آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا: وزیر اعظم مودی کی جانب سے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 41 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور دو لاکھ 86 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. لاک ڈاؤن بلا جواز ’نظر بندی‘ ہے: سابق برطانوی سپریم کورٹ جج لارڈ سمپشن

    برطانیہ میں سپریم کورٹ کے ایک سابق جج لارڈ سمپشن نے لاک ڈاؤن جاری رکھنے کو بلا جواز ’پوری آ بادی کو نظر بند‘ کرنا قراد دیا ہے۔

    لارڈ سمپش نے بی بی سی ریڈیو 4 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لاک ڈاؤن جاری رکھنے کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نوجوان اور فِٹ لوگوں کو اپنے روزگار جاری رکھنے دیے جانے چاہیں اور جو بڑی عمر کے لوگ ہیں یا وہ جنھیں زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی واحد قابل قبول وجہ این ایچ ایس کو رش سے بچانا تھا اور وہ خطرہ اب ٹل چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ لاک ڈاؤن اب شخصی آزادیوں پر برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی مداخلت ہے اور وہ بھی ایک ایسی وبا کی وجہ سے جو ہر طبقے کے لیے زیادہ خطرناک نھیں ہے۔ انھوں نے کہا جن لوگوں کو اس وبا سے خطرہ ہو سکتا ہے وہ اپنے آپ کو خود تنہا کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے انگلینڈ کی حکومت کی نئی ہداایات کے بارے میں کہا کہ یہ غیر واضح اور الجھی ہوئی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ انھیں پورا یقین ہے کہ ہم ’کامن سنس‘ سے اور اپنے آپ کو بچانے کی حس سے اپنا خیال رکھ سکتے ہیں اور لوگوں کو ایسی ریاست کی ضرورت نھیں جو انھیں ہر مرحلے پر بتائے کہ انھیں اپنا خیال کیسے رکھنا ہے۔

  2. اسلام آباد: سیکٹرز میں قائم مراکز ہفتے میں پانچ دن کھلیں گے

    اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق دارالحکومت کے تمام سیکٹرز میں قائم تجارتی مراکز ہفتے میں پانچ دن، پیر سے جمعہ، کھولنے کی اجازت ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق وہ دکانیں نہیں کھولی جا سکتیں جو کاروبار کے حوالے سے مرتب کردہ منفی فہرست میں شامل ہیں۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کاروبار کے اوقات صبح سحری سے شام پانچ بجے تک ہوں گے۔

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے وضح کردہ اصولوں پر عملدرآمد ان کاروباری مراکز میں موجود دکانداروں اور تاجر برادری کی ذمہ داری ہو گی۔

    نوٹیفکیشن میں انتباہ کیا گیا ہے کہ اصول و قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ انتظامیہ کے مطابق سماجی دوری پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے تاجر برادری کے ساتھ ٹائیگر فورس، پولیس اور انتظامیہ اپنا کردار ادا کرے گی۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تاجروں سے مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے اور قواعد کی پابندی نہیں کی گئی تو یہ فیصلہ واپس لیا جا سکتا ہے۔

  3. برطانیہ میں کھیلوں کے مقابلے کب شروع ہوں گے؟

    برطانیہ حکومت کی طرف سے نئی ہدایات کے بعد کھیلوں کے پروفیشنل مقابلے خالی سٹیڈیم میں یکم جون سے شروع ہو سکتے ہیں۔

    پریمیئر لیگ کے فٹبال کلبوں نے پیر کو ’پراجیک ری سٹارٹ‘ پر غور کرنے کے لیے ملاقات کی ہے۔ یہ مقابلے 13 مارچ سے بند ہیں اور 92 میچ ہونا باقی ہیں، جن کے بارے میں خیال ہے کہ جون سے دوبارہ شروع ہو سکیں گے۔

    انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے ایک فیصلے کے بعد اب ان دونوں جگہوں پر کم سے کم یکم جولائی تک کرکٹ نھیں ہو سکے گی۔

    گھر دوڑ کے مقابلے 17 مارچ سے بند ہیں اور ان کے بارے میں بھی خیال تھا کہ یہ اس مہینے کے آخر سے شروع ہو سکیں گے لیکن اب رائل ایسکوٹ بھی خالی سٹیڈیم میں 16 سے 20 جون کے درمیان ہو گی۔

    رگبی کی پریمیئرشپ بھی جس کے مقابلوں کے 9 راؤنڈ باقی ہیں جولائی کے شروع میں متوقع ہے۔

