمپ پینس حامی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدارتی انتخاب پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی مبصرین کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ ’قانونی اعتبار سے غیر یقینی صورتحال اور عوامی اعتماد کو کمزور کرنے کی بے مثال کوششوں نے اس الیکشن کو داغدار کردیا ہے۔‘

    آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (او ایس سی ای) نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کے باوجود حکام نے ووٹنگ کے نظام کو اچھے طریقے سے برقرار رکھا۔

    لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ انتخابی مہم میں لوگوں کو سیاسی طور پر منقسم کیا گیا، ممکنہ منظم دھاندلی کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے جبکہ پالیسی پر بحث پوشیدہ رہی۔

    اپنی ابتدائی معلومات کی بنا پر او ایس سی ای نے کہا ہے کہ ’موجودہ صدر کی جانب سے نظام میں خامیوں سے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے گئے جن میں الیکشن کی رات کو ان کا خطاب بھی شامل ہے۔

    ’اس سے جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔‘

    رپبلکن پارٹی کے بعض رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ دھاندلی روکنے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق اس سے لوگوں کی حق تلفی ہوگی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن کی رات کو کہا تھا کہ یہ ووٹ ’امریکیوں کے ساتھ ایک فراڈ ہے۔‘

    ٹرمپ کی انتخابی مہم چاہتی ہے کہ پنسلوینیا، وسکونسن، جورجیا اور مشیگن میں ووٹوں کی گنتی روک دی جائے۔ انھوں نے بغیر شواہد دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔

  3. روسی میڈیا کی نظریں امریکی صدارتی انتخاب پر, سٹیو روزنبرگ، بی بی سی، ماسکو

    روسی میڈیا کی نظریں امریکی صدارتی انتخاب پر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس میں سیاستدان اور بعض ذرائع ابلاغ امریکہ میں صدارتی انتخاب پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

    ایک روسی قانون ساز نے تو امریکی انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا ہے کہ ’ایک ڈوبتے سپر پاور کا منظر دلکش ہے۔‘

    روس میں بعض پُر اثر افراد کا خیال ہے کہ امریکی انتخاب کے پس منظر میں وہاں پریشانی، افراتفری، عدالتی مقدمات اور مظاہروں سے روس کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ وہ اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر آپ کا دشمن کمزور ہو رہا ہے تو اس کا مطلب آپ طاقتور ہو رہے ہیں۔

    ان افراد کا خیال ہے کہ اگر امریکہ میں اتحاد کم ہوگا تو امریکی رہنماؤں کی جانب سے روس پر مزید پابندیاں لگائے جانے کے امکانات بھی کم ہوجائیں گے۔

    تاہم روس میں تمام لوگ ایسے نہیں سوچتے۔

    بعض کا خیال ہے کہ اگر امریکہ میں استحکام ہوگا تو اس سے روس کو سیاسی، معاشی اور سفارتی سطح پر فائدہ پہنچے گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صرف ایک بااختیار امریکی صدر ہی روس کے ساتھ ملکی سطح پر تعلقات ٹھیک کر سکے گا۔

  4. امریکہ میں متوقع نتائج کے حوالے سے ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    ووٹ، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے 59ویں صدارتی انتخاب میں نتائج مرتب کیے جا رہے ہیں۔

    50 میں سے 43 ریاستوں کے متوقع نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کے پاس فی الوقت 243 الیکٹورل کالج ووٹ ہیں جبکہ صدر ٹرمپ 214 ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ صدر بننے کے لیے 270 الیکٹورل کالج ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

    کڑے مقابلے والی ریاستوں میں ووٹ گننے کا عمل ابھی بھی جاری ہے۔

    کڑے مقابلے والی ریاستوں میں اب تک کے نتائج:

