آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: اتوار کو دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 26 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ افراد میں اس مرض کی تصدیق جبکہ 5265 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اتوار کو دنیا بھر میں کورونا کے ریکارڈ دو لاکھ 30 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ ویزے کے حکم پہ نظر ثانی کرے، انڈیا کا مطالبہ

    انڈیا نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ ویزے کے اس حکم نامے پر دوبارہ غور کرے جس کے تحت انڈین طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کو امریکہ چھوڑ کر انڈیا واپس آنا پڑے گا۔

    امریکی امیگریشن سروسز نے اس ہفتے کہا ہے کہ اگر یونیورسٹیاں اس موسمِ خزاں میں اپنی کلاسز آن لائن لیتی ہیں تو غیر ملکی طالب علموں کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انھیں صرف رہنے کی اس وقت اجازت ہو گی کہ اگر وہ بذات خود ٹیوشن والا کوئی کورس لیں۔

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان انوراگ سرواستوا نے جمعرات کو کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو یہ ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ تعلیمی تبادلے اور لوگوں کے لوگوں سے رشتوں نے ہمارے تعلقات کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

  2. کورونا وائرس: بخار، کھانسی اور سانس میں دشواری، اس بیماری کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور اب تک مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک کروڑ اور ہلاکتوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔ پاکستان پر نظر ڈالیں تو وہاں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ چار ہزار سے زیادہ افراد اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔

  3. برطانیہ: کووڈ 19 کے ٹیسٹوں کے نمونے سڑک پر پڑے ملے

    این ایچ ایس ہائی لینڈ نے ٹین شہر کے نزدیک ہائی وے اے 9 پر کووڈ۔19 کے ٹیسٹوں کے نمونوں کا ایک بیگ پڑا ملنے کے بعد تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    صحت کے حکام کے مطابق یہ نمونے وک شہر میں واقع کیتھنس جنرل ہسپتال سے انورنیس میں واقع ریئگمور ہسپتال میں ٹرانسپورٹ کیے جا رہے تھے۔

    ان نمونوں کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے جس کے بعد انھیں رائگمور کی لیبارٹری ٹیم کے حوالے کیا جائے گا۔

    ٹرسٹ کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ نمونے کسی وقت بھی پبلک کے لیے خطرہ نہیں بنے تھے۔

    انھوں نے کہا: ’وہ مناسب طریقے سے پیک تھے اور اسی طرح ہی رہے۔ ہم اس شخص کے بہت شکرگزار ہیں جس نے پولیس کو یہ باکس لا کے دیا۔‘

  4. کورونا وائرس سے متعلق اپنے سوالات کے جوابات جانیے ڈاکٹر فہیم یونس سے

    کورونا کو لے کر ہم سب کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں۔ خاص طور پر پاکستان میں ٹائیفائیڈ اور کورونا کے بیچ تشخیص کرنے کے حولے سے کیا اقدام لیے جانے چاہئے؟

    ایسے ہی کئی سوال ہم نے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر فہیم یونس سے پوچھے۔

    ان کے جواب جاننے کے لیے محمد ابراہیم کی یہ ویڈیو ملاحظہ کریں۔۔۔

  5. وبا سے نمٹنے میں ’عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر ممالک کے ردِ عمل‘ کا جائزہ لینے کے لیے پینل تشکیل

    عالمی ادرارہ صحت نے جمعرات کے روز ایک پینل تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جو کورونا وائرس کے خلاف اس کے عالمی ردِ عمل کا جائزہ لے گا۔

    جینیوا میں عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈراس ادھانوم غیبریسس کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کی سابق وزیرِ اعظم ہیلن کلارک اور لائبیریا کے سابق صدر ایلن جانسن سرلیف اس پینل کے مشترکہ سربراہ ہوں گے۔

    ڈاکٹر ٹیڈراس کا کہنا تھا کہ یہ ’خود احتسابی‘ کا وقت ہے تاکہ اس حوالے سے دنیا بھر میں رابطے مضبوط کیے جا سکیں اور عالمی وبا پر قابو پایا جا سکے۔

