آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: اسرائیلی حکام کا اپنے شہریوں پر جاسوسی کے آلات کا استعمال
- مصنف, ٹام بیٹ مین
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، مشرقِ وسطیٰ
- وقت اشاعت
ہرش کوتکووسکی نے اپنا فون میری طرف بڑھایا لیکن میں سماجی دوری کے قواعد کی پابندی کی وجہ سے دو میٹر کے فاصلے سے سکرین نہیں پڑھ سکا۔
ہم ان کے یروشلم کے اپارٹمنٹ بلاک میں بم سے پناہ کے لیے بنائے جانے والے حصے میں ہیں جو کہ وہ واحد جگہ ہے جہاں وہ لاک ڈاؤن میں اپنے فوٹوگرافی سٹوڈیو کے بند ہونے کے بعد سے اپنا کام کر رہے ہیں۔
انھوں نے اسرائیلی حکومت کے پیغام کو پڑھتے ہوئے کہا کہ 'میں صدمے میں ہوں۔ یہ مجھے بتا رہا ہے کہ میں اس شخص کے پڑوس میں رہ رہا ہوں جسے کورونا ہے۔۔۔ اور یہ کہ مجھے قرنطینہ میں جانا پڑے گا۔'
انھوں نے مارچ کے آخر میں آنے والے اس حکم کی تعمیل کی اور ایک شادی کے منافع بخش شوٹ کو منسوخ کر دیا اور اپنی اہلیہ اور چار چھوٹے بچوں سے خود کو علیحدہ کر لیا حالانکہ ان میں اس مرض کی کوئی علامت نہیں تھی۔
کوتکووسکی ان ہزاروں اسرائیلیوں میں سے ایک ہیں جنھیں اسی طرح کے پیغامات کے ذریعے ہوشیار کیا گیا تھا۔ کورونا وائرس پر قابو پانے کی لڑائی میں اسرائیل کی داخلہ سکیورٹی ایجنسی شن بیٹ کو لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اپنے خفیہ نظام کے استعمال کا اختیار دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشرق وسطیٰ کی سائبر سپر پاور اسرائیل نے کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے نگرانی کی ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا ہے جبکہ دنیا بھر کے ممالک پرائیویسی اور انفیکشن کی مانیٹرنگ کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔
شن بیٹ لاکھوں موبائل فون صارفین کے مقام کے اعداد و شمار تک رسائی حاصل کرسکتی ہے تاکہ ان لوگوں کا سراغ لگائیں جو تصدیق شدہ مریضوں کے قریب ہیں۔ اسرائیل اپنے اس نظام کو انفیکشن کی شرح کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر کاموں کے لیے سراہتا ہے۔
ہر روز رپورٹ ہونے والے نئے کیسز کی تعداد اب دو ہندسوں تک محدود ہو گئی ہے۔ اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد بھی نسبتاً کم رہی ہے اور یہ اس تحریر کو لکھتے وقت 252 تھی۔
بہت سی دکانیں دوبارہ کھل گئیں ہیں اور کچھ سکولوں میں دوبارہ کلاسز شروع ہو چکی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انفیکشن کی پہلی لہر گزر رہی ہے۔
قومی سلامتی کے مشیر میر بین شبات نے گذشتہ ہفتے پارلیمانی نگرانی کمیٹی کے سامنے کہا ’یہ وہی وقت ہے جب ہمیں اس آلے کی ضرورت ہے۔۔۔ تاکہ متعدی بیماری کا سلسلہ توڑا جائے اور لوگوں کو اپنے روز مرہ کے کام کاج پر جانے دیا جائے۔‘
لیکن شن بیٹ کے اختیارات کی غیرمعمولی توسیع تنازع کا باعث بنی ہوئی ہے اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گيا ہے جبکہ اس کی درستگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سے کورونا وائرس کی جانچ پڑتال میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
فی الحال یہ ادارہ صحت عامہ کے نفاذ کے ایک ذریعے کے طور پر کام کررہا ہے لیکن عام طور پر اسے اسرائیلیوں کے خلاف حملوں کی روک تھام کا کام سونپا جاتا رہا ہے اور یہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی معمول کی نگرانی کرتا رہا ہے۔
انسداد دہشت گردی کے طریقے
تل ابیب کی گرم فضا میں ایریک بریبنگ اپنا سرجیکل ماسک اپنی ٹھوڑی کے نیچے کھسکاتے ہیں اور سانس لیتے ہیں۔ وہ تین دہائیوں کے دوران شن بیٹ میں اپنے متبادل نام 'ہیرس' سے مشہور تھے۔
ہم ایک پارک میں لگے بینچ کے دو سروں پر بیٹھتے ہیں اور سابق خفیہ ایجنٹ ہینڈلر مجھے بتاتے ہیں کہ وہ جاسوس ایجنسی کے سائبر یونٹ کے چیف کیسے بنے۔
اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انسداد دہشت گردی کی ٹیکنالوجی کا استعمال کووڈ 19 کی زد میں آنے والے لوگوں کو پکڑنے کے لیے ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ وہی سسٹم ہے اور اس میں وہی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ کوئی یہاں پارک میں تھا۔ ہم [فون] کمپنی سے اس گھنٹے کی اور اس مخصوص جگہ کی ساری تفصیلات حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔ اور اس سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کے آس پاس اور کون کون لوگ تھے۔'
میں نے ان سے کئی سوالات کیے کچھ کا جواب ملا جبکہ بعض کا نہیں ملا۔
کیا ریئل ٹائم میں لوگوں کی نگرانی کی جاسکتی ہے؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 'میں آپ کے سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔'
