انڈیا میں 10 ہزار سے زیادہ اموات، برازیل میں ایک دن میں تقریباً 35 ہزار نئے کیس

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 81 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں میں لگاتار دوسرے روز بھی اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہیں۔ منگل کو دنیا کے دوسری سب سے متاثرہ ملک برازیل میں وائرس کے تقریباً 35 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ انڈیا چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں مزید دو ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. انڈیا: کورونا وائرس کے متاثرین میں چوتھے نمبر پر

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں انڈیا میں تین روز سے مسلسل کورونا کے 11000 متاثرین سامنے آ رہے ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا ایک ہفتہ گزرنے کے بعد ہی کیسز بڑھتے جا رہے ہیں۔

    انڈیا میں کل متاثرین کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور یہ دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ دارالحکومت دہلی میں متاثرین میں اضافے پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ وہاں کے ہسپتال مریضوں کی بڑی تعداد کے باعث دباؤ میں ہیں۔

    لیکن کچھ اچھی خبریں بھی ہیں مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حال ہی میں انڈیا کی سب سے بڑی کچی آبادی دھراوی میں کورونا کیسز میں کمی آئی ہے۔

    این ڈی ٹی وی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اپریل سے اب تک کچی بستی کے سات لاکھ مریضوں کی سکریننگ کی ہے اور ان کے لیے کلینک قائم کیے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی انڈیا میں وبا اپنی اتنہائی سطح سے نہیں گزری۔ ماہرین میں سے کچھ توقع کر رہے ہیں کہ بدترین صورتحال مون سون کے موسم دوران ہو گی جو جولائی اور اگست کے مہینے میں ہے۔

  2. برطانیہ میں رواں ہفتے ویکسین کی آزمائش شروع ہو گی

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رواں ہفتے سائنسدان کورونا وائرس کی ایک اور ممکنہ ویکسین کا انسانوں پر تجربہ شروع کریں گے۔ محققین کا تعلق امپیرئیل کالج لندن سے ہے اور وہ آج 300 افراد پر کلینیکل ٹرائلز کا آغاز کریں گے۔

    پریس ایسوسی ایشن کے مطابق محققین یہ دیکھیں گے کہ کیا یہ قوتِ مدافعت کے لیے مؤثر ردِ عمل ظاہر کرتی ہے۔

    جن صحت مند افراد پر یہ آزمائش ہو گی ان کی عمریں 18 سے 70 برس کے درمیان ہیں۔ انھیں آنے والے ہفتوں میں دو مرتبہ ویکسین دی جائے گی۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو پھر 6000 رضاکاروں کو اس آزمائش میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    لیکن اس ویکسین سے لوگ معمولی طور پر بیماری کو محسوس نہیں کریں گے کیونکہ امپیرئیل کالج اس تجربے میں مصنوعی جنیاتی کوڈ کے سٹرینڈ استعمال کرے گی جو وائرس کے جنیاتی مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔

    ماہرین کو برطانوی حکومت نے پانچ کروڑ دس لاکھ پاؤنڈ کی امداد دی ہے۔ 63 لاکھ اس کے علاوہ ملنے والی امداد ہے۔

    یہ امداد آکسفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے ایک الگ ویکسین کے انسانی پر ہونے والے تجربے کے بعد ملی ہے۔

    برطانیہ کے وزیر برائے تجارت الوک شرما کا کہنا ہے کہ اگر ویکسین کے یہ تجربات کامیاب ہو گئے تو یہ نا صرف کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے میں مد کریں گے بلکہ اس سے مستقبل میں سامنے آنے والی بیماروں کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

  3. پاکستان میں آکسیجن کی کمی: ’13 لیٹر کا سلینڈر 30 ہزار کا خریدا‘

  4. جنوبی کوریا: مسلسل تیسرے روز 40 سے کم متاثرین

    جنوبی کورویا میں کورونا وائرس کے 34 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ یہ مسلسل تیسرا روز ہے جب متاثرین کی تعداد 40 سے کم ہے۔

