آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ ہونے والے ریکارڈ ایک لاکھ سے زیادہ متاثرین

دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر اور تین لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 47 ہزار کے قریب ہے جبکہ وائرس کے باعث ملک میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں عالمی ادارۂ صحت کو ریکارڈ ایک لاکھ چھ ہزار نئے مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. انگلش پریمیئر لیگ: چھ افراد میں کورونا کی تشخیص

    انگلش پریمیئر لیگ کے چھ کھلاڑیوں یا کوچز میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    لیگ کے 20 کلبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 748 افراد کا منگل کو وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا ہے۔

    منگل سے کھلاڑیوں کو جسمانی طور پر بغیر ایک دوسرے کے رابطے میں آئے ٹریننگ کی اجازت ہے۔

    جن چھ افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ان کا تعلق تین کلبوں سے ہے اور اب انھیں سات دن تک خود ساختہ تنہائی میں گزارنے ہوں گے۔

    امید ہے کہ لیگ اگلے ماہ شروع ہو سکے گی لیکن فی الحال کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

  2. بریکنگ, گلگت بلتستان: مزید چھ افراد میں وائرس کی تصدیق، کل تعداد 556 ہو گئی

    گلگت بلتستان میں مزید چھ افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد کل متاثرین کی تعداد 556 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق اس وقت 162 مریض زیرِ علاج ہیں۔

    گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین کی تعداد 84 مریض گلگت میں موجود ہیں۔

    گلگت بلتستان میں کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 390 ہے جبکہ اب تک کل چار افراد ہلاک ہوئے ہیں ہے۔

  3. ڈبلیو ایچ او: ’ہم کسی سے بھی زیادہ احتساب کے حق میں ہیں‘

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے یورپی یونین کی جانب سے وبا کے خلاف ردعمل کی تحقیقات کے حق مییں قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے خاں کر کہ اس بات کا کہ یہ ’عالمی دارے صحت تک ہی محدود نہیں ہوگی۔‘

    ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم کسی سے بھی زیادہ احتساب کے حق میں ہیں۔‘

  4. 45 دن انتہائی نگہداشت میں گزارنے والے نرس کو وارڈ منتقل کر دیا گیا

    برطانیہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک نرس 45 دن سے زیادہ وقت انتہائی نگہداشت میں گزارنے کے بعد وارڈ میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔

    فیلکس کھور، ایسیکس کے ساؤتھ اینڈ یونیورسٹی ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں جہاں وہ 15 سال سے کام کر رہے تھے۔

    انھوں نے اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کی جان بچانے میں مدد کی۔

    ہسپتال کے مطابق جب انھیں وارڈ میں منتقل کیا گیا اس وقت ان کے ساتھیوں نے مرکزی راہداری پر کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں، سبھی خوشی تھے اور کچھ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

    کھور کا کہنا تھا ’ساتھیوں اور دوستوں کی طرف سے زبردست محبت اور تعاون کا شکریہ۔ میں ہسپتال کے تمام عملے کا شکر گزار ہوں جنھوں نے بیماری سے لڑنے میں مدد دی۔‘

  5. ڈبلیو ایچ او: روس نے صدر ٹرمپ کی تنبیہ کو رد کر دیا

    روس نے امریکہ کی جانب سے ڈبلیو ایچ او کی امداد مکمل طور پر روکنے سے متعلق تنبیہ کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کسی ایک ملک کی سیاسی یا علاقائی ترجیحات کی وجہ سے سب کچھ توڑ نہیں سکتے۔‘

    امریکی صدر چین پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے وبا کے پھیلاؤ کو چھپایا اور ڈبلیو ایچ او پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے بیجنگ کے خلاف اس معاملے میں اقدامات نہیں کیے ہیں۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی رائبکوو نے کہا کہ صحت کے ادارے کے کام کو ’بہتر کیا جا سکتا ہے۔

    ’لیکن ہم کسی ایک ملک کی سیاسی اور علاقائی ترجیحات کی خاطر سب کچھ توڑ دینے کے خلاف ہیں‘۔

  6. وزیراعظم عمران خان کل ورلڈ اکنامک فورم کے آن لائن سیشن سے خطاب کریں گے

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کل ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے آن لائن اجلاس سے خطاب کریں گے۔