    • مشیگن: متوقع نتائج کے مطابق جو بائیڈن یہاں جیت سکتے ہیں۔ یہ روایتی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے لیکن 2016 میں ہیلری کلنٹن کو یہاں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
    • جورجیا: حکام کا کہنا ہے کہ وہ ساری رات ووٹوں کی گنتی جاری رکھیں گے جبکہ تک ہر بیلٹ پیپر کی تصدیق نہیں کر لی جاتی۔ ٹرمپ کی برتری یہاں 28 ہزار ووٹوں سے کم ہے۔
    • نیواڈا: یہاں بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان کڑا مقابلہ جاری ہے۔ بائیڈن کو بظاہر کم برتری حاصل ہے۔
    • ایریزونا: یہ واضح نہیں کہ متوقع نتائج کب تک مرتب کر لیے جائیں گے۔ لیکن فی الحال بائیڈن کو برتری حاصل ہے۔
    • وسکونسن: بائیڈون کو یہاں 20 ہزار سے زیادہ ووٹوں کی برتری حاصل ہے لیکن مکمل نتائج جاری نہیں ہوئے۔
    • پنسلوینیا: ٹرمپ کی بڑی سبقت کم ہوتی نظر آ رہی ہے اور اب تک صرف 90 فیصد ووٹ گنے جاچکے ہیں۔
    • شمالی کیرولائنا: 96 فیصد ووٹوں کی گنتی ہوچکی ہے اور ٹرمپ کو 76 ہزار ووٹوں سے زیادہ کی برتری حاصل ہے۔

    کڑے مقابلے والی کچھ ریاستوں کے بڑے شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بائیڈن کے حامی ’ہر ووٹ گنو‘ کا نعرہ لگا ہے ہیں جبکہ ٹرمپ کے حامی ووٹوں کی گنتی روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ڈاک کے ذریعے دائر کردہ ووٹوں پر اپنے تحفظات بیان کر رہے ہیں۔

    رپبلکن پارٹی نے سینیٹ میں اپنی برتری قائم رکھی ہے جبکہ کانگریس میں صورتحال زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ ڈیموکریٹک پارٹی چار مزید سیٹیں جیتنے کے لیے پُرامید تھی۔

  5. انڈیا میں کملا ہیرس کے آبائی گاؤں میں کیا ماحول؟

    انڈیا میں کملا ہیرس کے آبائی گاؤں میں کیا ماحول؟

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکی انتخاب میں نائب صدر کی ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کا آبائی گاؤں انڈیا میں واقع ہے۔

    یہ چنائی سے 320 کلومیٹر دور واقع ہے اور ہیرس کے نانا قریب ایک صدی قبل یہاں پیدا ہوئے تھے۔ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی برتری دیکھ کر یہاں لوگوں نے جشن منانا شروع بھی کر دیا ہے، حالانکہ مکمل نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔

    انڈیا میں کملا ہیرس کے آبائی گاؤں میں کیا ماحول؟

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یہاں کے ایک رہائشی نے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم کل سے حتمی نتیجے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔۔۔ ہمیں مثبت خبریں آرہی ہیں۔ ہم جیت کا جشن منا رہے ہیں۔‘

    یہاں کئی لوگ اپنے موبائل فون پر امریکی الیشکن کی اپ ڈیٹ حاصل کر رہے ہیں۔

    انڈیا میں کملا ہیرس کے آبائی گاؤں میں کیا ماحول؟

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اور ایک مندر میں تو ان کے لیے دعا بھی کی گئی۔

  6. صدارتی امیدوار بائیڈن نے ماحول دوست توانائی سے متعلق کیا وعدے کیے ہیں؟

    صدارتی امیدوار بائیڈن نے ماحول دوست توانائی سے متعلق کیا وعدے کیے ہیں؟

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے صدر بنتے ہیں تو:

    • سنہ 2035 تک امریکہ کاربن فری (آلودگی کا اخراج) ختم کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔
    • حیاتیاتی ایندھن کی کمپنیوں کو ملنے والی سبسڈی ختم کی جائے گی۔
    • وفاقی حکومت کی زمین پر فریکنگ کی لیس ختم کر دی جائے گی۔
    • امریکہ دوبارہ پیرس معاہدے کا حصہ بن جائے گا۔
    • امریکی آمد و رفت میں الیکٹرک گاڑیوں اور ٹرینوں کو فروغ دیا جائے گا۔
    • 15 لاکھ گھر ماحول دوست طرز پر بنائے جائیں گے۔
  7. امریکہ میں ووٹوں کی گنتی جاری لیکن مظاہرین سڑکوں پر