    عالمی ادارہ صحت پر اس سے قبل بھی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کے حوالے سے زور ڈالا جاتا رہا ہے، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے۔

    امریکہ کا مؤقف یہ رہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت چین میں وبا کے پھیلاؤ کو آغاز میں روکنے میں ناکام رہا اور یہ کہ ادارہ چین کے زیادہ قریب ہے۔

    یہ جائزہ پینل نہ صرف عالمی ادارہ صحت کے ردِ عمل کی جانچ کرے گا بلکہ تمام ممالک کی کارکردگی کی بھی۔

    رواں ہفتے امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے دستبردار ہونے کے فیصلے کے بارے میں اقوام متحدہ کو مطلع کر دیا تھا۔

  6. جنوبی افریقہ کی ملکہ کی کووڈ۔19 سے موت

    جنوبی افریقہ کے ایک شاہی خاندان نے ملکہ نولوئیسیو سینڈیل کی کووڈ۔19 کو وجہ سے موت کی تصدیق کی ہے۔

    زولو بادشاہ گوڈول زویلیتھنی کی 56 سالہ بہن ملکہ نولوئیسیو امارارہابے شاہی خاندان کی نائب تھیں۔

    صدر سیرل راماپھوسا نے انھیں راویتی اقدار کا ایک قلع اور اپنے عوام کے لیے ایک متاثر کن اور اصول پرست رہنما کہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملکہ نے اپنی مشرقی کیپ میں واقع سلطنت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    جنوبی افریقہ میں سرکاری طور پر سات بادشاہ تسلیم کیے جاتے ہیں جو مختلف نسلی گروہ اور قبیلوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

  7. ’مریض کی جگہ آپ کے رشتہ دار بھی ہو سکتے ہیں‘

    کورونا وائرس کی وجہ سے تقریبا تمام ہسپتالوں پر بہت زیادہ بوجھ بڑھا گیا ہے ایسے میں ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹرز اور نرسز کو مریضوں کا کس طرح خیال رکھنا چاہیے اور مریضوں کے لواحقین کو ڈاکٹرز اور نرسز کے ساتھ کس طرح کا رویہ رکھنا چاہیے۔

    بتا رہی ہیں ڈاکٹر تمکنت منصور اپنے اس وی لاگ میں۔

  8. انگلینڈ: ٹیسٹ اینڈ ٹریس نے 1 لاکھ 40 ہزار افراد کو خود ساختہ تنہائی کے لیے کہا

    نئے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں ٹیسٹ اینڈ ٹریس نظام کے آنے کے پہلے پانچ ہفتوں میں 1 لاکھ 44 ہزار 501 افراد کو خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کا کہا گیا ہے۔

    یہ کل 1 لاکھ 69 ہزار 863 شناخت ہونے والے قریبی رابطوں کا 85 فیصد بنتا ہے۔

    باقی 15 فیصد، 25 ہزار 362 افراد، کو قریبی کانٹیکٹس شناخت تو کیا گیا، لیکن روابط ٹریس کرنے والے ان تک نہیں پہنچ سکے۔

    ان میں سے کچھ لوگوں تک اس لیے بھی نہیں پہنچا جا سکا کیونکہ ان کے متعلق کوئی تفصیل نہیں دی گئی تھی۔

  9. کورونا وائرس: کیا لاک ڈاؤن میں پھنسے سائنسدانوں کی جگہ ربورٹس لے لیں گے؟

    برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیورپول کے سائنسدانوں نے اپنے ایک روبوٹ ساتھی کی رونمائی کی ہے جو لاک ڈاؤن کے دوران اُن کی لیبارٹری میں کوئی وقفہ لیے بغیر تحقیق کرنے کے کام میں مصروف ہے۔

