آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ ہونے والے ریکارڈ ایک لاکھ سے زیادہ متاثرین

دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر اور تین لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 47 ہزار کے قریب ہے جبکہ وائرس کے باعث ملک میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں عالمی ادارۂ صحت کو ریکارڈ ایک لاکھ چھ ہزار نئے مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ووہان وائرس ڈائری: چین میں ایوارڈ یافتہ مصنف کے خلاف غصہ کیوں پایا جاتا ہے؟

    ووہان میں ایک ایوارڈ یافتہ چینی مصنف کی وائرس ڈائری، جس میں انھوں نے ووہان میں، جہاں گذشتہ سال سب سے پہلے کورونا وائرس کی وبا پھوٹی تھی، اپنے ذاتی تجربات تحریر کیے ہیں کا اب انگریزی میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

    اپنی ڈائری میں۔ فینگ فانگ نے آئسولیشن میں گزرے دنوں کے بارے میں ہر پہلو سے لکھا کہ اس دوران زندگی کیسی تھی اور اس سب سے نفسیاتی اثرات کیا مرتب ہوئے۔

    وہ سرکاری میڈیا کے متبادل آواز کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ چین میں بہت سے لوگ ان کی ڈائری پڑھنے کے لیے بے تاب ہیں مگر جب یہ معلوم ہوا کہ ان کی کتاب میں ایک امریکی پبلشر کے خیالات بھی شامل ہیں اس سے چین میں ان کے خلاف رائے عامہ پیدا ہوئی ہے۔

    اب انھیں سچ کے پیامبر کے بجائے ایک غدار کے روپ میں دیکھا جا رہا ہے کہ کیسے ایک خاتون اپنی شہرت کی خاطر یہ سب کر رہی ہے جو کہ ممکنہ طور پر ایک المیہ ہے۔

    ایک صارف نے سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر لکھا کہ وہ قومی بحران سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ کیا یہ 'قابل فہم‘ ہے؟

  2. پاکستان: کورونا وائرس کی صورتحال پر وفاقی کابینہ کا اجلاس آج

    پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہو گا۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال پر بحث ہو گی۔

    اجلاس میں پابندیوں میں نرمی کے بعد ملک میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

  3. کورونا وائرس: فرانس کی عدالت نے مذہبی اجتماعات پر پابندی ختم کرنے کا حکم دے دیا

    فرانس کی ایک انتظامی عدالت نے حکومت سے ہر صورت آٹھ دن کے اندر عبادت گاہوں میں ہر طرح کے اجتماعات پر عائد سخت پابندی ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر حکومت کی طرف سے مذہبی اجتماعات سے متعلق یہ پابندی عائد کی گئی تھی۔

    کونسل آف سٹیٹ کے مطابق یہ پابندی غیر متناسب نوعیت کی ہے جس سے سخت نقصان ہوا اور یہ ایک غیر قانونی اقدام ہے۔

    خیال رہے کہ فرانس میں اس وائرس سے اب تک 28 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے فرانس کی حکومت نے عبادت گاہوں میں ہر طرح کے اجتماعات پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔ صرف جنازوں میں 20 تک لوگوں کو جمع ہونے کی اجازت ہے۔

    واضح رہے کہ عدالت نے عبادت گاہوں کو مکمل طور پر کھولنے کا حکم نہیں دیا ہے۔

    فرانس کی عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ان عبادت گاہوں میں دس تک لوگ اکھٹے ہو سکتے ہیں اور یہ کہ صحت عامہ کے تحفظ سے متعلق حکومتی پابندی غیر متناسب تھی۔

  4. کورونا بمقابلہ ارطغرل

  5. کورونا وائرس: صدر ٹرمپ کے عالمی ادارۂ صحت پر الزامات کی حقیقت کیا ہے؟

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کے چین میں سامنے آنے کے بعد اس سے نمٹنے میں بدانتظامی کا ثبوت دیا اور اس کے پھیلاؤ کو پوشیدہ رکھنے میں مدد کی تھی۔

    انھوں نے اب سے کچھ دیر قبل عالمی ادارہ صحت کو چین کی کٹھ پتلی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ہمیشہ سے ہمیں غلط مشورے دیے۔

    لیکن ڈبلیو ایچ او نے وبا کے شروع کے مراحل میں اس سے نمٹنے کے اپنے طریقے کا دفاع کیا ہے۔

    بی بی سی نے صدر ٹرمپ کے ڈبلیو ایچ او پر لگائے جانے والے کچھ الزامات کا جائزہ لیا ہے۔

