نیشنل کمانڈ اینڈ
آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا نو مئی کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اہم
اجلاس منعقد ہوا جہاں تمام صوبائی چیف سیکرٹریز نے اپنے اپنے صوبوں اور علاقوں میں انسداد کورونا وائرس کی گائیڈ
لائینز پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے فورم کو پیش رفت سے آگاہ کیا۔
این سی او سی
کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ فور کو اطلاع دی گئی کہ عید کی وجہ
سے بازاروں میں رش بڑھ گیا ہے۔
وفاقی وزیر
اسد عمر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ عوام کی سہولت کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی
ہے تاہم وبا کے پھیلنے کا خطرہ بدستور موجود ہے اور حفاظتی
ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
انھوں نے
مزید کہا کہ انسداد کورونا وائرس ایس او پیز
تمام صوبوں کو بھجوائی گئیں ہیں اور ساتھ ساتھ ریڈیو، ٹی وی چیلنز، سوشل میڈیا سمیت ہر ڈیجٹیل پلیٹ
فارم کے ذریعے موثر عوامی آگاہی کی مہم چلائی گئی ہے۔
وفاقی وزیر
نے مزید کہا کہ صنعتوں اور تعمیراتی شعبے سے متعلق قواعد و ضوابط اور مارکیٹوںسمیت ہر شعبے کے لیےجامع ایس او پی بنائی گئیں ہیں اور عوام ان سے مکمل
آگاہ ہیں۔
انھوں نے صوبے
پر زور دیا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر عوام کی صحت اور حفاظت کو یقینی
بنانے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں تا کہ وبا کا مزید پھیلاؤ روکا جاسکے۔
انھوں نے صوبائی چیف سیکرٹریز کو ہدایات دیں کہ تین سے چار روز میں طے شدہ ایس
او پیز پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنایا جائے تا کہ وبا کا مزید پھیلاؤ رک سکے۔
ان کا کہنا
تھا کہ انفرادی ذمہ داری ہی اجتماعی صحت، تحفظ اور کوویڈ 19 سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہے۔
اسد عمر کے
مطابق نو مئی سے لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ایس او پیز
پر عمل کر کے اپنے خاندان، معاشرے اور کمیونٹی کی صحت کا خیال رکھیں۔