آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ ہونے والے ریکارڈ ایک لاکھ سے زیادہ متاثرین

دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر اور تین لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 47 ہزار کے قریب ہے جبکہ وائرس کے باعث ملک میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں عالمی ادارۂ صحت کو ریکارڈ ایک لاکھ چھ ہزار نئے مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. جنوبی کوریا کے سکولوں میں طلبہ کی واپسی, جولی یون، بی بی سی کوریئن

    جنوبی کوریا میں طلبہ پانچ ماہ کے غیرمعمولی وقفے کے بعد سکولوں کا رخ کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہائی سکول سینیئرز کو سکولوں میں بلایا گیا ہے۔

    اس پرمسرت موقع پر طلبہ کا استقبال تھرمل سکینرز سے کیا گیا۔ زیرِ ماسک مسکراتے طلبہ کو اساتذہ نے انوکھے انداز سے خوش آمدید کہا تو سمجھ آئی کہ یقیناً پانچ ماہ میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔

    چنگام ہائی سکول میں کلاس ٹیچر چو سنگ ین نے بی بی سی کو بتایا کہ ماسک پہن کر پڑھانا مشکل تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ماسک کے ساتھ سانس لینا جب آپ اونچی آواز میں پڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں یقیناً بہت مشکل تھا۔

    ’مجھے اپنے طلبہ کو پہچاننے میں بھی دشواری ہوئی کیونکہ وہ سب ایک جیسے ماسک پہنے بیٹھے تھے۔‘

    متعدد سکولوں میں میزوں کے بیچ میں فاصلہ رکھا گیا اور ان پر پلاسٹک کے خانے نصب کر دیے گئے۔

    کلاس کے اوقات اور کھانے کے اوقات بھی مختلف تھے تاکہ ایک وقت میں زیادہ طلبہ ایک جگہ نہ جمع ہوں۔

    تاہم چنگام سکول میں طلبہ کو ’غیرضروری بات چیت سے بھی اجتناب‘ کرنے کا کہا گیا تھا۔

    چو کے مطابق طلبہ نے پہلے روز بہت تعاون کیا۔ اساتذہ اور طلبہ دونوں ہی اس دن کے انتظار میں تھے اور جب انھوں نے ایک دوسرے کو آمنے سامنے دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے۔

    تاہم جنوبی کوریا میں منگل کے روز 32 نئے مریض بھی سامنے آئے تھے جس کے بعد خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اکثر سکولوں نے طلبہ کو دروازے سے ہی واپس بھیج دیا تھا۔

  2. بریکنگ, گذشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ میں ہزار سے زیادہ مریضوں کی تشخیص، مزید 17 اموات

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چھ ہزار سے زیادہ ٹیسٹس کیے گئے اور اس کے نتیجے میں کل 1017 مزید متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس سے قبل نو مئی کو 1080 مریضوں کی تشخیص ہوئی تھی جو کہ اب تک کا یومیہ ریکارڈ اضافہ ہے۔

    مراد علی شاہ نہ بتایا کہ کراچی میں بھی سب سے زیادہ 813 متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ اب تک کا ریکارڈ ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ صوبے میں 17 مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    ان ہلاکتوں کو مجموعی تعداد میں شامل کرنے کے بعد پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 1000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ ملک میں پہلی ہلاکت 18 مارچ کو ہوئی تھی۔

  3. برطانیہ کی کیمبرج یونی ورسٹی کا اگلے سال تک صرف آن لائن لیکچرز دینے کا فیصلہ

    برطانیہ کی معروف کیمبرج یونی ورسٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اگلے سال جون تک یونی ورسٹی میں کوئی کلاس نہیں ہوگی اور لیکچرز دینے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیا جائے گا۔

    یونی ورسٹی کے مطابق طلبہ کے لیے لیکچرز آن لائن موجود ہوں گے تاہم مزید یہ بھی کہا گیا کہ ’چھوٹے گروپس کو سامنے بٹھا کر لیکچر دیا جا سکتا ہے۔‘