    کوریا میں امراض پر کنٹرول اور بچاؤ کے ادارے کا کہنا ہے کہ ان نئے کیسز میں سے 21 مقامی منتقلی کے کیس ہیں۔

    نئے کیسز میں سے چار سیئول اور صوبہ گیانگی میں رپورٹ ہوئے جو کہ دارالحکومت کے نواح میں ہے۔ یہاں ملک کی نصف سے زیادہ آبادی موجود ہے۔

    کوریا

    ،تصویر کا ذریعہAP

  5. جرمنی: کورونا وائرس کے مزید 378 کیس

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جرمنی میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد میں 378 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔

    وبائی امراض کے ادارے رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 186839 ہے۔

    وبا کے دوران یورپی ممالک کی نسبت جرمنی میں صورتحال بہتر رہی۔

    اٹلی میں 237,000 کیس ریکارڈ ہوئے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 34000 بتائی جاتی ہے۔

    فرانس میں 194000 کیس سامنے آئے وہاں 29000 افراد کورونا کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

    یورپ میں بدترین صورتحال برطانیہ میں رہی جہاں 298000 کیس سامنے آ چکے ہیں اور اموات کی تعداد 42000 کے قریب ہے۔

  6. بریکنگ, نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس کے دو نئے کیسز کی تصدیق

    نیوزی لینڈ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس کے دو نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ نئے کیسز کا تعلق برطانیہ کے حالیہ سفر سے ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 24 روز سے نیوزی لینڈ میں کورونا کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا تھا۔

    نیوزی لینڈ نے تمام سماجی اور معاشی پابندیاں ختم کر دیں ہیں اور اس وبا کے دوران معمول پر واپس آنے والا یہ دنیا کا پہلا ملک ہے تاہم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم خبردار کر چکی ہیں کہ ملک میں واپس آنے والے شہریوں کے باعث کورونا کے نئے مریض سامنے آ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس سے نیوزی لینڈ میں اب تک 22 اموات ہوئی ہیں۔

  7. بریکنگ, پاکستان میں ایک دن میں 111 اموات

    چارٹ

    پاکستان میں گذشتہ روز کورونا وائرس کے باعث 111 مریض ہلاک ہوئے جس کے بعد ملک میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2839 ہو گئی ہے۔

    نینشل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق گذشتہ دو روز میں پاکستان میں کورونا کے مثبت کیسز میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    اب تک ملک میں کورونا وائرس کے لیے148921 مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ پیر کو 4443 کیسز سامنے آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی نسبت پیر کو 805 کیسز کم تھے۔

    حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 14 جون کو مثبت کیسز کی تعداد 5248 تھی۔

    گذشتہ ایک روز میں 25015 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے اور 56390 مریض صحت یاب ہوئے۔

    بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں کورونا کے مریضوں کے لیے مختص 1400 وینٹی لیٹرز میں سے 482 کو مریضوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ بلوچستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی بھی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں ہے۔

    ہسپتالوں میں زیر علاج کل مریضوں کی تعداد8,431 ہے۔

  8. بریکنگ, کورونا: دنیا بھر میں متاثرین اسی لاکھ سے زیادہ، اموات کی تعداد 436,319 ہو گئی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 8,015,502 ہو گئی ہے جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 436,319 ہے۔

    امریکہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اس وائرس کے شکار افراد کی تعداد 2,113,488 جبکہ 116,122 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    امریکہ کے بعد برازیل میں متاثرین کی تعداد 888,271 جبکہ 43,959 اموات ہو چکی ہیں۔

    روس میں کورونا وائرس سے 7,081 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہاں متاثرین کی تعداد 536,484 ہے۔

  9. کورونا سے صحت یابی میں کتنا وقت لگتا ہے؟

    دنیا میں اب تک لاکھوں افراد کووڈ 19 سے مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن صحت یابی کا دورانیہ مختلف لوگوں میں مختلف ہوسکتا ہے۔