  4. ٹائیگر فورس ملک بھر میں بیروزگار افراد کا اندراج کر رہی ہے: عمران خان

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بندشوں کے باعث بیروزگار ہونے والوں کو وزیراعظم ریلیف فنڈ سےمعاوضہ دیا جائے گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ ٹائیگر فورس ملک بھر میں متاثرین کا اندراج کر رہی ہے۔ بیروزگار ہونے والے ویب سائٹ کے ذریعےبھی اندراج کر سکتے ہیں۔

  5. بلوچستان: ایک دن میں 44 نئے مریض، ایک ہلاکت

    بلوچستان میں کورونا کے 44 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد صوبے میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 2061 ہو گئی ہے۔

    سوموار کو کورونا میں مبتلا ایک اور مریض ہلاک ہو ا ہے اور اب مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 27 ہو گئی ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے رپورٹ کے مطابق 11 مئی 2020 کو کورونا کے 636 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 44 مثبت آئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 38920 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 15323 افراد کے کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 13262 کے نتائج منفی آئے ہیں۔

    بلوچستان میں مشتبہ مریضوں کی کل تعداد 17541 ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے 242 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔

  6. خیبرپختونخوا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 12 ہلاکتیں، 206 نئے متاثرین

    صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 206 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 12 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    سوموار کو ہلاک ہونے والے 12 افراد میں سے چھ کا تعلق پشاور، تین کا مردان، جبکہ ایک، ایک کا تعلق سوات، اپر دیر اور نوشہرہ سے ہے۔

    صوبائی وزارتِ صحت کے مطابق اب صوبے میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 4875 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی کُل تعداد 257 ہو چکی ہے۔

    سوموار کو مزید 130 افراد صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 1256 ہو گئی ہے۔

  7. بریکنگ, نیویارک میں 15 مئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی

    نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے ریاست نیویارک میں جمعہ کے روز سے لاک ڈاؤن میں کچھ نرمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اعلان کے مطابق کچھ ایسے کاروباروں کو جن کے کھلنے میں رسک کم ہے کام شروع کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔

    انھوں نے اپنی روزانے کی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس تاریخی دور میں یہ اگلا بڑا قدم ہے۔ انھوں نے کہا کہ نرمی کے بعد جن کاروباروں کو کھلنے کی اجازت ہو گی ان میں ڈرائیو اِن تھیٹر شامل ہیں۔

  8. احتیاط نہ برتی گئی توعید خوشی کا دن نہیں ہو گا: حمزہ شفقات

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ اسلام آباد میں اس وقت نو مریض وینٹیلیٹر پر ہیں اور کل 679 میں سے 76 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    انھوں نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ وفاق سے لاک ڈاؤن تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔

    تاہم اپنی ٹویٹ میں علاقوں کے لحاظ سے تفصیلی تقشوں اور اعدادوشمار کو اپ لوڈ کرنے کے ساتھ انھوں نے خدشات کا بھی اظہار کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ خطرناک ہے اور اگر اگلے کچھ ہفتوں تک سماجی دوری کے اصول پر عمل نہ کیا گیا تو مجھے خدشہ ہے کہ عید خوشی کا دن نہیں ہو گا۔

  9. ’عالمی سفر کی ڈیمانڈ کا 2023/24 سے پہلے معمول پر آنا مشکل ہے‘

    قطر ایئر ویز کے سی ای او اکبر البقر نے کہا ہے کہ عالمی سفر کی ڈیمانڈ کا 2023/24 سے پہلے معممول پر آنا حیران کن ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ کچھ کاروباری مسافر شاید کبھی واپس نہ آئیں کیونکہ گھر سے ہی کام ان کا معمول ہو جائے گی۔

    قطر ایئر ویز نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران اپنے آپریشن جاری رکھے ہیں اور ان کے جہاز 30 روٹوں پر پرواز کرتے رہے ہیں۔

    وبا شروع ہونے سے پہلے ایئرلائن 165 روٹوں پر چلتی تھی اور اس کا ٹارگٹ ہے کہ جون تک 80 روٹوں پر سفر شروع ہو جائے گا۔

    اکبر البقر نے رائٹرز کو بتایا کہ انھیں امید ہے کہ ان کے جہازوں پر 50 سے 60 نشستیں فل ہوں گی اور وہ مسافروں سے جہاز میں ضروری فاصلہ رکھنے کی درخواست کریں گے۔