    امریکہ میں ووٹوں کی گنتی جاری لیکن مظاہرین سڑکوں پر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنامریکہ میں ایک خاتون بندوق پکڑ کر مظاہرے میں شریک
    امریکہ میں ووٹوں کی گنتی جاری لیکن مظاہرین سڑکوں پر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنجو بائیڈن کے حامی چاہتے ہیں کہ ووٹوں کی گنتی جاری رہے
    امریکہ میں ووٹوں کی گنتی جاری لیکن مظاہرین سڑکوں پر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ووٹ گننے کا عمل روکا جائے
    امریکہ میں ووٹوں کی گنتی جاری لیکن مظاہرین سڑکوں پر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنامریکہ میں بعض شہروں میں پولیس کو بھی سڑکوں پر دیکھا جاسکتا ہے اور سکیورٹی انتظامات سخت ہیں
    امریکہ، مظاہرے، پولیس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناس تصویر میں پولیس اور مظاہرین کو آمنے سامنے دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن دونوں ایمبولینس کو گزرنے کے لیے جگہ دے رہے ہیں
  8. امریکہ میں عوام اپنا صدر کیسے چنتے ہیں؟

    امریکہ میں عوام اپنا صدر کیسے چنتے ہیں؟

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ امریکی صدارتی انتخاب میں عوام کی جانب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار ہی ملک کا نیا صدر بنے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں صدر کا انتخاب براہِ راست عام ووٹر نہیں کرتے بلکہ یہ کام الیکٹورل کالج کا ہے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    امریکی صدارتی انتخاب میں یہ سب سے اہم اور پیچیدہ ادارہ الیکٹورل کالج ہے۔ بنیادی طور پر الیکٹورل کالج ایک ایسا ادارہ ہے جو صدر کا انتخاب کرتا ہے اور اس کالج کے ارکان جنھیں الیکٹر بھی کہا جاتا ہے، عوام کے ووٹوں سے جیتتے ہیں۔

    یعنی جب امریکی عوام صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے جاتے ہیں تو دراصل وہ ایسے افراد کے لیے ووٹ ڈال رہے ہوتے ہیں جو مل کر الیکٹورل کالج بناتے ہیں اور ان کا کام ملک کے صدر اور نائب صدر کو چننا ہے۔

  9. ہر جگہ مختلف نتائج کیوں دکھائے جا رہے ہیں؟

    ہر جگہ مختلف نتائج کیوں دکھائے جا رہے ہیں؟

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    کئی لوگوں کی جانب سے یہ شکایت کی جا رہی ہے کہ ذرائع ابلاغ کی ہر ویب سائٹ اور نیوز چینل مختلف متوقع نتائج دکھا رہا ہے۔

    یہ اس لیے کیونکہ بعض اداروں نے نتائج کی پیشگوئی کر رکھی ہے کہ بائیڈن ایریزونا اور وسکونسن میں جیت سکتے ہیں۔

    بی بی سی کے خیال میں تاحال نتائج کی پیشگوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔

    رواں سال بی بی سی اپنی معلومات روئٹرز کے علاوہ ایسے اداروں سے لے رہا ہے جو امریکی الیکشن پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    وسکونسن میں 99 فیصد ووٹ گنے جاچکے ہیں۔ دونوں امیدواروں کے درمیان کڑا مقابلہ چل رہا ہے۔

    ایریزونا میں 85 فیصد ووٹ گنے جاچکے ہیں اور بائیڈن کو 51 فیصد ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل ہے۔ جبکہ ٹرمپ کے ووٹ 48 فیصد ہیں۔

