آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دو کروڑ سے زائد امریکیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ، مظفرآباد میں سمارٹ لاک ڈاؤن

دنیا بھر میں اب تک 96 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ 89 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں اگر ملک یہ مہینہ گزار لے تو ہم وبا کے عروج سے بچ سکتے ہیں جبکہ ملک میں گذشتہ روز کورونا کے باعث 148 اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. انڈیا: مغربی بنگال میں لاک ڈاؤن میں 31 جولائی تک کے لیے توسیع

    انڈیا کی ریاست مغربی بنگال نے کووڈ۔19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ریاست میں لگائے گئے لاک ڈاؤن میں 31 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔

    اس مشرقی ریاست میں لاک ڈاؤن کی معیاد 30 جون کو پوری ہونا تھی۔

    لیکن ملک بھر میں انفیکشنز کے بڑھنے کے بعد، مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی نے کہا کہ پورے ملک کی مدد کے لیے ’پابندیوں کو قائم رکھنا‘ ضروری تھا۔

    انھوں نے کہا کہ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں پابندیوں کی وجہ سے بند رہیں گی لیکن کہیں کہیں نرمی بھی لائی جائے گی۔

    بدھ کو انڈیا میں کووڈ۔19 انفیکشنز کی تعداد تقریباً 16 ہزار بڑھ کر 4 لاکھ 56 ہزار سے زیادہ ہو گئی، یہ کسی بھی ایک دن میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ انڈیا میں ابھی تک 14 ہزار اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    مغربی بنگال میں 14 ہزار 728 تصدیق شدہ مریض ہیں جبکہ 580 افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دلی میں جہاں بدھ کو ریکارڈ 3 ہزار 788 مریض ریکارڈ کیے گئے، فوج کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ کووڈ۔19 کے مریضوں کے علاج میں طبی عملے کی مدد کرے۔

  2. کورونا: بلوچستان کے علاقے گڈانی میں شپ بریکنگ انڈسٹری کو دوبارہ کھول دیا گیا

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے گڈانی میں دنیا کی تیسری بڑی شپ بریکنگ انڈسٹری کو کورونا سے متعلق ایس او پیز کے تحت دوبارہ کھول دیا گیا۔

    کورونا کے باعث مکمل لاک ڈاﺅن کے باعث دیگر صنعتوں کی طرح گڈانی میں شپ بریکنگ انڈسٹری کو بھی بند کیا گیا تھا۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق ایس اوپیز سے مشروط شپ بریکنگ کی اجازت ملنے پر گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کی رونقیں بحال ہو گئی ہیں۔

    وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی خصوصی ہدایت پر گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کیلئے انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی جانب سے عالمی معیار کے ایس اوپیز تیار کیے گئے ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق پاکستان شپ بریکرز ایسوسی ایشن نے ایس اوپیز کے تحت انڈسٹری چلانے کی اجازت ملنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے بین الاقوامی مارکیٹ سے گڈانی شپ بریکنگ انڈسٹری کیلئے ناکارہ بحری جہازوں کی خریداری کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

    محکمہ ماحولیات کے ٹیکنیکل انجینئر محمد خان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ گڈانی میں فیلڈ ورک شروع کر دیا ہے۔

    گڈانی شپ بریکنگ انڈسٹری کی بحالی سے نہ صرف ملک میں سٹیل انڈسٹریز کی صنعت کو ملکی ضروریات کے مطابق سٹیل کی پیداوار کیلئے خام مال میسر ہو گا بلکہ ملک میں جاری ترقیاتی سکیموں کیلیے معیاری سریے کی فراہمی بھی ممکن ہوگی۔

  3. بریکنگ, کورونا وائرس: آئندہ ہفتے تک دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد ’ایک کروڑ ہو جائے گی‘

    عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک کروڑ ہو جائے گی۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا ہے کہ ’وبا کے پہلے مہینے میں کورونا کے 10 ہزار سے کم کیس رپورٹ ہوئے تھے جبکہ گذشتہ ماہ تقریباً 40 لاکھ کیس رپورٹ ہوئے ہیںآ