    اس سے قبل برطانیہ کی ہی یونی ورسٹی آف مانچسٹر نے اسی نوعیت کا فیصلہ لیا تھا۔

    انگلینڈ میں کووڈ 19 کی وجہ سے تمام یونی ورسٹی بند ہیں اور تعلیمی اداروں کے نگراں ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ تمام جامعات اگلے سال آنے والے طلبہ کو واضح طور پر بتائیں کہ لیکچرز کیسے دیے جائیں گے۔

  4. سنگاپور کا پہلی جون سے جزوی لاک ڈاؤن میں خاتمہ کا اعلان, یویٹ ٹان، بی بی سی نیوز

    سنگاپور نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں لگے جزوی لاک ڈاؤن کا پہلی جون کو اختتام کر رہے ہیں لیکن عوام کی جانب سے اس حکم کی زیادہ پذیرائی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

    حکومتی احکامات کے مطابق عوام کو ابھی بھی خصوصی قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی ہوگی جن کو بتدریج تین مختلف فیز میں ختم کیا جائے گا۔

    دو جون سے شروع ہونے والے پہلے فیز میں کام کرنے والے افراد کو واپس اپنے دفاتر جانے کی اجازت دی جائے گی، لوگوں کو اپنے والدین سے ملنے کی بھی اجازت ملے گی اور سکول بھی آہستہ آہستہ کھولے جائیں گے۔

    دوسرے فیز میں کاروبار کو مکمل طور پر شروع کرنے اور مارکیٹ، جم وغیرہ کھولا جائے گا لیکن اس کے لیے کوئی تاریخ متعین نہیں کی گئی اور کہا گیا کہ یہ فیصلہ پہلے فیز کی کامیابی پر انحصار کرے گا۔

  5. بازار نہ جائیں گھر بیٹھے عید کے کپڑے بنائیں

    عید کی آمد آمد ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم عید پر نئے کپڑے نہ خریدیں؟

    تاہم کورونا سے بچاؤ کے لیے لیے گھر بیٹھنا بھی لازم ہے، تو ایسے میں عقل مندی اسی میں ہے کہ بازار جاکر عید کی خریداری کرنے کے بجائے آن لائن کپڑے خریدے اور سلوائے جائیں۔

    گھر بیٹھے آن لائن کپڑے کیسے سلوائیں، جانیے ہماری ساتھی ترہب اصغر اور فرقان الٰہی سے۔

  6. رخسانہ بنگش: آصف زرداری کی ’ناہید خان‘

  7. بریکنگ, روس میں ریکارڈ 135 اموات، آٹھ ہزار سے زائد نئے مریض

    روس میں گذشتہ روز کورونا وائرس کے باعث ریکارڈ 135 اموات سامنے آئی ہیں جس سے ملک میں ہلاکتوں کی کل تعداد 2972 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ روز ملک میں 8764 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد تین لاکھ آٹھ ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

    خیال رہے کہ روس میں اب سے کچھ دنوں پہلے تک متاثرین میں یومیہ 10 ہزار کا اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا جس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

  8. بلوچستان اسمبلی کا اجلاس شروع، کورونا سے بچاؤ کے لیے خصوصی انتظامات

    بلوچستان اسمبلی کا خصوصی اجلاس کرونا سمیت دیگر اہم ایشوز پر بحث کے لیے ڈپٹی اسپیکر بابر موسی خیل کی صدارت میں شروع ہوگیا ہے- یہ اجلاس حزب اختلاف کی خصوصی درخواست پر طلب کیا گیا۔

    اجلاس کا ایجنڈا کورونا وائرس کے بلوچستان میں تباہ کن اثرات ،بلوچستان میں ٹڈی دل کے حملے سے پہنچنے والا نقصان ، بلوچستان میں معاشی ، معاشرتی اور سماجی تنزلی اور میرٹ کی پامالی اور اپوزیشن کے حلقوں بے جا مداخلت پر مشتمل ہے ۔

