آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ

دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. انڈیا: ماسک نہ پہننے پر ’جارج فلائیڈ طرز‘ کا مبینہ پولیس تشدد

  2. شبلی فراز: 'سیاسی جماعتیں پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہیں‘

    شبلی فراز نے مزید کہا کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے کورونا کے باعث نقصان اتنا نہیں ہوا ہے جتنا کہ خدشات تھے۔

    وفاقی وزیرِ اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ چند سیاسی جماعتیں این سی او سی کو متنازع بنانے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے غیر یقینی اور گمراہ کن معلومات پھیلانا چاہتے ہیں۔

    شبلی فراز نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ یہاں (این سی او سی) میں آ کر وفاقی حکومت کے ساتھ اتفاق کرتے تھے لیکن جب واپس سندھ جاتے تو مختلف 'بے بنیاد' باتیں کیا کرتے۔

    انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بالخصوص اور باقی جماعتیں بالعموم اس بات کو تسلیم نہیں کر رہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کس قدر کامیابی سے اس وائرس سے نمٹ رہی ہے۔

  3. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 30 نئے متاثرین کی شناخت، کل تعداد 361 ہو گئی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق ایک ڈاکٹر اور سات خواتین سمیت 30 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 361 ہوگئی ہے۔

    ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق صرف دارالحکومت مظفرآباد میں ایک ڈاکٹر اور سات خواتین سمیت 16 افراد کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق خاتون ڈاکٹر مقامی اسپتال میں شعبہ گائنی میں تعینات تھیں جس کو ڈس انفیکٹ کرنے کے لیے کچھ دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے.

    حکام کے مطابق پانچ مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب مریضوں کی تعداد 190 ہوگئی ہے.

  4. وزیرِ اطلاعات شبلی فراز کی پریس کانفرنس

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت نے چھوٹے کاروبار اور ان لوگوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے احساس پروگرام مرتب دیا ہے جن کا گزر بسر روز مرہ کی آمدنی پر ہوتا ہے۔

    اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس پروگرام سے ڈیڑھ لاکھ خاندانوں میں 120 ارب روپے کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔

    انھوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا ادارہ بنایا جس نے بہت عزم کے ساتھ ایسی حکمتِ عملی ترتیب دی جس کی وزیرِ اعظم عمران خان نے توثیق کی، اور ایسا لائحہ عمل بنایا جس سے ہم اس وبا سے نبردآزما ہو سکیں۔

    انھوں نے کہا کہ این سی او سی میں جو بھی فیصلے لیے گئے ان میں تمام سٹیک ہولڈرز وزرائے اعلیٰ، ڈاکٹر اور ہر طرح کے متعلقہ لوگ شامل ہیں، جو ڈیٹا اکھٹا کرتے تھے جس کی رپورٹ وزیرِ اعظم عمران خان کے پاس جاتی تھی جس کے بعد فیصلے لیے جاتے تھے۔

  5. بری امام کا مزاد بند ہونے کے باوجود عوام باہر جمع

    بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق اسلام آباد میں بری امام کا مزار عوام کے لیے بند ہے لیکن اس کے باوجود ایک بڑی تعداد وہاں زیارت کے لیے جا رہی ہے اور گیٹ کے باہر موجود ہے۔

  6. بلاول بھٹو زرداری: سندھ میں لاک ڈاؤن کے تمام آپشن موجود ہیں

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف لاک ڈاؤن ایک ہتھیار ہے، اکلوتا ہتھیار نہیں۔ انھوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شروع میں لاک ڈاؤن اچھی طرح اپنایا گیا مگر بعد میں ایک سازش کے تحت اس کے خلاف کام کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ مرحلہ وار، علاقائی سطح پر یا مکمل لاک ڈاؤن سمیت تمام آپشن سندھ حکومت کے سامنے موجود ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ، آگاہی اور طبی سہولیات میں اضافہ کرنا حکومت کی حکمتِ عملی میں پہلے ہی موجود ہے اور ماہرین اور ڈاکٹر جو مشورہ دیں گے اس کے حساب سے لاک ڈاؤن پر غور کیا جا سکتا ہے۔

  7. بلاول بھٹو زرداری: نئے بجٹ میں کورونا رسک الاؤنس بھی دیا جائے گا

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود بجٹ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور نئے بجٹ میں کورونا وائرس کا رسک الاؤنس بھی دیا جائے گا۔

    بلاول نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ بجٹ میں غریبوں اور چھوٹے کاروبار کو ریلیف پہنچائیں۔ انھوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وبا کے دوران لوگوں کو برطرف کرنے کے بجائے 'وزیروں، مشیروں اور معاون خصوصی کی فوج' فارغ کر کے اخراجات کم کریں۔

    انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کورونا کے معاملے پر عوام کی جانیں بچانے کے بجائے معیشت بچانے کا ماڈل اپنایا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ویتنام اور پاکستان کے وسائل قابلِ موازنہ ہیں، ویتنام عالمی طاقت نہیں ہے لیکن بروقت فیصلے کرنے کے باعث آج وہ اپنے پاس وبا پر قابو پا چکے ہیں۔

  8. بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما میر منظور بلوچ کا کورونا کے باعث انتقال