    انھوں نے کہا ’ہم توقع کر رہے ہیں کہ آئندہ ہفتے یہ تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی۔‘

  4. ٹیسٹوں کی فیس منجمد کریں، حکومت کا حکم

    حکومت پاکستان نے تمام نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں/کولیکشن سینٹرز کو ایک حکم نامہ کے ذریعے کہا ہے کہ وہ کووڈ۔19 کے لیے کیے جانے والے آر ٹی۔ پی سی آر ٹیسٹز کی قیمتوں کو منجمد کریں۔

    اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (آئی ایچ آر اے) کی طرف سے جاری کیے ایک خط میں کہا گیا کہ یہ ادارے چینی کٹ سے کیے جانے والے ٹیسٹوں پر 5 ہزار 500 روپے جبکہ روش/ایبٹ کٹ پر 6 ہزار 500 روپے فیس لیں۔

    آئی ایچ آر اے نے کہا کہ ان ہسپتالوں اور اداروں کے دورے کیے جائیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ حکم کی پیروی ہو رہی ہے کہ نہیں۔

    ’جو نجی ہسپتال، لیبارٹریاں/کولیکشن سینٹرز شرائط کی حکم عدولی کرتے پائے گئے انھیں قوانین کے مطابق سزائیں دی جائیں گی، جو اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیشن ایکٹ 2018 کے مطابق ڈی ریجسٹریشن ہو سکتی ہے، عمارت کو سیل کرنا یا جرمانہ اور/ یا قید کی سزا وغیرہ۔‘

    یہ حکم نامہ تمام نجی ہسپتالوں، لیبارٹریوں/ کولیکشن سینٹرز کو بھیجا گیا ہے۔

  5. امریکہ میں بڑھتے ہوئے مریضوں پر ماہرینِ صحت کو تشویش

    امریکہ میں کورونا وائرس سے جڑی 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد انفیکشنز اور 1 لاکھ 21 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ یہ دنیا میں دونوں حوالوں سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    اکثر ریاستوں نے مئی کے وسط سے کووڈ۔19 کی وجہ سے لگائے جانے والی پابندیوں میں نرمی لانا شروع کر دی تھی، لیکن ابھی تو وبا کی پہلی لہر ہی ختم ہوتی نہیں دکھائی دے رہی۔ انفیکشنز پورے ملک میں دوبارہ بڑھ رہی ہیں۔

    امریکہ کی تازہ ترین صورتِ حال پر ایک نظر:

    • امریکہ میں متعددی بیماریوں کے سب سے سینیئر ماہر ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے قانون دانوں کو بتایا کہ کچھ ریاستوں میں انفیکشنز میں ’پریشان کن حد تک اضافہ‘ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ جنوبی اور مغربی ریاستوں میں ’برادریوں میں پھیلاؤ زیادہ‘ دیکھا گیا ہے۔
    • منگل کو جن ریاستوں نے انفیکشنز میں اضافہ رپورٹ کیا ان میں کیلیفورنیا، فلوریڈا اور ٹیکساس بھی شامل تھیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سات ریاستوں نے ہسپتالوں میں داخلوں میں روزانہ کی بنیادوں پر تیزی ریکارڈ کی ہے۔
    • کیلیفورنیا نے لگاتار دوسرے روز بھی سب سے زیادہ انفیکشنز کا ریکارڈ توڑا، یہاں ایک دن میں 6 ہزار سے زیادہ متاثرین ریکارڈ کیے گئے۔ اس سے قبل ریاست میں 5 ہزار سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے۔
    • صحت کے ماہرین نے انفیکشنز میں اضافے کی وجہ سماجی دوری کے قوانین میں نرمی اور ٹیسٹنگ میں اضافہ بتایا ہے۔
    • کئی ریاستوں میں نوجوانوں میں زیادہ انفیکشنز کی تشخیص ہوئی ہیں۔
    • سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کانگریس کو بتایا کہ کووڈ۔19 نے ’ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔‘
    • کورونا وائرس: ڈیکسامیتھازون اور پلازمہ کا استعمال کب کرنا چاہیے؟

