پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے مطالبات منظور نہ ہونے پر مرکزی شاہراہ کو قانون ساز اسمبلی کے مرکزی گیٹ کے سامنے سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے گزشتہ گیارہ روز سے قانون ساز اسمبلی کے باہر اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے دھرنا دے رکھا ہے جس میں ینگ ڈاکٹرز کی بڑی تعداد شریک ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر فہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس خطے کے ینگ ڈاکٹرز کو اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے آج 58 روز گزر چکے ہیں جبکہ قانون ساز اسمبلی کے سامنے پرامن دھرنا دیے ہوئے گیارہ روز ہو گئے ہیں مگر حکومت نے ابھی تک ہمارے جائز مطالبات منظور نہیں کیے۔
انھوں نے بتایا کہ ہمارا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ تمام ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف و نرسنگ سٹاف کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی معیار کی حفاظتی کٹس کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارا دوسرا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ پورے پاکستان میں تمام ڈاکٹرز ہم سے پانچ گنا زیادہ تنخواہیں لیتے ہیں مگر پانچ سال گزرنے کے باوجود ہماری تنخواہ میں اس طرح کا کوئی اضافہ نہیں ہوا، اس لیے اس خطے کے ڈاکٹروں کی مراعات پاکستان کے دیگر ڈاکٹروں کے برابر کیا جائے۔
ڈاکٹر فہیم نے بتایا اس وقت ایمرجنسی صورتحال میں کئی ڈاکٹرز چالیس گھنٹے تک مسلسل ڈیوٹی دے رہے ہیں اور گزشتہ پانچ برس سے اس خطے میں میڈیکل آفیسر، پوسٹ گریجویٹ ٹرینی اور ماہر امراض کی ایک بھی آسامی تخلیق نہیں کی گی جبکہ حکومت نے یہاں تین میڈیکل کالج قائم کر لیے ہیں جن سے ہر سال پانچ سو سے زائد ڈاکٹر نکل رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہمارا مطالبہ ہے کہ آبادی کے تناسب سے یہ آسامیاں تخلیق کی جائیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہمارا چوتھا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ریاست میں تین ڈویژنل سٹیٹ آف آرٹ ہسپتال قائم کیے جاہیں جہاں ہر سہولت میسر ہو کیونکہ یہاں تمام سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث ستر فیصد مریضوں کو ڈاکٹر پاکستان کے بڑے شہروں میں ریفر کرتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہم وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کے علاوہ مختلف اعلی حکام کے ساتھ مل چکے ہیں مگر ہر کوئی ہمارے مطالبات جائز مانتا ہے مگر بجٹ کا بہانہ بنا کر اسے منظور نہیں کرتا مگر ہمارا حکومت سے سوال ہے کہ جب ہر سال دیگر اخراجات پر بجٹ بڑھ جاتا ہے تو تعلیم اور صحت پر کیوں نہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہم اپنے مطالبات کی منظوری تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور اگر حکومت نے ریاستی جبر کے زریعے ہمارے دھرنے کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ینگ ڈاکٹرز ریاست بھر میں او پی ڈی میں ایمرجنسی سمیت تمام آئیسولیشن ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹر پر فرائض سرانجام نہیں دیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