    یہاں ’صبر‘ بہت ضروری ہے۔

  10. امریکہ میں صدارتی انتخاب کے بعد مختلف شہروں میں مظاہرے

    US

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنڈیٹرائٹ میں صدر ٹرمپ کے حامیوں نے شہر میں ووٹ گننے والے ایک مرکز کو گھیرا ہوا تھا جہاں وہ ووٹوں کی گنتی کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

    امریکی صدارتی انتخاب کے بعد چند شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں جہاں ابھی بھی ووٹ گننے کا عمل جاری ہے۔

    ریاست پورٹ لینڈ کے شہر اوریگن میں نیشنل گارڈز کو دوبارہ فعال کر دیا گیا جب وہاں صدر ٹرمپ مخالف مظاہرہ پر تشدد ہو گیا۔ اس مظاہرے میں شریک افراد کا مطالبہ تھا کہ ڈالے گئے ہر ووٹ کو گِنا جائے۔

    عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ چند افراد مظاہروں سے الگ ہو گئے اور دکانوں کے شیشے توڑ دیے۔ پولیس نے ان واقعات کو ہنگامہ قرار دیا۔

    دوسری جانب منیاپولس میں پولیس نے دو سو کے قریب مظاہرین کو حراست میں لے لیا جنھوں نے ایک مرکزی شاہراہ کو بلاک کر دیا تھا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق مظاہرین کا یہ گروپ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کے خلاف نعرے بازی کر رہا تھا جس میں صدر نے ووٹوں کی گنتی روکنے کی بات کی تھی۔

    اسی نوعیت کے مظاہرے نیو یارک، فلیڈیلفیا اور شکاگو میں بھی دیکھنے میں آئے۔

    اس کے علاوہ ڈیٹرائٹ میں صدر ٹرمپ کے حامیوں نے شہر میں ووٹ گننے والے ایک مرکز کو گھیرا ہوا تھا جہاں وہ ووٹوں کی گنتی کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

  11. پینسلوینیا کے گورنر کا صدر ٹرمپ کی جانب سے ووٹنگ رکوانے کا مطالبہ ماننے سے انکار

    US

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پینسلوینیا کے گورنر ٹام وولف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ٹیم کی کوششوں کے باوجود ان کی ریاست میں ووٹوں کی گنتی جاری رہے گی۔

    صد ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی ووٹس کی گنتی کو ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کے نائب کیمپین مینیجر جسٹن کلارک نے کہا کہ ڈیموکریٹس ’سازش کر رہے ہیں کہ وہ رپبلکن ووٹرز کے ووٹ کو گنتی میں شامل نہ ہونے دیں۔‘

    تاہم اب تک ریاست سے کسی قسم کے فراڈ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    اس بارے میں گورنر ٹام وولف، جن کا تعلق ڈیموکریٹ جماعت سے ہے، کا کہنا ہے کہ ’یہ کوششیش ہیں ہماری جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی اور یہ انتہائی شرمناک بات ہے۔ میں اس ریاست کے ہر شخص کے ووٹ کو تحفظ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا اور اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ ہر ووٹ گِنا جائے۔‘

  12. پینسلوینیا میں ٹرمپ کی سبقت کم ہو گئی

    us

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تازہ اعداد و شمار کے مطابق کانٹے کے مقابلے والی ریاست پینسلوینیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سبقت کم ہو رہی ہے۔

    ایسٹرن سٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے تک 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور ٹرمپ 164414 ووٹوں سے جیت رہے ہیں۔ جبکہ بدھ کی دوپہر تک ٹرمپ کو 379639 ووٹوں سے سبقت حاصل تھی۔

    سی بی ایس نیوز چینل کے مطابق اب جن ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے ان کے بارے میں زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ بائڈن کے حق میں ڈالے گئے تھے۔

    یہ ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹ ہیں اور پینسیلوینیا میں جن 31 لاکھ پوسٹل بیلٹس کی درخواست کی گئی تھی ان میں سے 63 فیصد ڈیموکریٹس کی جانب سے تھیں۔