      جہاں ایک طرف ڈیکسامیتھازون دوا کو علاج کے لیے ایک اہم پیشرفت کا خطاب ملنے کے بعد وہ اب مارکٹ میں دستیاب نہیں ہے وہیں دوسری جانب پلازمہ عطیہ کرنے کی اطلاع عام ہوئی تو لوگوں نے ایک لاکھ کی رقم کے عوض اپنے پلازمہ لوگوں میں بانٹے۔

      لیکن ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ یہ تمام طریقے اور ادویات اس وقت انڈر ٹرائل ہیں اور ان کو کورونا وائرس کا مکمل علاج سمجھنا غلط ہے۔

      اس بارے میں بی بی سی نے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے شعبہ وبائی امراض کے سیکشن ہیڈ ڈاکٹر فیصل سے بات کی۔ انھوں نے اس تمام تر صورتحال کے بارے میں کیا کہا، دیکھیے اس ویڈیو میں۔۔۔

    • بریکنگ, برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 154 اموات

      برطانیہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 154 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

      نئی اموات کے ساتھ برطانیہ میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 43081 ہو گئی ہے۔

    • کورونا: 2020 میں ہونے والی نیویارک سٹی میراتھن منسوخ کر دی گئی

      کورونا وائرس کے پیش نظر امریکی ریاست میں ہر برس ہونے والی نیویارک سٹی میراتھن کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

      دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا یہ ایونٹ اس برس یکم نومبر کو ہونا تھا تاہم اب یہ سات نومبر 2021 میں ہو گا۔

      ہر برس اس ایونٹ میں تقریباً 50 ہزار سے زیادہ افراد دوڑنے کے لیے جبکہ 10 ہزار رضاکاروں کے علاوہ ہزاروں شائقین شرکت کرتے ہیں۔

    • کوئٹہ: آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کرنے والے 60 سے زائد طلبا پولیس حراست میں

      پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کورونا کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کرنے والے 60 سے زائد طلبا کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

      طلبا بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج کے لیے جارہے تھے کہ جی پی او چوک پر پولیس نے انھیں حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔

      احتجاج کرنے والے طلبا کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں جس کے باعث ہزاروں طلبا کے لیے آن لائن کلاسز لینا ممکن نہیں۔

      طلبا کا مطالبہ ہے کہ آن لائن کلاسز شروع کرنے سے پہلے انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اگر یہ ممکن نہیں تو آن لائن کلاسز کے پروگرام کو ترک کیا جائے اور تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کے تحت کھولا جائے۔

      طلبا کی گرفتاری کی بازگشت بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنائی دی۔ حزب اختلاف کے رکن نصراللہ زیری نے طلبا کی گرفتاری کی مذمت کی۔

      وزیر خوراک سردارعبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والے طلبا کو رہا کیا جائے گا۔

    • انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن: حکومتیں واپس آنے والے ورکرز کی مدد کریں

      انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) نے بدھ کو حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے مجبوراً اپنے ممالک واپس آنے والے لاکھوں ورکرز کی مدد کریں۔ ان ورکرز کو اپنے ملک واپس آ کر بے روزگاری اور غربت کا سامنا ہے۔

      انٹرنیشنل لیبر آرگینائزیشن (آئی ایل او) نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ واپس آنے والے ورکرز کو، جن میں سے اکثر کی راتوں رات نوکریاں ختم ہو گئیں، سماجی تحفظ کے اقدامات میں شامل کرے اور انھیں قومی لیبر مارکیٹ مسے دوبارہ جوڑے۔

      آئی ایل او کے ڈائریکٹر مینویلا ٹومئیی نے کہا ’یہ بحران میں ایک ممکنہ بحران ہے۔‘

      آئی ایل او کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 16 کروڑ 40 لاکھ مہاجر ورکرز ہیں، جن میں آدھے کے قریب خواتین ہیں، جو کہ مکمل لیبر فورس کا 4.7 فیصد بنتی ہیں۔ ان میں سے کئی ہیلتھ کیئر، ٹرانسپورٹ اور گھروں میں کام کرنے والی ملازم ہیں۔

    • ّڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر کورونا کی ادویات نقصان دہ کیوں ہیں؟

      برطانیہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیشرفت‘ ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ یہ دوا خریدیں اور استعمال کرنا شروع کر دیں۔

