ڈونلڈ ٹرمپ: ’امریکہ میں وبا کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہو سکتی ہے‘

دنیا میں ایک کروڑ 47 لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کورونا کی وبا میں مبتلا لوگوں کی مہارت سے نشاندہی کے نتیجے میں وبا میں واضح طور پر کمی ہو رہی ہے۔

لائیو کوریج

  1. سندھ: دارالسکون میں 20 افراد میں کورونا کی تشخیص

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی مشیر مرتضیٰ وہاب کے مطابق صوبائی حکومت نے دارالسکون کے لیے دو کروڑ 50 لاکھ کی سالانہ امداد جاری کی ہے۔

    ’وہاں کی انتظامیہ کو ادویات اور طبی سامان بھی دیا گیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ دارالسکون میں 20 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں منتقل کردیا گیا ہے۔

  2. دلی میں ہر چار میں سے ایک شخص کورونا سے متاثر ہوسکتا ہے: سرکاری سروے

    دلی میں ہر چار میں سے ایک شخص کورونا سے متاثرہ ہوسکتا ہے: سرکاری سروے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سرکاری سطح پر ایک سروے کیا گیا ہے۔

    اس سروے کے مطابق دلی میں ہر چار میں سے ایک شخص کورونا سے متاثر ہوسکتا ہے۔

    اس سرکاری سروسے کے لیے بغیر کسی ترتیب 21387 افراد کے خون کے نمونے لیے گئے۔ ان میں سے 23.48 افراد میں کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز پائی گئیں۔

    ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

    اب تک دلی میں 123747 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوچکی ہے۔ تصدیق شدہ نتائج کے مطابق کل آبادی میں ایک فیصد سے بھی کم تعداد کورونا سے متاثرہ ہے۔

    سروسے کے مطابق دلی میں 46.5 لاکھ افراد کا کورونا سے متاثرہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  3. عید الاضحیٰ اور جانوروں کی خریداری کے ایس او پیز کیا ہیں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    ہر سال کی طرح اِس سال بھی عیدالاضحی سے قبل مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خریداری کی جا رہی ہے۔ کورونا کی وبا کے زمانے میں خریداروں کو منڈیوں میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیئں، جانیے ہمارے ساتھی کریم الاسلام کی اِس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  4. عمان میں ملک گیر لاک ڈاؤن کا فیصلہ

    عمان میں ملک گیر لاک ڈاؤن کا فیصلہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمان میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین اور اموات کے بعد حکومت نے ملک گیر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس لاک ڈاؤن کا اطلاق 25 جولائی سے 8 اگست تک ہوگا اور یہ فیصلہ کووڈ 19 کی عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے قائم سپریم کمیٹی کی تجویز پر وزارت داخلہ نے لیا ہے۔

    اس کے تحت رات 7 بجے سے صبح 6 بجے تک تمام نقل و حمل پر پابندی رہے ہیں اور دکانیں کھولنے پر پابندی ہوگی۔ اس طرح رات کے وقت مکمل کرفیو نافذ رہے گا۔

    دن کے دوران سماجی فاصلے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    عید الاضحیٰ کے دوران نماز عید سمیت تمام اجتماعات پر پابندی اور بازاروں کو بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق عمان میں اس وقت کورونا وائرس کے 69,887 متاثرین اور 337 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔

  5. برازیل کے صدر نے کووڈ 19 کے علاج کے لیے متنازع دوا کی حمایت کردی

    برازیل کے صدر نے کووڈ 19 کے علاج کے لیے متنازع دوا کی حمایت کردی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برازیل کے صدر جیئر بولسونارو، جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، نے لوگوں کے ایک ہجوم کو بتایا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن کے استعمال سے ان کی طبیعت بہتر ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ دوا ایک فوجی ڈاکٹر کے مشورے پر لینا شروع کی۔ انھوں نے اس متنازع دوا کو علاج کے لیے موزوں قرار دیا ہے۔

    تاہم برطانوی آزمائش کے دوران یہ معلوم ہوا تھا کہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے یہ دوا کارآمد نہیں۔

    ماہرین نے کہا تھا کہ ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے مریضوں کی جانب سے اس کے استعمال کے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔

    کئی سائنسدان سمجھتے ہیں کہ کووڈ 19 سے بچاؤ ہی بہترین دوا ہے۔ لیکن تاحال تحقیق سے اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے خود سے کسی بھی دوا کے استعمال کے خلاف متنبہ کیا تھا۔

  6. ’کرسمس سے قبل ویکسین کی دستیابی کے امکانات کافی کم‘

    ’ممکنہ ویکسین 2020 کے اواخر تک متعارف کرائی جاسکتی ہے‘

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی جانب سے تیار کردہ کووڈ 19 کی ممکنہ ویکسین رواں سال کے اواخر تک متعارف کروائی جاسکتی ہے لیکن اس حوالے سے صورتحال ابھی غیر واضح ہے۔ ویکسین بنانے والے ماہرین نے اپنا یہ بیان منگل کو جاری کیا۔

    ابتدائی آزمائش میں ویکسین نے اچھے نتائج دیے اور قوت مدافعت کے ردعمل کو مضبوط بنایا۔ اب یہ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ 2020 تک اسے عام استعمال کے لیے متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ویکسین کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ’ویکسین متعارف کرانے کا ہدف رواں سال کا اختتام ہے۔ یہ ممکن ہے لیکن صورتحال غیر واضح ہے کیونکہ ہمیں تین باتوں کے حوالے سے امید ہے۔‘

    ان میں بعد کی آزمائش میں ویکسین کے نتائج، بڑے پیمانے پر ویکسین کی تیاری کا عمل اور ایمرجنسی صورتحال میں لائسنس کی جلد منظوری شامل ہیں۔

    انگلینڈ کے چیف طبی افسر کرس ویٹی کا کہنا ہے کہ کرسمس سے قبل ویکسین کی دستیابی کے امکانات کافی کم ہیں۔

    آکسفورڈ کے سائنسدانوں نے ستمبر تک ممکنہ ویکسین کی 20 لاکھ خوراکیں بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

  7. ’پھینکے ہوئے ماسک سمندر میں کسی وہیل کی جان لے سکتے ہیں‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن اس دوران ہر گزرتے دن کے ساتھ حفاظتی سامان سمندروں میں آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق ہم 129 ارب ماسک اور 65 ارب پلاسٹک کے دستانے ہر ماہ استعمال کرتے ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ طبی سامان سمندروں میں تیرتا دیکھا جا سکتا ہے۔ ماسک اور دستانے ساحلوں پر بھی نظر آتے ہیں۔

  8. اسلام آباد: ’نئے متاثرین میں 95 فیصد کمی‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’اسلام آباد میں کورونا کی وبا میں مبتلا لوگوں کی مہارت سے نشاندہی اور علیحدگی کے نتیجے میں وبا واضح طور پر کم ہو رہی ہے۔

    ’13 جون کو 4136 ٹیسٹ ہوئے اور 771 مثبت جبکہ کل کے دن میں 1452 ٹیسٹ ہوئے اور صرف 26 مثبت آئے۔ یعنی مثبت کیسز (نئے متاثرین) میں %95 کمی۔‘

    دارالحکومت اسلام آباد میں اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے 2,553 متاثرین زیر علاج ہیں جبکہ کل متاثرین کی تعداد 14,625 ہے اور اب تک 160 اموات ہوئی ہیں۔

  9. برطانوی کابینہ کی چار ماہ بعد پہلی ملاقات

    مارچ کے بعد برطانوی کابینہ کی پہلی ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنی کابینہ سے چار ماہ بعد ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت کا اصلاحات کا منصوبہ تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    ڈاؤننگ سٹریٹ میں چھوٹے سے کمرے کی جگہ کابینہ کی ملاقات دفتر خارجہ میں ہوئی تاکہ سماجی فاصلے کے قوائد پر عملدرآمد ہوسکے۔

    بورس جانسن نے متنبہ کیا کہ آنے والے چند ماہ مشکل ہوسکتے ہیں۔ ’اگلے مہینوں میں ہمیں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ ہمیں وائرس پر قابو پانے کے ساتھ اس کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا۔‘

