بلوچستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی ذاتی معلومات کی شیئرنگ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق صوبے بھر میں کورونا وائرس سے متاثر کسی بھی مرد، خاتون، بچوں یا فیملی کی ذاتی معلومات کی شیئرنگ ممنوع ہو گی۔
پارلیمانی سیکریٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے بتایا ہے کہ ذاتی معلومات کی شیئرنگ سے متاثرہ افراد ذہنی کوفت کا شکار ہو رہے ہیں، اور انھیں امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ذاتی معلومات کی شیئرنگ کے واقعات کے بعد ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی شرح میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سماجی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے کورونا وائرس کوئی ایسی اچھوت وبا نہیں کہ مریضوں کو حقارت سے دیکھا جائے۔
پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی کے ڈیسک سے جاری مراسلے میں بلوچستان بھر کی ہسپتالوں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر ہسپتالوں اور ٹیسٹنگ لیبارٹریز میں کورونا وائرس کے متاثرین کی پرسنل انفارمیشن کسی بھی طور لیک نہ کی جائے۔
ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ اندرون بلوچستان بہت سی خواتین اورحضرات نے ذاتی معلومات لیک ہونے کی شکایت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی تشخیص اور علاج معالجے کی استعداد کار میں اضافے کے ساتھ ساتھ معاشرتی طور پر یہ باور کروانا بھی ضروری ہے کہ دیگر امراض کی طرح کورونا وائرس بھی ایک بیماری ہے جس سے احتیاط لازم ہے تاہم متاثرہ افراد سے کسی بھی طرح امتیازی سلوک روا رکھنا درست نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں بحیثت باشعور قوم اس بیماری کا ہمت و جرت سے مقابلہ کرنا ہے اور ہم پر عزم ہیں کہ کورونا وائرس کو شکست دیکر عوام کو معمول کا ایک صحت مند معاشرہ لوٹانے میں کامیاب رہیں گے۔‘