پاکستان میں منگل کے روز سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں حکومت کی کورونا وائرس سے متعلق پالیسی پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے تنقید کی گئی۔
اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ اس صورتحال میں حکومت کو خود ہی اجلاس بلا لینا چاہیے تھا لیکن حکومت الٹ پالیسی چلا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر حل ڈھونڈنے کے بجائے ان سے رابطہ گوارا نہیں سمجھتی۔
اسی بارے میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ وزیراعظم اور اُن کی کورونا وائرس سے متعلق ’پالیسی لاپتہ‘ ہے۔
’وزیراعظم کہاں ہیں؟ ملک کو کون چلا رہا ہے؟ ملک بھر میں آج لاک ڈاون بغیر ایس او پیز کے کھول دیا گیا ہے۔ لوگوں نے عید کی شاپنگ شروع کردی ہے، ایک دن لاک ڈاؤن کی مخالفت دوسرے دن حمایت کی جا رہی ہے جو حکومت کی کنفیوژن ثابت کرتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ دراصل اعداد و شمار زیادہ ہیں لیکن چھپائے جارہے ہیں۔ ’ہمیں وہ غلطیاں نہیں کرنی چاہیں جو امریکہ اور اٹلی نے کی ہیں۔
سات ہفتے پہلے ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگنے کے بعد وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان کورونا وائرس سے متعلق پالیسی کے نفاذ پر کئی بار چپکلش ہوئی ہے۔ جبکہ ملک بھر میں ہر صوبہ اپنی مرضی کے تحت پالیسی اور لاک ڈاؤن کا نفاذ کررہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران کئی بار ڈاکٹروں اور ماہرین نے ٹی وی چینل پر پریس کانفرنس کے ذریعے حکومت کو متنبہ بھی کیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے باعث ہسپتالوں پر خاصا بوجھ پڑے گا جسے اٹھانے کے لیے ہسپتال تیار نہیں ہیں۔
پاکستان میں حکومت نے لاک ڈاؤن ایک ایسے وقت میں ختم کیا ہے جب ملک بھر سے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
اس بارے میں وزیر اعظم عمران خان نے 7 مئی کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد قوم سے خطاب میں کہا کہ اگر لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد تیار کیے گئے ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو لاک ڈاؤن دوبارہ بحال کردیا جائے گا۔ لیکن آج سینیٹ کے اجلاس میں اس بارے میں بحث رہی کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کیوں کی گئی۔
سینیٹرز کی جانب سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وائرس کا علاج لاک ڈاؤن کرنے سے نہیں بلکہ ویکسین سے آئے گا۔ ’ویکسین کی ایجاد میں اٹھارہ ماہ سے دو سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کوئی کنفیوژن نہیں ہے۔ حکومت کی حکمتِ عملی خاصی واضح ہے۔‘
اس کے علاوہ پاکستان میں اپوزیشن اراکین نے کورونا وائرس سے متعلق چین پر لگنے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
سینیٹ کا اجلاس جمعرات بارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے۔