آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان اب دوبارہ لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا: وزیر اعظم عمران خان

دنیا میں اس وقت 66 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 90 ہزار کے قریب ہے۔ لاہور میں لوگوں کی جانب سے ماسک نہ پہننے پر ٹریفک وارڈن کو چالان کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق ملک بھر میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ہزاروں کاروباری مراکز بند کیے جا چکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ایران میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ

    مسلسل دوسرے دن ایران میں کورونا وائرس کے 3000 سے زائد مریض سامنے آئے ہیں۔ جس سے یہ خوف پیدا ہوا ہے کہ وائرس کی دوسری لہر بھی آ سکتی ہے۔

    تاہم اس کے باوجود ایران عائد پابندیوں میں نرمی کر رہا ہے۔ ایران کے کچھ حصوں میں کاروبار زندگی معمول پر ہے۔

  2. چین: کورونا وائرس ڈیٹا جاری کرنے میں تاخیر نہیں کی

    چین کے دفتر خارجہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ چین نے کورونا وائرس سے متعلق اعدادوشمار عالمی ادارہ صحت کو دینے میں تاخیر کی ہے۔ چینی دفتر خارجہ کے مطابق یہ تاخیر سے متعلق یہ دعوی حقائق کے منافی ہے۔

    چین کے دفتر خارجہ کی یہ وضاحت خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی گذشتہ روز کی اس خبر کے بعد سامنے آئی ہے جس میں زرائع سے متعلق کہا گیا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کے حکام میں چین کی طرف سے کورونا وائرس کے مطلوبہ اعدادوشمار دینے میں تاخیر سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے۔

    اس خبر میں یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت اس وجہ سے چین کی کاوشوں کی تعریف کر رہا تھا تا کہ وہ وائرس سے متعلق چین سے مزید معلومات حاصل کر سکے۔

    گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ تاخیر سے متعلق کچھ رپورٹس حقائق کے بالکل منافی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق کورونا وائرس سے متعلق واضح اعدادوشمار، حقائق اور اس وائرس کے خلاف چین کی حکمت عملی دنیا کے سامنے ہے۔

  3. بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان میں مزید 82 ہلاکتیں، 4688 نئے مریض

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 82 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور نئے 4688 مریض سامنے آئے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے مطابق ملک میں کورونا وائرس متاثرین کی تعاد 85264 تک پہنچ گئی ہے۔

    فعال متاثرین کی تعداد 53366 بتائی جاتی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ 901 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور تین جون کو ملک میں مزید 20167 ٹیسٹ کیے گئے۔ اس وقت ملک کے 764 ہسپتالوں میں 4918 مریض زیر علاج ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب 607 ہلاکتوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔

    سندھ میں ہلاکتیں 555 ہو چکی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 500 بلوچستان میں 51 جبکہ دارالحکومت اسلام آباد میں اموات کی تعداد 38 ہو گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گلگلت بلتستان میں کورونا کے 12 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سات مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔

  4. کھجی گراؤنڈ: کھیل کا وہ میدان جہاں کبھی موت مقبول ترین کھیل تھی

  5. پاکستان میں مئی میں کورونا کیوں بےقابو ہوا؟

  6. کورونا وائرس: ’ریپبلیکنز کو کنوینشن کے لیے جگہ بدلے پر ’مجبور‘ کیا گیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کیرولائنا کے کورونا وائرس کی ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے انکار کے بعد ریپبلیکنز پارٹی کے 2020 نیشنل کنوینشن کی میزبانی کے لیے پارٹی کو کسی اور ریاست میں جگہ ڈھونڈنے پر ’مجبور‘ کیا گیا ہے۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کہ شمالی کیرولائنا کے گورنر نے اس بات کی گارنٹی نہیں دی کہ ریپبلیکنز یہ وینیو استعمال کر سکتے ہیں، جیسا کہ پہلے وعدہ کیا گیا تھا۔

    گورنر گیری کووپر نے ٹویٹ کیا کہ حفاظت کے لیے کی جانے والی تبدیلیوں کی ریپبلیکنز نے مخالفت کی تھی۔

    یہ کنوینشن 24 اگست سے 27 اگست تک ہونا تھا اور توقع تھی کہ اس میں 19,000 افراد شریک کریں گے۔

    کئی دوسری ریاستوں نے اس تقریب کی میزبانی کے لیے رضاکارانہ طور پر پیش کش کی ہے۔

    منگل تک شمالی کیرولائنا میں کورونا وائرس کے 29,900 کیسز ا ور 900 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

  7. پاکستان پہنچنے والے ٹڈی دل اتنے بے قابو کیسے ہوئے؟

  8. بریکنگ, پنجاب میں مزید 1615 افراد کورونا سے متاثر

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں 1615 افراد کے اضافے کے ساتھ صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 31104 ہو گئی ہے۔

