ووہان وائرس ڈائری: چین میں ایوارڈ یافتہ مصنف کے خلاف غصہ کیوں پایا جاتا ہے؟
ووہان میں ایک ایوارڈ یافتہ چینی مصنف کی وائرس ڈائری، جس میں انھوں نے ووہان میں، جہاں گذشتہ سال سب سے پہلے کورونا وائرس کی وبا پھوٹی تھی، اپنے ذاتی تجربات تحریر کیے ہیں کا اب انگریزی میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
اپنی ڈائری میں۔ فینگ فانگ نے آئسولیشن میں گزرے دنوں کے بارے میں ہر پہلو سے لکھا کہ اس دوران زندگی کیسی تھی اور اس سب سے نفسیاتی اثرات کیا مرتب ہوئے۔
وہ سرکاری میڈیا کے متبادل آواز کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ چین میں بہت سے لوگ ان کی ڈائری پڑھنے کے لیے بے تاب ہیں مگر جب یہ معلوم ہوا کہ ان کی کتاب میں ایک امریکی پبلشر کے خیالات بھی شامل ہیں اس سے چین میں ان کے خلاف رائے عامہ پیدا ہوئی ہے۔
اب انھیں سچ کے پیامبر کے بجائے ایک غدار کے روپ میں دیکھا جا رہا ہے کہ کیسے ایک خاتون اپنی شہرت کی خاطر یہ سب کر رہی ہے جو کہ ممکنہ طور پر ایک المیہ ہے۔
ایک صارف نے سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر لکھا کہ وہ قومی بحران سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ کیا یہ 'قابل فہم‘ ہے؟