    ’لیکن ہمیں دھیان سے سماجی فاصلے کے اصولوں پر عملدرآمد کے ساتھ معیشت کو بحال کرنا ہوگا اور لوگوں کو کام پر واپس بھیجنا ہوگا۔‘

    انھوں نے کابینہ کی اس ملاقات کو مثالی قرار دیا اور سماجی فاصلے کے قوائد کو یقینی بنانے پر شہریوں کی بھی تعریف کی۔

  10. کیا جنوبی ایشیا میں کم ٹیسٹنگ سے وبا کی شدت پر پردہ ڈالا جا رہا ہے؟

    کیا جنوبی ایشیا میں کم ٹیسٹنگ سے وبا کی شدت پر پردہ ڈالا جا رہا ہے؟

    جنوبی ایشیا میں دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ آباد ہے، لیکن ریکارڈ کیے جانے والے مجموعی انفیکشن میں سے صرف 11 فیصد ہی اس خطے سے ہیں۔

    وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر شاہد جمیل کہتے ہیں کہ ’انڈیا اور باقی جنوبی ایشیا میں فی دس لاکھ متاثرین کی تعداد کم ہے، لیکن فی دس لاکھ ٹیسٹنگ کی تعداد بھی یہی ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان ممالک میں جانچ کی مجموعی تعداد زیادہ معلوم ہوتی ہے لیکن جب آپ اس کا موازنہ آبادی کے حجم کے تناظر میں کرتے ہیں تو یہ تعداد ’سب سے زیادہ سے نیچے‘ نظر آتی ہے۔

    مثال کے طور پر انڈیا نے وقت کے ساتھ ساتھ جانچ میں اضافہ کیا ہے اور اب تک وہاں سوا کروڑ سے زیادہ جانچ ہوئی ہے جبکہ پاکستان میں 16 لاکھ تک آبادی کی جانچ ہوئی ہے۔

  11. خیبر پختونخوا: حکومت کا سیاحت کے شعبے میں ریلیف دینے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا: سیاحت کے شعبے میں ریلیف دینے کا فیصلہ

    ،تصویر کا ذریعہSHAHUDDIN

    پاکستان میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے کورونا وائرس سے ہونے والے نقصان کے پیشِ نظر سیاحت کے شعبے کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مشیر اطلاعات کامران بنگش نے آج کابینہ میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق کہا کہ ’ہوٹلوں، ریستورانوں اور سیاحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے دوسرے کاروباروں سے ایک سال کے لیے رجسٹریشن فیس نہیں لی جائے گی۔

    ’شہریوں کو مقامی کونسل ٹیکس سے استثنیٰ ہوگی۔ صوبائی کابینہ کےاجلاس میں سیاحت کی بحالی کے لیے اقدامات پر غور ہوا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عید الاضحیٰ اور مویشی منڈیوں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔‘

  12. ایران میں کووڈ 19 سے یومیہ اموات کی ریکارڈ تعداد

    ایران میں کووڈ 19 سے یومیہ اموات کی ریکارڈ تعداد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی وجہ سے مزید 229 اموات کا اضافہ ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق یہ کووڈ 19 سے یومیہ اموات کی ریکارڈ تعداد ہے۔

    ایران مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ یہاں اپریل کے وسط میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد متاثرین اور اموات میں اضافہ ہوا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی معیشت کی بحالی کے لیے کی گئی تھی جہاں امریکی پابندیوں سے کافی نقصان ہوا ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق اب تک کورونا سے کل 14634 اموات ہوئی ہیں جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد 278827 ہے اور 242351 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل یومیہ اموات کی ریکارڈ تعداد 221 تھی جو 9 جولائی کو دیکھی گئی تھی۔

  13. بریکنگ, سندھ میں کورونا کے مزید 551 متاثرین، 22 اموات

    سندھ میں کورونا کے مزید 551 متاثرین، 22 اموات

    پاکستان میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق صوبے میں گذشتہ روز کورونا وائرس سے مزید 551 متاثرین اور 22 اموات کا اضافہ ہوا ہے۔

    صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 114104 ہوگئی ہے جبکہ عالمی وبا سے اب تک 2041 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    20 جولائی کو سندھ میں 6676 ٹیسٹ کیے گئے۔