    اس محقق روبوٹ کی مالیت ایک لاکھ پاؤنڈ ہے اور یہ بذاتِ خود حاصل کردہ نتائج سے سیکھتا ہے تاکہ آئندہ تجربوں کو مزید بہتر بنا سکے۔

    اس روبوٹ کو بنانے والوں میں سے ایک بینجامن برگر نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’اس روبوٹ میں آزادی کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت ہے جس کے باعث میں گھر سے کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہوں۔‘

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کے ذریعے سائنسی دریافتیں ’ہزار گنا تیز‘ ہو سکتی ہیں۔

  10. بلوچستان میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے: لیاقت شاہوانی

    بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کورونا کے کیسز میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

    کوئٹہ میں کورونا کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں کورونا کو چار مہینے ہو گئے۔

    جولائی کے مہینے کے آٹھ دنوں کے دوران ٹیسٹ کی مجموعی تعداد کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یکم سے 8 جولائی تک 3331 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 576 مثبت کیس رپورٹ ہوئے۔

    حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ اس ہفتے میں مجموعی 33 اضلاع میں سے 16 میں سے کوئی مثبت کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ پہلے کے مقابلے میں کورونا کے کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس کا کریڈٹ بلوچستان باالخصوص کوئٹہ کے عوام کو جاتا ہے کیونکہ انھوں نے احتیاطی تدابیر کا خیال رکھا اور یہ عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ عید کے دنوں میں ایس اوپیز پر مکمل عمل درآمد کریں تاکہ کیسز کی تعداد میں اضافہ نہ ہو۔

    اگرچہ بلوچستان سے کورونا کے کم کیس رپورٹ ہو رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔

    لیاقت شاہوانی نے کہا کہ پہلے کے مقابلے میں کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کی صحت یابی کی شرح میں 20 فیصد اضافے کے بعد صحتیابی کی شرح 60 فیصد ہو گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کورونا سے مصدقہ تعداد 124 ہے جن میں سے 80 کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔

  11. ایران میں ایک دن میں سب سے زیادہ اموات، نو صوبے ریڈ زون قرار

    ایران کے وزیرِ صحت نے کہا ہے کہ کووڈ۔19 کی انفیکشن میں مبتلا مزید 221 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ فروری میں وبا پھیلنے کے بعد سے اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

    سرکاری طور پر اموات کی تعداد اب 12 ہزار 305 ہو چکی ہے جبکہ جمعرات کو تصدیق شدہ متاثرین میں 2 ہزار 79 کا اضافہ اور اب ان کی کل تعداد 2 لاکھ 50 ہزار 458 تک پہنچ گئی ہے۔

    ایران کے 31 میں سے نو صوبوں کو وہاں ہونے والی اموات اورانفیکشنز کی تعداد کی وجہ سے حکومت نے ’ریڈ‘ زونز قرار دیا ہوا ہے۔ تہران سمیت 10 دوسرے ’پیلے‘ زونز میں ہیں۔

    تہران کے وائرس ٹاسک فورس کے سربراہ علی رضا ذالی نے بدھ کو بتایا کہ ’تہران کو بہت نازک صورتِ حال کا سامنا ہے۔ گذشتہ دس روز سے انفیکشنز، اموات اور لوگوں کے ہسپتالوں میں داخل ہونے کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔‘

    اپریل سے حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ کاروبار کھولے جائیں اور معیشت کو بحال کیا جائے جو کہ پہلے ہی امریکی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے بہت بری حالت میں ہے۔

  12. پاکستان کی کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں صفِ اول پر چار اہم خواتین

    پاکستان میں حالات چاہے جیسے بھی ہو خواتین ہمیشہ سے اپنا کردار ادا کرنے میں پیش پیش رہیں ہے۔ کورونا وائرس پھیلنے کے بعد بھی حکومتی اداروں میں کام کرنے والی خواتین صفِ اول میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

