کبھی پیدل، کبھی سائیکل اور کبھی ٹرک پر سوار ہو کر
13 سالہ جیوتی اور ان کے والد نے انڈین ریاست ہریانا کے شہر گروگرام سے بہار کے دربھنگا
تک کا سفر طے کیا۔ جیوتی کے حوصلے کے قصے مقامی میڈیا میں نشر ہو رہے ہیں۔
جیوتی نے بتایا ’کھانے پینے کے لیے پیسے ختم ہوگئے تھے۔ کمرے
کا مالک بھی تین بار نکالنے کی دھمکی دے چکا تھا۔ وہاں مرنے سے اچھا تھا کہ ہم راستے
میں مرتے۔ اس لیے پاپا سے کہا کہ چلو سائیکل پر چلتے ہیں۔ پاپا راضی نہیں ہو رہے تھے
لیکن میں نے زبردستی کی۔‘
جیوتی اپنے والد موہن پاسوان کو سائیکل پر بٹھا کر گروگرام
سے دربھنگا کے سنگھواڑا ضلع میں اپنے گاؤں سرہُلیلے جانے میں کامیاب رہیں۔ بارہ سو کلومیٹر طویل سفر 13 سالہ بچی کے حوصلوں سے
ممکن ہو سکا۔
جیوتی کے والد گروگرام میں بیٹری والا رکشا چلاتے تھے۔ 26 جنوری
کو ان کے ساتھ ایک سڑک حادثہ پیش آیا تھا جس کے بعد جیوتی اور ان کے چار بھائی بہن
اپنی والدہ کے ساتھ گروگرام چلے گئے تھے۔
جیوتی کی والدہ پھولو دیوی گاؤں میں سرکاری ادارے ’آنگن واڑی‘
کے لیے کام کرتی ہیں اور دس دن کی چھٹی لے کر گرو گرام گئی تھیں۔ چھٹی ختم ہونے پر
وہ جیوتی کو والد کے پاس چھوڑ کر باقی بچوں کو اپنے ساتھ گاؤں واپس لے گئیں۔
پھولو دیوی نے بتایا کہ انہوں نے ساٹھ ہزار کا قرض لے کر موہن
پاسوان کا آپریشن کروایا تھا۔ ابھی وہ ٹھیک بھی نہیں ہو پائے تھے کہ لاک ڈاؤن ہو گیا۔
جیوتی نے بتایا کہ والد کو گاؤں لے جاتے وقت سفر کے دوران انہیں
ڈر نہیں لگا کیوں کہ اور بھی بہت سے لوگ سڑکوں پر تھے۔ رات کو وہ لوگ کسی پیٹرول پمپ
کے آس پاس رک جایا کرتے تھے اور اگلی صبح دوبارہ چلنا شروع کر دیتے تھے۔
انہوں نے کہا ’راستے میں لوگ ہمیں دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔
لیکن حیران ہو کر وہ بھی کیا کرتے اور ہم بھی کیا کر سکتے تھے۔‘
جیوتی کے والد گروگرام واپس جانے کے بارے میں پوچھنے پر کہتے
ہیں ’یہیں کام مل گیا، قرض مل گیا، تو گاڑی لے کر یہیں چلائیں گے اور اپنی بٹیا کے
پاس ہی رہیں گے۔‘