جنوبی کوریا کے سکولوں میں طلبہ کی واپسی, جولی یون، بی بی سی کوریئن
جنوبی کوریا میں طلبہ پانچ ماہ کے غیرمعمولی وقفے کے بعد سکولوں کا رخ کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہائی سکول سینیئرز کو سکولوں میں بلایا گیا ہے۔
اس پرمسرت موقع پر طلبہ کا استقبال تھرمل سکینرز سے کیا گیا۔ زیرِ ماسک مسکراتے طلبہ کو اساتذہ نے انوکھے انداز سے خوش آمدید کہا تو سمجھ آئی کہ یقیناً پانچ ماہ میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔
چنگام ہائی سکول میں کلاس ٹیچر چو سنگ ین نے بی بی سی کو بتایا کہ ماسک پہن کر پڑھانا مشکل تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’ماسک کے ساتھ سانس لینا جب آپ اونچی آواز میں پڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں یقیناً بہت مشکل تھا۔
’مجھے اپنے طلبہ کو پہچاننے میں بھی دشواری ہوئی کیونکہ وہ سب ایک جیسے ماسک پہنے بیٹھے تھے۔‘
متعدد سکولوں میں میزوں کے بیچ میں فاصلہ رکھا گیا اور ان پر پلاسٹک کے خانے نصب کر دیے گئے۔
کلاس کے اوقات اور کھانے کے اوقات بھی مختلف تھے تاکہ ایک وقت میں زیادہ طلبہ ایک جگہ نہ جمع ہوں۔
تاہم چنگام سکول میں طلبہ کو ’غیرضروری بات چیت سے بھی اجتناب‘ کرنے کا کہا گیا تھا۔
چو کے مطابق طلبہ نے پہلے روز بہت تعاون کیا۔ اساتذہ اور طلبہ دونوں ہی اس دن کے انتظار میں تھے اور جب انھوں نے ایک دوسرے کو آمنے سامنے دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے۔
تاہم جنوبی کوریا میں منگل کے روز 32 نئے مریض بھی سامنے آئے تھے جس کے بعد خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اکثر سکولوں نے طلبہ کو دروازے سے ہی واپس بھیج دیا تھا۔