    اس اضافے کے ساتھ پاکستان میں متاثرین کی مجموعی تعداد 84921 ہوگئی ہے جو چین میں اب تک ریکارڈ کیے گئے انفیکشنز سے بھی زیادہ ہے۔ چین جہاں سے اس وائرس کا آغاز ہوا وہاں اب تک کل متاثرین84159 ہیں۔

    صوبے پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37 افراد اس وبا کے باعث ہلاک ہوئے جبکہ صوبے میں مرنے والوں کی کل تعداد 607 ہو گئی ہے۔

    پنجاب میں اس وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی کل تعداد 7712 ہے۔

  9. آسٹریا کا اٹلی کے علاوہ تمام ممالک کے ساتھ سرحدیں کھولنے کا اعلان

    آسٹریا نے اٹلی کے علاوہ تمام ممالک کے ساتھ اپنی سرحدیں دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم سرحدوں پر سکریننگ ضرور کی جائے گی۔

    دیگر سات ممالک جن میں جرمنی سلووینیا، سلوواکیا، جمہوریہ چیک، سوئٹزرلینڈ، ہنگری اور لیچنسٹین شامل ہیں کو قرنطینہ میں نہیں رہنا پڑے گا۔

    ملک کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اٹلی کے لیے ہمیں ایسا اقدام اس لیے اٹھانا پڑا ہے کیونکہ وہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے اعداد و شمار سنگین تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں پھر ضرور دیتا ہوں کہ یہ اقدام عارضی ہے۔

  10. بریکنگ, بلوچستان میں 371 نئے مریض، پاکستان میں متاثرین 83 ہزار سے زیادہ

    بلوچستان میں کورونا کے 371 نئے کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 5224 ہو گئی ہے۔

    کورونا سے مزید تین افراد کی ہلاکت کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 51 ہو گئی ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق تین جون 2020 کو کورونا کے 1083 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 371 پازیٹو آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 27301 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 22940 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر 65287 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ مشتبہ مریضوں کی تعداد 24530 ہے جبکہ کورونا وائرس سے اب تک 2021 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  11. بریکنگ, پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال، قواعد و ضوابط جاری

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ضباطہ اخلاق کی پابندی کیے جانے کی شرائط کے تحت ریاست بھر میں اور پاکستان کے تمام دیگر علاقوں کے درمیان دو ماہ سے زائد عرصے سے معطل پبلک ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق آج رات 12 بجے کے بعد ہو گا۔

    صحافی ایم اے جرال کے مطابق مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو مندرجہ ذیل قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہو گا۔

    • مسافروں کے لیے ماسک جبکہ ڈرائیور اور گاڑی کے دیگر عملہ کے لیے نہ صرف ماسک بلکہ گلوز کا بھی استعمال لازمی قرار دیا ہے۔
    • ٹرانسپورٹرز اڈے سے لے کر منزل مقصود تک محکمہ صحت کی جانب سے طہ شدہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔ بصورت دیگر جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔
    • پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافروں کے درمیان ایک سیٹ خالی رکھی جائے گی جس کا کرایہ مسافر ادا کرے گا۔
    • اڈہ مالکان انتظار گاہکوں میں مسافروں کے درمیان چھ فٹ تک فاصلے برقرا رکھنے اور صفائی ستھرائی کا انتظامات کو یقینی بنائیں گے بصورت دیگر خلاف ورزی کی صورت میں پانچ ہزار تک جرمانہ اور سات دن تک اڈہ سیل کیا جائے گا۔
    • بخار، سر و گلے میں درد اور نزلہ زکام کی صورت میں کسی بھی مسافر کو سفر یا ٹرانسپورٹ کو ڈیوٹی سر انجام دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
    • اندرون شہر چلنے والے رکشوں اور سوزوکیوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر پبلک ٹرانسپورٹ کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
    • اس کو سرخ اور نیلے رنگ کے سٹیکر لگا کر تقسیم کیا گیا ہے جس بنا پر ڈرائیورز الگ الگ دنوں میں سڑک پر آئیں گے جبکہ ایک دن سرخ سٹکر والے دوسرے دن نیلے سٹکر والے سڑک پر آئیں گے۔
    • رکشے میں صرف ایک سواری بیٹھے گی ایک ہی کنبے کی صورت میں رکشے پر دو افراد سوار ہو سکیں گے رکشے سے پردے دروازے ہٹا لیے جائیں گے۔
    • سوزوکی کی ایک طرف والی سیٹیں ہٹا لی جائیں گی اور صرف ایک رو پر چار سوار بیٹھنے کی اجازت ہو گی اگلی نشت پر صرف ایک سوار بٹھایا جائے گا
    • سوزوکی میں آمنے سامنے مسافر نہیں بیٹھ سکتے ہیں بلکہ مسافر ایک رو میں بیٹھیں گے جبکہ سامنے والی رو خالی رہے گی۔
  12. کورونا وائرس: لاک ڈاؤن نے کاروبار کیسے تبدیل کیے؟

