آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: پاکستان میں 24 گھنٹوں میں 1430 نئے متاثرین، 33 ہلاکتیں

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 44 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں کورونا کے کل متاثرین کی تعداد 37,176 ہو گی ہے اور ہلاکتوں کی کل تعداد 803 ہے۔ دوسری جانب جرمنی میں گذشتہ روز 100 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 900 سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ایمریٹس ایئرلائن کا 21 مئی سے آپریشن جزوی بحال کرنے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات کی قومی ایئر لائن ایمریٹس ایئر لائن نے 21 مئی سے اپنی پروازیں جزوی بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایئرلائن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ابتدا میں دبئی سے لندن، فرینکفرٹ، پیرس، میلان، میڈرڈ، شکاگو، ٹورونٹو، سڈنی اور میلبورن جائے گی۔

  2. ملائیشیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37 نئے مریض، دو اموات

    ملائیشیا میں بدھ کے روز کورونا وائرس کے 37 نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 6779 ہو گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کے روز ملک میں مزید دو اموات ہو ئیں، جس کے بعد اب تک کل ملائیشیا میں 111 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  3. پشاور کے ایک خاندان کے 17 افراد کورونا وائرس سے متاثر، چھوٹے گھروں میں قرنطینہ کیسے کریں؟

    پشاور میں دو صحافیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد خاندان کے مزید 15 افراد کووڈ کی لپیٹ میں آ گئے۔

    آصف شہزاد کے خاندان کے 17 اراکین کورونا کا شکار کیسے ہوئے، جاننے کے لیے دیکھیے ہمارے ساتھی بلال احمد کی یہ ویڈیو۔

  4. صحت کے نظام میں سرمایہ کاری نہ کرنے پر قصور ہم سب کا ہے: امیر حیدر خان ہوتی

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی نے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگوں میں علامات آتی بھی ہیں تو وہ ہسپتال جانے سے کترا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ آج بھی ایسے لوگ ہیں جو ٹیسٹ کروانے نہیں جا رہے، ان افراد کے لیے ہماری کیا حکمتِ عملی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جب سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ڈاکٹرز ہمیں خبردار کرتے ہیں تو ہم ان کی کیوں نہیں سنتے۔

    امیر حیدر خان ہوتی کا مزید کہنا تھا کہ صحت کے نظام میں سرمایہ کاری نہ کرنے پر قصور ہم سب کا ہے۔

  5. روس میں 24 گھنٹوں کے دوران دس ہزار سے زیادہ نئے متاثرین کی شناخت

    روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین کی شناخت ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں کل مصدقہ متاثرین کی تعداد 242271 ہو گئی ہے۔

    یہ تعداد ایک روز قبل سامنے آنے والے نئے متاثرین کے مقابلے میں کم ہے۔

    روسی حکومت کے کووڈ 19 سے نپٹنے والے مرکزی ادارے کی جانب سے بتایا گیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں روس میں 96 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد کل اموات کی تعداد 2212 ہو گئی ہیں۔

    نئے متاثرین کی اکثریت دارالحکومت ماسکو میں تھیں جہاں 4703 مریضوں کی شناخت ہوئی ہے۔

    روس میں اب تک 48 ہزار افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب ملک میں روسی ساختہ وینٹی لیٹر کے استعمال پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جب ایک ہسپتال میں مشتبہ طور پر وینٹی لیٹر کے استعمال سے آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں چار کووڈ 19 کے مریضوں کی موت واقع ہو گئی۔

    حکومتی بیان سے بھی اسی خیال کو فوقیت ملتی ہے کہ آگ وینٹی لیٹر کے استعمال سے لگی ہے۔

    روسی نے یہی وینٹی لیٹر امریکہ کو بھی در آمد کیے ہیں۔

  6. پاکستان کے شہروں میں کراچی میں کووڈ 19 کے سب سے زیادہ متاثرین کی شناخت

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کووڈ 19 کے مصدقہ متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد کراچی میں ہے جو کہ مجموعی تعداد کا 31 فیصد بنتی ہے۔

    دیگر بڑے شہروں میں لاہور دوسرے نمبر پر 20 فیصد کے ساتھ جبکہ پشاور آٹھ فیصد، کوئٹہ تین فیصد اور اسلام آباد و راولپنڈی ساڑھے چھے فیصد کے ساتھ ہیں۔

