کیا کورونا کی دوسری لہر آ سکتی ہے؟
جہاں دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی ہو رہی ہے وہیں اس امر پر بھی توجہ مرکوز ہے کہ اس وبا کی دوسری لہر سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا بھر میں اب تک 96 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ 89 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں اگر ملک یہ مہینہ گزار لے تو ہم وبا کے عروج سے بچ سکتے ہیں جبکہ ملک میں گذشتہ روز کورونا کے باعث 148 اموات ہوئی ہیں۔
جہاں دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی ہو رہی ہے وہیں اس امر پر بھی توجہ مرکوز ہے کہ اس وبا کی دوسری لہر سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے مزیر 1414 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس سے صوبے میں متاثرین کی تعداد 74070 ہو گئی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 39 اموات کے ساتھ سندھ میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1161 ہو گئی ہے۔
وزیر اعلی سندھ کے مطابق صوبے میں اب تک 39473 افراد کورونا سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں جبکہ 733 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لاطینی امریکہ میں ہونے والی اموات ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہیں جبکہ اب تک یہاں 22 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
یہ تعداد گذشتہ ایک ماہ میں دگنی ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ میں وائرس کے پھیلاؤ کے بعد اب لاطینی امریکہ اس کا گڑھ بن چکا ہے۔
یہاں موجود ملک برازیل میں اب تک 50 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں جبکہ یومیہ 30 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
گذشتہ روز برازیل میں 39436 کیسز سامنے آئے تھے۔
نائیجیریا میں پولیس نے 100 ایسے مزدوروں کو بازیاب کروا لیا ہے جن سے کورونا وائرس کے باعث لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران چاول کی فیکٹری میں جبری طور پر کام کروایا جا رہا تھا۔
مارچ کے آخر میں ان افراد کو ملک کے شمالی شہر کانو میں فیکٹری سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
ان مزدوروں کو 13 ڈالر اضافی دینے کا کہا گیا جو ان کو ماہانہ ملنے والے 72 ڈالرز کے علاوہ ہوں گے۔ جو اس شرط کو ماننے سے انکار کرتے تھے انھیں نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی تھی۔
یورپی یونین کے سفارت کار آج اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ اپنے ممالک کی سرحدیں یکم جولائی سے کھولنا چاہتے ہیں اور کیا امریکہ سمیت دیگر متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کو یورپی ممالک میں داخلے کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔
چند یورپی ممالک سیاحوں کے لیے اپنے دروازے کھولنا چاہتے ہیں تاہم کیی ملکوں کو وایرس کے پھیلاؤ کا ڈر لاحق ہے۔
27 اراکین پر مشتمل یورپی ممالک کی تنظیم کو پہلے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مسافروں کو یورپ آنے کے لیے کونسی شرائط پوری کرنی ہوں گی۔
کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر ہر وقت موبائل فون اپنے پاس رکھتے ہیں۔ جہاں وہ اس میں اپنے بچوں کی تصاویر دیکھتے ہیں، وہیں وہ اپنے مریضوں کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔
اس وائرس سے تشویشناک مریض اپنے پیاروں سے رابطے میں بھی رہتے ہیں اور ان کے براہ راست محبت بھرے پیغامات ان تک پہنچتے ہیں۔
آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں وبا کی ایک ممکنہ دوسری لہر کی باتیں ہو رہی ہیں اور برطانیہ کو اس کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
تاہم صحت کے پالیسی لیڈرز تسلیم کرتے ہیں کہ یہ جاننے کا کوئی تریقہ نہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا۔
مصدقہ بات صرف یہ ہے کہ مقامی ھور پر انفیکشن کے نئے کلسٹر سامنے آئیں گے اور چند علاقوں میں ایسا ہونا شروع ہو گیا ہے۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آج برطانیہ کی وہ حالت نہیں جو مارچ میں تھی جب وبا کی پہلے لہر آئی۔ ملک میں ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت چند ہزار سے یومیہ دو لاکھ پر پہنچ چکی ہے اور کانٹیکٹ ٹریسرز کا ایک جال مشتبہ مریضوں کو دھونڈ نکالنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
لیکن اب بھی نظام میں خامیاں موجود ہیں۔ بعض اوقات ٹیسٹ کے نتائج آنے میں تاخیر ہوجاتی ہے تو کہیں ٹریسنگ کا نظام مکمل طور فعال نہیں اور اس سے جڑی ایپ بھی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
بہرحال، اگر وائرس سے منٹنے کی قابلیت اسی طرح بہتر ہوتی رہے اور عوام نے احتیاط جاری رکھی تو قوی امکان ہے کہ ملک وائرس کی دوسری لہر کو بھی برداشت کر لے گا۔
برطانیہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ یہ دوا خریدیں اور استعمال کرنا شروع کر دیں۔