    کم علامات والے متاثرین ایک ہفتے میں صحت یاب ہوسکتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق سنگین معاملات میں یہ دورانیہ ایک سال سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  10. کورونا وائرس: سال 2021 کے آسکرز ایوارڈ دو ماہ کے لیے ملتوی, ایسا تاریخ میں چوتھی مرتبہ ہو رہا ہے کہ آسکرز ایوارڈ ملتوی کیے جا رہے ہیں۔

    آسکر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگلے برس فروری کے مہینے میں ہونے والی آسکرز ایوارڈ کی تقریب کو دو ماہ کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے اور ایسے یہ تقریب ان متعدد تقاریب میں سے ایک بن گئی ہے جو کورونا وائرس کی وبا کے باعث متاثر ہوئی ہے۔

    ایکڈمی ایوارڈز اگلے برس 28 فروری کو ہونا تھے تاہم انھیں 25 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    حکام نے اس حوالے سے فلموں کی اس ایوارڈ دوڑ میں شرکت کے لیے تاریخ بھی 31 دسمبرسے بڑھا کر 28 فروری کر دی ہے۔

    خیال رہے کہ اگلے برس کے برٹش اکیڈمی ایوارڈز ( بافٹاز) بھی 11 اپریل تک ملتوی کیے جا چکے ہیں۔

    کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث متعدد ایسی فلموں پر کام روکنا پڑا ہے جو اس سال کے آخر میں ریلیز ہونا تھیں۔

    اس سے قبل آسکرز صرف تین مرتبہ ملتوی کیے گئے ہیں، 1938 کی لاس اینجلس سیلاب کے باعث، 1968 میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے قتل کے باعث اور 1981 میں امریکی صدر رونلڈ ریگن پر ناکام قاتلانہ حملے کے بعد۔

  11. ڈینمارک کا سویڈن کے علاوہ تمام سرحدیں کھولنے کا فیصلہ, اینڈریئن مرے، کوپنہیگن

    نورڈک

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ڈینمارک نے ناروے، آئس لینڈ اور جرمنی کے ساتھ اپنی سرحدیں کا فیصلہ کیا ہے۔

    تاہم ڈینمارک نے سویڈن کے ساتھ اپنی سرحدیں تاحال بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی شرح زیادہ ہے۔

    سویڈن کے شہر مالمو کے ایک رہائشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہمارے ساتھ بہت برا ہوا ہے۔ ہم بھی دوسرے ممالک گھومنا چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگ وہاں کام کرتے ہیں ان کے خاندان وہاں موجود ہیں۔

    ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ’تاریخ اعتبار سے بھی نارڈک ممالک ایک دوسرے سے اتنےقریب ہیں کہ ان کے بارڈر بند کرنا عقلمندی نہیں ہے۔‘

    تاہم کیونکہ سویڈن کے اکثر شہری ڈینمارک میں پھنسے ہیں تو انھیں سرحد پار کرنے کی اجازت ہے۔

  12. ریئلٹی چیک: کیا واقعی ووہان میں کورونا کا وبائی مرض گذشتہ سال اگست میں ہی آ چکا تھا؟

    coronavirus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق پر تنقید کی جارہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس گذشتہ سال اگست کے اوائل سے ہی چینی شہر ووہان میں موجود ہوسکتا تھا۔

    رواں ماہ کے اوائل میں آنے والے ہارورڈ یونیورسٹی کے اس مطالعے کو خاصی شہرت حاصل ہوئی لیکن چین نے اسے مسترد کردیا ہے اور اس کے طریقہ کار پر آزاد سائنسدانوں نے بھی سوال اٹھایا ہے۔

  13. پاکستان میں ڈاکٹروں کی حکومت سے مکمل لاک ڈاؤن کی اپیل

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    جہاں حکومتِ پاکستان نے ملک کے مختلف شہروں میں ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ کا اعلان کیا ہے، وہیں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال جتنی خراب ہو چکی ہے اب جزوی لاک ڈاؤن سے اس وبا کو پھیلنے سے نیہں روکا جا سکتا۔

    لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرام نے حکومت سے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی اپیل کی ہے۔