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم اپنے خطاب میں کوورنا وائرس کے انسانی زندگیوں اور معیشت پر پڑنے والے اثرات پر بات چیت کریں گے۔‘

    ان یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں بھی عالمی برادری نے وزیراعظم کی انسان اور ماحول دوست فلاسفی کو سراہا اور اس کا مثبت جواب دیا ہے۔

  7. پاکستان: ’ملک بھر میں صرف 18 فیصد وینٹیلیٹرز استعمال ہورہے ہیں‘

    پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ 9919 مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں جن میں سے 9577 کی حالت تسلی بخش جبکہ 125 کو وینٹیلیڑ پر رکھا گیا ہے، 217 ایسے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے مگر انھیں وینٹیلیٹر پر نہیں رکھا گیا۔

    وزارت صحت اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر کے ہسپتالوں سمیت دیگر مقامات پر کورونا کے مریضوں کے لیے 735 سہولیات موجود ہیں جن میں 21085 مریضوں کی گنجائش موجود ہے۔

    اب تک 9919 مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ باقی مریض گھروں میں قرنطینہ میں ہیں۔

    وزاتِ صحت کے مطابق ہسپتالوں میں داخل 9577 مریضوں کی حالت تسلی بخش ہے۔ جبکہ پاکستان بھر میں اس وقت کورونا کے 125 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں جبکہ 217 ایسے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے مگر انھیں وینٹیلیٹر پر نہیں رکھا گیا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان بھر میں وینٹیلیٹرز پر موجود مریضوں کی تعداد 94 تھی جبکہ ایسے مریض جن کی حالت تشویشناک حالت تھی لیکن انھیں وینٹیلیڑ پر نہیں رکھا گیا، ان کی تعداد 196 تھی۔

    وزارت صحت اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت پورے ملک بشمول پاکستان کے زیر انتطام کشمیر اور گلگت بلتستان کے صرف 13 شہروں میں وینٹیلیرز کی سہولت موجود ہے۔

    مجموعی طور پر 2373 وینیلٹیرز دستیاب ہیں جس میں سے 704 کورونا مریضوں کے لیے مختص ہیں۔ وزارت صحت اسلام آباد کے مطابق اس وقت صرف 18 فیصد وینٹیلیٹرز استعمال ہورہے ہیں۔

  8. کورونا وائرس: کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ-19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    کیا آپ کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ بھی کورونا وائرس نشانہ بنا سکتا ہے؟ کچھ مریض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیمار کیوں ہیں؟ کیا یہ مرض ہر سردی میں واپس آئے گا؟ کیا ویکسین کارگر ثابت ہو گی؟ کیا امیونٹی پاسپورٹ کی مدد سے ہم میں سے کچھ لوگ کام پر واپس جا سکتے ہیں؟ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کن طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے؟

    دنیا میں کووڈ-19 کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد جہاں روز بروز بڑھ رہی ہے وہیں یہ سوالات بھی تواتر سے پوچھے جانے لگے ہیں۔

    ان تمام سوالات میں جو ایک چیز مشترک ہے وہ ہے امیون سسٹم یا مدافعتی نظام اور ہم اس بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔

  9. سویڈن: اب تک ہونے والی اموات میں سے نصف کیئر ہومز میں ہوئیں, میڈی سیویج، بی بی سی نیوز سٹاک ہوم

    سویڈش پبلک ہیلتھ ایجنسی سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں وائرس سے ہونے والی اموات میں سے تقریباً نصف تعداد کیئر ہومز میں ہوئی ہیں۔

    اس کے علاوہ ریاست کے فنڈ سے چلنے والے ادارے سٹیٹسٹکس سویڈن کے مطابق اپریل میں 10,458 اموات ہوئیں۔ یہ 1993 کے بعد کسی بھی مہینے میں ملک میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ 1993 میں ایک ماہ میں 11,057 اموات موسمی فلو کی وجہ سے ہوئی تھیں۔

    اس سے پہلے ایک ماہ میں سب سے زیادہ اموات 1918 میں ہسپانوی فلو کی وبا کے دوران ہوئی تھیں۔

  10. بریکنگ, خیبرپختونخوا میں 324 نئے مریض، مزید 11 اموات

    خیبر پختونخواہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ 324 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 53 کا تعلق بیرونی ممالک سے آنے والی مسافروں سے ہے۔