ادویات کو بنا نسخے کے استعمال کرنے کے خطرات کیا کیا ہیں، یہ جاننے کے لیے ہم نے بات کی اسلام آباد میں ڈاکٹر زعیم سے۔
برازیل میں گذشتہ روز وبا شروع ہونے کے بعد سے ایک دن میں اموات کی دوسری سب سے بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق منگل کو ملک میں 1374 اموات ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ 1473 اموات 4 جون کو ریکارڈ ہوئی تھیں۔
امریکہ کے بعد برازیل دنیا میں دوسری نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے اور وہاں 11 لاکھ سے زائد مصدقہ مریض موجود ہیں۔
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں یومیہ انفیکشنز کی تعدار میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں چار ہزار نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
نئی دہلی میں اس وقت 66 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں اور اس طرح یہ انڈیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ شہر بن چکا ہے۔
دارالحکومت میں مریضوں کی تعداد ممبئی شہر کے قریب پہنچ گئی ہے جو 68 ہزار متاثرین کے ساتھ انڈیا کا سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے۔ تاہم ممبئی میں نئے مریضوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے اور یہاں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف 800 مریض سامنے آئے۔
نئی دہلی میں البتہ انفیکشن ریٹ ملک کا سب سے زیادہ ہے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز دہلی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا تھا کہ اب یہاں ہر گھر کی سکریننگ کی جائے گی تاکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
خیال رہے کہ انڈیا میں رواں ماہ کے آغاز میں لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا تھا تاہم کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
اب تک ملک میں چار لاکھ 40 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 14 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
تنویر ملک کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی خراب معاشی صورتحال کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔
پاکستان کے مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ملک کی زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب ڈالر جمع کرا دیے گئے ہیں۔
ایک ارب ڈالر میں سے عالمی بینک کی جانب سے پانچ سو ملین ڈالر اور ایشائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بھی پانچ سو ملین ڈالر دیے گئے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے کووڈ 19 وبا سے پیدا ہونے والے منفی معاشی اور معاشرتی اثرات کو کم کرنے کی غرض سے پاکستان کے لیے 50 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے تھی۔
اسی طرح عالمی بینک نے بھی کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال اور صحت کے شعبے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی منظور ی دی تھی۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ صحت یاسمین راشد نے اعلان کیا کہ لاہور کے مزید سات علاقوں گلبرگ، ڈی ایچ اے، ماڈل ٹاؤن، گلشنِ راوی، فیصل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن اور والڈ سٹی لاہور میں آج رات 12 بجے کے بعد سے لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے کیے گئے سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران متاثرین کی تعداد کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان سات علاقوں میں متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سب سے زیادہ خلاف ورزیاں مارکیٹوں میں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ خود ہی دکان والوں کو سمجھائیں کے اگر ان کی دکان کی وجہ سے پوری مارکیٹ بند ہو گئی تو سب کو نقصان ہو گا۔
انھوں نے کہا حکومت کی جانب سے لگائے گئے سمارٹ لاک ڈاؤن کا اثر ہم دو ہفتے کے بعد دیکھیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے ہم پر تنقید کی جاتی ہے کہ یہ ہینڈسم لاک ڈاؤن ہے لیکن جو بھی کہیں اس طرح لاک ڈاؤن سے فائدہ ہوا ہے۔
یاسمین راشد نے بتایا کہ ہمارے پاس 250 ایچ ڈی یوز اور 60 وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مزید علاقوں کے لاک ڈاؤن کے ذریعے ہسپتالوں میں جگہ خالی رکھنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان میں اس وقت کورونا کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں بستروں، ادویات، طبی آلات اور وینٹیلیٹر کا حصول دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس بات کا اندازہ ہماری ساتھی ترہب اصغر کو اس وقت ہوا جب انھیں خود اپنے ایک عزیز کو ہسپتال میں داخل کروانے کے لیے بہت سے اعلیٰ حکام سے التجائیں کرنی پڑیں۔
اس دن کی کہانی سنیے ترہب اصغر کی ہی زبانی، اس پوڈکاسٹ میں۔۔
کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران منگولیا میں آج انتخابات ہو رہے ہیں۔
