کورونا کے باعث بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن سے افغان سرحد کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں کوئٹہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔
سرحد سے مقامی تاجروں اور محنت مزدوری کرنے والے افراد روزانہ کی بنیاد پر افغانستان آمد و رفت کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے گزشتہ 29 روز سے احتجاج پر ہیں اور انہوں نے ایک ہفتے سے زائد کے عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان شاہراہ کو بھی بند کیا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے۔
وزیر اعلیٰ کی صدارت میں اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال بھی اس وقت سرحد کی بندش کی ایک بڑی وجہ ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق روزانہ بارہ سے پندرہ ہزار افراد دونوں اطراف سے سرحد عبور کرتے ہیں جن میں محنت مزدوری کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان جانے والی اشیا افغانستان میں اتاری جاتی ہیں جن میں سے بیشتر اشیا ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادئیگی کے بغیر واپس پاکستان لائی جاتی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسسے ملکی خزانے کو ٹیکس کی مد میں بھاری نقصان پہنچتا ہے جبکہ سمگلنگ اور غیرقانونی آمدورفت کی آڑ میں غیر ریاستی عناصر کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے جس سے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں امن وامان اور دہشت گردی کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محنت مزدوری کرنے والے چمن کے مقامی افراد کو فوری طورپر حکومت بلوچستان کی جانب سے احساس پروگرام کے تحت مالی پیکج دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر فوری طور پر دوکمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی، ایک کمیٹی علاقے میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی جو مقامی تاجروں اور محنت مزدوری کرنے والے افراد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہیں سرحد کی بندش کے محرکات پر اعتماد میں لے گی۔
جبکہ چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک انتظامی ذیلی کمیٹی فوری طور پر تشکیل دی گئی جس میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں اور ایف سی حکام کے علاوہ چیمبر آف کامرس کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ ذیلی کمیٹی مسئلہ کے مستقل بنیادوں پر حل کے لئے متبادل معاشی سرگرمیوں، بارڈر ٹریڈ کے موثر طریقہ کار، بارڈر مارکیٹوں اور ویئر ہاوسز کے قیام، ایمیگریشن اور کسٹمز کی سہولیات اور دیگر سرحدی امور کی باضابطگی سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔
اجلاس میں اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ متبادل معاشی سرگرمیوں کے اقدامات سے چمن اور تفتان میں باقاعدہ اور قانونی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ باقاعدہ اور قانونی تجارت کے فروغ سے نہ صرف ٹیکسز کی مد میں حکومت کو آمدنی ہوگی بلکہ مقامی تاجروں کو بھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کو حاصل اختیارات کے تحت ملکی مفاد میں فیصلے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے متعلق امور پر وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ اس مسئلہ کا فوری اور مستقل بنیادوں پر حل ممکن ہوسکے۔