    مزید جاننے کے لیے دیکھیں یہ ویڈیو۔

  14. بریکنگ, کورونا وائرس: پنجاب میں 1740 نئے مریض، مزید 50 اموات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 1740 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 50 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    اب تک صوبے میں کل متاثرین کی تعداد 55878 ہو گئی ہے جبکہ اموات 1081 ہو چکی ہیں۔

    اب تک صوبے میں 17730 افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

    گذشتہ روز صوبے میں 9757 ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد صوبے میں کیے جانے والے کل ٹیسٹس کی تعداد 366435 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    گذشتہ روز صوبے کے دارالحکومت لاہور میں 816 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 20 اموات بھی ہوئے ہیں۔

  15. نیو یارک میں کووڈ 19 سب سے کم ترین سطح پر

    نیو یارک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کا بحران شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ نیو یارک میں کووڈ۔19 کی وجہ س اموات اور اس بیماری میں مبتلا افراد کے ہسپتال پہنچنے کی سطح کم تر حد پر آئی ہے۔

    پیر کو گورنر اینڈریو کومو نے کہا کہ مارچ کے بعد اس ہفتے تین دن کی اوسط کے حوالے سے اموات کی شرح سب سے کم تر تھی۔ وائرس کے مثبت ٹیسٹز میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

    اتوار کو وائرس سے 25 افراد کی موت واقع ہوئی اور اختتامِ ہفتہ پر کووڈ۔19 کے صرف 1600 مریضوں کو ہسپتال میں علاج کی ضرورت پڑی۔

    انھوں نے کہا کہ ’حقائق یہ ہیں کہ نیو یارک درست سمت پر ہے۔‘ لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ شاید اس کا امکان نہیں ہے کہ نمبرز کبھی صفر پہ آئیں۔

    یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب ریاست کے کچھ حصے کھلنے کے تیسرے مرحلے میں آئے ہیں، 10 لوگوں کے ہجوم کو اب بڑھا کر 25 کر دیا گیا ہے اور کئی کاروبار دوبارہ کھولے جا رہے ہیں۔

    لیکن گورنر نے یہ بھی کہا کہ کئی کاروبار اور شہری سماجی دوری کے اقدامات کو نظرانداز کر رہے ہیں اور ریاست کو اب تک 25 ہزار شکایات موصول ہو چکی ہیں۔

  16. کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    دنیا میں اب تک لاکھوں افراد کووڈ 19 سے مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن صحت یابی کا دورانیہ مختلف لوگوں میں مختلف ہوسکتا ہے۔

    کم علامات والے متاثرین ایک ہفتے میں صحت یاب ہوسکتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق سنگین معاملات میں یہ دورانیہ ایک سال سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

  17. ایران کی وارننگ: ’اگر وائرس کنٹرول سے باہر ہوا تو دوبارہ سخت اقدامات کریں گے‘

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران میں لگاتار دوسرے دن 100 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے خلاف سخت اقدامات دوبارہ نافذ کر سکتے ہیں۔

    وزارتِ صحت کی ترجمان سیما سادات لاری نے کہا کہ 113 نئی ہلاکتیں ہوئی ہیں، اور فروری میں وبا کے پھیلنے کے بعد اب تک ہلاکتوں کی تعداد 8,950 ہو چکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 2,449 افراد کا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    ایران نے مئی کے وسط میں انفیکشنز میں کمی دیکھنے کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی تھی لیکن انفیکشنز میں اب دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    اس طرح کی بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ سرکاری اعداد و شمار ہلاکتوں اور انفیکشنز کی پوری تصویر پیش نہیں کرتے۔

    پیر کو حکومت کے ترجمان علی ربئی نے عوام کی طرف سے مقدس مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سماجی دوری پر عمل کرنے کی پابندی کو نظر انداز کرنے پر تنقید کی تھی۔

    ’اگرچہ تہران کی سب وے میں 90 فیصد لوگ ماسک کا استعمال کرتے ہیں، لیکن سماجی دوری کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اگر ہمیں لگا کہ وائرس کا پھیلاؤ کنٹرول سے باہر ہو گیا ہے تو ہم یقیناً سخت فیصلہ دوبارہ لاگو کریں گے۔‘

