وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ منگل کو کورونا وائرس کے باعث ایک دن میں سب سے زیادہ 19 ہلاکتیں ہوئی۔ اس طرح اب سندھ میں مجموعی طور پر 299 اموات چکی ہیں جوکہ کورونا وائرس کے باعث جان بحق ہونے والے مریضوں کا 1.6 فیصد ہے۔
منگل کو وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری اپنے بیان میں مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 19 مارچ سے 19 مئی تک پچھلے دو ماہ سے ہمیں دن میں اوسطا ًپانچ سے زیادہ اموات کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اموات کا تناسب کل مریضوں کا 1.6 فیصد ہے لیکن 61 دنوں میں 299 اموات ہوئی ہیں جو بہت تکلیف دہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت 135 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور ان میں سے 34 کو وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے۔
مراد علی شاہ نے 12906 مریضوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں سے 11373 یعنی 88 فیصد گھر وں میں آئسولیشن میں، قرنطینہ مراکز میں 819 اور مختلف ہسپتالوں میں 715 یعنی 5.7 فیصد ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ انفیکشن سے 252 مزید مریض صحتیاب ہوئے ہیں اور اب تک صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 4741 ہوگئی ہے جوکہ 27 فیصد بحالی کا تناسب ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز 3803 نمونوں کی جانچ کی گئی جس میں 706 نئے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔
انھوں نے کہا ’ایک طرف ہمارے 252 مریض صحتیاب ہوئے جبکہ مزید 706 مریض سامنے آئے جس کا مطلب ہے 252 مریضوں کو ڈسچارج کرنے کے باوجود 454 دیگر مریض داخل ہوئے۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحتیابی کی شرح انفیکشن کی شرح سے بہت کم ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر شخص ایس او پیز پر عمل کرے تو اس شرح پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 131376 نمونوں کی جانچ کی ہے جن میں سے 17947 مثبت کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا مجموعی طور پر ٹیسٹ کے مثبت کیسز کی مجموعی شرح 13.7 فیصد ہے جو دیگر ممالک کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 706 نئے متاثرین میں سے 558 کا تعلق کراچی سے ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق واشنگٹن، مسقط اور جدہ سے تین پروازیں بالترتیب 14، 15 اور 16 مئی کو 792 پھنسے پاکستانیوں کو کراچی لے کر آئیں۔ ان سب کا ٹیسٹ کیا گیا جس کے نتیجے میں ان میں سے 60 مریضوں میں وائرس کی تشخیص کی گئی جبکہ 17 مسافروں کے نتائج کا انتظار کیا جارہا ہے۔