اب امریکی صدر ٹرمپ کا روزانہ کورونا ٹیسٹ ہوگا:وائٹ ہاؤس

دنیا میں کورونا وائرس سے 38 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر جبکہ دو لاکھ 70 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ جرمنی کی ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے چین کی کسی لیبارٹری میں بنائے جانے کے الزامات مشکوک ہیں اور یہ امریکہ کی بیماری سے نمٹنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یورپ سے تازہ ترین

    میرکل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جرمنی نے اپنا لاک ڈاؤن میں مزید نرمیاں پیدا کر دی ہیں جبکہ روسی ڈاکٹر اٹلی سے واپس چلے گئے۔

    یوروپ کی تازہ ترین صورتحال:

    جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کا کہنا ہے کہ اب جرمنی میں تمام دکانیں کھولی جا سکتی ہیں۔ اب لوگ عوامی جگہوں پر ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں اور کھا پی سکتے ہیں۔ اب لوگ کیئرہومز میں اپنے رشتے داروں سے ملنے جا سکتے ہیں۔

    جرمنی میں گرمیوں کی تعطیلات سے پہلے بچے سکول بھی جا سکیں گے یعنی تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔

    سب سے بڑھ کر یہ اب جرمنی کی یورپ کی سب سے بڑی فٹ بال لیگ حکومتی اجازت نامے کے بعد اس مہینے کے اختتام پر دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

    اس متعلق حکام باقاعدہ کسی تاریخ کا اعلان جمعرات کو کریں گے۔

    روس سے محبت کے ساتھ

    روس اب اٹلی سے اپنی میڈیکل ٹیموں کو واپس لے جارہا ہے۔

    روس نے مارچ میں اٹلی میں کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے میڈیکل شعبے کے اپنے 100 ماہرین اٹلی بھیجے تھے۔ روس نے اس مشن کو روس سے محبت کے ساتھ کا نام دیا تھا۔

    سپین: ایمرجسنی میں دو ہفتوں کے لیے توسیع

    سپین کی پارلیمنٹ نے ہنگامی حالت میں مزید دو ہفتوں کے لیے توسیع کر دی ہے۔ اس دوران حکومت کو لاک ڈاؤن میں نرمی لانے کے بعد نقل و حمل کو محدود رکھنے جیسے اختیارات حاصل ہوں گے۔

    اور اگر آپ بھول گئے ہوں تو- بریگزٹ پر پس پردہ ابھی بھی بات چیت جاری ہے ، جس میں یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان ان کے مسائل کا شکار نئے تعلقات سے متعلق بات ہوئی ہے۔

  2. مائیک پومپیو نے وائرس کے اخراج سے متعلق دونوں باتیں کر دیں

    امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ابھی امریکہ کو اس بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں کہ کورونا وائرس کا آغاز کیسے ہوا۔

    مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وائرس کے اخراج سے متعلق مکمل یقین نہیں ہے مگر ایسے شواہد موجود ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ ایک لیبارٹری سے خارج ہوا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں بیانات درست ہو سکتے ہیں اور کہا کہ اس وجہ سے انھوں نے دونوں کو ایک ساتھ بیان کر دیا ہے۔

    اتوار کو امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ انھوں نے بہت سے ایسے شواہد دیکھے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ یہ وائرس ووہان کی لیبارٹری سے باہر نکل کر دنیا میں پھیلا۔

    مائیک پومپیو کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے چین نے ان سے شواہد پیش کرنے سے متعلق کہا تھا۔

    انٹلیجنس کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ اس وائرس کیے نقطہ آغاز کے بارے میں پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ بات واضح ہے کہ یہ وائرس انسان کا یا جینیاتی طور پر بنایا ہوا نہیں ہے۔

    منگل کو پینٹاگون نے واضح کیا تھا کہ اس کے پاس کوئی حتمی ثبوت نہیں ہیں کہ کووڈ-19 کا جان بوجھ کر لیب سے اخراج کیا گیا تھا۔

    وائرس کی ابتدا کے بارے میں اپنے بیانات پر بی بی سی کی باربرا پلیٹ عشر کے ایک سوال کے جواب میں مائیک پومپیو نے کہا کہ مختلف امریکی عہدیداروں کے جوابات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

    ہم سب اس معاملے کو صاف واضح کرنا چاہتے ہیں۔

    باربرا پلیٹ عشر کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے تبصرے نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تنقید کا مرکز بننے والی بحث میں نئے سوالات کا اضافہ کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک نے چین کے رویے پر تنقید کی تھی اور کچھ ممالک نے تو اس پر چین کے احتساب کی بھی بات کی تھی۔

    لیکن ناقدین کے خیال میں ٹرمپ انتظامیہ چین کے خلاف اس طرح سخت تنقید سے اپنی اس وائرس کے خلاف سست حکمت عملی سے بھی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔

  3. بی بی سی کے لائیو کوریج جاری ہے

    دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 37 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 60 کے قریب ہے۔

    بدھ کو کیا کچھ ہوا، اس کی تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں