آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قازقستان میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ، پنجاب میں 646 نئے متاثرین، 13 ہلاکتیں

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 14 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 31 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ قازقستان میں کورونا کے متاثرین میں اضافے کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن کے میئر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے دو ہفتوں میں ہسپتالوں میں بستر کم پڑ سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کورونا: سویڈن میں متاثرین کی تعداد 70 ہزار سے زیادہ، اموات 5411

    سویڈن میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 70 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات 5411 ہو گئی ہیں۔

    ملک کی ہیلتھ ایجنسی کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 41 افراد کی موت ہوئی ہے۔

    سویڈن کا کورونا کی وبا کی جانب ردعمل دوسرے یورپی ممالک سے بہت مختلف رہا ہے اور ملک میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا گیا۔ سکول اور کیفے کھلے ہیں تاہم بڑے اجتماعات پر پابندی ہے اور زیادہ تر لوگ سماجی فاصلے کے اصول پر عمل پیرا ہیں۔

    لیکن پڑوسی ممالک، جہاں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا، کے مقابلے میں سویڈن میں شرح اموات خاصی زیادہ ہے۔ ڈنمارک میں کورونا سے اموات کی تعداد 606، فن لینڈ میں 328 جبکہ ناروے میں 251 ہے۔

  2. کورونا وائرس: افریقہ میں سیاحت کی صنعت کو 55 ارب ڈالر کا نقصان

    افریقی یونین کی ایک کمشنر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے گذشتہ تین ماہ میں افریقہ میں سیر و سیاحت کی صنعت کو 55 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    امانی ابو زید نے ایک آن لائن نیوز کانفرنس کو بتایا کہ یہ شعبہ براعظم کے جی ڈی پی کا تقریباً 10 فیصد حصہ بنتا ہے اور لاکھوں لوگوں کا معاش اس پر منحصر ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا مطلب ہے کہ کچھ ایئر لائنز باقی نہیں رہ سکے گیں۔

    مارچ کے مہینے میں عالمی ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل نے پیش گوئی کی تھی کہ وبائی مرض کی وجہ سے عالمی سطح پر 50 ملین تک ملازمتوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ جس کے بعد دنیا بھر سے کئی ایئر لائنز نے ملازمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

  3. تھائی پارک میں سیاحوں کی واپسی کے ساتھ ہی بے بی میکاکی بندر ٹریفک حادثے کا شکار

    تھائی لینڈ کے علاقے پراچنبری میں واقع خاؤ یے نیشنل پارک کو جسے کورونا وائرس کی وبا کے باعث عارضی طور پر بند کیا گیا تھا، بدھ کو دوبارہ کھول دیا گیا لیکن اس کے کھلنے کے پہلے ہی دن ایک ٹریفک میں اس کے مشہور میکاکی بندر کا بچہ ہلاک ہو گیا۔

    بندر کے بچے کی ماں تیزی سے اسے بچانے کے لیے پہنچی لیکن اس وقت تک بہت دی ہو چکی تھی۔ اس کے بعد وہ اس کا مردہ جسم اٹھا کر جنگل میں لے گئی۔

    نیشنل پارک کورونا وائرس کی وجہ سے سیاحوں کے لیے گذشتہ 25 مارچ کو بند کر دیا گیا تھا۔ تین ماہ کے لاک ڈاؤن میں پارک کے جنگلی جانور، جن میں ہاتھی، ہرن اور جنگلی سوؤر شامل تھے، کھلے گھومتے رہے۔

    اس حادثے کے بعد پارک کی انتظامیہ نے سیر کے لیے آنے والوں سے کہا ہے کہ وہ پارک میں جانوروں کے تحفظ کے لیے اپنی گاڑیوں کی رفتار کم رکھیں۔

    پارک انتظامیہ روزانہ صرف 5000 لوگوں کو پارک میں آنے کی اجازت دیتی ہے، جبکہ سیزن کے عروج میں 9 ہزار 500 افراد پارک میں آتے تھے۔

  4. بریکنگ, کورونا وائرس: حکومت بلوچستان کا شہروں کے اندر مویشی منڈیاں قائم کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

    حکومت بلوچستان نے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے خدشے کے پیش نظر شہروں کے اندر مویشی منڈی قائم کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ کوئٹہ شہر میں صرف ایک ہی مویشی منڈی ہوگی جسے مشرقی بائی پاس پر لگانے کا فیصلہ ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان بھر کی مویشی منڈیوں کے لیے ایس او پیز تیار کر لی گئی ہیں جس کے تحت مویشی منڈی میں بچوں اور بزرگوں کے داخلے پر پابندی عائد ہو گی۔

    مویشی منڈیوں میں کام کرنے والے ملازمین اور خریداروں کے لیے ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے مویشی منڈیوں میں کورونا سے بچاﺅ کے لیے سپرے سمیت کورونا سے بچاﺅ کے لیے دیگر ضروری آلات فراہم کرے گا۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صوبے کی ہر مویشی منڈی پر مجسٹریٹ تعینات ہوگا جو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کرے گا۔

  5. کووڈ 19 کے مریض کا مرنے سے پہلے پیغام:’اپنی بیوقوفی کی وجہ سے میں نے اپنے خاندان کی صحت کو خطرے میں ڈالا‘

    امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ایک رہائشی، جن میں سماجی فاصلوں کے اصول کی خلاف ورزی کرنے کے بعد کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، دم توڑ گئے ہیں۔

    مرنے سے ایک روز پہلے انھوں نے فیس بک پر سماجی فاصلے کے اصول کی خلاف ورزی کرنے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

    لاس اینجلس کے جنوب میں جون کے مہینے میں ایک پارٹی میں شرکت کے بعد جب 51 برس کے تھامس میکیس کو معلوم ہوا کہ وہ کووڈ 19 کا شکار ہو گئے ہیں تو انھوں نے لکھا ’یہ مذاق نہیں۔‘

    ’اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں تو ماسک پہنیں اور سماجی فاصلے کے اصولوں پر عمل کریں۔‘

    اپنے پوسٹ میں انھوں نے ممکنہ طور پر یہ بیماری اپنے خاندان میں منتقل کرنے پر بھی معذرت مانگی۔

    ’اپنی بیوقوفی کی وجہ سے میں نے اپنی والدہ اور بہنوں اور خاندان کی صحت کو خطرے میں ڈالا۔ یہ بہت دردناک تجربہ ثابت ہوا ہے۔‘

  6. امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 11 فیصد

    امریکہ کے بے روز گاری کے اعداد و شمار آ گئے ہیں اور ملکی معیشت میں جون میں 48 لاکھ نوکریوں کا اضافہ ہوا ہے۔

    لیبر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق بے روزگاری کی شرح بھی تیرہ اعشاریہ ایک فیصد سے گر کر گیارہ اعشاریہ ایک فیصد ہو گئی ہے۔ امریکیوں نے اس دوران بے روزگاری الاؤنس کے لیے14 لاکھ دعوے کیے ہیں۔

    بے روزگاری کی شرح اب بھی بہت زیادہ ہے اور وبا کے امریکہ پہنچنے سے پہلے فروری میں دیکھی گئی تین اعشاریہ پانچ فیصد سے کہیں اوپر ہے۔

  7. کورونا وائرس سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟

    کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ہماری روزمرہ کی زندگی میں کئی نئے الفاظ اور اصطلاحات متعارف کرائی ہیں، چاہے بات قرنطینہ، وائرس، مدافعت یا سماجی فاصلے کی ہو۔ لیکن آخر ان سب اصطلاحات کا مطلب کیا ہے؟

  8. فرینچ اوپن کے لیے ٹکٹوں کی فروخت شروع!

    کھیلوں کے شائقین کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ فرینچ اوپن کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ 16 جولائی سے ٹورنامنٹ کی ٹکٹوں کی فروخت شروع ہو جائے گی۔

    اس سال کے ٹورنامنٹ میں یومیہ 20 ہزار شائقین کو میچز دیکھنے کی اجازت ہوگی جبکہ 10 ہزار شائقین کو فائنل دیکھنے کا موقع ملے گا۔

    منتظمین نے رولند گیروس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔

    ٹینس کا یہ ٹورنامنٹ 27 ستمبر سے 11 اکتوبر تک چلے گا۔

  9. گھر سے کام کرنے والی مائیں سمجھ سکتی ہیں۔۔۔

    لاک ڈاؤن کے دنوں میں کئی لوگوں کو گھر سے کام کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم جن لوگوں کے بچے ہیں، ان کے لیے ایسا کرنا کبھی بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔۔۔ جیسا کہ آپ بی بی سی نیوز کے اس کلپ میں دیکھ سکتے ہیں!

  10. برطانیہ: کورونا ٹیسٹ کے نتائج کے لیے 24 گھنٹے سے زیادہ کا انتظار, نک ٹریگل، صحت کے نامہ نگار

    ایک نئے جائزے کے مطابق برطانیہ کے کئی رہائشیوں کو اپنے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج کے لیے 24 گھنٹے سے زیادہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

    24 جون تک کے اعدادوشمار کے مطابق موبائل یونٹس میں کیے جانے والے ٹیسٹ کے 40 فیصد اور مقامی ڈرائیو تھرو سنٹر میں کیے جانے والے 30 فیصد ٹیسٹ کے نتائج معمول سے زیادہ وقت میں مل رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم نے کہا تھا کہ جون کے آخر تک ہر ٹیسٹ کے نتائج 24 گھنٹے میں مل جایا کریں گے۔

    تاہم ایسا نہیں کہ اس کام میں کوئی تیزی نہیں آئی اور اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جون کے ماہ میں ٹیسٹنگ کی تعداد چار گنا بڑھ گئی ہے۔

  11. امریکہ میں وبا کی شدت میں ریکارڈ اضافہ

    جیسے ہم نے آپ کو پہلے بھی بتایا ہے امریکہ میں یومیہ مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور صرف بدھ کو 52000 ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    ملک کی جنوبی اور مغربی ریاستوں میں وائرس کے کیسز میں سب سے بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کئی نے اپنے لاک ڈاؤن اٹھانے کے ارادے ترک کر دیے ہیں۔

    امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق ملک میں اب تک کورونا وائرس کے 27 لاکھ مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں اور اب تک سوا لاکھ سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

    ذیل گراف میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ملک میں وبا نے کیسے تیزی پکڑی۔

  12. کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

    دنیا بھر کی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مختلف طریقوں سے اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے جن چیزوں کو اس کوشش میں سب سے اہم قرار دیا ہے ان میں سے ایک اس بیماری کی تشخیص کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد کی ٹیسٹنگ کا عمل ہے۔

    سوال یہ ہے کہ دنیا میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کون کون سے ٹیسٹ دستیاب ہیں اور مختلف ممالک میں یہ کتنے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔

  13. بریکنگ, کورونا وائرس: میکسیکو میں اموات سپین سے زیادہ

    میکسیکو میں بدھ کے روز کورونا وائرس سے مزید 741 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد ملک میں اس وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 28510 ہو گئی ہے جو کہ سپین میں ہونے والی اموات سے زیادہ ہے جہاں یہ تعداد اب تک 28364 ہے۔

    میکسیکو وائرس سے ہونے والی اموات میں دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر ہے اور ممکن ہے کہ وہ بہت جلد اس فہرست میں فرانس کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا کے سب سے زیادہ متاثرین رکھنے والے ممالک کی فہرست میں میکسیکو کا نمبر دسواں ہے جہاں یہ تعداد 231770 ہے۔ جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کی ایک وجہ دوسرے ممالک کے مقابلے کم ٹیسٹ کرنا ہے۔

  14. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا قانون ساز اسمبلی کے سامنے احتجاج, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے مطالبات منظور نہ ہونے پر مرکزی شاہراہ کو قانون ساز اسمبلی کے مرکزی گیٹ کے سامنے سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے گزشتہ گیارہ روز سے قانون ساز اسمبلی کے باہر اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے دھرنا دے رکھا ہے جس میں ینگ ڈاکٹرز کی بڑی تعداد شریک ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر فہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس خطے کے ینگ ڈاکٹرز کو اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے آج 58 روز گزر چکے ہیں جبکہ قانون ساز اسمبلی کے سامنے پرامن دھرنا دیے ہوئے گیارہ روز ہو گئے ہیں مگر حکومت نے ابھی تک ہمارے جائز مطالبات منظور نہیں کیے۔

    انھوں نے بتایا کہ ہمارا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ تمام ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف و نرسنگ سٹاف کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی معیار کی حفاظتی کٹس کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    انہوں نے بتایا کہ ہمارا دوسرا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ پورے پاکستان میں تمام ڈاکٹرز ہم سے پانچ گنا زیادہ تنخواہیں لیتے ہیں مگر پانچ سال گزرنے کے باوجود ہماری تنخواہ میں اس طرح کا کوئی اضافہ نہیں ہوا، اس لیے اس خطے کے ڈاکٹروں کی مراعات پاکستان کے دیگر ڈاکٹروں کے برابر کیا جائے۔

    ڈاکٹر فہیم نے بتایا اس وقت ایمرجنسی صورتحال میں کئی ڈاکٹرز چالیس گھنٹے تک مسلسل ڈیوٹی دے رہے ہیں اور گزشتہ پانچ برس سے اس خطے میں میڈیکل آفیسر، پوسٹ گریجویٹ ٹرینی اور ماہر امراض کی ایک بھی آسامی تخلیق نہیں کی گی جبکہ حکومت نے یہاں تین میڈیکل کالج قائم کر لیے ہیں جن سے ہر سال پانچ سو سے زائد ڈاکٹر نکل رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہمارا مطالبہ ہے کہ آبادی کے تناسب سے یہ آسامیاں تخلیق کی جائیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ہمارا چوتھا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ریاست میں تین ڈویژنل سٹیٹ آف آرٹ ہسپتال قائم کیے جاہیں جہاں ہر سہولت میسر ہو کیونکہ یہاں تمام سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث ستر فیصد مریضوں کو ڈاکٹر پاکستان کے بڑے شہروں میں ریفر کرتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ہم وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کے علاوہ مختلف اعلی حکام کے ساتھ مل چکے ہیں مگر ہر کوئی ہمارے مطالبات جائز مانتا ہے مگر بجٹ کا بہانہ بنا کر اسے منظور نہیں کرتا مگر ہمارا حکومت سے سوال ہے کہ جب ہر سال دیگر اخراجات پر بجٹ بڑھ جاتا ہے تو تعلیم اور صحت پر کیوں نہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ہم اپنے مطالبات کی منظوری تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور اگر حکومت نے ریاستی جبر کے زریعے ہمارے دھرنے کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ینگ ڈاکٹرز ریاست بھر میں او پی ڈی میں ایمرجنسی سمیت تمام آئیسولیشن ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹر پر فرائض سرانجام نہیں دیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

  15. ’اپنی من پسند ادویات بازار سے لے کر مت کھائیں‘

    کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ہر ایک کی نظر طبی تحقیق کی جانب ہے کہ کب اس بیماری کا علاج دریافت ہوگا لیکن جب بھی مثبت نتائج کے بعد کسی نئی دوائی کا نام سامنے آتا ہے تو پاکستان میں اس کی قلت یا پھر قیمت میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔

    خود سے اپنی من پسند ادویات کو بازار سے لے کر کھانے کے کیا نقصانات ہیں، یہ بتا رہی ہیں ڈاکٹر تمکنت منصور اس وی لاگ میں۔۔۔

  16. بریکنگ, خیبر پختونخوا: بکرامنڈیوں کے حوالے سے احکامات،’نو ماسک نو سروس‘ کو بنیادی اصول کے طور پر اپنانا ہو گا

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بکرا منڈیوں کے حوالے سے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں جس کے مطابق تمام بکرا منڈیاں میونسپل انتظامیہ کی حدود سے باہر بنائی جائیں گی اور ’نو ماسک نو سروس‘ کو منڈیوں کے اندر سب کے لیے بنیادی اصول کے طور پر اپنانا ہوگا۔

    معاون بلدیات کامران بنگش کے مطابق شہر کی حدود میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی کو یقینی بنایا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بکرا منڈی کا معائنہ اور تصدیق نامہ جاری کرنا ضروری ہو گا۔

    کامران بنگش کے مطابق تمام غیر رجسٹرڈ بازار/منڈی لگانے پر پابندی ہوگی اور کمیونٹی تنظیموں کی جانب سے اجتماعی قربانی کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

    انھوں نے بتایا کہ بھیڑ سے بچنے کے لیے ایک بڑی منڈی رکھنے کی بجائے بکرا منڈیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور ان منڈیوں کو چوبیس گھنٹے فنکشنل رکھا جائے گا۔

    معاون بلدیات کامران بنگش جانوروں کے مطابق باقیات ٹھکانے لگانے کے لیے خصوصی تحلیل شدہ بیگ تقسیم کیے جائیں گے اور بکرا منڈی کے قریب اور عید کے دنوں میں ٹریفک جام اور سڑکوں کی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ٹریفک مینجمنٹ کے جامع پلان کو ترتیب دیا جائے گا۔

    کامران بنگش نے کہا ہے کہ منڈی کے اندر بچوں اور 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم داخلے کے تمام مقامات پر ہاتھ صاف کرنے اور ہاتھ دھونے کے انتظامات یقینی بنائے جائیں گے اور جراثیم کش پانی کے ذریعہ سے منڈی حدود کی باقاعدہ ڈس انفیکشن ہوگی۔

  17. امریکہ میں وائرس کا بڑھتا پھیلاؤ

    جیسا کہ ہم اس سے قبل رپورٹ کر چکے ہیں کہ امریکہ میں گذشتہ روز ریکارڈ 52 ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے تھے۔

    ان میں سے زیادہ تر کیسز جنوبی اور مشرقی ریاستوں میں سامنے آئے ہیں جبکہ کچھ کی جانب سے معیشتیں دوبارہ کھولنے کے حوالے سے منصوبے اب تعطل کا شکار ہیں۔

    امریکہ میں اس وقت تقریباً 27 لاکھ سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 28 ہزار سے زیادہ اموات بھی ہو چکی ہیں۔

  18. کورونا وائرس سے متعلق آپ کے سوالات اور ڈاکٹر فہیم یونس کے جوابات

    کورونا کو لے کر ہم سب کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں۔ خاص طور پر پاکستان میں ٹائیفائیڈ اور کورونا کے بیچ تشخیص کرنے کے حولے سے کیا اقدام لیے جانے چاہئے؟

    ایسے ہی کئی سوال ہم نے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر فہیم یونس سے پوچھے۔

    ان کے جواب جاننے کے لیے محمد ابراہیم کی یہ ویڈیو ملاحظہ کریں۔۔۔

  19. پاکستان، مصر اور انڈیا سمیت دیگر ممالک میں بھی دواساز کمپنیوں نے ریمڈیسیور کی پیداوار کا آغاز کر دیا

    بدھ کے روز اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ امریکہ اگلے تین ماہ کی کورونا وائرس کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا رریمڈیسیور کی تقریباً مکمل پیداوار خرید رہا ہے۔

    تاہم پاکستان، انڈیا اور مصر میں بھی دوا ساز کمپنیوں کے پاس اس دوا کو بنانے کے لائسنس موجود ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ریمڈیسیور اس بیماری سے صحتیاب ہونے کا وقت کم کرتی ہے تاہم اس حوالے سے ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ جان بچانے میں کتنی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ہیٹیرو لیبز نے بی بی سی تیلوگو کی دیپتھی باتھینی کو بتایا کہ وہ یہ دوا پہلے سے ہی بنا رہے ہیں۔ اس کے مطابق ان کی جانب سے انڈیا بھر کے ہسپتالوں کو 30 ہزار خوراکیں بھیجی جا چکی ہیں جبکہ آنے والے دو ہفتوں میں اسے بڑھا کر ایک لاکھ کرنے کا منصوبہ ہے۔

    ’پکستان میں صحت کے حکام کو امید ہے کہ یہ دوا جلد مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہو گی۔ حکام نے بی بی سی اردو کے عمر ننگیانہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ریمڈیسیور فیروز سنز لیبارٹریز کی جانب سے بنائی جا رہی ہےاور یہ 15 جولائی سے مارکیٹ میں دستیاب ہو گی۔

    سی این این کے مطابق جیلیئڈ کمپنی نے عام دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ یہ معاہدے کیے ہیں تاکہ یہ 127 ترقی پذیر ممالک میں اس دوا کی دستیابی یقینی بنا سکیں۔

  20. ’حکومتیں فضائی سفر سے متعلق ضرورت سے زیادہ محتاط رویہ اختیار کر رہی ہیں‘

    سرحدوں کی بندش ہوابازی اور سیاحت کی صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی ایئرلائنز پروازوں کے آغاز کے لیے بیتاب ہیں۔

    لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد متعدد ممالک ٹریول ببل بنانے یعنی حفاظتی علاقہ متعین کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

    اسوسی ایشن آف ایشیا پیسیفک ایئرلائن کے ڈائریکٹر جنرل سبہاس مینن نے بی بی سی ایشیا بزنس رپورٹ کو بتایا کہ خطے میں حکومتیں ضرورت سے زیادہ محتاط رویہ دکھا رہی ہیں۔

    ان کی جانب سے محدود سفر کے لیے تو فضائی حدود کھولی گئی ہیں لیکن عام عوام میں یہ اعتماد پیدا نہیں کیا گیا کہ وہ یہ سفر محفوظ رہ کر کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ حکام کو چاہیے کہ وہ عوام کے ساتھ بہتر رابطہ استوار کریں اور قرنطینہ کے حوالے سے شرائط ہٹائیں تاکہ لوگ پھر سے فضائی سفر کی جانب راغب ہو سکیں۔