پاکستان میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لگائی گئی پابندیوں کو نرم کرنے کے اقدامات کے تحت وفاقی حکومت نے ایرانی سرحد کو مزید چار مقامات سے گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھولنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
جن مقامات سے سرحد کو کھولنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں ان میں گبد، مند، کٹا گر اور چیدگی شامل ہیں۔
وفاقی وزارت داخلہ کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ان مقامات پر سرحد کو پانچ جولائی سے کھول دیا جائے گا۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق ان چاروں مقامات سے سرحد صرف ایکسپورٹ اور امپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے لیے صبح سے شام تک کھلی رہے گی تاہم یہ اجازت کورونا سے متعلق ایس او پیز پر سختی کے ساتھ عملدرآمد سے مشروط ہے۔
واضح رہے کہ ضلع قلعہ عبداللہ میں چمن اور ضلع چاغی میں تفتان کو امپورٹ اور ایکسپورٹ کی گاڑیوں کو پہلے ہی کھول دیا گیا تھا۔
بلوچستان کی افغانستان کے ساتھ 11سوکلومیٹر جبکہ ایران کے ساتھ 9 سو کلومیٹر سے زائد طویل سرحدیں ملحق ہیں۔
افغانستان کے ساتھ بلوچستان کے چھ جبکہ ایران کے ساتھ پانچ اضلاع کی سرحدیں ملحق ہیں اور ان میں چاغی واحد ضلع ہے جس کی سرحدیں دونوں ممالک سے متصل ہیں۔
ان اضلاع میں لوگوں کی معاش اور روزگار کا انحصار زراعت اور لائیو اسٹاک یا سرحدی تجارت پر ہے۔
افغانستان کے برعکس ایران سے متصل علاقوں میں رہنے والوں کا کھانے پینے کی بہت ساری اشیا کے لیے انحصار بھی ایران پر ہے اور سرحدوں کی بندش کے بعد انھیں شدید مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اگرچہ ان ممالک سے ملحقہ سرحدوں کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے تو کھول دیا گیا ہے لیکن تاجر اور محنت مزدوری کرنے والے افراد جو روزانہ کی بنیاد پر جاتے اور واپس آتے تھے، ان کی آمد و رفت پر تاحال پابندی ہے۔
ان پابندیوں کے خلاف افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں مقامی تاجر اور محنت مزدوری کرنے والے افراد نہ صرف ایک ماہ سے احتجاج پر ہیں بلکہ انھوں نے ایک ہفتے سے دونوں ممالک کے درمیان شاہراہ کو بھی بند کر رکھا ہے۔
چمن کے مقامی تاجر رہنما صادق اچکزئی کے مطابق سرحدی اضلاع میں حکومت نے اب تک روزگار اور معاش کے دیگر ذرائع فراہم نہیں کیے جس کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار سرحدی تجارت پر ہے۔
جبکہ سرکاری حکام چمن سے روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کی آمد ورفت پر پابندی کے حوالے سے کورونا کے علاوہ دیگر کئی جواز پیش کرتے ہیں۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بریفنگ کے دوران کسٹمز اور سیکورٹی سے متعلق اداروں کے حکام نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق چمن سرحد سے روزانہ بارہ سے پندرہ ہزار افراد دونوں اطراف سے سرحد عبور کرتے ہیں جن میں محنت مزدوری کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان جانے والی اشیا افغانستان میں اتاری جاتی ہیں جن میں سے بیشتر اشیا ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر واپس پاکستان لائی جاتی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اس سے ملکی خزانے کو ٹیکس کی مد میں بھاری نقصان پہنچتا ہے جبکہ سمگلنگ اور غیرقانونی آمدورفت کی آڑ میں غیر ریاستی عناصر کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے جس سے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں امن وامان اور دہشت گردی کا خدشہ موجود رہتا ہے۔