  6. بریکنگ, کورونا وائرس: اسلام آباد میں مزید دو اموات، کل متاثرین 1000 سے تجاوز کر گئے

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں متاثرین کی کل تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    گذشتہ روز شہر میں ایک روز میں سب سے زیادہ دو اموات سامنے آنے کے بعد کل ہلاکتیں نو ہو گئی ہیں۔

    اب تک دارالحکومت میں 113 افراد اس مرض سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

  7. بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان میں ایک دن میں 1841 نئے مریض، مزید 36 اموات, پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 43983 | اموات: 939 | صحتیاب: 12489

    کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1841 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرین کی کل تعداد 44 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔

    18 مئی کو ملک میں مزید 36 ہلاکتوں کے بعد یہاں اموات کی کل تعداد 939 ہو گئی ہے۔

    اب تک ملک میں صحتیاب افراد کی تعداد 12489 ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کورونا متاثرین کی کل تعداد 115 ہے تاہم صحافی ایم اے جرال کے مطابق یہ گذشتہ روز 20 نئے متاثرین کے سامنے آنے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 132 ہو گئی تھی۔

  8. کورونا: آسٹریلیا میں اموات کی تعداد 100 ہو گئی

    آسٹریلیا کے قومی نشریاتی ادارے کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 100 ہو گئی ہے۔

    کورونا کا تازہ ترین شکار ایک 93 برس کی ایک خاتون تھیں جو سڈنی کے ایک کیئر ہوم میں رہائش پذیر تھیں۔ اس کیئر ہوم میں اب تک 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بہت سے دوسری مغربی ممالک کے برعکس آسٹریلیا میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کافی حد تک کم ہیں اور اب تک تقریباً سات ہزار افراد میں ہی اس کی تشخیص ہوئی ہے۔

  9. بریکنگ, ڈونلڈ ٹرمپ: عالمی ادارہ صحت چین کی ایک ’کٹھ پتلی‘ ہے

    پیر کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت پر تنقید کرتے ہوئے اسے چین کی ’کٹھ پتلی‘ قرار دیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ وہ امریکہ کی جانب سے ادارے کو دیے جانے والے فنڈز کم یا ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

    انھوں نے وائٹ ہاؤس میں کہا: ’وہ چین کی کٹھ پتلی ہیں، ان کی ساری توجہ چین پر ہے تاکہ اسے اچھا دکھایا جا سکے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ہر برس عالمی ادارہ صحت کو 450 ملین ڈالر کی امداد دیتا ہے، جو کسی بھی ملک کی طرف سے سب سے زیادہ امداد ہے۔ اس امداد کو کم کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے کیونکہ ’ہمارے ساتھ صحیح سلوک نہیں کیا گیا۔‘

    امریکی صدر نے کہا ’انھوں (عالمی ادارہ صحت) نے ہمیں بہت زیادہ برے مشورے دیے۔‘

  10. ’کھانے پینے کو جب کچھ نہیں تو اب کیا کریں‘

    انڈیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کو مختلف علاقوں میں نقل و حرکت کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔

    صرف مخصوص راستوں پر ٹرانسپورٹ کی سہولیات ہونے کی وجہ سے مزدور اب اپنے اپنے علاقوں کی طرف پیدل چل پڑے ہیں۔

  11. سائیکل چلانے والی خواتین ہراسانی سے کیسے بچ سکتی ہیں؟

  12. آئی ایم ایف: ’اس بحران سے پوری طرح نکلنے میں زیادہ وقت لگے گا‘

    عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سربراہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والے نقصان کے بعد عالمی معیشیت کو مکمل طور پر سنبھلنے میں کافی زیادہ وقت لگے گا۔

    خبر رساس ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مینجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف کرسٹالینا جیورجیوا نے کہا کہ دنیا بھر سے ملنے والے اعدادوشمار توقع سے زیادہ بدتر تھے۔

    انھوں نے کہا: ’ظاہر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس بحران سے پوری طرح نکلنے میں زیادہ وقت لگے گا۔‘

  13. کورونا: پانچ لاکھ افراد نے خود کُشی سے بچنے کے لیے مدد حاصل کی

  14. ڈونلڈ ٹرمپ: ’کورونا سے بچاؤ کے لیے ہائیڈروکسی کولورکوئین استعمال کر رہا ہوں‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کورونا سے بچاؤ کے لیے ہائیڈروکسی کولورکوئین کا استعمال کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ اس سے قبل ملیریا کی دوا سے کورونا وائرس کے علاج کے بارے میں بھی بیان دے چکے ہیں لیکن اس کے بہت ہی کم سائنسی شواہد موجود ہیں کہ اس دوا سے کووڈ 19 کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