  18. پانی پوری اور گول گپے: لاک ڈاؤن میں سب سے زیادہ یاد آنے والا سٹریٹ فوڈ

    پانی پوری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں کسی بھی معمول کی شام بڑے شہر ہوں کہ چھوٹے وہاں کے بازار اور مرکزی شاہراہوں پر بھیڑ ہوتی ہے اور ایک جیسا سماں ہوتا ہے اور کسی کونے پر پانی پوری یا گول گپے کی دکان کے سامنے ایک بھیڑ ہوتی ہے جس کے گرد شوقین خریداروں کا شور سنائی دیتا ہے۔

    پانی پوری والے کے ہاتھ اڑتے دکھائی دیتے ہیں جب وہ بے صبر گاہکوں کے لیے پُوریوں (آٹے اور سوجی کے تلے ہوئے گول گپے) کو مختلف پیالوں میں مسالے بھرنے اور چٹنیوں میں ڈبونے کا کام کر رہا ہوتا ہے۔

    اس کے گاہکوں میں ہر عمر کے لوگ ہر طبقے سے آتے ہیں۔ کوئی شاندار کاروں سے نکل کر ان کی جانب آ رہا ہے تو کوئی اپنے گھروں سے چہل قدمی کرتا ہوا۔ انڈیا کے لوگوں کو پانی پوری یا دوسرے قسم کے چاٹ (تلے ہوئے چٹپٹے ناشتے) کی محبت جتنا جوڑتی ہے شاید کوئی دوسری چیز نہیں۔

  19. بالائی چترال، سوات کے چند علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا

    بالائی چترال کے تین علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے جن میں کے علاقے شامل ہیں۔ ’ ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ فیصلہ ان علاقوں میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافے کے بعد کیا جا رہا ہے۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہDC Upper Chitral

  20. ضلع ایبٹ آباد کے چھ علاقوں میں تاحکمِ ثانی لاک ڈاؤن نافذ, محمد زبیر خان، صحافی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا مریضوں میں اضافے کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دوسرے بڑے شہر ایبٹ آباد کے ڈپٹی کمشنر نے چھ مقامات پر لاک ڈاؤن لگانے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کے نوٹیفکیشن کے مطابق ان علاقوں میں قلندرآباد، جھنگی سیدان، کیہال، نڑیاں، نتھیا گلی (ملاچھ) اور گوشت منڈی کے ساتھ پاکستان ملٹری اکیڈمی روڈ کے علاقے شامل ہیں۔

    محکمہ صحت خیبر پختونخواہ کے مطابق 15 جون تک ایبٹ آباد میں مجموعی متاثرین کی تعداد 636 ہے جبکہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ریکارڈ 30 مریض سامنے آئے۔

    اب تک یہاں مجموعی طور پر 31 مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔

    اسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد مجتبیٰ بھروانہ نے بتایا کہ جن مقامات پر لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا گیا وہاں پر کلسٹرز میں وائرس پایا گیا، اور ان علاقوں سے دوسرے علاقوں میں وائرس پھیل سکتا ہے، اس بناء پر ان چھ مقامات کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کی چیک پوسٹ قائم کی جا رہی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ وہاں سے ان لوگوں کو باہر آنے جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور صرف اشیائے خورد و نوش اور میڈیکل سٹور کی دوکانیں کھلی ہوں گی، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہے گئی۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے بعد مقامی لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سامان کی آن لائن فراہمی کے لیے انتظامات کیے جائیں گے۔

    مجتبیٰ بھروانہ کا کہنا تھا کہ اُن کی ہیلتھ ٹیمیں ان علاقوں میں جا کر ٹیسٹ کریں گی اور مثبت مریضوں کو الگ کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ علاقے ابتدائی طور پر بند کیے جا رہے ہیں، اور اگر محسوس کیا کہ مزید علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے تو عوام کی حفاظت کے لیے مزید علاقے بھی بند کیے جاسکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے لاک ڈاؤن کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Khyber Pakhtunkhwa