ڈونلڈ ٹرمپ: ’امریکہ میں وبا کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہو سکتی ہے‘

دنیا میں ایک کروڑ 47 لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کورونا کی وبا میں مبتلا لوگوں کی مہارت سے نشاندہی کے نتیجے میں وبا میں واضح طور پر کمی ہو رہی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا کے باعث امیر عرب ریاستیں قرض لینے کے دہانے پر کیسے پہنچیں؟

  2. کیا کورونا وائرس آپ کو دوبارہ بھی متاثر کر سکتا ہے؟

    کیا آپ کورونا وائرس سے دوبارہ متاثر ہوسکتے ہیں؟ آپ کا نظام مدافعت کسی بھی وائرس سے بچاؤ میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور اینٹی باڈیز کیسے متاثرہ جسم کو آئندہ اس بیماری سے بچا سکتی ہیں۔ جانیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  3. برطانیہ: ’ٹیسٹ اینڈ ٹریس پروگرام‘ ذاتی معلومات تک رسائی کے قوانین کی خلاف ورزی قرار, روری کیلان جونز، ٹیکنالوجی کے نمائندے

    دشفد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں ذاتی معلومات کے حوالے سے مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے ٹیسٹ اور ٹریس پروگرام نے ڈیٹا پروٹیکشن کا ایک کلیدی قانون توڑا ہے۔

    محکمہ صحت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کووڈ 19 سے متاثرہ لوگوں کے رابطوں کا سراغ لگانے کے اقدام کو رازداری پر اس کے اثرات کا اندازہ لگائے بغیر شروع کیا گیا تھا۔

    جس کے بعد اوپن رائٹس گروپ (او آر جی) کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ 28 مئی سے شروع ہونے کے بعد سے یہ اقدام غیر قانونی رہا ہے۔

    اس پروگرام میں لوگوں کو حساس ذاتی معلومات شئیر کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

    جس میں مندرجہ ذیل معلومات شامل ہو سکتی ہیں:

    • ان کا نام ، تاریخ پیدائش اور پوسٹ کوڈ
    • وہ کس کے ساتھ رہتے ہیں
    • وہ مقامات جہاں کا انھوں نے حال ہی میں دورہ کیا تھا
    • ان لوگوں کے نام اور رابطے کی تفصیلات جن کے ساتھ وہ حال ہی میں قریبی رابطے میں رہے ہیں، جن میں جنسی پارٹنرز بھی شامل ہیں

    محکمہ صحت اور سماجی نگہداشت کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ غیر قانونی طریقے سے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے۔

    او آر جی کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی اعداد و شمار پر عملدرآمد کرنے والے منصوبوں کے لیے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پی آر) کے تحت کسی ڈیٹا پروٹیکشن امپیکٹ اسسمنٹ (ڈی پی آئی اے) پر حکومت کو مجبور کرنے کے لیے عدالت بھی جاسکتے ہیں۔

  4. جعلی سکریننگ سکینڈل سامنے آنے کے بعد بنگلہ دیش میں ٹیسٹنگ میں نمایاں کمی

    sdgd

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں جعلی سکریننگ سکینڈل سامنے آنے کے بعد کورونا وائرس ٹیسٹ کروانے والے لوگوں کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک ہسپتال کے مالک سمیت ایک درجن سے زیادہ افراد کو ہزاروں مریضوں کو ایسے جعلی سرٹیفیکیٹ دینے پر گرفتار کیا گیا جن پر بغیر ٹیسٹ کیے لکھا گیا تھا کہ آپ کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہیں۔

    جون کے اواخر میں ملک میں 18 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا رہے تھے تاہم گذشتہ دو ہفتوں سے یہ تعداد گر کر 10 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سکینڈل کے بعد عوام میں ٹیسٹنگ سے متعلق عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

    بنگلہ دیش میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 2618 اس کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

  5. امریکہ میں کورونا سے ہلاکتیں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد

    dsdg

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 50 میں سے 42 ریاستوں میں گذشتہ ہفتے کے دوران متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جون کے اواخر سے امریکہ میں یومیہ نئے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اب چھ ہفتوں بعد اموات کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔

    امریکہ میں ہر ہفتے تقریباً پانچ ہزار لوگ وائرس سے ہلاک ہو رہے ہیں۔

    اس کے مقابلے میں پڑوسی ملک کینیڈا میں وبا کے آغاز سے اب تک صرف 8800 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ صرف ایک ہفتے میں امریکہ میں اتنی ہلاکتیں ہو رہی ہیں جتنی کہ سویڈن میں وبا کے آغاز سے اب تک ہوئی ہیں، یعنی 5600 کے قریب۔

    سب سے زیادہ متاثرہ امریکی شہروں میں حکام کے پاس مردہ خانوں میں جگہ ختم ہونے کے باعث لاشیں رکھنے کی جگہ باقی نہیں بچی ہے۔

    کئی ریاستوں میں لاشیں رکھنے کے لیے کولنگ والے ٹریلر خریدے جا رہے ہیں۔

  6. کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ-19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    ششف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کیا آپ کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ بھی کورونا وائرس نشانہ بنا سکتا ہے؟ کچھ مریض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیمار کیوں ہیں؟ کیا یہ مرض ہر سردی میں واپس آئے گا؟ کیا ویکسین کارگر ثابت ہو گی؟ کیا امیونٹی پاسپورٹ کی مدد سے ہم میں سے کچھ لوگ کام پر واپس جا سکتے ہیں؟ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کن طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے؟

    دنیا میں کووڈ-19 کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد جہاں روز بروز بڑھ رہی ہے وہیں یہ سوالات بھی تواتر سے پوچھے جانے لگے ہیں۔

    ان تمام سوالات میں جو ایک چیز مشترک ہے وہ ہے امیون سسٹم یا مدافعتی نظام اور ہم اس بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔

    آپ کورونا وائرس کے خلاف جسم میں مدافعت کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟

    ہمارے جسم کا مدافعتی نظام انفیکشنز کے خلاف ڈھال ہے اور اس کے دو حصے ہیں۔

    پہلا حصہ جسم میں کسی بیرونی حملہ آور کی شناخت کے ساتھ ہی کام شروع کر دیتا ہے۔ اسے ان نیٹ امیون ریسپانس کہا جاتا ہے جس میں خون کے سفید خلیے بیماری سے متاثرہ خلیوں کو تباہ کرتے ہیں اور ایسے کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جس سے سوجن ہوتی ہے۔

    لیکن یہ نظام کورونا وائرس پر اثر نہیں کر رہا۔ یا اسے سمجھ نہیں رہا اور اس لیے آپ کے جسم میں اس کے خلاف مدافعت پیدا نہیں ہو رہی۔ مزید پڑھیے۔

  7. کورونا وائرس آپ کے جسم کے ساتھ کرتا کیا ہے؟

    گگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس گذشتہ برس دسمبر میں سامنے آیا لیکن اب کوویڈ-19 عالمی وبا کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

    اس بیماری میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر افراد میں اس بیماری کا اتنا اثر نہیں ہوتا اور وہ صحت یاب بھی ہو رہے ہیں، تاہم کچھ افراد اس کی وجہ سے ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

    تو سوال یہ ہے کہ یہ وائرس جسم پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں کچھ افراد ہلاک کیوں ہو رہے ہیں اور اس بیماری کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟

  8. کورونا وائرس سے بچنے کے لیے خلائی سوٹ پہننے والا برازیلین جوڑا

    وہ کیا طریقہ ہو، جس سے آپ خود کو کووڈ 19 سے محفوظ بھی رکھ سکیں اور باہر نکل کر چہل قدمی بھی کر سکیں؟ اسی مشکل کا ایک دلچسپ حل ڈھونڈا ہے برازیل کے ایک جوڑے نے۔۔ حفاظتی سوٹ پہنے چہل قدمی کرتے انھیں دیکھ کر گمان تو یہ ہوتا ہے کہ آپ زمین کا نہیں بلکہ خلا کا نظارہ کر رہے ہیں۔

  9. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید!

    کورونا وائرس کے حوالے سے بی بی سی اردو کے تازہ لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متعلق بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    اب تک کی لائیو کوریج کے لیے یہاں کلک کریں

  10. کورونا ٹیلی تھون: وزیر اعظم کی احساس ٹرانسمیشن میں مولانا طارق جمیل اور جاوید میانداد کے بیانات پر سوشل میڈیا پر بحث