  7. 1918 میں ہسپانوی فلو کی وبا پر قابو پانے کے لیے کیا کیا جتن کیے گئے؟

    سنہ 1918 میں آنے والے ہسپانوی فلو اور موجودہ کورونا وائرس کی وباؤں کے درمیان بہت زیادہ مماثلت تلاش کرنا خطرناک ہے کیونکہ ہسپانوی فلو سے دنیا بھر میں تقریباً پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    تاہم کووڈ 19 مکمل طور پر ایک نئی بیماری ہے جو زیادہ تر بوڑھے لوگوں کو متاثر کرتی ہے جبکہ 1918 میں آنے والے انفلوئنزا نے دنیا بھر میں 20 سے 30 سال کی عمر کے افراد کو جن کے مضبوط مدافعتی نظام انھیں اپنا شکار بنایا تھا۔

  8. جاپان میں سومو ریسلر کووڈ 19 کا شکار ہو گیا

    جاپان میں ایک 28 سالہ سومو ریسلر کووڈ 19 کا شکار ہو گیا۔

    شوبوشی نامی ریسلر کو گذشتہ ماہ ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جس کے بعد 19 اپریل کو انھیں انتہائ نگہداشت کے وارڈ منتقل کر دیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

    جاپان کی سومو ریسلنگ ایسوسی ایشن نے بتایا کہ اب تک پانچ ریسلرز وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

  9. وفاقی حکومت تذبذب کا شکار رہی، فیصلوں میں تاخیر کرتی رہی: راجہ پرویز اشرف

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل بنانے کے حوالے سے کوششوں کو پہلی ضرب تب لگی جب وزیرِ اغظم کل جماعتی کانفرنس سے اٹھ کر چلے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا موقع تھا جب تمام پارٹیز کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا لیکن ایسا ہو سکا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم بھی ڈاکٹروں اور طبی عملے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن ان کو حفاظتی لباس پہنچانا کس کا کام تھا؟

    انھوں نے کہا کہ حکومت کو اپنے رویوں پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا اس طرح آپ مقابلہ کرنا چاہیے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام کو 1100 ارب روپے کا امدادی پیکج کے بارے میں بتایا گیا لیکن اصل میں یہ اعداد و شمار 400 ارب روپے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت کس کو بیوقوف بنانا چاہ رہی ہے؟

  10. بریکنگ, پاکستان میں اپریل کے مہینے میں ایک بھی گاڑی فروخت نہ ہو سکی: پاما, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں آٹو سیکٹر کے لیے موجودہ سال اپریل کا مہینہ کاروباری لحاظ سے بدترین ثابت ہوا جب مقامی طور پر تیار کی جانے والی ایک بھی گاڑی فروخت نہیں کی جا سکی۔

    پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے مہینے میںٹریکٹر اور بڑی گاڑیوں کی قلیل تعداد میں فروخت کی علاوہ کاروں کی فروخت صفررہی ہے۔

    اس وقت ملک میں پاک سوزوکی، انڈس موٹرز اور ہنڈا اٹلس لمیٹڈ مقامی طور پر کاروں کی پیداوار اور فروخت کرنے والی کمپنیاں ہیں۔

    تینوں کمپنیوں نے پچھلے سال اپریل کے مہینے میں 2700 سے زائد گاڑیاں فروخت کی تھیں جبکہ موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ (جولائی تا اپریل) میں بھی کاروں کی فروخت میں پچاس فیصد کمی دیکھنے میں آئی ۔

    آٹو سیکٹر سے وابستہ افراد نے مارچ کے وسطسے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگنے والے لاک ڈاؤن کو کاروں کی پیداوار میں کمی اور فروخت نہ ہونے کی وجہ قرار دیا ہے۔

    لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے کچھ صنعتی شعبے کھل چکے ہیں تاہم ملک میں گاڑیاں بنانے والے پلانٹس ابھی تک بند پڑے ہیں۔

    خیال رہے کہ انڈس موٹرز اور ہنڈا اٹلس نے اپریل اور مئی کے مہینے میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے کاروں کی قیمت میں۔ اضافہ کر دیا تھا۔

  11. لاک ڈاؤن نے پاکستانی نوجوانوں کی زندگیاں کیسے بدلیں اور وہ اس تبدیلی سے کیسے نمٹ رہے ہیں؟

    کورونا وائرس کی وبا نے ہمارے طرز زندگی کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ہر کوئی اس نئے طرز زندگی کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کررہا ہے اور اس کوشش میں ہر کسی کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔

    کوئی آفس کا کام گھر سے کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے تو کوئی اس سوچ میں پڑا ہے کہ اپنے گھر میں کام کرنے والے ملازمین کو کام پر بلایا جائے یا نہیں؟

    تو اس سب سے پاکستانی نوجوان کتنے متاثر ہوئے ہیں جانیے ثنا آصف اور موسیٰ یاوری کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  12. انفرادی ذمہ داری ہی اجتماعی صحت، تحفظ اور کووڈ 19 سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہے: اسد عمر