    سندھ میں کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 94297 ہوگئی ہے۔ گذشتہ روز اس میں 1363 افراد کا اضافہ ہوا تھا۔

    صوبے بھر میں اس وقت 17766 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے زیر علاج ہیں۔ 446 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

  14. کیا ماسک پہننے کے احکامات پر عملدرآمد کروایا جا سکے گا؟

    کیا لازمی ماسک پہننے کے احکامات پر عملدرآمد کروایا جا سکے گا؟

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگرچہ کئی ملکوں میں مختلف اقدامات کی وجہ سے وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پالیا گیا ہے مگر انڈیا، برازیل اور امریکا جیسے ممالک میں متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جبکہ کئی ملکوں کے کچھ علاقوں میں تو کمی دیکھنے میں آ رہی ہے مگر دوسرے علاقوں میں وائرس پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔

    وائرس سے بچنے کے لیے ماہرین اور حکام کی جانب سے مختلف تجاویز اور ہدایات جاری کی جاتی رہی ہیں، جن میں سے ایک بند عوامی اجتماعات کے مقامات پر لازمی ماسک پہننا بھی ہے۔

    فرانس میں حکومت نے پیر سے دکانوں، شاپنگ مالز، بینکوں اور عوامی رسائی کی حامل عمارتوں کے اندر ماسک پہننا لازی قرار دیا ہے۔

    اسی طرح ک احکامات برطانوی اور آسٹریلوی حکام نے بھی جاری کیے ہیں۔

  15. برطانیہ میں شرح اموات متوقع سطح سے چھ فیصد کم, رابرٹ کف، بی بی سی کے اعدادوشمار کے سربراہ

    DRDH

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 10 جولائی کے ہفتے کے دوران 10،000 سے کم اموات درج کی گئیں۔

    جو پچھلے پانچ سالوں میں اس ہفتے کی اوسط سے 600 یا چھ فیصد کم ہے۔

    کورونا وائرس کی وبا کے دوران فوت ہونے والے کچھ بہت ہی بوڑھے یا کمزور لوگ تھے جو اس موسم گرما میں انفیکشن کے بغیر بھی فوت ہو جاتے۔

    اب برطانیہ کے ہسپتالوں اور کئیر ہومز میں اموات ان کی متوقع سطح سے نیچے ہیں لیکن گھروں میں پانچ سال کی اوسط پیش گوئی سے کہیں زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔

    کووڈ 19 والے موت کے سرٹیفکیٹس کی تعداد 388 ہوگئی ہے، جو لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے سے ایک ہفتہ کے بعد سب سے کم ہے۔

    sfkjs
  16. بیونس آئرس: پابندیوں میں نرمی، کاروبار دوبارہ کھل گئے

    شگوش

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بیونس آئرس نے لاک ڈاؤن پابندیوں کو ختم کرنا شروع کردیا ہے۔

    جولائی کے آغاز سے یومیہ 3،000 سے زیادہ نئے متاثرین کی تصدیق کے باوجود معاشرتی دوری کے اقدامات کو کم کیا جا رہا ہے۔

    ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنینڈیز نے گذشتہ ہفتے پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کا اعلان کیا تھا۔

    پہلے مرحلے کے ایک حصے کے طور پر جس کا اطلاق 2 اگست تک ہے، گھر سے باہر ورزش کی اجازت ہوگی اور بال کٹوانے اور پیشہ ورانہ خدمات جیسے کاروبار کو دوبارہ کھلنے کی اجازت ہوگی۔

    شگشد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بیونس آئرس کے میئر ہوراسیو روڈریگو لاریٹا نے لوگوں سے ذمہ دار ہونے کی اپیل کی کیونکہ ’ذاتی رابطہ انفیکشن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔‘

    بیونس آئرس وبائی مرض سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہاں 20 مارچ سے لاک ڈاؤن نافذ تھا۔

    ارجنٹائن میں کورونا وائرس کے کل متاثرین اور اموات کے ایک بڑا حصے کا تعلق بیونس آئرس سے ہے۔

