ان رپورٹس کے بعد کہ کیلیفورنیا میں ٹیسلا کے ایک پلانٹ پر 100 سے زیادہ ملازمین میں کووڈ۔19 کے مثبت ٹیسٹ کی تصدیق ہوئی ہے، وہاں موجود باقی ملازمین نے اپنی حفاظت کے متعلق تشویش ظاہر کی ہے۔
ایک انڈسٹری بلاگ کے مطابق ممکنہ طور پر تقریباً 1500 ملازمین میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
عملے کا کہنا ہے کہ ان کی تشویش نظر انداز کی گئی اور سماجی دوری اور صحت عامہ کے قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
ٹیسلا کے ملازم برینٹن فلپس نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’مجھے بھلا دیا گیا ہے، ہم سب محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیا گیا ہے۔‘
’ایک دن کوئی بیمار پڑتا ہے اور ہمیں پتہ چلتا ہے، اگلے دن تین سے چار لوگ جو اس کے ساتھ کام کرتے تھے، چلے جاتے ہیں تو ہمیں کچھ نہیں بتایا جاتا۔‘
عملے کا کہنا ہے کہ کپمنی نے انھیں کہا ہے کہ اگر وہ یہ محسوس کریں کہ انھیں بخار ہے یا وہ بہتر محسوس نہیں کر رہے تو وہ گھروں پر رہیں، لیکن فلپس نے سی بی ایس کو بتایا کہ یہ بہت سے ورکرز کے لیے قابلِ عمل آپشن نہیں ہے۔
فری مونٹ پلانٹ میں 10 ہزار ملازمین کام کرتے ہیں۔ ٹیسلا نے مقامی میڈیا میں اس مسئلے پر بات نہیں کی ہے۔
شروع میں کیلیفورنیا میں لاک ڈاؤن لگنے کے بعد پلانٹ کو بند کر دیا گیا تھا، لیکن ٹیسلا کے سربراہ ایلن مسک بڑی جدو و جہد کے بعد اسے مئی میں کھلوانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