    اپنے 20 الیکٹورل ووٹوں کے ساتھ پینسلوینیا ایک ایسی اہم ریاست ہے کہ جو بھی یہاں جیتے گا وہ ممکنہ طور پر صدر بننے کی یہ دوڑ بھی جیت جائے گا۔

    سنہ 2016 میں پینسلوینیا میں ٹرمپ کی کامیابی سے پہلے یہ ریاست گذشتہ چھ انتخابات میں مسلسل ڈیموکریٹس کے پاس رہی ہے۔

  13. بیرونی مداخلت کے کوئی شواہد نہیں: امریکی سائبر چیف

    امریکہ کے ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے میں سائبر سکیورٹی کے اعلی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ ووٹوں کی گنتی میں کوئی غیر ملکی مداخلت ہوئی ہے۔

    کرسٹوفر کربس نامی اہلکار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایسے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ کوئی غیرملکی دشمن اس قابل ہو کہ وہ کسی امریکی کو ووٹنگ سے روک سکے یا ووٹوں کی گنتی میں کوئی تبدیلی کر سکے۔

    امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں یہ نتیجہ اخذ کر چکی ہیں کہ سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں صورتحال کو ہلیری کلنٹن کے خلاف کرنے کی کوشش کے پیچھے روس تھا۔

    کرسٹوفر کربس کا کہنا ہے ’ہم کسی بھی غیرملکی کی جانب سے ووٹوں کی گنتی اور حتمی نتائج میں خلل ڈالنے کے بارے میں ہوشیار ہیں اور رہیں گے۔‘

    منگل کو پولنگ ختم ہونے کے بعد سے صدر ٹرمپ کی ٹیم نے کئی ریاستوں میں قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔

    صدر ٹرمپ کا الزام ہے کہ امریکی عوام سے فراڈ کیا گیا ہے تاہم انھوں نے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں۔

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  14. سینیٹ میں رپبلکنز کی اکثریت

    امریکی سینیٹ کے انتخابات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کا صدر کون بنے گا یہ طے ہونا تو ابھی باقی ہے لیکن ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے میں صورتحال بالکل واضح ہو چکی ہے اور پہلے کے مقابلے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

    صدر کے دفتر میں جو بھی براجمان ہو گا اس کے سامنے ایک منقسم کانگریس ہو گی۔

    ڈیموکریٹس کو امید تھی کہ وہ رپبلکنز سے کم از کم چار نشستیں چھین کر سینیٹ کو اپنے قابو میں کر لیں گے لیکن وہ صرف ایک نشست ہی زیادہ حاصل کر سکے۔

    ریاست مین میں سینیٹ کی ایک نشست ڈیموکریٹس کے لیے مایوسی کا باعث بنی جہاں رپبلکن سینیٹر سوزین کولنز نے اپنی مدِ مقابل ڈیموکریٹ امیدوار سارا گیڈیون کو مات دے کر اپنی نشست برقرار رکھی۔

    کولنز جو ایک اعتدال پسند سیاستدان ہیں اس ریاست میں کمزور امیدوار تصور کی جا رہی تھیں کیونکہ یہاں صدر ٹرمپ کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے۔

    دوسری جانب ایوانِ نمائندگان میں بھی کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آئی۔ یہاں ڈیموکریٹس کی اکثریت برقرار رہے گی حالانکہ وہ ریپبلیکنز سے کوئی نئی نسشت نہیں چھین سکے اور کم از کم چھ نشتیں گنوائیں۔

    .

