وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 8672 آئسولیشن بیڈز کو دو سے زائد مراحل میں ایچ ڈی یو بیڈز میں تبدیل کرنے اور زیادہ وینٹی لیٹرز اور معیاری آکسیجن انتظامات والے ایچ ڈی یو بیڈز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بات انھوں نے سنیچر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں کووڈ 19 ٹاسک فورس کے اجلاس میں کہی۔ واضح رہے کہ اس وقت سندھ حکومت کے پاس 503 آئی سی یو بیڈز ہیں جن میں وینٹی لیٹر اور 1810 ایچ ڈی یو بستر ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا اور سندھ میں کورونا سے صحتیابی کی شرح دیگر صوبے سے بہتر ہے۔
جبکہ یہاں اموات کی شرح 1.57 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ اگر اموات کی شرح کا موازنہ صوبے کے مریضوں اور آبادی کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو بہتر صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی وجہ سے سندھ میں سب سے کم شرح ہے۔
خطے کے فی ملین آبادی کے ٹیسٹ کا تقابلی تجزیہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ حکومت سے موازنہ کیا تو پتہ چلا یہ دیگر ممالک سے آگے ہے۔
مراد علی شاہ نے جون کے تین ہفتوں کا تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ جون کے دوسرے ہفتے میں 51086 ٹیسٹ کئے گئے جن سے 15221 کیسز کا پتہ چلا اور 8916 مریضوں کا علاج کیا گیا جبکہ جون کے تیسرے ہفتے میں 67534 ٹیسٹ کئے گئے جن سے 15095 کیسز کی تشخیص ہوئی اور 10702 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ جون کے چوتھے ہفتے میں 34344 ٹیسٹ کئے گئے جن کے نتیجے میں 7975 کیسز ظاہر ہوئے اور 7110 مریض صحتیاب ہوئے۔ مراد علی شاہ نے جولائی کے پہلے ہفتے سے متعلق بتایا کہ 18934 ٹیسٹ کیے گئے جس سے 4806 کیسز کا پتہ چلا اور 3988 صحت یاب ہوگئے ہیں۔
ان کے بقول ’اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم نے ٹیسٹنگ کی استعداد کار کو بڑھایا، ایس او پیز سے متعلق لوگوں میں آگاہی میں اضافہ ہوااور تشخیصی شرح کو کم کرنے اور صحتیابی کی شرح میں اضافہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔`
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ’ہم سب کو اسکرین نہیں کرسکتے لہذا ٹارگٹ اسکریننگ کی پالیسی اپنائی۔ ہمارے پاس لامحدود وسائل نہیں ہیں لہذا ہمیں ایسے وسائل مختص کرنے ہیں جہاں صحت پر کم سے کم اخراجات کو یقینی بنایا جاسکے۔‘
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مزید وینٹی لیٹرز ، مزید ایچ ڈی یو بیڈ اور ہائی آکسیجن انتظامات خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