    پیر کے روز امریکی صدر نے صحافیوں سے کہا: ’میں تقریباً ڈیڑھ ہفتے سے اس کا استعمال کر رہا ہوں اور میں ابھی بھی یہاں ہوں، میں ابھی بھی یہاں ہوں۔‘

  15. بریکنگ, امریکہ میں اموات 90 ہزار سے بڑھ گئیں

    امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات 90 ہزار سے تجاوز کر گئیں ہیں۔

    امریکہ میں اموات کی تعداد 90312 ہے جو کہ اس وقت کسی بھی ملک میں ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

    امریکہ کے بعد سب سے زیادہ 34,876 اموات برطانیہ میں ہوئی ہیں جبکہ اٹلی میں ہونے والی اموات کی تعداد 32,007 ہے۔

  16. عمران خان: ’کورونا ریلیف فنڈ کو ان افراد کے لیے مختص کیا جو بے روزگار ہو گئے ہیں‘

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کورونا ریلیف فنڈ ان مستحق افراد کے لیے مختص کیا ہے جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ ہر ایک روپیہ عطیہ کرنے پر حکومت کی جانب سے 4 روپے فنڈ میں شامل کیے جائیں گے۔

  17. جنوبی سوڈان کے نائب صدر میں کورونا وائرس کی تشخیص

    جنوبی سوڈان کے نائب صدر ریک مچار اور ان کی اہلیہ اینجلینا ٹینی جو ملک کی وزیر دفاع بھی ہیں، میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    حکومت کی کووڈ 19 ٹاسک فورس کے ایک رکن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد ریک مچار کا 13 مئی کو ٹیسٹ کیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان میں کوئی علامات نہیں اور وہ آئندہ 14 روز کے لیے خود ساختہ تنہائی اختیار کر لیں گے۔

    مچار کے متعدد محافظوں اور عملے کے افراد میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

    جنوبی سوڈان میں اب تک کورونا کے 236 کیس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جبکہ 4 اموات بھی ہوئی ہیں۔

  18. فرانس اور جرمنی کی 500 ارب یورو کے بحالی فنڈ کی تجویز

    فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے یورپی ممالک کی مدد کے لیے 500 ارب یورو کے بحالی فنڈ کی تجویز دی ہے۔

    یہ یورپی یونین کے موجودہ طریقہ کار کے ذریعہ یکم جون سے جاری ہونے والے 540 ارب یورو کے قرض پیکج کے علاوہ ہو گا۔

    یہ نیا فنڈ شروع کرنے کے لیے ابھی بھی تمام 27 ممبر ممالک کی منظوری درکار ہے۔

    اس کا اعلان فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں اور جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے ایک مشترکہ ویڈیو کانفرنس میں کیا۔

    موجودہ معاشی بحران کو یورپی یونین کے آج تک کے بدترین بحران کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  19. کورونا وائرس: کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں؟

    یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔

    یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

    لیکن اس بارے میں پہلے ہی خدشات موجود ہیں کہ امیر ممالک ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں۔

  20. سیکسپیئر گلوب تھیئٹر کا بند ہونا ’سانحہ‘ ہو گا

    لندن کے معروف شیکسپیئر گلوب تھییٹر کو دیوالیہ ہو کر بند ہونے کا خطرہ درپیش ہے۔

    اراکین پارلیمان نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے۔

    ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اینڈ سپورٹ کمیٹی نے سیکریٹری کلچر اولیور ڈوڈین کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ ’الزبیتھین (برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اوّل) کے دور کے ازسر نو تعمیر کردہ تھیئٹر کا بند ہونا ایک سانحہ ہوگا‘۔

    تھیئٹر کا کہنا ہے کہ ’1997 میں کھلنے کے بعد وبا وہ سب سے بڑا خطرہ ہے جس سے اس کے مستقبل کو خطرہ درپیش پوا ہے‘۔

    اراکین پارلیمان نے حکومت سے کہا ہے کہ دوسرے تھیئٹروں کو بھی خطرہ ہے اور اسے لاک ڈاؤن کے نتائج سے نمٹنے کے لیے ان کی مزید مالی مدد کرنی چاہیے تاکہ ’ہمارے متموّل ماضی اور ثقافت‘ کو بچایا جا سکے۔