    ایئر لائن نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ ہیلتھ کیئر سٹاف کو مفقت ریٹرن فلائیٹ کی پیشکش کرے گی۔

  10. پاکستان: 92 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں جبکہ 196 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے, صحافی، محمد زبیر خان

    وفاقی وزارت صحت کے مطابق اس وقت پاکستان کے ہسپتالوں میں زیر علاج کورونا مریضوں میں سے صرف 92 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں جبکہ 196 مریض ایسے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے مگر وہ وینٹیلیٹر پر نہیں ہیں۔

    وفاقی وزارت صحت کے مطابق اس وقت پاکستان میں کورونا کے 6230 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے 5940 مریضوں کی حالت تسلی بخش ہے۔

    اپنے اپنے گھروں یا دیگر قرنطینہ مراکز میں موجود متاثرین کی تعداد 15832 ہے جبکہ دس مئی کی رات تک 8212 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔

    وزارت صحت کے مطابق پورے ملک میں 735 ہسپتال ایسے ہیں جہاں پر کورونا کے مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان ہپستالوں میں قائم آئسولیشن وارڈز میں 21060 بستروں کی گنجائش ہے اور 1358 وینٹیلیٹرز دستیاب ہیں۔

    پنجاب

    پنجاب میں 207 ہسپتالوں میں 7753 بستروں کی گنجائش ہے جبکہ 378 وینٹیلیٹرز دستیاب ہیں۔

    اس وقت پنجاب کے ہسپتالوں میں 4269 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 4218 کی حالت تسلی بخش ہے۔ 27 مریض ایسے ہیں جو وینٹیلیٹر پر تو نہیں ہیں مگر ان کی حالت نازک ہے جبکہ 24 مریض وینٹیلیڑ پر ہیں۔

    سندھ

    سندھ میں 169 ہپسپتالوں میں 4688 بستروں کی گنجائش ہے اور 197 وینٹیلٹرز دستیاب ہیں۔

    1237 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ 1138 مریضوں کی حالت تسلی بخش ہے جبکہ 73 کی حالت نازک ہے مگر وہ وینٹیلیٹر پر نہیں ہیں۔

    26 مریض وینٹیلیٹر پر ہیں جبکہ باقی کے مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہے اور وہ مختلف جگہوں پر قرنطینہ میں ہیں۔

    خیبر پختونخوا

    خیبرپختونخواہ کے 200 ہپستالوں میں 5598 بستروں کی گنجائش ہے اور 581 وینٹیلیٹرز دستیاب ہے۔ا

    س وقت641 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے 517 کی حالت تسلی بخش ہے اور 89 مریض ایسے ہیں جن کی حالت نازک ہے مگر وہ وینٹیلٹر پر نہیں ہیں۔

    اس وقت صوبے میں 35 مریض وینٹیلیٹر پر ہیں جبکہ باقی مریض گھروں اور دیگر مقامات پر قرنطینہ میں ہیں۔

    بلوچستان

    بلوچستان میں 96 ہسپتال ہیں اور 2136 بستروں کی گنجائش ہے۔ 61 وینٹیلٹرز دستیاب ہیں۔ 28 مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں اور تین وینٹیلیٹر پر ہیں، 25 کی حالت تسلی بخش ہے۔

    گلگت بلستان

    گلگت بلستان میں 26 ہسپتالوں میں 151 بستروں کی گنجائش ہے اور 12 وینٹیلٹرز دستیاب ہیں۔ پانچ مریض اس وقت ہسپتالوں میں داخل ہیں کوئی بھی مریض وینٹیلٹر پر نہیں ہے۔ باقی مریض گھروں یا کسی اور مقام پر قرنطینہ میں ہیں۔

    اسلام آباد

    اسلام آباد کے 21 ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے 430 بستروں کی گنجائش ہے۔ 90 وینٹیلٹرز دستیاب ہیں۔ ہسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد 28 ہے۔ چار مریض اس وقت وینٹیلٹر پر ہیں۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 16 ہسپتال ہیں جبکہ ان پر 304 بستروں کی گنجائش ہے اور 39 وینٹیلٹرز دستیاب ہیں۔ وہاں 22 مریض زیر علاج ہیں اور صرف ایک مریض وینٹیلٹر پر ہے۔

  11. کورونا وائرس: فرانس نے پابندیاں اٹھانا شروع کر دیں

    فرانس نے لاک ڈاؤن کے تحت شہریوں پر عائد پابندیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں اور آٹھ ہفتے کی پابندیوں کے بعد لاکھوں افراد کام پر جانا شروع ہو گئے ہیں۔