  15. جو بائیڈن نے اپنی عبوری ویب سائٹ لانچ کر دی

    جو بائڈن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدارتی انتخاب میں جب کوئی امیدوار کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے ایک عبوری ٹیم تشکیل دینے کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ جنوری میں وہ صدر کا آفس سنبھالنے کے لیے تیار ہو سکے۔

    جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ موجود انتخاب میں اب تک کسی امیدوار کو فاتح قرار نہیں دیا گیا ہے لیکن دونوں امیدواروں کا کہنا ہے کہ وہ جیت رہے ہیں۔ دونوں ہی اپنا ایک ایسا بیانیہ سامنے لانا چاہتے ہیں کہ مقابلے کی سمت ان کے حق میں ہو جائے۔

    اب جو بائیڈن نے اپنی ایک عبوری ویب سائٹ شروع کی ہے جس کا نام ہے ’بہتری کی تعمیر نو‘ بلٹ بیک بیٹر۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کو کئی سنگین بحرانوں کا سامنا ہے جن میں کورونا وائرس کی وباء معاشی تنزلی، آب و ہوا میں تبدیلی اور نسلی بنیادوں پر ناانصافی جیسے مسائل شامل ہیں۔

    اس عبوری ویب سائٹ کے مطابق عبوری ٹیم ابھی سے کام کرنا شروع کر رہی ہے تا کہ صدر کا آفس سنبھالنے کے پہلے روز ہی سے ان بحرانوں کا مقابلہ شروع کر دیا جائے۔

    بدھ کو جو بائیڈن نے آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے میں امریکہ کو دوبارہ شامل کرنے کے اپنے عزم کو دھرایا۔

  16. مشیگن کے اہلکار نے ٹرمپ کے دعوے کو ’بے بنیاد‘ قرار دے دیا

    امریکی انتخاب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ریاست مشیگن کی ایک اعلیٰ اہلکار نے صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ذمہ داران کی طرف سے ووٹوں کی گنتی رکوانے کے لیے شروع کی گئی قانونی کارروائی کو ’بے بنیاد‘ قراد دیا ہے۔

    سیکرٹری آف سٹیٹ جوسلین بینسن نے کہا کہ ریاست میں کاسٹ کیے گئے تمام بیلٹ کا درست طریقے سے اندراج کیا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے سنہ 2016 میں اس ریاست سے 10 ہزار سات سو ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔

    صدر ٹرمپ کے حامیوں نے بدھ کے روز بے قاعدگیوں کا الزام لگاتے ہوئے جارجیا، وسکونسن اور پینسلوینیا میں قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا تھا۔

  17. ٹرمپ مخالف مظاہرین جمع، پینسلوینیا میں ووٹوں کی گنتی جاری

    صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پینسلوینیا میں فلیڈیلفیا کنوینشن سینٹر کے باہر چند درجن لوگ جمع ہوئے ہیں جنھوں نے ہاتھوں میں ٹرمپ مخالف پوسٹر اٹھائے ہوئے ہیں۔ پینسلوینیا ٹرمپ اور بائیڈن دونوں کے لیے ایک انتہائی اہم ریاست بن گئی ہے۔

    یہ سینٹر وہ جگہ ہے جہاں ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔ مظاہرین نعرے لگا رہے ہیں کہ ہر ووٹ کو گنا جانا چاہیے۔ کچھ مظاہرین نے اپنی تقریروں صدر ٹرمپ کے دوسری مرتبہ منتخب ہونے کے بارے میں اپنے خدشات اور خوف کا اظہار کیا۔

    مظاہرین نے ان رپورٹروں کی توجہ بھی اپنی جانب دلوائی جو صدر ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ کی نیوز کانفرنس کے لیے وہاں آئے ہوئے تھے۔ یہ نیوز کانفرنس بعد میں ملتوی کر دی گئی تھی۔

  18. ٹرمپ کی جانب سے جارجیا میں مقدمہ دائر

    امریکی انتخاب

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم چلانے والی ٹیم ریاست جارجیا کے کچھ علاقوں میں ووٹوں کی گنتی رکوانا چاہتی ہے۔ یہ ایک اہم ریاست ہے جہاں ابھی تک کسی امیدوار کی حتمی سبقت کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔

    اس مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیتھم کاؤنٹی میں رپبلکن پارٹی کے ایک مبصر نے دیکھا کہ ایک اہلکار ڈاک کے ذریعے تاخیر سے آنے والے 53 بیلٹس کو ایسے بیلٹس میں شامل کر رہا ہے جو وقت پر پہنچے تھے۔

