صوبہ خیبر پختونخواہ
میں ضلع دیر متاثرین کے اعتبار سے صوبے بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ
کے محکمہ صحت کے مطابق دو جون تک ضلع لوئر دیر میں کورونا متاثرین کی تعداد 400 تھی جبکہ 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ضلع لوئر دیر کے ڈسڑکٹ
ہیلتھ آفسیر ڈاکٹر محمد نذیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کئی مریض پشاور
کے ہسپتالوں میں بھی ہلاک ہوئے ہیںجن کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہوتا بلکہ پشاور ہی
میں ان کا اندراج کیا جاتا ہے اور اسی طرح کئی لوگ پشاور میں ٹیسٹ کرواتے ہیں اور ان
کا ریکارڈ پشاور ہی میں مرتب ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ
اس حساب سے دیر میں ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
ڈاکٹر نذیر کا کہنا تھا
کہ اگر ہم صرف ریکارڈ میں مرتب کردہ اعدادوشمار بھی دیکھیں تو متاثرین کی تعداد میں
اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ان کے مطابق ضلع میں تین جون کو کُل 84 ٹیسٹ ہوئے جن میں سے
57 مثبت آئے جو کہ ستر فیصد شرح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روزانہ
کی بنیاد پر ہونے والی ٹیسٹوں میں یہ شرح تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
ڈاکٹر نذیر کا کہنا
تھا کہ ضلع لوئر دیر کافی متاثر ہوچکا ہے اور اب تک کی صورتحال تو کچھ حد تک قابو
میں ہے لیکن اگر حالات زیادہ خراب ہوتے ہیں تو پھر پاس مریضوں کو سنبھالنے کے لیے بنیادی
وسائل نہیں ہیں۔
ڈاکٹر محمد نذیر کا کہنا
تھا کہ شدید متاثرہ مریض کو پشاور بھجا جاتا ہے جو کہ تین گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔
خیال رہے کہ وزارت صحت اسلام آباد کی حالیہ دونوں میں مرتب کردہ اعدادوشمار
کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ میں وینٹیلیڑز کی سہولتصوبہ کے صرف دو شہروں پشاور اور ایبٹ آباد میں موجود
ہے۔