    محمکہ صحت خیبر پختونخواہ کے مطابق صوبے میں وائرس سے متاثرہ مزید 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں سے سات پشاور، دو ایبٹ آباد، ایک نوشہرہ اور ایک باجوڑ میں ہلاک ہوئے۔

    324 نئے مریض سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 6554 ہو گئی ہے۔

  11. بریکنگ, این ایچ ایس انگلینڈ کا مزید 174 ہلاکتوں کا اعلان

    این ایچ ایس انگلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مزید 174 اموات ہوئی ہیں، اس طرح انگلینڈ میں اب تک اس وائرس سے ہلاک ہونے والے تصدیق شدہ افراد کی کل تعداد 24 ہزار 913 ہو گئی ہے۔

    سکاٹ لینڈ میں وائرس سے مزید 29 افراد ہلاک ہو گئے۔ ویلز میں یہ تعداد 17 رہی جب کہ شمالی آئرلینڈ میں سات افراد ہلاک ہوئے۔

    یہ اعداد و شمار پورے برطانیہ کے اعداد و شمار سے مختلف ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ مختلف ٹائم فریم میں لیے جاتے ہیں اور برطانیہ میں اموات کی کل تعداد سبھی سیٹنگز کو ملا کر لی جاتی ہے۔

  12. ڈبلیو ایچ او کے رکن ممالک وائرس کے خلاف ردعمل کی تحقیقات پر متفق

    عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک نے وبا کے خلاف عالمی ردعمل کی آزادانہ تحقیقات کرانے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    اس سے متعلق قرارداد کو بغیر کسی مخالفت کے ڈبلیو ایچ او کے 194 ممالک نے منظور کیا ہے۔

    امریکہ وبا سے نمٹنے میں عالمی ادارہ صحت کے کردار پر سخت تنقید کرتا آیا ہے۔

    یہ قرارداد یورپی یونین نے 100 ممالک کی طرف سے پیش کی تھی۔

  13. بریکنگ, پاکستان: متاثرہ طبی عملے کی تعداد 1292 تک پہنچ گئی، ایک ہفتے میں 509 کا اضافہ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ طبی عملے کی تعداد 1292 تک پہنچ گئی ہے اور ایک ہفتے کے دوران متاثرین میں 509 کا اضافہ ہوا۔

    وزارت صحت اسلام آباد کے مطابق متاثرہ طبی عملے میں سے اب تک 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    گذشتہ ہفتہ کے دوران مصدقہ متاثرہ طبی عملے کی تعداد میں 509 اور ایک ہلاکت کا اضافہ ہوا ہے۔

    وزارت صحت اسلام آباد کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پانچ افراد متاثر ہیں جن میں ایک ڈاکٹر اور چار پیرا میڈیکس سٹاف شامل ہیں۔

    بلوچستان کے 199 متاثرین میں سے 138 ڈاکٹر، چار نرسنگ سٹاف اور 57 پیرامیڈیکس سٹاف شامل ہیں۔

    گلگت بلستان کے 37 متاثرین میں سے چار ڈاکٹر، دو نرسنگ سٹاف اور 31 پیڑامیڈیکس سٹاف شامل ہیں۔

    خیبر پختونخواہ کے 388 متاثرین میں 172ڈاکٹر، 63 نرسنگ سٹاف اور 153پیڑا میڈیکس سٹاف شامل ہیں۔

    پنجاب کے 235 متاثرین میں 77 ڈاکٹر، 81نرسنگ سٹاف اور 77پیرا میڈیکس سٹاف شامل ہیں۔

    سندھ کے 292 متاثرین میں 214 ڈاکٹر، 24 نرسنگ سٹاف اور 54 پیرا میڈیکس شامل ہیں۔

    اسلام آباد کے 136 متاثرین میں 55 ڈاکٹر، 41 نرسنگ سٹاف اور 40 پیرا میڈیکس سٹاف شامل ہیں۔

  14. کیا ٹرمپ گمراہ کر رہے ہیں یا پھر نئی راہ دکھا رہے ہیں؟, مشیل رابرٹس، ہیلتھ ایڈیٹر، بی بی سی نیوز آن لائن