    دوکانیں کھل رہی ہیں، بہت سے طلبا پرائمری سکولوں میں واپس جا رہے ہیں، اور لوگوں کو گھروں سے نکلتے وقت اب ٹریول سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

    لیکن ملک کے کچھ حصے، جن میں دارالحکومت پیرس بھی شامل ہے، ابھی بھی سخت کنٹرول میں ہیں۔ اور ملک کو سبز اور سرخ رنگ کے زونز میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔

    حکومت کے بحران سے نمٹنے کے طریقے پر تنقید کی جا رہی ہے۔

    جب 17 مارچ کو فرانس میں پابندیاں لگائی گئی تھیں تو اس وقت صدر ایمانوئل مکرون کی بہت تعریف کی گئی تھی، لیکن اس کے بعد سے بہت لوگوں نے ان کے بحران سے نمٹنے کے طریقے پر تنقید کی ہے۔

  12. روس میں کورنا مریضوں میں اضافہ لیکن لاک ڈاؤن میں نرمی

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ منگل سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے گی اور کاروبار کھل جائیں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے کام نہ کرنے کا عرصے چھ ہفتے کا تھا۔

    صدر پوتن نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی معیشت کے تمام سیکٹر کے لیے ہو گی لیکن مختلف علاقے اپنی صورتحال کے مطابق کنٹرول جاری رکھنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

    روس کورونا کے مریضوں کے اعتبار سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں روس میں مزید 11656 کیس سامنے آئے ہیں۔ اس طرح ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 221344 ہو گئی ہے۔

    اس طرح روس میں اب برطانیہ اور اٹلی سے زیادہ کورونا کے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ روس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2009 ہے۔ تاہم اس نمبر پر سوال اٹھائے گئے ہیں کیونکہ کچھ لوگوں کے خیال میں روس میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کھیں زیادہ ہے۔

  13. بیرون ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کے لیے قرنطینہ کا دورانیہ کم دیا گیا, بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد

    وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر قومی رابطہ کمیٹی نے صوبوں اور صحت حکام کے ساتھ مل کر بیرون ملک سے وطن واپس لوٹنے والے پاکستانیوں کے لیے قرنطینہ کا دورانیہ 48 گھنٹے سے کم کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ ملک میں قرنطینہ سہولیات کی کمی کے باعث بیرون ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے میں تاخیر کا سامنا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستانیوں کو جلد از جلد وطن واپس لانے کی غرض سے کیا گیا ہے تاکہ قرنطینہ سہولیات دستیاب رہیں اور زیادہ سے زیادہ خصوصی پروازوں کے ذریعے مسافروں کو واپس لایا جا سکے۔

    نئے ضابطے کے تحت اب مسافروں کو ایئرپورٹ سے سیدھا قرنطینہ مراکز لایا جائے گا اور ان کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج موصول ہوتے ہی انھیں اپنے اپنے گھروں میں قرنطینہ ہونے یا سرکاری قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت جاری کی جائے گی۔

    فی الوقت ہفتہ وار سات سے آٹھ ہزار پاکستانیوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن لایا جا رہا ہے تاہم حکام کے مطابق نئے پالیسی کے نافذالعمل ہونے کے بعد یہ تعداد 11 سے 12 ہزار ہو جائے گی۔

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی معید یوسف کا کہنا ہے کہ ہم بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بیرون ممالک سے آنے والوں کو سرکاری قرنطینہ سہولت، جو کہ مفت ہے، یا نجی ہوٹل میں قائم قرنطینہ مرکز، جس کے عوض ادائیگی کرنا ہو گی، کا آپشن دیا جائے گا۔

    تمام مسافروں کو وطن واپس پہنچتے ہی کورونا ٹیسٹ کر لیا جائے گا۔ جن مسافروں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آئے گا یا جن میں علامات ہوں گی انھیں 14 روز تک سرکاری یا نجی قرنطینہ میں رکھا جائے گا اور پروٹوکول کے مطابق ان کا علاج معالجہ کیا جائے گا۔

    11 اور 12 مئی کے دوران خصوصی پروازوں کے ذریعے 22 ممالک سے لگ بھگ 11 ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جا رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اب تک 23 ہزار پاکستانیوں کو لایا جا چکا ہے جبکہ مختلف ممالک میں اب بھی ایک لاکھ سے زائد پاکستانی پھنسے ہیں۔