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے بعد طویل لاک ڈاون کی وجہ سے اکثر کاروبار متاثر ہوئے، لیکن اس بحران کو بعض افراد نے مواقع میں تبدیل کیا اور اپنے نئے کاروبار کا آغاز کردیا، آئیے ملتے ہیں کراچی کے ایک ایسے ہی نوجوان سے۔

    ریاض سہیل اور محمد نبیل کی ڈیجیٹل رپورٹ۔۔۔

  13. بورس جانسن: ’سفری راہداریوں‘ کے متعلق سوچا جائے گا

    برطانیہ میں کورونا وائرس کے متعلق بریفنگ میں بدھ کو وزیرِ اعظم بورس جانسن، چیف میڈیکل آفیسر پرفیسر کرس وہٹی اور حکومت کے چیف سائنٹیفک مشیر سر پیٹرک ویلینس نے حصہ لیا۔

    آج کی بریفنگ میں مندرجہ ذیل باتیں ہوئیں:

    • بورس جانسن نے کہا کہ مسافروں کے لیے قرنطینہ کے نئے اقدامات سخت ہیں لیکن ضروری بھی ہیں تاکہ نئے کیسز درآمد کرنے کے خطرے سے بچا جا سکے۔ ان ممالک کے ساتھ جہاں انفیکشن کی شرح کم ہے ’سفری راہداریوں‘ کے متعلق سوچا جا جائے گا، لیکن وہ بھی اس وقت جب ایسا کرنا محفوظ ہو۔
    • وزیرِ اعظم نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ کیا برطانوی شہریوں کو یورپ کے لیے چھٹیاں بک کرا لینی چاہیئں۔
    • این ایچ ایس کی ’ٹیسٹ اینڈ ٹریس‘ کی حکمتِ عملی وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کا ایک اہم حصہ ہے۔
    • عالمی طور پر کووڈ۔19 کی ویکسین کی تلاش کی کوششیں ہو رہی ہیں اور بورس جانسن جمعرات کو گیوی انٹرنیشنل ویکسین الائنس کے اجلاس کی سربراہی کریں گے۔
    • بورس جانسن نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بارش کے موسم میں باہرہونے والی بھیڑ کو گھروں کے اندر نہ لے آئیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے ٹرانسمیشن کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
  14. بریکنگ, گلگت بلتستان میں 45 نئے مریض، کُل متاثرین 800 سے زیادہ

    محکمہ صحت گلگت بلستان کے مطابق 45 نئے مریضوں کے ساتھ گلگت بلستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 824 ہوگئی ہے۔

    تین صحت یاب مریضوں کے بعد صحت یاب مریضوں کی تعداد 532 جبکہ اب تک 12 مریض مجموعی طور پر ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس وقت خطے میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 280 ہے۔ جس میں 199 مرد اور 81 خواتین شامل ہیں۔

    گگلت میں اس وقت سب سے زیادہ 125مریض زیر علاج ہیں، اسکردو میں 34، استور میں 29، ہنزہ میں 27، گھنچے میں 23، نگر میں 14، دیامیر میں 12، غذر میں 10، شنگر میں چار مریض اور گھرمنگ میں دو مریض زیر علاج ہیں۔

  15. بارسیلونا: کورونا وائرس کے مریضوں کو بیچ کی سیر

    سپین میں بیماری سے بحالی کے ایک پروگرام کے تحت کورونا وائرس کے مریضوں کو ساحل سمندر کی سیر کرائی جا رہی ہے۔

    بارسیلونا کے ہاسپیٹل ڈیل مار کے طبی عملے کو مریضوں کو ہسپتال کے بستروں پر بیچ کی طرف لے جاتے ہوئے تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ انتہائی نگہداشت کے شعبوں کو انسان دوست بنانے کے پروگرام کا ایک حصہ ہے۔

    سپین میں کورونا وائرس کے کل تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 239,932 ہے جبکہ اس وبا سے اب تک 27,127 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    حکومت نے آہستہ آہستہ یورپ کے سب سے سخت لاک ڈاؤن میں نرمی لانا شروع کی ہے۔

    ایک ایسا وقت بھی تھا جب لوگ ورزش کرنے باہر نہیں جا سکتے تھے اور نہ ہی بچوں کو یہ اجازت تھی کہ وہ کسی بھی وجہ سے گھر سے باہر نکلیں۔

  16. بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 14 نئے مریض

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق مزید چھ خواتین اور ایک محکمہ صحت کے اہلکار سمیت 14 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 298 ہو گئی ہے۔

    میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق ضلع بھمبر میں تین خواتین سمیت چھ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک شخص کا تعلق میرپور سے ہے۔

    ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد میں مزید تین خواتین سمیت چھ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ ایک شخص کا تعلق ضلع ہٹیاں سے ہے۔

    حکام کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر تین مریض صحتیاب ہوئے جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب مریضوں کی تعداد 173 ہوگی ہے۔

    حکام کے مطابق اس خطے میں 7287 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جس میں سے 53 ٹیسٹ کے رزلٹ آنے باقی ہیں.