    مگر یہ خواتین صرف آج سے ہی نہیں بلکہ بہت عرصے سے مختلف شعبہ جات زندگی میں اپنا لوہا منوا چکی ہے۔ ان کی زندگی کے اتار چڑھاو کے بارے میں مزید دیکھیے ہمارے نمائندے موسیٰ یاوری کی اس ویڈیو میں۔

  13. انڈین وزارت صحت: کورونا ویکسینز کے جانوروں پر کیے جانے والے تجربے مکمل

    انڈیا میں وزارتِ صحت کی جانب سے سے جمعرات کے روز میڈیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ انڈیا میں کورونا ویکسینز کے جانوروں پر کیے جانے والے تجربے مکمل ہو چکے ہیں۔

    وزارت صحت کے اہلکار راجیش بھوشان کے مطابق انڈیا میں اس وقت دو کورونا ویکسینز پر کام جاری ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ، بھارت بائیو ٹیک انٹرنیشنل لمیٹڈ اور کڈیلا ہیلتھ کیئر دو دیسی ساختہ ویکسینز بنا رہے ہیں جن کے جانوروں پر کیے جانے والے تجربے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ انسانوں پر کیے جانے والے تجربوں کی تیاریاں جاری ہیں۔

    حال ہی میں اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ انڈیا اگست 15 تک ویکسین تیار کر لے گا لیکن ماہرین نے اس دعوے پر شکوک کا اظہار کیا تھا۔

  14. ’دنیا کے پانچ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں انڈیا میں فی دس لاکھ اموات سب سے کم‘

    انڈیا میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے مطبق دنیا میں پانچ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے انڈیا میں فی 10 لاکھ اموات سب سے کم ہیں۔

    وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فی 10 لاکھ متاثرین 538 ہیں جبکہ اموات صرف 15۔

    دنیا بھر میں متاثرین کی اوسط 1453 ہے جبکہ اموات 68 اعشاریہ سات۔

    اس کے علاوہ انڈیا میں کورونا وائرس ٹیسٹ کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔ گذشتہ ہفتے انڈیا ٹیسٹوں کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ گئی۔

    اس کے علاوہ انڈیا کی آبادی 130 کروڑ سے زیادہ ہے اور اب تک صرف 75 لاکھ افراد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں تاہم 21 ہزار سے زیادہ ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

  15. دنیا میں کہاں کووڈ 19 کا مرض پھیل رہا ہے اور کہاں کم ہو رہا ہے؟

    جون کی 28 تاریخ کو دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ گئی جس کے بعد عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ وائرس سے مقابلے کا اب ایک نیا اور خطرناک مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

    مغربی یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک میں وائرس کے پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن دوسری جانب دنیا کے دیگر کئی علاقوں میں یہ وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    جب کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تو دس لاکھ افراد کو متاثر ہوتے ہوتے نوے دن لگ گئے لیکن نوے لاکھ سے ایک کروڑ کی تعداد صرف آٹھ روز میں بڑھی گئی جس سے اس وائرس کے پھیلاؤ کی تیزی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

  16. عالمی ادارہ صحت: ایسا ممکن ہے کہ کورونا وائرس ہوا میں موجود چھوٹے چھوٹے زرات کے ذریعے پھیلے

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ کورونا وائرس ہوا میں موجود چھوٹے چھوٹے زرات کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ تنگ اور رش والوں کی جہگوں پر ہوا سے اس وائرس کی منتقلی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

    اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو پھر ایسی صورت میں گھر، دفاتر اور ایسی دوسری اندرونی جگہوں سے متعلق بھی گائیڈ لائن متاثر ہو سکتی ہے۔

    خیال رہے کہ 200 سے زائد سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت کے نام ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ یہ ادارہ ہوا سے اس وائرس کے پھیلاؤ کے امکان کو رد کر رہا ہے۔

    ابھی تک عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ یہ وائرس لوگوں کے کھانسنے اور چھینکنے سے پھیلتا ہے۔

  17. انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ساڑھے سات لاکھ سے تجاوز کر گئی