    اجلاس میں اپنے خطاب میں قائد حزب اختلاف ملک اسکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ کورونا کے متاثرین کے سامنے آنے سے پہلے حزب اختلاف نے اسی کی سنگینی کے بارے میں حکومت کو احساس دلایا لیکن حکومت نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا جس کی وجہ سے نہ صرف کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے بلکہ اس سے لوگ مشکلات سے بھی دوچار ہیں

    اجلاس کے موقع پر کورونا سے بچائو کے ایس او پیز کو یقینی بنایا گیا ہے۔

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اس حوالے سے اسمبلی میں داخل ہوتے وقت ڈس انفیکشن گیٹ بھی لگایا ہے اور اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے سے قبل تھرمل گن سے اراکین اور ملازمین کا ٹیمپریچر بھی چیک کیا جا رہا ہے۔

  9. کیا پاکستان میں کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں جگہ ختم ہو سکتی ہے؟

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ 'اگر حفاظتی تدابیر نہ اختیار کی گئیں تو جولائی کے وسط تک پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔'

    اس کے بعد ان میں اضافہ ہو گا یا کمی واقعہ ہو گی وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔

    تو پاکستان کے ہسپتالوں کے پاس کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے کتنی گنجائش ہے اور صورتحال خراب کب ہو سکتی ہے؟

  10. جنوبی امریکہ کورونا وائرس کی نئی آماجگاہ

    گذشتہ کئی دنوں سے برازیل میں یومیہ اموات میں تیزی سے اضافہ شہ سرخیوں کا حصہ رہا ہے۔

    چین، یورپ اور امریکہ کے بعد اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی امریکہ میں اس وائرس کو نئی آماجگاہ مل گئی ہے جہاں یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    برازیل اس خطے میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور یہاں گذشتہ روز ریکارڈ 1179 اموات ہوئیں جس کے بعد ملک میں اموات کی کل تعداد 18 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔

    وینزویلا میں ایک نوجوان اپنے گھر کی چھت پر کراٹے کی مشق کر رہے ہیں۔ ملک میں اب تک صرف 600 کے قریب کیسز سامنے آئے ہیں تاہم لاک ڈاؤن کے باعث معاشی بحران میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    آرجینٹینا میں اب تک نو ہزار کے قریب کورونا وائرس متاثرین ہیں اور یہاں ہمسایہ ملک برازیل سے بہتر صورتحال ہے۔ تاہم طبی ماہرین بدترین صوررتحال کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

    چلی میں اب تک 50 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 500 اموات ہو چکی ہیں۔ منگل کے روز فوجیوں اور پولیس کا خوراک کی قلت اور بے روزگاری کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے درمیان تصادم بھی ہوا۔

  11. کورونا وائرس: چین کے شمال مشرقی صوبے میں پانچ نئے مریض

    بدھ کے روز چین کے شمال مشرقی صوبے جلین میں چار مقامی منتقلی کے کیس جبکہ ایک صوبے کے باہر سے آنے والا فرد متاثر ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 82965 ہو گئی ہے۔

    رواں ماہ کے آغاز میں شولان شہر میں ایک متاثرہ دھوبی مزید 11 افراد میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بنا۔

    شولان کو ایک آفت زدہ علاقہ قرار دیا گیا تھا اور یہاں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا جا چکا ہے جبکہ تمام ٹرانسپورٹ بھی بند کر دی گئی ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق جلین صوبے میں اب تک مقامی منتقلی کے 133 مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔

    یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ صوبہ اب ملک میں وائرس کے پھیلاؤ کا دوسرا بڑا گڑھ ثابت ہو سکتا ہے۔

  12. وزیر اعظم عمران خان آج ٹیلی ہیلتھ پورٹل کا اجرا کریں گے

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بدھ کو ملک میں ٹیلی ہیلتھ پورٹل کا اجرا کریں گے۔