    کیا میں وہ کھاؤں گی جو وہ کھا رہے ہیں۔ نہیں شکریہ۔ یا پھر ابھی نہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ملیریا کی دوائی ہائیڈروکسی کلوروکوین لے رہے ہیں، اگرچہ ماہرین نے کہا ہے کہ ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ یہ وائرس کے خلاف کام کر سکتی ہے بلکہ کچھ لوگوں میں تو اس کے مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

    کورونا وائرس کے علاج کے لیے موجودہ ادویات کا استعمال ایک اچھی بات ہے اور ایک بہتر خیال ہے (ٹرمپ کے اس خیال کے برعکس جس میں انھوں نے ڈس انفیکٹنٹ کو انجیکٹ کرنے یا جسم کو بہت سے زیادہ یو وی لائٹ سے گزارنے کی بات کی تھی۔)

    ہو سکتا ہے کہ یہ ہماری آخری امید ہو، کم از کم تھوڑے عرصے کے لیے، جب تک کوئی ویکسین نہیں مل جاتی۔

    برطانوی حکومت کچھ ادویات اکٹھی کر رہی ہے جنھیں کورونا وائرس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک 16 ایم ہائیڈروکسی کلوروکوین گولیاں بھی ہیں۔

    برطانیہ اور امریکہ میں اس کی افادیت جاننے کے لیے کلینیکل ٹرائل ہو رہے ہیں۔ ان ٹرائلز میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور مریض بھی شامل ہیں۔

    ماہرین اتفاق کرتے ہیں کہ ایسا کرنا ضروری ہے، لیکن ان کو یہ بھی تشویش ہے کہ ان ادویات کے عام استعمال کی تشہیر کسی ثبوت کے بغیر ٹھیک نہیں ہے۔

    لیڈز یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سٹیفن گرفن کہتے ہیں: ’جو لوگ صدر کی مثال اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ نہ صرف اپنے آپ کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، بلکہ وہ شدید آٹو امیون بیماریوں میں مبتلا افراد کو درکار بہت زیادہ ضروری ادویات بھی ختم کررہے ہیں۔‘

  15. لاک ڈاؤن ڈائری: کسی کی مدد کرو تو ساتھ ڈھول نہ بجاؤ

  16. بریکنگ, کورونا وائرس: سندھ میں ایک دن میں ریکارڈ 19 ہلاکتیں، 706 نئے مریض

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ منگل کو کورونا وائرس کے باعث ایک دن میں سب سے زیادہ 19 ہلاکتیں ہوئی۔ اس طرح اب سندھ میں مجموعی طور پر 299 اموات چکی ہیں جوکہ کورونا وائرس کے باعث جان بحق ہونے والے مریضوں کا 1.6 فیصد ہے۔

    منگل کو وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری اپنے بیان میں مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 19 مارچ سے 19 مئی تک پچھلے دو ماہ سے ہمیں دن میں اوسطا ًپانچ سے زیادہ اموات کا سامنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اموات کا تناسب کل مریضوں کا 1.6 فیصد ہے لیکن 61 دنوں میں 299 اموات ہوئی ہیں جو بہت تکلیف دہ ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس وقت 135 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور ان میں سے 34 کو وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے۔

    مراد علی شاہ نے 12906 مریضوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں سے 11373 یعنی 88 فیصد گھر وں میں آئسولیشن میں، قرنطینہ مراکز میں 819 اور مختلف ہسپتالوں میں 715 یعنی 5.7 فیصد ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انفیکشن سے 252 مزید مریض صحتیاب ہوئے ہیں اور اب تک صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 4741 ہوگئی ہے جوکہ 27 فیصد بحالی کا تناسب ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز 3803 نمونوں کی جانچ کی گئی جس میں 706 نئے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    انھوں نے کہا ’ایک طرف ہمارے 252 مریض صحتیاب ہوئے جبکہ مزید 706 مریض سامنے آئے جس کا مطلب ہے 252 مریضوں کو ڈسچارج کرنے کے باوجود 454 دیگر مریض داخل ہوئے۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحتیابی کی شرح انفیکشن کی شرح سے بہت کم ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر شخص ایس او پیز پر عمل کرے تو اس شرح پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 131376 نمونوں کی جانچ کی ہے جن میں سے 17947 مثبت کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا مجموعی طور پر ٹیسٹ کے مثبت کیسز کی مجموعی شرح 13.7 فیصد ہے جو دیگر ممالک کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 706 نئے متاثرین میں سے 558 کا تعلق کراچی سے ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق واشنگٹن، مسقط اور جدہ سے تین پروازیں بالترتیب 14، 15 اور 16 مئی کو 792 پھنسے پاکستانیوں کو کراچی لے کر آئیں۔ ان سب کا ٹیسٹ کیا گیا جس کے نتیجے میں ان میں سے 60 مریضوں میں وائرس کی تشخیص کی گئی جبکہ 17 مسافروں کے نتائج کا انتظار کیا جارہا ہے۔

