آسٹریلیا اور چین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا سلسلہ ابھی
بھی جاری ہے اور اس بار یہ اختلافات گائے کے گوشت پر ہیں۔
سلسلہ کچھ یوں ہے کہ گذشتہ ماہ آسٹریلیا نے امریکہ کا
موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کورونا وائرس کے آغاز اور پھیلاؤ میں چین کے
کردار پر عالمی طور پر تحقیقات کی جائیں۔
اس پر چین کی جانب سے سخت رد عمل دیکھنے میں آیا اور
آسٹریلیا میں چینی سفیر نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ چینی عوام آسٹریلین مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں۔
واضح رہے کہ چین آسٹریلیا کا سب سے
بڑا تجارتی ساتھی ہے اور اس کی ایک تہائی سے زیادہ مصنوعات کی فروخت چین کو ہوتی
ہے۔
اس تناظر میں چینی سفیر کا بیان
آسٹریلیا میں ایک دھمکی کے طور پر لیا گیا۔
اور اس کے بعد گذشتہ روز چین نے
عارضی طور پر آسٹریلیا سے گائے کا گوشت برآمد کرنے پر عارضی پابندی لاگو کر دی اور
اس کی وجہ دی کہ گوشت پر لیبل غلط لگا ہوا تھا۔
دونوں ممالک کی جانب سے کہا گیا ہے
کہ یہ فیصلہ سیاسی نہیں ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات صرف اس وقت سر
اٹھاتے ہیں جب سفارتی طور پر کوئی کشیدگی چل رہی ہوتی ہے۔