  14. برطانوی وزیرِ اعظم: اگلے دور میں مشکلات تو ہوں گی

    برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن کو آسان کرنے کے لیے محدود پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پہلے دور کے گھر پر رہنے کے آسان پیغام کے بعد اگلے دور میں حکومت کے لیے لامحالہ طور پر مشکلات ہوں گی۔

    لیکن انھوں نے کہا کہ لوگ گھر رہیں اگر وہ رہ سکتے ہیں تو۔

    انھوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے گائیڈ لائنز کل جاری کی جائیں گی جبکہ کام کی جگہوں کے بارے میں گائیڈ لائنز آج شائع کی جا رہی ہیں۔

  15. شنگھائی ڈزنی لینڈ کو کھول دیا گیا

    شنگھائی میں ڈزنی لینڈ پارک کو محدود افراد کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ یہ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بند تھا۔

    چین میں کئی ہفتوں سے وائرس کے کیسز میں کمی آنے کے بعد آہستہ آہستہ پابندیوں کو بھی کم کیا جا رہا ہے۔

    پیر کو پورے ملک میں 17 نئے کیس رپورٹ ہوئے، یہ 28 اپریل کے بعد سے ایک دن میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ اس طرح چین میں کل 82 ہزار 918 تصدیق شدہ کیسز ہیں جبکہ اس وبا سے ابتک ملک میں کل چار ہزار 633 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  16. ’کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے‘

    وزیرِ اعظم عمران خان کو کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس اجلاس میں وفاقی وزرا، معاونین خصوصی اور دیگر سینیئر افسران شریک ہوئے۔

    اجلاس میں ملک میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسوں اور متاثرہ افراد کو طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    ملک میں موجود وینٹیلیٹرز کی صورتحال پر بات چیت کے دوران وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ وینٹیلیٹرز کے بہتر استعمال کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر دستیاب سہولت تک آسانی سے پہنچا جا سکے۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملکی معاشی صورتحال، عوام کے مسائل اور دیگر ملکوں کی صورتحال کو مد نظر رکھ کر لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کی گئی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں اور حفاظتی اقدامات کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی طور پر اس امر کا ادراک کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کورونا کے خلاف عارضی عمل ہے اور کورونا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ کورونا کے ٹیسٹ کے حوالے سے بعض حلقوں میں خدشات کو دور کیا جائے اور عوام کو ترغیب دی جائے کہ وہ بذات خود علامات کی صورت میں ٹیسٹ کرائیں۔

    انھوں نے کہا کہ گھر پر قرنطینہ اختیار کرنے کے حوالے سے لوگوں کو معلومات فراہم کی جائیں تاکہ لوگ گھروں پر رہ کر بھی قرنطینہ اختیار کر سکیں۔

  17. میکسیکو کی جیل میں ایک خطرناک گینگ کے سربراہ کورونا سے ہلاک

    میکسیکو میں ایک جرائم پیشہ گینگ کے سربراہ موئسس اسکامیلا مئے دورانِ قید کورونا کا شکار ہونے کے بعد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسکامیلا کی عمر 45 برس تھی اور وہ لوگوں کو خوفزدہ کر دینے والے ایک گروہ لوس زیتاس کے سربراہ تھے۔

    انھیں 12 افراد کے سر قلم کرنے اور دیگر منظم جرائم میں ملوث ہونے کی پاداش میں 37 برس قید کی سزا دی گئی تھی۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک کورونا کے باعث میکسیکو میں کل 3450 اموات ہو چکی ہیں۔

    اسکامیلا میکسیکو کے علاقے کانکن میں سینٹرل امریکہ سے بحری راستے کے ذریعے کوکین کی سپلائی کرتے تھے، انھوں نے مقامی پولیس کے اہلکاروں سمیت مخبروں کا ایک نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔

    چھ مئی کو ان کی سانس کی نالی میں تکلیف ہوئی اور اس کے دو دن بعد ان کی موت واقع ہو گئی تاہم حکام نے اتوار کو ان کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔

  18. لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد وہان میں وائرس کے پہلے کلسٹر کی تصدیق

    کورونا وائرس کے نئے کلسٹر وہان شہر، جہاں یہ وائرس پہلی مرتبہ ابھرا تھا، اور چین کے شمال مشرقی صوبے جِلِن میں دوبارہ رپورٹ ہوئے ہیں۔

    وہان میں پیر کو پانچ نئے کیس سامنے آئے، یہاں اتوار کو 3 اپریل کے بعد پہلے کیس کی تصدیق کی گئی تھی۔