    ٹیلی ہیلتھ پورٹل کے قیام کا مقصد کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ڈاکٹروں اور مریضوں کو غیر ضروری ملاقات سے بچاتے ہوئے ان کے درمیان موثر رابطے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ڈاکٹر اور مریض دونوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اس سہولت کی بدولت ڈاکٹر حضرات کو یہ سہولت میسر آئے گی کہ وہ اس پلیٹ فارم پر رضاکارانہ طور پر اپنا اندراج کرائیں اور مریضوں کو بلامعاوضہ تشخیص و علاج تجویز کر سکیں اور اس کی بدولت شہری کوویڈ 19 سے متعلقہ سوالات اور ڈاکٹر سے بذریعہ فون بھی رابطے میں رہ سکیں گے۔

  13. کورونا وائرس: کووِڈ 19 کے علاج کے لیے ویکسین کب تک بن جائے گی؟

    اگرچہ دنیا بھر میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ کووڈ 19 کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں مگر ابھی تک ایسی کوئی دوا سامنے نہیں آئی ہے جو اس بیماری کا علاج کرنے میں ڈاکٹروں کی مدد کر سکے۔

    تو فی الحال ہم کورونا وائرس کے علاج کی دوا کی تیاری سے کتنا دور ہیں؟

  14. ’قسم کھائی ہے، کبھی دلی واپس نہیں جائیں گے‘

  15. نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا ہفتے میں چار دن کام کرنے کی تجویز

    نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے فیس بک پر ایک ویڈیو چیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا کہ اب جب کہ ملک میں لاک ڈاؤن کا خاتمہ ہو چکا ہے تو ہفتے میں پانچ دن کے بجائے چار دن کام کیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر تین روز کی چھٹی ملے گی تو اس کی بدولت شہریوں کو ایک ایسے وقت پر ملک گھومنے کا زیادہ مواقع ملیں گے اور معیشت پر مثبت اثرات آئیں گے جب نیوزی لینڈ نے اپنی بین الاقوامی سرحدیں بند کی ہوئی ہیں۔

    انھوں نے گفتگو میں کہا: ’میں نے کئی لوگوں کا مشورہ سنا کہ وہ ہفتے میں چار دن کام کرنے کا کہہ رہے تھے۔ میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ کمپنیز اور ان کے عملے کے درمیان ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گی کہ ہم نے کووڈ کے دوران انسانی رویوں اور کام کرنے کے اعتبار سے بہت کچھ سیکھا ہے کہ لوگ گھر سے بھی رہتے ہوئے موثر طریقے سے اپنا کام کر سکتے ہیں۔ میں ان لوگوں کو جو کاروبار چلاتے ہیں، اس بات پر ضرورت غور کریں کہ کیا چار دن کام کرنا چاہیے۔‘

    کیوی وزیر اعظم کی دنیا بھر میں کووڈ 19 کے خلاف موثر اقدامات لینے پر تعریف ہوئی ہے۔ پچاس لاکھ آبادی پر مشتمل ملک میں صرف 21 اموات ہوئی ہیں اور حال میں کیے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ ایک صدی کے دوران وہ ملک کی سب سے مقبول رہنما ہیں۔

  16. بریکنگ, پاکستان تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی شاہین رضا کووڈ 19 کے باعث انتقال کر گئیں

    پاکستان تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی شاہین رضا کووڈ 19 کا شکار ہوکر انتقال کر گئیں۔

    گوجرانوالہ سے پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشست پر رکن اسمبلی بننے والی شاہین رضا کو رواں ہفتے گوجرانوالہ سے لاہور منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ میو ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے شاہین رضا کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کی۔

    شاہین رضا پاکستان میں پہلی سیاستدان ہیں جن کا کووڈ 19 کے باعث انتقال ہوا ہے۔

    پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری بھی کووڈ 19 میں مبتلا ہیں اور قرنطینہ میں ہیں۔

  17. نینسی پیلوسی پر ٹرمپ کو ’موٹاپے‘ کی بنیاد پر تضحیک کا نشانہ بنانے کا الزام

    امریکہ کی ڈیموکریٹ پارٹی کی رکن نینسی پیلوسی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو موٹاپے کے باعث تضحیک کا نشانہ بنایا اور انھیں ’موربڈلی اوبیس‘ یعنی حد سے زیادہ موٹاپے کا شکار کہا۔