      ادویات کو بنا نسخے کے استعمال کرنے کے خطرات کیا کیا ہیں، یہ جاننے کے لیے ہم نے بات کی اسلام آباد میں ڈاکٹر زعیم سے

    • انگلینڈ میں کورونا وائرس سے مزید 51 اموات

      انگلینڈ میں کورونا وائرس سے مزید 51 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد اس وائرس سے ہسپتالوں میں ہونے والی تصدیق شدہ اموات کی تعداد 28435 ہو گئی ہے۔

      نئے مرنے والوں میں سب کی عمریں 48 اور 96 برس کے درمیان تھیں۔

      برطانیہ بھر میں ہونے والی اموات سے متعلق تازہ ترین اعدادوشمار ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کی جانب سے کچھ دیر میں جاری کیے جائیں گے۔

    • بریکنگ, عالمی ترقی میں کمی جاری رہے گی، انڈیا میں 4.5 فیصد کی گراوٹ کی توقع, اینڈریو والکر، نامہ نگار بی بی سی

      عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے حالیہ اور اگلے سال کی عالمی اقتصادی پیشگوئی کو ڈاؤن گریڈ یا اس میں بتدریج کمی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

      آئی ایم ایف نے اب کہا ہے کہ سنہ 2020 میں اقتصادی سرگرمی کے 5 فیصد تک گرنے کے امکانات ہیں، جو کہ اس سے دو فیصد کم ہے جس کی پیشگوئی آئی ایم ایف نے اپریل میں کی تھی۔

      اس کا کہنا ہے کہ اس سے نام نہاد ’اقتصادی زخموں‘ کے مزید گہرا ہونے کا امکان ہے کیونکہ کمپنیاں بند ہو رہی ہیں اور لوگ اپنی نوکریاں کھو رہے ہیں۔

      آئی ایم ایف کے مطابق جو کاروبار بچ جائیں گے، ان کی کارکردگی کام کی جگہوں پر حفاظت اور حفضانِ صحت کے اقدامات بڑھانے کی وجہ سے مجروح ہو گی۔

      سنہ 2020 میں تقریباً سبھی ممالک میں اقتصادی کمی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی انڈیا کے لیے ہے، جہاں آئی ایم ایف کے مطابق 4.5 فیصد کی گراوٹ ہے۔ صرف ایک ماہ پہلے کہا گیا تھا کہ ترقی برقرار تو رہے گی لیکن بہت کم رفتار پر۔

    • آئی آر سی: ’افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 کے متاثرہ مردوں اور خواتین کی تعداد میں بڑا فرق‘

      انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) کے مطابق افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں میں کووڈ 19 کے متاثرہ مردوں اور خواتین کی تعداد میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔

      آئی آر سی کے مطابق پاکستان، افغانستان، اور یمن جیسے ممالک میں متاثر ہونے والے افراد میں 70 فیصد مرد ہیں جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 51 فیصد ہے۔

      اس کے برعکس امیر ممالک میں صنفی توازن پوری دنیا کی اوسط سے بہت قریب ہے۔

      آئی آر سی میں ہنگامی صحت کی سینئر تکنیکی مشیر سٹیسی میرنز کہتی ہیں ’ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں خواتین کو ممکنہ طور پر ٹیسٹنگ سے دور رکھا جاتا ہے۔‘

      ’اس سے ان کی جسمانی صحت سنگین طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔‘

      اس سے پہلے عالمی ادارہ صحت نے ممالک سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے تصدیق شدہ کیسز کی جنس اور عمر کی اطلاع دیں تاکہ وہ تجزیہ کر سکے کہ کون سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    • کورونا وائرس: میکروں اور میرکل بحالی کے منصوبے پر بات کریں گے

      فرانسیسی صدر کے دفتر سے اعلان کیا گیا ہے کہ صدر ایمینویل میکروں سوموار کو جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات کریں گے جس میں یورپ کے بحالی کے منصوبے پر بات کی جائے گی۔

      یہ ملاقات جرمنی کے شہر میسیبرگ میں ہو گی جو کہ برلن کے شمال میں واقع ہے۔ اس میں کورونا وائرس کے بحران اور دیگر بین الاقوامی امور زیرِ غور آئیں گے۔