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور لیبر سیکریٹری میر منظور بلوچ کورونا کے باعث انتقال کرگئے ہیں۔

    پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی و چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی اختر حسین لانگو نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں زیر علاج تھے۔

    منظور بلوچ کا تعلق ضلع کوئٹہ سے متصل مستونگ کے علاقے سے تھا۔ عید کے موقع پر کورونا سے متائثر ہونے اور طبیعت زیادہ خراب ہونے کے باعث ان کو علاج کے لیے انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

    منظور بلوچ کا شمار بلوچستان نیشنل پارٹی کے متحرک رہنماﺅں میں ہوتا تھا۔ وہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن کے چیئرمین بھی رہے تھے اور حالیہ عام انتخابات میں مستونگ اور قلات سے قومی اسمبلی کی نشست سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدوار بھی تھے ۔

  9. بلاول بھٹو زرداری: عالمی وبا سے مقابلہ کرنا ہو تو پورے پاکستان کے وزیر اعظم بنیں

    بلاول بھٹو نے ایک بار پھر عمران خان کی قیادت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ عالمی وبا سے مقابلہ کرنا ہو تو پورے پاکستان کے وزیر اعظم بنیں۔

    انھوں نے پاکستان میں ٹڈی دل کے حملوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل نکالنا بھی وفاق کی ذمہ داری ہے اور اس سے پاکستان میں اناج کا بحران ہو سکتا ہے۔

    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے اس حوالے سے وفاقی حکومت کو خط لکھا تھا مگر آج تک جواب نہیں ملا ہے۔

  10. بلاول بھٹو زرداری: سٹیل ملز کے ملازمین کو برطرف کرنا ناانصافی ہے

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وبا کے دوران سٹیل ملز کے 10 ہزار کے قریب ملازمین کو برطرف کرنا 'ناانصافی‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے کورونا ریلیف آرڈیننس کے تحت کسی ملازم کو اس وبا کے دوران فارغ نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ اس آرڈیننس پر پی ٹی آئی کی جانب سے تعینات کردہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کے بھی دستخط ہوں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ اصولوں، قانون اور انسانیت کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت اس معاملے کو ہر فورم پر چیلنج کرے گی، اور وہ سٹیل ملز کے ملازمین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

  11. بلاول بھٹو: ’وفاقی حکومت محنت کشوں کا نام لیتی ہے لیکن ملتی کاروبار شخصیات سے ہے‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت محنت کشوں کا نام لیتی ہے لیکن ملتی کاروبار شخصیات سے ہے۔

    ’تین ماہ سے وبا پھیلی ہوئی ہے، کتنی بار وزیر اعظم ڈاکٹرز سے ملے، وائی ڈی اے سے ملے، نرسوں سے ملے، آئ سی یو کے ڈاکٹرز سے ملے۔ میرے خیال میں وہ فرنٹ لائن سے ایک دفعہ بھی مخاطب نہیں ہوئے ہیں۔ اور کتنے کاروباری شخصیات، صنعتکار، بینکرز سے ملے؟ یہ دکھاتا ہے کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں۔‘

  12. کیا خود ساختہ تنہائی سے رشتوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

  13. بلاول بھٹو زرداری: ’کیا کسی نے پی ٹی آئی سے پوچھا کہ جہاں آپ کی حکومت ہے وہاں شرح اموات زیادہ کیوں ہیں؟‘

    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پاکستان کی اموات شرح چین اور انڈیا سے زیادہ ہے لیکن اس کی ذمہ داری کون لے گا؟

    انھوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اعداد و شمار کے ساتھ کھیل کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے۔

    ’جو شرح اموات خیبر پختون خوا میں ہے، دوسرے صوبوں سے زیادہ ہے۔ وہاں ٹیسٹنگ بھی باقی صوبوں کے مقابلے میں کم ہے۔ پہلے دن سے سندھ سے سوالات کیے جا رہے ہیں۔ سب کا نشانہ سندھ ہے۔ لیکن کیا کسی نے پی ٹی آئی سے پوچھا کہ جہاں آپ کی حکومت ہے وہاں شرح اموات اتنی زیادہ کیوں ہیں۔

  14. بلاول بھٹو زرداری: وفاقی حکومت اپنا رویہ درست کرے

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پہلے دن سے میڈیا اور اپوزیشن کا نشانہ صوبہ سندھ ہے حالانکہ سب سے زیادہ صحتیابی کی شرح سندھ میں ہے۔ 'لیکن کیا کسی نے پی ٹی آئی سے پوچھا کہ باقی صوبے جہاں آپ کی حکومت ہے وہاں شرحِ اموات کیوں زیادہ ہے؟'

    انھوں نے وفاقی حکومت سے 'اپنا رویہ درست کرنے' کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پاکستان کے غریب عوام کی صحت و زندگی کو نہ صرف خطرے میں ڈالا ہے بلکہ انھیں معاشی طور پر بھی نقصان پہنچایا۔

    انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور دیگر صوبوں نے وفاقی حکومت سے کرپشن کے لیے نہیں بلکہ اپنی صحت کی سہولیات میں اضافے کے لیے فنڈز کی درخواست کی تھی جو پوری نہیں کی گئی۔

