وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے مطابق چند لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں کمی ٹیسٹنگ میں کمی کی وجہ سے ہو رہی ہے۔
اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں انھوں نے کہا کہ جون کے وسط میں ٹیسٹ کے نتائج مثبت آنے کی شرح 22 فیصد تھی۔
انھوں نے کہا کہ اگر اس لحاظ سے دیکھا جاتا تو گذشتہ روز کیے گئے 24 ہزار 262 ٹیسٹوں کے نتیجے میں 5500 نئے متاثرین سامنے آتے جبکہ اصل تعداد دو ہزار 145 تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں مثبت ٹیسٹ آنے کی شرح میں 60 فیصد کمی ہوئی ہے۔
اس حوالے سے چند دن قبل بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ میں ماہرین نے اس خیال سے اختلاف کیا تھا۔ ٹیسٹنگ کے حوالے سے تعداد کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات تو درست ہے کہ ملک میں یومیہ ٹیسٹنگ کی تعداد میں گذشتہ ایک ماہ میں کمی آئی ہے۔
اس کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ جتنے بھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، چاہے روزانہ ایک ہزار، دس ہزار یا ایک لاکھ، ان میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو کہ کورونا میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ یعنی ہم اس شرح کا جائزہ لیں کہ کُل کیے گئے ٹیسٹ میں سے کتنے لوگوں میں مرض کی تصدیق ہوتی ہے۔
آج سے لگ بھگ ایک ماہ قبل سات جون کو یہ شرح 20 فیصد تھی، آٹھ جون کو 18 فیصد، نو جون کو 22 فیصد اور 10 جون کو بھی 22 فیصد کے قریب رہی۔
اس کے برعکس پانچ جولائی کو یہ شرح 15 فیصد، چھ جولائی کو یہ 11 فیصد اور سات جولائی کو یہ 13 فیصد رہی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں علامات ظاہر نا کرنے والے کورونا کے مریضوں کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے۔
اس کے علاوہ پالیسی میں تبدیلی کے بعد اب بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کی ٹیسٹنگ بھی نہیں کی جا رہی ہے۔
كورونا ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمود شوکت نے اس بارے میں بتایا کہ حکومت کی جانب سے سمارٹ سیمپلنگ متعارف کروائی گئی تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کا اندازہ لگایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ درست نہیں ہے کہ ایک چھوٹی سی آبادی پر کیے جانے والے ٹیسٹوں کے نتیجے سے پورے شہر، صوبے یا پاکستان میں اس وائرس کے پھیلاؤ کا اندازہ لگایا جائے۔
ان کا مزيد کہنا تھا کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہم بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کر سکیں، اسی وجہ سے ہم نے اپنے وسائل کو بچانے کے لیے پالیسیوں میں تبدیلی کی اور مسافروں کے ٹیسٹ بھی بند کیے۔