ہمارے وزیر اعظم کنفیوٰٰز ہیں اور اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے: بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ کا وقت ہے اور ہمارے وزیراعظم موجود نہیں ہیں، ہمارے وزیراعظم کنفیوز ہیں اور جو ان کی ذمہ داریاں ہیں وہ پوری نہیں کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے بیانات ذمہ دارانہ ہوتے ہیں کیونکہ انھیں احساس ہے اور اگر کچھ کہتے ہیں تو اس سے ہماری رہنمائی ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت کے کراچی سے منتخب رہنماؤں کے بیانات غیرذمہ دارانہ ہوتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن، سمارٹ لاک ڈاؤن یا نرمی کرنی ہے تو آپ فیصلہ کریں لیکن ان سب کے اثرات ہیں تاہم جو پہلے لاک ڈاؤن کیا تھا اس سے فائدہ ہوا تھا۔
انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے خدانخواستہ کیسز اور اموات میں اضافہ ہو گا تو اس کے لیے ہسپتالوں میں تیاری بھی کرنی ہو گی جس کے لیے وفاقی حکومت کو صوبوں کی مدد کرنا ہوتی ہے۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہماری حکومت نے سیلاب اور زلزلوں میں کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم صوبوں کی مدد نہیں کر سکتے یا صوبے یہ کام خود کریں بلکہ ہم نے بڑھ چڑھ کر مدد کی۔
انھوں نے کہا کہ جتنے بیانات ہم ایک دوسرے کے خلاف دیتے ہیں اتنے کورونا وائرس کی آگاہی کے لیے دیں تو فائدہ ہو گا۔