    حکام کے مطابق یہ تمام کیس ایک ہی رہائشی کمپاؤنڈ سے ہیں۔

    چین حالیہ ہفتوں میں پابندیوں میں نرمی لا رہا ہے اور کیس بھی کم ہو رہے ہیں۔

    صحت کے حکام اور ماہرین نے تنبیہہ کی تھی کہ مختلف ممالک سخت لاک ڈاؤن سے باہر نکل رہے ہیں اور کیونکہ لوگ اب آزادانہ گھوم رہے ہیں اور ایک دوسرے سے مل رہے ہیں، اس لیے انفیکشن میں ممکنہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

    اپریل 8 کو سخت پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وہان میں کوئی چھوٹا کلسٹر ابھرا ہے۔ جن پانچ کیسز کی پیر کو شناخت ہوئی ہے ان میں اس 89 سالہ شخص کی بیوی بھی ہے جو ایک ماہ سے کچھ عرصہ پہلے اس شہر میں پہلا شخص تھا جس میں کورونا کی تصدیق ہوئی تھی۔

  19. پی ٹی آئی حکومت کورونا ریلیف آرڈیننس منظور نہیں کررہی: بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کورونا ریلیف آرڈیننس منظور نہیں کر رہی ہے اور سندھ میں ریلیف کے سامنے پی ٹی آئی رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور میں مطالبہ کرتا ہوں کہ گورنز سندھ آج ہی اس آرڈیننس کو منظور کریں۔

    انھوں نے پی ٹی آئی کے اراکین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’جہاں ہم کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ کام کرنے نہیں دیتے، میں صرف سندھ کی بات نہیں کررہا بلکہ پورے پاکستان کی بات کررہا ہوں،

    حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ کورونا کے وبا کے موقع پر ایسے بیانات نہ دیں جس طرح کی بیان بازی آپ کرتے ہیں، ہم عمران خان کو اپنا وزیر اعظم مانتے ہوئے کہیں گے کہ آگے بڑھیں، کیونکہ مجھے آپ سے لڑنا نہیں ہے بلکہ مل کر کام کرنا ہے۔‘

    انھوں نے کہ وزیر خارجہ نے تفتان اور تبلیغی جماعت سے متعلق بات کی لیکن ہم کہتے ہیں آپ نے ان کو آگاہی نہیں دی اور ان کو ضروری اشیا نہیں پہنچائی، آپ کی بدانتظامی کی وجہ سے تبلیغی افراد بھی وائرس سے متاثر ہوئے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم کورونا وائرس پر مل کر کام کرنے کو تیار ہیں اور وزیراعظم کو اپنے بیٹنگ آرڈر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ذمہ دار ارکان کو ہمارے ساتھ بات کرنے کے لیے منتخب کریں جو تمیز سے بات کرتے ہیں۔

  20. لاک ڈاؤن کی ‘خلاف ورزی‘ پر نائجیریا میں دو ہوٹل منہدم

    نائجیریا میں حکام نے ریاست ریورز میں دو ہوٹلوں کو منہدم کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ان ہوٹلوں کی انتظامیہ ملک میں کورونا وائرس کے تدارک کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہی تھی۔

    دونوں ہوٹلوں کے مینیجرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ منہدم ہونے والے ایک ہوٹل پروڈیسٹ ہوم کے مینیجر کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہوٹل کی جانب سے لاک ڈاؤن کے اصولوں پر عمل کیا جا رہا تھا۔

    سوشل میڈیا پر تنقید کے باوجود گورنر وائک نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے ریاست میں موجود ہوٹلوں میں کورونا کے مصدقہ کیسز دیکھے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انفیکشن کی شرح دیکھیے، ہوٹلوں میں کورونا وائرس کے زیادہ تر مریض ملے ہیں تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ جو دو ہوٹل گرائے گئے ہیں ان میں کورونا وائرس کے مریض موجود تھے۔

    نآیجیریا میں بیماریوں کو کنٹرول کرنے کے مرکز نے ریور سٹیٹ میں 21 کیسز اور دو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    لاگوس کے گورنر نے تنبیہ کی ہے کہ اگر شہری سماجی دوری کے اصولوں کو نظر انداز کریں گے تو لاک ڈاؤن دوبارہ متعارف کروایا جا سکتا ہے۔ نائجیریا میں کورونا وائرس کے نتیجے میں 143 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 4399 ہے۔