  17. ہم کورونا وائرس ختم نہیں کر سکتے: ماہرین

    برطانیہ کے دارالامرا کو بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    یونیورسٹی آف گلاسگو کے وائرل جینومکس اینڈ بائیوانفارمیٹکس کے شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر رابرٹسن نے دارالامرا کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کو بتایا کہ کووڈ۔19 ایک بہت کامیاب وائرس ہے۔

    انھوں نے کہا: ’یہ اتنا زیادہ منتقل ہونے والا ہے، یہ اتنا کامیاب ہے، ہم اتنے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کہ حقیقت میں اس کے متعلق پریشان ہونا کہ یہ مزید خراب ہو جائے گا اس کے متعلق گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اس وقت مریضوں کی تعداد کے حوالے اس سے زیادہ برا نہیں ہو سکتا۔‘

    انھوں نے کورونا وائرس کا موازنہ ایبولا سے کیا، جس نے بہت سے متاثرین کو ہلاک کیا تھا لیکن اسے کنٹرول کرنا آسان تھا کیونکہ لوگوں نے اسے پھیلانا بند کر دیا تھا۔

    ’یہ وائرس اتنے زیادہ لوگوں کو بیماری کی علامات کے بغیر یا بہت ہی کم علامات کے ساتھ انفیکٹ کر رہا کہ یہ تقریباً بے قابو ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں ہمیں بالکل واضح طور پر تیار ہونا چاہیئے کہ ہم اس وائرس کو ختم نہیں کر سکتے۔ یہ انسانی آبادی میں رہے گا اور کئی سالوں کے بعد یہ ایک عام وائرس بن جائے گا۔‘

    ایسی بھی تنبیہہ کی گئی ہے کہ جن لوگوں کو کورونا وائرس ہوا ہے ان میں شاید اس کے خلاف مدافعت نہ پیدا ہو سکے۔

    لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے پروفیسر جان ایڈمنڈز کہتے ہیں کہ سارس سے بچ جانے والے متاثرین سے ملنے والی شہادتوں سے پتہ چلا تھا کہ وقت کے ساتھ مدافعت پیدا کرنے والی اینٹی باڈیز ختم ہو گئی تھیں۔

    ’سو یہ ہمارے لیے ایک ممکنہ بری خبر ہے کہ مدافعت وائرس کے خلاف زیادہ عرصے تک نہیں رہے گی۔‘

  18. حکومت ہوائی اڈوں کا نظام آؤٹ سورس کرنے پر غور کر رہی ہے، شبلی فراز

    وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈوں کو بین الاقوامی معیار تک لانے کے لیے حکومت ان کا انتظام آؤٹ سورس کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’آج ہوائی اڈے ایجنڈے میں شامل تھے۔ اجلاس کے دوران اپنے ہوائی اڈوں کو بین الاقوامی معیار تک لانے کے لیے ہم نے انھیں آؤٹ سورس کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا ’ہمیں بتایا گیا کہ کچھ لوگ دلچسپی رکھتے ہیں لیکن قانونی حوالے سے ہمیں ابھی متعدد چیزوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ لہذا اس حوالے سے قانونی ڈھانچے کو واضح کرنے کے لیے 30 جون کی آخری تاریخ ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے ملازمین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی نوکریوں کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

  19. انڈین اینکر کی ٹویٹ پر لوگوں نے زی نیوز کے خلاف محاذ کھول لیا

  20. کورونا وائرس: کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں؟

    پیر کو کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق ہونے والی فنڈنگ کانفرنس سے امریکہ اور روس غیر حاضر تھے جبکہ چین نے ویکسین کی تیاری اور علاج پر تحقیق کے لیے براہ راست مالی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز: امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکسین تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

    یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