ملک میں لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن میں ووٹرز کا درجہ حرارت، ووٹنگ سٹیشنز کو ڈس انفیکٹ کرنا اور ووٹرز کو گلووز فراہم کرنا شامل ہیں۔
ملک کی دو اہم پارٹیوں کی جانب سے الیکشن مہم کے دوران بڑے اجتماعات پر لگائی گئی پابندی کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔
منگولیئن پیپلز پارٹی کو امید ہے کہ وہ پارلیمان میں 76 نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کر سکے گی۔
خیال رہے کہ منگلولیا میں وبا سے نمٹنے کے کڑے اقدامات کیے گئے تھے اور یہاں اب تک صرف 200 کیس سامنے آئے ہیں جبکہ کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
ایمریٹس ایئرلائن نے بدھ کے روز پاکستان کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خلیج ٹائمز کی خبر کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد مسافروں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد کیا گیا ہے۔
ایمریٹس ایئرلائن کی میڈیا ٹیم نے ہماری نامہ نگار فرحت جاوید سے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ تین جولائی کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔
خلیج ٹائمز کی خبر کے مطابق ایئرلائن کی جانب سے پاکستان کے لیے کارگو اور خصوصی پروازوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
کچھ رپورٹس کے مطابق 20 جون کو 26 پاکستانی مسافروں میں ہانگ کانگ کی فلائٹ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ ان مسافروں نے پاکستان سے براستہ دبئی ہانگ کانگ کا سفر کیا تھا۔
دنیا میں اب تک لاکھوں افراد کووڈ 19 سے مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن صحت یابی کا دورانیہ مختلف لوگوں میں مختلف ہوسکتا ہے۔
کم علامات والے متاثرین ایک ہفتے میں صحت یاب ہوسکتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق سنگین معاملات میں یہ دورانیہ ایک سال سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔
طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کا فوری جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا برطانیہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے ’ناگزیر خطرے‘ سے نمٹنے لیے تیار ہے یا نہیں۔
برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ وزرا کو خبردار کیا جاتا ہے کہ مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
رائل کالجز آف سرجنز، نرسنگ، فزیشنز اور جی پیز کے صدور نے ایک اس خط پر دستخط کیے۔
یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب بورس جانسن کی جانب سے انگلینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی لائی گئی ہے۔
ہاروی کُشنگ اپنے وقت کے دماغ کے آپریشن کے زبردست سرجن تھے۔ ان کے مریض ان سے بہت پیار کرتے تھے اور ان کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ بہت خیال رکھنے والے ہیں لیکن وہ اپنے سٹاف کو مسلسل ایک دہشت کے ماحول میں رکھتے تھے۔
وہ غلطیوں کو برداشت نہیں کرتے تھے، غلطی کرنے پر سختی سے پیش آ سکتے تھے اور غُصے کا مظاہرہ کر سکتے تھے لیکن اُنھیں ان کے اس رویے پر معاف کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کی کارکردگی کے نتائج بہت اچھے تھے۔
سنہ 1931 میں 15 مئی تک اُنھوں نے امریکی ریاست میساچیوسٹس کے شہر بوسٹن کے پیٹر بنٹ برِگھم ہسپتال میں دماغ میں سے رسولی نکالنے کے اپنی زندگی کے دو ہزار آپریشن مکمل کر لیے۔
معروف پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔
ان کے بیٹے علی مغیث نے بی بی سی کے نامہ نگار عماد خالق سے بات کرتے ہوئے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے بانی تھے اور وہاں بطور ڈین بھی خدمات سرانجام دیتے رہے تھے۔
اس کے علاوہ انھوں نے کئی تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔
20 جون کو انھوں نے اپنی فیس بک پوسٹ کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ ان میں گذشتہ ہفتے کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انھوں نے خود کو گھر پر ہی محدود کر لیا تھا۔
انھوں نے لکھا کہ آغاز میں گھر پر محدود رہنے کے بعد اب وہ ہسپتال متنقل ہو گئے ہیں۔
گذشتہ روز علی مغیث نے فیس بک کے ذریعے بتایا تھا کہ ان کے والد کو وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ برس ان کی سوانح عمری ’سسکتی مسکراتی زندگی‘ بھی شائع ہوئی تھی۔
مالدیپ کے صدر ابراہیم سولیہ کا کہنا ہے کہ مالدیوز اپنے سیاحتی مقامات 15 جولائی سے کھول دے گا جہاں بین الاقوامی سیاحوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ غیرملکیوں کو ملک میں داخل ہونے کے لیے ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
مالدیپ کے لیے سیاحت آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے تاہم مارچ میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے بعد اسے سرحدی پابندیاں عائد کرنی پڑیں تھیں۔
مالدیپ کی آبادی تین لاکھ 40 ہزار کے لگھ بھگ ہے اور یہاں اب تک 2200 کے قریب کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