  15. انڈیا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد نئے متاثرین, جِل میک گیورینگ، ساؤتھ ایشیا ایڈیٹر

    انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ وہاں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد اٹلی سے تجاوز کر چکی ہے۔

    یہاں پر اب تک دو لاکھ 37 ہزار 566 افراد میں اس مرض کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 6650 ہوگئی ہے۔

    یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈیا بتدریج ملک گیر لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہا ہے تاہم سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ابھی بھی سخت اقدامات نافذ العمل ہیں۔

    دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں انڈیا تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ سنیچر کو یہاں 24 گھنٹوں کے دوران 10 ہزار نئے متاثرین سامنے آئے۔

    لیکن اسی دوران ملک میں پیر کے روز سے کئی ریستوران، شاپنگ مال، دفاتر اور عبادت گاہیں کھول دی جائیں گی۔ انڈیا میں ٹیسٹنگ کی شرح کم ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    اس کے علاوہ مرض کے دیگر علاقوں تک پھیلنے کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں کیونکہ کروڑوں مزدور بیروزگاری کے باعث اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ رہے ہیں۔

  16. بلاول بھٹو زرداری: 'فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کی بات سنیں'

    انھوں نے کہا کہ کسی کو تو یہ ذمہ داری اٹھانی پڑے گی کہ ڈاکٹر اور نرسیں ابھی تک سراپا احتجاج ہیں۔ پنجاب اور سندھ کی ڈاکٹر تنظیموں نے ابھی چند دن قبل پریس کانفرنس کی تھی، انھوں نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کی بات سنیں وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ 'اگر آپ ایک وبا کے بارے میں ماہرینِ معیشت، کاروباری طبقے اور تاجروں سے رائے لیں گے تو اس کا کیا علاج ہوگا؟‘ بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت سے کہا کہ آپ کی پہلی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنی اورخاندانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کی بات سنیں، اور پھر ان کے مطالبات پورے کریں۔

  17. پاکستان میں کورونا زبردستی پھیلایا گیا، بلاول بھٹو زرداری

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ ملک میں کورونا وائرس پھیل چکا ہے اور اب ہم اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ وائرس نہ صرف پھیلا ہے بلکہ زبردستی پھیلایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کورونا وائرس لاک ڈاؤن پر فیصلے کے بعد سندھ حکومت اتنی خود مختار نہیں رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوال کیا کہ پاکستان میں فی کس اموات کی شرح کے انڈیا سمیت دیگر ہمسایہ ممالک سے زیادہ ہونے پر وہ کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں؟

  18. پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس

    اس وقت پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

    اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ وائرس کو بڑے شہروں سے باہر پھیلنے دینے کی کوشش زبردستی سبوتاژ کروائی گئی۔ انھوں نے وفاقی حکومت کو الزام دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی ہر کوشش کو ہر فورم پر چیلنج کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ وفاق نے اگر خود کام نہیں کرنا تھا تو کم از کم وہ دوسروں کی کوششوں میں رکاوٹ نہ ڈالتے۔‘

  19. پاکستان میں ہفتہ وار ٹیسٹنگ اور مثبت کیسز کی شناخت

    عالمی ادارہ صحت کی پانچ جون کی یومیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہفتہ وار ٹیسٹنگ کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ کافی خوش آئند بات ہے لیکن دوسری جانب اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نظر آیا ہے کہ صرف گذشتہ تین ہفتوں میں انفیکشن ریٹ یا ٹیسٹ کے مثبت آنے کی شرح میں دگنا اضافہ ہو گیا ہے۔

    مئی کے آغاز میں پاکستان میں یہ شرح 12.94 فیصد تھی جو کہ پانچ جون کو 22.58 تک پہنچ گئی ہے۔

    اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا مقامی طور پر پھیلے جا رہی ہے اور زیادہ ٹیسٹنگ کرنے سے زیادہ مریضوں کی تشخیص ہو رہی ہے۔

  20. کورونا کے اعداد و شمار: پاکستان کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

    پاکستان میں کورونا وائرس متاثرین کی مجموعی تعداد 95 ہزار 458 ہوگئی ہے اور اب تک اس مرض کے باعث 1954 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    پاکستان میں متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ سندھ ہے جہاں 36 ہزار 364 افراد میں اس مرض کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب ہے جہاں اب تک 659 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

    پاکستان میں اب تک 33 ہزار 59 افراد کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں تاہم گذشتہ چند دنوں سے یومیہ متاثرین کی تعداد میں انتہائی بلند اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور گذشتہ روز بھی چار ہزار 734 افراد میں اس مرض کی تصدیق ہوئی تھی۔

    پاکستان میں صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں کم از کم دو ہسپتالوں میں کورونا کے مزید مریضوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے جبکہ ملک بھر کے کئی ہسپتالوں میں بیڈز کی کمی سے متعلق اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    سندھ میں محکمہ صحت کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ انڈس ہسپتال اور ڈاؤ ہسپتال میں کووڈ 19 کے مزید مریضوں کو داخل نہیں کیا جاسکتا۔