لاڑکانہ میں دو کروڑ مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادوایات برآمد, محمد زبیر خان، صحافی
صوبہ سندھ کی لاڑکانہ پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے کم از کم دو کروڑ مالیت کی سرکاری ادوایات کو غیر قانونی طور پر مارکیٹ میں فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑ کردو ملزماں کو گرفتار کرلیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ان میں ایسی مہنگی ادوایات بھی شامل ہیں جن کو کورونا کے مثبت مریضوں کو استعمال کروایا جارہا ہے۔
لاڑکانہ پولیس کے اے ایس پی رضوان طارق کے مطابق اب چالیس کارٹن کے ادوایات پکڑی گئی ہیں۔ یہ ادوایات گزشتہ پانچ چھ روز کے دوران مختلف مقامات سے پکڑی گئی ہیں۔ جس میں سے 26 کارٹن مقامی قبرستان سے بر آمد ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں ہمیں پتا چلا ہے کہ یہ ادوایات ڈسڑکٹ ہیلتھ آفس اور ڈسرکٹ ہیڈ کوراٹر ہسپتال لاڑکانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ رضوان طارق کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ہمیں پتا چلا ہے کہ لاڑکانہ کے ہسپتالوں میں ایک ارب روپیہ اور ڈسڑکٹ ہیلتھ آفس کو مختلف ہسپتالوں، بنیادی ہیلتھ سنٹر وغیرہ کے لیئے چھ کروڑ روپیہ کی سالانہ ادویات حکومت کی جانب سے مریضوں کو علاج معالجے کے مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
رضوان طارق کا کہنا تھا کہ دو ملزماں کی گرفتاری کے بعد پتا چلا ہے کہ انتہائی منظم مافیا ملوث ہے جس کے لیئے ایک جی ٹی آئی قائم کردی گئی ہے۔
دونوں سرکاری اداروں کو ریکارڈ سمیت جی ٹی آئی میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد حقائق سامنے آجائیں گے کہ یہ ادویات کہاں سے چوری ہوئی ہیں۔ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کے شعبہ میڈیکل اینڈ الائنس سائسنز کے چیرمین پروفیسر ڈاکٹر بشیر شیخ کا کہنا تھا کہ پکڑی جانے والی تمام ادوایات مہنگی اور قیمتی ہیں۔
ان میں وہ ادوایات بھی شامل ہیں جن کو اس وقت کورونا کے مثبت مریضوں پر ان کی علامات کے مطابق استعمال کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں ایسی ادوایات بھی شامل ہیں جو بچوں میں بہت زیادہ استعمال ہورہی ہیں۔
ان میں جان بچانے والی ادوایات بھی شامل ہیں۔ ان سب ادوایات پر ملک بھر کے ڈاکٹرز کا اعتماد ہے اور وہ اپنے مریضوں کو یہ ادوایات استعمال کروا رہے ہیں۔