    انڈیا میں ایک دن میں سب سے زیادہ متاثرین سامنے آنے کے بعد اس وائرس کے کل متاثرہ افراد کی تعداد 750،000 بنتی ہے۔

    خیال رہے کہ انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 25 ہزار کے قریب متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔ دلی کے علاوہ مہاراشٹر اور تامل ناڈو انڈیا کی سب سے متاثرہ ریاستیں ہیں۔

    اگرچہ انڈیا نے حالیہ چند ہفتوں میں اس وائرس کی تشخص کے لیے ٹیسٹنگ کی تعداد میں اضافہ کیا ہے مگر اس کے باوجود کئی ریاستوں سے یہ تعداد نسبتاً کم بنتی ہے جس کی وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ اس وائرس کے متاثرین کی صیحح تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    انڈیا دنیا کا دوسرا بڑا گنجان آباد ملک ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ آبادی کے تناسب سے اس وائرس کے متاثرین کی تعداد بہت کم بنتی ہے۔

  18. ’جاپان میں ایمرجنسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘

    دارالحکومت ٹوکیو میں ایک دن میں ریکارڈ نئے متاثرین کے سامنے آنے کے باوجود جاپانی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک میں دوبارہ ایمرجنسی عائد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

    مقامی اخبار جاپان فارورڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق چیف کیبیٹ سکیریٹری یوشیہدی سوگا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس وائرس کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کی کڑی نگرانی کر رہی ہے اور اس حوالے سے ماہرین سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

    حکومتی ترجمان کے مطابق ٹوکیو میں منگل کو 224 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ تقریباً 80 فیصد ایسے افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان نے اپریل میں اس وقت ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا جب ٹوکیو اور اوساکا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم یہ ایمرجنسی مئی میں ہٹا دی گئی تھی۔ اس کے بعد جاپان میں متاثرین کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی۔

    جاپان میں اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 20،100 ہے جبکہ اس وبا سے کل 980 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

  19. امریکہ میں غیر ملکی طلبہ کے لیے نئی ویزا پالیسی پر ہارورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی کا محکمہِ امیگریشن کے خلاف مقدمہ

    امریکہ کی دو معروف یونیورسٹیوں نے غیر ملکی طلبا کے ویزے کی معیاد ختم کرنے پر امریکی امیگریشن سروسز کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    امریکی حکام نے ایسے غیر ملکی طلبا کے ویزے کی معیاد ختم کرنے کا فیصلہ کیا جو کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں صرف آن لائن کلاسز لے رہے ہیں۔

    نئی ویزا پالیسی کے اعلان کے بعد ہاروڈ اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے ہوم لینڈ سکیورٹی، امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

    اس مقدمے کے مطابق آئی سی ای نے طلبا کی صحت، تعلیم اور یونیورسٹی عملے کو بغیر کسی خاطر میں لائے ہزاروں غیر ملکی طلبا کے لیے امریکہ کے اندر تعلیم کے امکانات مسدود کر دیے ہیں۔

    ہاروڈ کے صدر لارنس بیکو کا کہنا ہے کہ آئی سی ای کا نیا حکم نامہ بری پبلک پالیسی ہے اور ہمارے خیال میں یہ غیر قانونی بھی ہے۔

  20. انڈیا کی مغربی بنگال ریاست نے لاک ڈاؤن میں مزید سختی کر دی

    کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافے کے بعد انڈیا میں ریاست مغربی بنگال نے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔

    علاقے میں تمام دفاتر بند کر دیے گئے ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور کسی قسم کی کوئی کاروباری سرگرمی جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

    بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل اس ریاست کی کل آبادی 90 ملین ہے۔ آج سے لاگو ہونے والے نئی پابندیاں ایک ہفتے تک برقرار رکھی جائیں گی۔

    مغربی بنگال 24،823 متاثرین کے ساتھ انڈیا کی سب سے متاثرہ ریاست بن چکی ہے۔ صرف منگل کو ہی اس ریاست میں 800 سے زائد متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