    جارجیا میں صرف ان ووٹوں کو گنتی میں شامل کیا جانا ہے جو الیکشن کے دن شام سات بجے تک پہنچ گئے ہوں۔

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جارجیا ایسی چوتھی اہم ریاست ہے جہاں صدر ٹرمپ نے ووٹوں کو قانونی طور پر چیلنج کیا ہے۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایسی جگہوں پر ووٹوں کی گنتی رکوا دیں گے جہاں ان کے خیال میں فراڈ کیا گیا ہے۔

    تاہم انھوں نے اپنے دعووں کے بارے میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں۔

    مشیگن میں ان کی جانب سے گنتی رکوانے کے لیے مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ اس ریاست میں بھی بائیڈن کے معمولی سبقت کے ساتھ جیتنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    پینسلوینیا میں بھی ٹرمپ نے ریاست کے اس فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے کہ ایسے ووٹوں کو گنتی میں شامل کیا جائے گا جنھیں الیکن کے دن ڈاک کے ذریعے بھیج دیا گیا ہے لیکن وہ تین دن کے بعد پہنچیں گے۔ ایسے لاکھوں ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہے۔

  19. افراتفری، غصہ اور الزام تراشی‘, کلائیو مائر، بی بی سی پینسلوینیا

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پینسلوینیا میں رپبلکن مقننہ نے مقامی حکام کو ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ انتخاب سے پہلے گننے سے روک دیا تھا۔ اس امریکی ریاست میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ انتخاب کے دن ہی گنے جا سکتے ہیں۔

    اب جب ریاست میں گنتی جاری ہے تو ’افراتفری، غصے اور الزام تراشی‘ کی فضا ہے۔

    منگل کو رات بھر گنتی جاری رہی اور صبح تک 10 لاکھ ووٹوں کی گنتی ابھی باقی تھی۔

    اس مسئلے کی بنیاد کیا ہے؟ یہ سب کووڈ 19 کی وجہ سے ہوا۔ رپبلکن پارٹی کے ووٹر انتخاب کے دن خود پولنگ سٹیشن جا کر ووٹ ڈالنا چاہتے تھے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹر ایسا نھیں چاہتے تھے۔

    ایک خیال یہ ہے کہ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد لاکھوں میں جانے کی ایک وجہ یہی ڈیموکریٹک ووٹر ہیں۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ ان ووٹوں کو گننے کا عمل وقت لے رہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ پہلے لفافے کا باہری حصہ کھولا جاتا ہے، دستخط کی تصدیق کرنے کے بعد ایک اور لفافہ کھولا جاتا ہے اور بیلٹ چیک ہوتا ہے۔ گنتی کے دوران لاکھوں ووٹوں کے ساتھ یہی عمل دہرایا جا رہا ہے۔

  20. ایریزونا کے حتمی نتائج بدھ کو آنے کا امکان نہیں

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایریزونا میں ووٹوں کی گنتی سے متعلق تازہ اطلاع یہ ہے کہ حتمی نتیجہ بدھ کو مکمل نہیں ہو سکے گا۔

    میریکوپا کاؤنٹی الیکشز ڈپارٹمنٹ کی میگن گِلبرٹسن کا کہنا ہے کہ ریاست کے حتمی نتائج آج سامنے آنے کا کی توقع نہیں کی جا رہی ہے۔ وہاں گنتی اب بھی جاری ہے۔

    ’اس وقت تک 83 فیصد ووٹوں کا شمار کیا جا چکا ہے جس کے بعد بائیڈن کی سبقت 51 فیصد ہے جبکہ ٹرمپ 48 فیصد پر ہیں۔ ایریزونا کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 11 ہے۔

    بائتڈن کی سبقت کو مستحکم قرار دیا جکا رہا ہے اور بعض میڈیا پہلے ہی ان کی جیت کو یقینی قرار دے چکے ہیں۔