    پچھلے مہینے ارجنٹائن کی حکومت نے متاثرین میں تیزی سے اضافے کے بعد بیونس آئرس کے آس پاس کے علاقوں تک لاک ڈاؤن کو بڑھایا اور اس میں مزید سختی کر دی تھی۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق مجموعی طور پر ملک میں اب تک 130،774 متاثرین اور 2373 اموات ہوئیں ہیں۔

    شگدگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  17. کیا کورونا وائرس آپ کو دوبارہ بھی متاثر کر سکتا ہے؟

    کیا آپ کورونا وائرس سے دوبارہ متاثر ہوسکتے ہیں؟ آپ کا نظام مدافعت کسی بھی وائرس سے بچاؤ میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور اینٹی باڈیز کیسے متاثرہ جسم کو آئندہ اس بیماری سے بچا سکتی ہیں۔ جانیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  18. ’ہمارے پڑوسیوں نے ہمیں کورونا وائرس والا اچھوت بنا دیا‘

    sfs

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں انڈیا تیسرے نمبر پر ہے۔

    بی بی سی کے سوتِک بسواس کے مطابق ان دنوں جنوبی ریاست کیرالہ کے ساحلی گاؤں میں رہنے والے لوگوں میں اضطراب اور الجھن پائی جاتی ہے۔

    پونتھورا جو ماہی گیروں کا ایک گاؤں ہے وہاں کے چار ہزار خاندانوں کو سختی سے گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    کوئی بھی اس علاقے میں داخل نہیں ہو سکتا نا یہاں سے باہر جا سکتا ہے۔ کاروبار بند ہیں اور آمدورفت معطل ہے۔

    سخت لاک ڈاؤن کا نفاذ کرنے کے لیے کمانڈوز اور پولیس اہلکار سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔

    کیرالہ میں متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے ایسا لگتا تھا کہ اس ریاست میں وبا پر قابو پالیا گیا ہے۔

    ss

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  19. ’لیسٹر میں لاک ڈاؤن سے بچا جا سکتا تھا‘

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کے شہر لیسٹر کے میئر نے کہا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ کی مدد جلد مل جاتی تو لیسٹر میں لاک ڈاؤن سے بچا جاسکتا تھا۔

    29 جون کو کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافے کے بعد شہر بھر میں ایک بار پھر پابندیاں سخت ہوگئیں تھیں۔

    جمعہ کے روز بورس جانسن نے مقامی طور پر پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کونسلوں کو ٹارگٹڈ لاک ڈاؤن کرنے کے اختیارات دیے ہیں۔

    نئے اختیارت کے تحت انھیں دکانیں بند کرنے، پروگراموں کو منسوخ کرنے اور مخصوص علاقوں میں عوامی مقامات کو بند کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    لیکن سر پیٹر سولسبی نے کہا کہ انھیں ’تین یا چار ہفتوں پہلے‘ ایسا کرنے کی ضرورت تھی اور اس سے شہر کو بچایا جا سکتا تھا۔

    شفش

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

  20. کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں؟

    dg

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق ہونے والی فنڈنگ کانفرنس سے امریکہ اور روس غیر حاضر تھے جبکہ چین نے ویکسین کی تیاری اور علاج پر تحقیق کے لیے براہ راست مالی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز: امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکسین تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

    یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

    ماہر جینیات کیٹ براڈیریک سائنسدانوں کی اس ٹیم کا حصہ ہیں جو دنیا بھر میں کووڈ 19 کے لیے ایک ویکسین تیار کرنے کی کوشش کرنے والے 44 منصوبوں میں سے ایک ہے۔

    وہ امریکہ کی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی اینویو میں محققین کی ایک ٹیم کا حصہ ہیں جو دسمبر تک اس ویکسین کی دس لاکھ خوراکیں تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن یہ ویکسین کہاں اور اور کن لوگوں کو ملے گی۔

    یہ ایسا سوال ہے جو اکثر ڈاکٹر براڈیریک کے ذہن میں آتا ہے۔ سکاٹ لینڈ کی اس سائنسدان کی ایک بہن برطانیہ نیشنل ہیلتھ سروس میں بطور نرس کام کرتی ہیں۔