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا نو مئی کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اہم اجلاس منعقد ہوا جہاں تمام صوبائی چیف سیکرٹریز نے اپنے اپنے صوبوں اور علاقوں میں انسداد کورونا وائرس کی گائیڈ لائینز پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے فورم کو پیش رفت سے آگاہ کیا۔

    این سی او سی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ فور کو اطلاع دی گئی کہ عید کی وجہ سے بازاروں میں رش بڑھ گیا ہے۔

    وفاقی وزیر اسد عمر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ عوام کی سہولت کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے تاہم وبا کے پھیلنے کا خطرہ بدستور موجود ہے اور حفاظتی ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انسداد کورونا وائرس ایس او پیز تمام صوبوں کو بھجوائی گئیں ہیں اور ساتھ ساتھ ریڈیو، ٹی وی چیلنز، سوشل میڈیا سمیت ہر ڈیجٹیل پلیٹ فارم کے ذریعے موثر عوامی آگاہی کی مہم چلائی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صنعتوں اور تعمیراتی شعبے سے متعلق قواعد و ضوابط اور مارکیٹوںسمیت ہر شعبے کے لیےجامع ایس او پی بنائی گئیں ہیں اور عوام ان سے مکمل آگاہ ہیں۔

    انھوں نے صوبے پر زور دیا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر عوام کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں تا کہ وبا کا مزید پھیلاؤ روکا جاسکے۔

    انھوں نے صوبائی چیف سیکرٹریز کو ہدایات دیں کہ تین سے چار روز میں طے شدہ ایس او پیز پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنایا جائے تا کہ وبا کا مزید پھیلاؤ رک سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انفرادی ذمہ داری ہی اجتماعی صحت، تحفظ اور کوویڈ 19 سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہے۔

    اسد عمر کے مطابق نو مئی سے لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ایس او پیز پر عمل کر کے اپنے خاندان، معاشرے اور کمیونٹی کی صحت کا خیال رکھیں۔

  13. کل کے ٹیسٹ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ حالات خراب ہیں: شاہد خاقان عباسی

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور رہنما مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے وزیرِ اعظم کہتے رہے ہیں کہ ملک میں مئی کے آخر میں اموات بہت زیادہ ہوں گی، اور کل کے ٹیسٹ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ حالات بہت خراب ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ حکومت یہ بھی کہہ چکی ہے کہ صحت وفاق کی ذمہ داری نہیں ہے۔ میں وزیرِ تعلیم سے کہوں گا کہ مہربانی کریں اور وزارتِ صحت کے قواعد پڑھیں اس میں لکھا ہے کہ متعدی بیماریوں کے حوالے سے حکمتِ عملی بنانا وفاق کی ہی ذمہ داری ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں پولیو کی رپورٹ آئے پانچ ماہ بیت چکے ہیں لیکن جو غلطیاں اس وقت کی جا رہی تھیں اب بھی کی جا رہی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ایک ٹوئٹر آپریٹر کو پولیو مہم کا سربراہ لگایا گیا جس کو بعد میں نکال کر کہا گیا کہ دیکھو ہم نے بندہ نکال دیا۔

  14. انگلینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی، ایک وقت میں ایک دوست سے ملنے کی اجازت

    انگلینڈ میں حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد عوام کو اجازت مل گئی ہے کہ وہ گھر سے باہر وقت گزار سکیں اور ایک وقت میں ایک دوست سے پارک میں ملاقات کر سکیں۔

    نئے احکامات کے تحت اپنے گھر سے باہر ایک شخص سے ملنے کی اجازت ہوگی اور ایسے کھیل جن میں فاصلے برقرار رکھے جا سکیں، جیسے گالف وغیرہ کھیلنے کی اجازت ہوگی۔

    دوسری جانب وہ ملازمین جو گھر سے کام نہیں کر سکتے ان کو کہا گیا ہے کہ وہ واپس دفتر آنا شروع کریں۔

  15. مجھے تو یہی سمجھ آئی ہے کہ 18ویں ترمیم ختم کر دو کورونا ختم ہو جائے گا: شاہد خاقان عباسی

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو یہی سمجھ آئی ہے کہ اگر 18ویں ترمیم ختم کر دی جائے تو کورونا وائرس ختم ہو جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ کیا پاکستان میں علاج یا ٹیسٹنگ کے مروجہ اصول اور قوانین موجود ہیں؟ کیا پاکستان میں رائج علاج کے اصول بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں؟

    انھوں نے کہا کہ اس وقت اس پارلیمان میں اکثر وزیرِوں کے تین تین ٹیسٹ ہو چکے ہیں، کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔

  16. انڈیا میں ٹرینوں کی جزوی بحالی، مسافروں کا احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل

    انڈیا کی مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور ٹرینوں کی جزوی بحالی کے بعد متعدد مسافروں نے مختلف شہروں کا رخ کیا۔

    تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حفاظتی تدابیر کی پابندی کرتے یہ مسافر سماجی فاصلہ اور چہرے پر ماسک پہنے دکھائی دیتے ہیں۔

    یہ تصاویر کلکتہ کے ایک ریلوے سٹیشن کی ہیں جہاں سے یہ خصوصی ٹرین نئی دہلی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

    خیال رہے کہ رواں ہفتے چلائی جانے والی تمام ٹرینیں ایئر کنڈیشنڈ تھیں۔ ٹرینوں کی بحالی کے پہلے مرحلے میں 15 ٹرینیں چلائی جائیں گی۔

    حکومت کی جانب سے جاری مروجہ اصولوں کے مطابق مسافروں کے لیے ماسک پہننا لازمی ہو گا جبکہ انھیں پلیٹ فارم پر سکریننگ کے عمل سے بھی گزارا جائے گا۔

    مسافروں کو ٹرین سٹیشنز پر کم از کم ایک گھنٹہ قبل آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    انڈین ریلوے آنے والے دنوں میں 1500 ایسی خصوصی ٹرینیں چلانا چاہتی ہے جس کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں پھنسے افراد کو اپنے آبائی علاقوں تک پہنچایا جا سکے۔

  17. یہ بتا دیں اس ملک کو چلا کون رہا ہے: شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مجھے کابینہ کا وہ فیصلہ کہاں ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ ملک میں لاک ڈاؤن لگا دینا چاہیے؟

    انھوں نے کہا کہ اس ملک میں فیصلے کون کرتا، اس ملک کو چلا کون رہا ہے، نام بتا دیں۔

    شاہد خاقان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ہمیں جس بحران کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ ملک کی رہنمائی کون کر رہا ہے۔

  18. کورونا وائرس کے حوالے سے حکومت کی حکمت عملی کیا ہے، کوئی دستاویز دکھا دیں: شاہد خاقان عباسی

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت نے اتنے ادارے بنا دیے ہیں لیکن ان کے وزرا سے کہوں گا کہ مجھے وہ دستاویزات لا دیں جس پر کورونا وائرس کے حوالے سے حکومت کی حکمت عملی لکھی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ متعدد وزرا قومی اسمبلی میں بولے لیکن کسی نے یہ نہیں بتایا کہ حکومت کیا کر رہی ہے اور ملک میں کیا ہو رہا ہے۔

    انھوں نے کہا ان کی جانب سے ویب سائٹس پر دستاویزات ہی موجود نہیں ہیں نہ ہی کوئی منظم آگاہی مہم چلائی گئی ہے۔

  19. برازیل، میکسیکو میں یومیہ ریکارڈ اموات

    برازیل اور میکسیکو میں منگل کو کورونا وائرس کی وجہ سے ریکارڈ تعداد میں اموات واقع ہوئیں اور خدشہ ہے کہ یورپ اور شمالی امریکہ کے بعد اب لاطینی امریکہ میں بھی کورونا وائرس کی وبا سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے۔

    برازیل کی وزارت صحت نے تصدیق کی کہ منگل کو ملک میں 881 اموات کے واقعات سامنے آئے ہیں اور جس کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد 12400 ہو گئی ہے۔

    برازیل دنیا کا ساتویں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اب تک 177000 سے زیادہ مصدقہ متاثرین کی شناخت ہو چکی ہے۔

    وسطی امریکہ کے ملک میکسیکو میں بھی منگل کو 353 اموات کی تصدیق ہوئی اور 1997 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ اب تک کا ریکارڈ ہے۔

    پیر کو ملک میں 108 اموات ہوئی تھیں تو اس بات کی امید ہوئی کہ شاید وبا کا زور ٹوٹ جائے کیونکہ گذشتہ چند روز سے نئے کیسز کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی تھی لیکن منگل کے اعداد و شمار کے بعد ایک بار پھر خدشہ لاحق ہو گیا ہے کہ حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

    اب تک میکسیکو میں کل 38 ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں اور چار ہزار کے قریب اموات ہوئی ہیں۔

  20. وزیرِ تعلیم نے 11 مارچ کو کہا تھا ملک میں کورونا کا مسئلہ نہیں ہے: شاہد خاقان عباسی

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے اس سے قبل وزیرِ خارجہ اور دیگر حکومتی وزرا کی جانب سے جو باتیں کہی گئیں ان میں کوئی کام کی بات نہیں تھی۔

    انھوں نے کہا کہ آج وزیرِ تعلیم بھی بولے لیکن 11 مارچ کو یہی کہتے تھے کہ ملک میں کورونا وائرس سے متعلق کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو سنیں تو سہی، ہماری باتوں پر عمل نہ کریں لیکن ہمیں کم از کم اس ملک کی صورتحال پر بولنے تو دیں۔