  17. کورونا وائرس: بلوچستان میں متاثرہ مریضوں کی ذاتی معلومات کی شیئرنگ پر پابندی

    بلوچستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی ذاتی معلومات کی شیئرنگ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

    کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق صوبے بھر میں کورونا وائرس سے متاثر کسی بھی مرد، خاتون، بچوں یا فیملی کی ذاتی معلومات کی شیئرنگ ممنوع ہو گی۔

    پارلیمانی سیکریٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے بتایا ہے کہ ذاتی معلومات کی شیئرنگ سے متاثرہ افراد ذہنی کوفت کا شکار ہو رہے ہیں، اور انھیں امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ذاتی معلومات کی شیئرنگ کے واقعات کے بعد ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی شرح میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سماجی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے کورونا وائرس کوئی ایسی اچھوت وبا نہیں کہ مریضوں کو حقارت سے دیکھا جائے۔

    پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی کے ڈیسک سے جاری مراسلے میں بلوچستان بھر کی ہسپتالوں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر ہسپتالوں اور ٹیسٹنگ لیبارٹریز میں کورونا وائرس کے متاثرین کی پرسنل انفارمیشن کسی بھی طور لیک نہ کی جائے۔

    ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ اندرون بلوچستان بہت سی خواتین اورحضرات نے ذاتی معلومات لیک ہونے کی شکایت کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی تشخیص اور علاج معالجے کی استعداد کار میں اضافے کے ساتھ ساتھ معاشرتی طور پر یہ باور کروانا بھی ضروری ہے کہ دیگر امراض کی طرح کورونا وائرس بھی ایک بیماری ہے جس سے احتیاط لازم ہے تاہم متاثرہ افراد سے کسی بھی طرح امتیازی سلوک روا رکھنا درست نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں بحیثت باشعور قوم اس بیماری کا ہمت و جرت سے مقابلہ کرنا ہے اور ہم پر عزم ہیں کہ کورونا وائرس کو شکست دیکر عوام کو معمول کا ایک صحت مند معاشرہ لوٹانے میں کامیاب رہیں گے۔‘

  18. اسلام آباد میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے ایس او پیز کیا ہیں؟

    پاکستان میں حکومتی احکامات کے بعد لاک ڈاون میں مرحلہ وار خاتمے کا سلسلہ جاری ہے لیکن عوام کے لیے کچھ قوائد و ضوابط لازمی قرار دئیے گئے ہیں۔

    ان میں گھر سے باہر نکل کر دکاندار اور خریدار کے لئے طے کردہ ایس و پیز، شاپنگ مالز اور ٹرانسپورٹ کے لیے اصول وغیرہ شامل ہیں۔

    یہ قوائد آخر ہیں کیا؟ یہی بتا رہے ہیں ہمیں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات۔

  19. کورونا وائرس: نیدرلینڈز میں وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ’ہزاروں آبی نیولے مارنے کا منصوبہ‘

    ڈچ ٹی وی چینل آر ٹی ایل کے مطابق نیدرلینڈز کی حکومت نے ایسے فارمز جہاں آبی نیولے کورونا وائرس سے متاثر ہیں وہاں ہزاروں آبی نیولوں کو مارنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک حکومتی ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

    اب تک ملک میں دو ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں آبی نیولوں سے انسانوں میں کورونا وائرس کی منتقلی کی تصدیق ہوئی ہے۔

    یہ اب تک جانوروں سے انسانوں میں وائرس کی منتقلی کے واحد کیسز ہیں۔

    اب تک ملک میں 120 فارمز میں کورونا وائرس پایا گیا۔ خیال رہے کہ سنہ 2013 میں ایک قانون منظور ہونے کے بعد سنہ 2023 میں یہ تمام فارم بند ہو جانے ہیں۔

  20. بریکنگ, خیبرپختونخوا میں 476 نئے مریض، کُل 500 ہلاکتیں, صوبے میں مریضوں کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر گئی

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ صوبے میں ہلاکتوں کی کل تعداد 500 ہو گئی ہے۔

    اب تک صوبے میں 3,150 افراد اس بیماری سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

    اس وقت صوبے میں اموات کی شرح چار اعشاریہ تین فیصد ہے جو دیگر صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

    یہاں انفیکشن ریٹ یعنی مثبت ٹیسٹس کی شرح بھی 16 فیصد سے زیادہ ہے۔