جیو لوکیشن ڈیٹا کتنا درست ہے؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا 'کافی حد تک درست ہے۔ یہ ایک بہت ہی حساس آلہ ہے، سمجھے؟ لیکن میں اس کی حساسیت کے بارے میں ایک اور لفظ بھی نہیں کہنا چاہتا۔' وہ کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں مزید بات کرنے سے دشمنوں کے سامنے اس کی صلاحیتوں کا انکشاف ہوسکتا ہے۔
کیا ایجنٹ مریضوں کا سراغ لگانے کے لیے حفاظتی کیمروں میں لاگ اِن ہو سکتے ہیں؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا ’نہیں، نہیں، نہیں۔ یہ قانون کے خلاف ہے۔‘ شین بیٹ نے 'دہشت گرد کارروائیوں سے لوگوں کی زندگی بچائی ہے اور یہ کورونا سے بھی جان بچاتی ہے۔‘
ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے اس نے تقریباً چار ہزار افراد کی نشاندہی کی ہے جن میں بعد میں کورونا مثبت پایا گيا اور یہ تعداد اسرائیل میں کووڈ 19 کے مصدقہ کیسز کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔
تاہم یہ خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ آیا یہ بہت سارے لوگوں کو اٹھا رہا ہے؟ کیا ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف سڑکوں پر کسی مریض کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شن بیٹ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تقریباً 79 ہزار افراد کو پیغامات بھیجے گئے ہیں۔
غلط استعمال کا خوف
اسرائیل ایسوسی ایشن آف پبلک ہیلتھ فزیشنز نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ اس پروگرام میں 'مختلف غلطیوں کے کافی امکانات' ہیں کیونکہ 'قریبی رابطے' کا مطلب 15 منٹ سے زیادہ عرصے کے لیے دو میٹر سے کم فاصلہ ہے۔
مسٹر بریبنگ نے کہا کہ اس نظام نے رابطے کی مدت کی پیمائش بھی کی ہے۔
دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر نگرانی کرنے والے پروگرامز دنیا بھر میں غلط استعمال کا شکار ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹورانٹو کی سیٹیزن لیب کے سائبر سکیورٹی تجزیہ کار جان سکاٹ ریلٹن کا کہنا ہے کہ 'کم سے کم ابھی جو چیز مجھے زیادہ خوفزدہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اچانک معمول میں تبدیلی آرہی ہے۔
'وہ لوگ جو [خاموشی سے] یہ کام کر رہے تھے اور جو کہ اپنے آپ میں انتہائی قابل اعتراض ہے وہ اچانک کہہ رہے ہیں کہ 'دیکھو، ہم تمہارے نجات دہندہ ہیں۔‘
دریں اثنا اسرائیل میں پولیس نے جزوی طور پر نگرانی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تنہائی یا علیحدگی کے احکامات نافذ کیے ہیں۔ مارچ کے بعد سے یہ جاننے کے لیے کہ لوگ گھر پر ہیں ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ مرتبہ جانچ ہوئی ہے۔ ایک معاملے میں افسران نے ایک مریض کے قرنطینہ کی تصدیق کے لیے 18 ویں منزل کے فلیٹ کی کھڑکی تک ایک ڈرون اڑایا۔ اس خاتون نے اس ڈرون کے لیے ہاتھ ہلایا جو ان کی فلم بنا رہا تھا۔
پولیس ترجمان سپرنٹنڈنٹ مکی روزنفیلڈ کا خیال ہے کہ ان اقدامات نے اسرائیل کو وائرس سے نمٹنے میں ’نسبتاً اچھی حالت‘ میں رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ہم اس مرحلے پر نہیں پہنچے جہاں ہمارے ہسپتالوں میں ہزاروں افراد بھرے ہوں۔۔۔ لیکن ہم اپنا سر اونچا رکھے ہوئے ہیں اور صورت حال ہمارے قابو میں ہے۔'
قانون میں تبدیلی
اسرائیلی پارلیمان کینیسیٹ کی ایک کمیٹی شن بیٹ کے پروگرام کی نگرانی کر رہی ہے اور اس کے استعمال کو جاری رکھنے کا اسے حق دیتی ہے۔ اسرائیل کی وزارت صحت نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اعداد و شمار کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزارت نے رازداری کے متعلق کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔
شن بیٹ نے پہلے کہہ رکھا ہے کہ افراد کا ڈیٹا صرف جانیں بچانے کی خاطر ہدایات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا اور کورونا وائرس کی ہنگامی صورتحال کے ختم ہونے کے 60 دن بعد اسے ڈلیٹ کر دیا جائے گا۔
فوٹوگرافر مسٹر کوٹکووسکی جنھوں نے حکومتی پیغام کے بعد خود کو الگ تھلگ کر لیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ وہ اس نظام کی حمایت کرتے ہیں لیکن پھر بھی انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اندھیرے میں ہیں۔
انھیں اب بھی یقین نہیں ہے کہ وہ کسی کورونا وائرس کے مریض کے رابطہ میں آئے تھے لیکن انھیں بتایا گیا تھا کہ ان کا ٹیسٹ نہیں ہوگا۔ وہ کہتے ہیں ’ایسا محسوس نہیں ہوا کہ کوئی میری پرائیویسی کو کچل رہا ہے۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے خیال میں یہ درست نہیں تھا۔'