      یورپی رہنماؤں میں بحالی کے فنڈ پر کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔

      سویڈن، ڈینمارک، آسٹریا اور نیدرلینڈز کا کہنا ہے کہ 840 ارب ڈالر کا مجوزہ فنڈ بہت بڑا ہے اور ان کا اصرار ہیں کہ جو بھی فنڈ دیا جائے وہ واپس ادا کیا جانا چاہیئے۔

      اس سے قبل میکروں نے نیدرلینڈز کے وزیرِ اعظم مارک روٹ سے ملاقات کی تھی اور ایک فرانسیسی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ ملاقات میں اختلافات کے حل کے لیے مزید آگے بڑھنے پر بات ہوئی تھی۔

    • کورونا وائرس اور دورہ انگلینڈ: پروفیسر کی پھرتیاں اور فواد کی قسمت

    • عالمی ادارہ صحت: ’تمام افریقی ممالک کی لیبارٹریز اب کورونا کا ٹیسٹ کر سکتی ہیں‘

      عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے بتایا ہے کہ تمام افریقی ممالک کی لیبارٹریز اب کورونا کا ٹیسٹ کر سکتی ہیں۔

      ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے اس سے قبل ممالک کو مشورہ دیا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے پہلے اپنی ٹیسٹنگ کی صلاحیت پر غور کریں۔

      کووڈ 19 کی ویکسین کے بارے میں پیشرفت پر بحث کرنے سے متعلق ایک ورچوئل کانفرنس کے دوران ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے خبردار کیا کہ وبا میں تیزی آ رہی ہے۔

      انھوں نے کہا ’حال ہی میں صرف ایک ہفتے کے دوران دس لاکھ کیس سامنے آئے ہیں۔‘

    • دوسری لہر: کیا ہے اور کیا نہیں ہے, جیمز گیلیگھر

      کچھ ممالک ابھی بھی بڑی وبا سے نبرد آزما ہیں لیکن وہ بھی جہاں یہ وائرس کنٹرول میں ہے، دوسری لہر سے ڈرے ہوئے ہیں۔

      ایک صدی پہلے آنے والے ہسپانوی فلو کا دوسرا دور پہلے سے زیادہ مہلک تھا۔ تو کیا دوسری لہر ناگزیر ہے؟

      یہ کہنے کے لیے کہ پہلی لہر ختم ہو گئی ہے، وائرس کو کنٹرول میں ہونا چاہیے اور اس وائرس کے متاثرین میں بہت زیادہ کمی ہونی چاہیے۔

      دوسری لہر کے شروع ہونے کے لیے انفیکشنز میں اضافہ جاری رہنا چاہیے۔

      سائنسدانوں کا خیال ہے کہ آج کل نیوزی لینڈ اور چین کے دارالحکومت بیجنگ میں وبا کے پھیلنے کو دوسری لہر نہیں کہا جا سکتا لیکن حالیہ دنوں میں ایران میں کورونا وائرس متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے دوسری لہر کے موضوع کو پھر چھیڑ دیا ہے۔

    • ایران کے نائب وزیر صحت کا ماسک پہننے کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ

      ایران کے نائب وزیر صحت نے ماسک پہننے کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

      واضح رہے کہ بدھ کے روز تقریباً تین ماہ بعد ایران میں یومیہ اموات میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں سامنے آیا ہے۔

      خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیر صحت علی رضا رئیسی نے کہا ’یہ بہت ضروری ہے کہ ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا جائے، اگر ہم ماسک پہنیں گے خاص طور پر تنگ اور پر ہجوم جگہوں پر، تو ہم وائرس کا پھیلاؤ کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔

    • کورونا وائرس: مریضوں کی جان بچانے والی دوا ’ڈیکسامیتھازون‘ ماہرین کی نظر میں کیسے آئی؟

      برطانیہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔

      یہ ایک غیر معمولی اور خوش آئند لمحہ ہے کہ ہم کووڈ 19 کے علاج کے بارے میں کچھ مثبت کہنے کے قابل ہوئے ہیں۔