    جب ان سے پیر کی شب ایک نجی ٹی وی چینل سی این این پر صدر ٹرمپ کے ایک بیان پر ردِ عمل مانگا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ چاہیں گی کہ صدر ٹرمپ ایسی کوئی دوا نہ لیں جسے ابھی تک سائنسدانوں کی جانب سے منظوری نہیں ملی۔

    امریکی کانگریس کی سپیکر دراصل ٹرمپ کے اس بیان کے بارے میں بات کر رہی تھیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ ہائیڈروکسی کلوروکوئین کووڈ 19 سے بچاؤ کی غرض سے کھا رہے ہیں۔

    ’خاص طور پر جس عمر کے حصے میں وہ ہیں یا شاید ان کا جو وزن کا درجہ ہے جسے موربڈلی اوبیس یعنی ایک حد سے زیادہ موٹاپے کا شکار ہونا کہا جاتا ہے۔‘

    خیال رہے کہ اس حوالے سے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ اس دوا کے باعث وائرس سے بچاؤ ممکن ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے دل کی بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ پیلوسی کا ’موٹاپے کا شکار افراد کے لیے نفرت آمیز بیان‘ نے اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دی۔

  18. بریکنگ, سخت لاک ڈاؤن کے باوجود انڈیا میں ایک دن میں ریکارڈ 5200 نئے مریض

    انڈیا میں میں منگل کے روز 5200 نئے مریض سامنے آئے جو ایک دن میں ملک میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہے۔

    اب تک انڈیا میں ایک لاکھ چھ ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    متاثرین کی تعداد میں یہ اضافہ اس لیے بھی پریشان کن ہے کیونکہ انڈیا میں دنیا کا سخت ترین لاک ڈاؤن کیا گیا ہے اور ضروری سروسز، طبی مراکز اور کھانے پینے کی جگہوں کے علاوہ تمام چیزیں بند کر دی گئی ہیں۔

    جہاں یورپی ممالک میں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد میں عروج پہلے ہی آ چکا ہے وہیں ماہرین کا ماننا ہے کہ انڈیا میں ابھی یہ آنا باقی ہے۔

    آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا کا کہنا ہے کہ کیسز جون اور جولائی میں سب سے زیادہ ہوں گے کیونکہ یہ نزلے زکام کا بھی سیزن ہے۔

    تاہم متعدی امراض کے چند ماہرین کا ماننا ہے کہ متاثرین میں عروج میں ریاست سے ریاست فرق ہو گا کیونکہ بیماری کا پھیلاؤ ہر ریاست میں مختلف رہا ہے۔

    مثال کے طور پر ریاست مہاراشٹر میں انڈیا کے مجموعی کیسز کا 40 فیصد موجود ہیں جبکہ اگر ریاست گجرات کو بھی ملا لیا جائے تو یہ شرح 70 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

  19. بریکنگ, کورونا وائرس کی وجہ سے چھ کروڑ افراد ’شدید غربت‘ کا شکار ہو سکتے ہیں: عالمی بینک

    ورلڈ بینک کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں چھ کروڑ افراد ’شدید غربت‘ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور خدشہ ہے کہ اس سال کے اختتام تک عالمی معیشت کے حجم میں پانچ فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔

    دنیا بھر کے مختلف ممالک میں پہلے ہی بے روزگاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور لاکھوں افراد کی نوکریاں ختم ہو گئی ہیں اور غریب ممالک کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ’ہمیں خدشہ ہے کہ چھ کروڑ افراد شدید غربت کا شکار ہو سکتے ہیں اور یہ گذشتہ تین سال کی ساری محنت پر پانی پھیر دے گا۔‘

    عالمی بینک کے مطابق ’شدید غربت‘ کا درجہ ان افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو یومیہ دو ڈالر سے کم کی آمدنی پر رہتے ہیں۔

  20. انڈیا میں ’سماجی دوری والی موٹر سائیکل‘ تیار