اب امریکی صدر ٹرمپ کا روزانہ کورونا ٹیسٹ ہوگا:وائٹ ہاؤس
دنیا میں کورونا وائرس سے 38 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر جبکہ دو لاکھ 70 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ جرمنی کی ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے چین کی کسی لیبارٹری میں بنائے جانے کے الزامات مشکوک ہیں اور یہ امریکہ کی بیماری سے نمٹنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
لائیو کوریج
امریکہ میں ٹیسٹ کے بغیر ڈرائیونگ لائسینس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر ابھی آپ گاڑی چلانا سیکھ رہے تھے اور کورونا کی پابندی کی وجہ سے پریشیان ہیں کہ کیا ہو گا تو آپ اس پریشانی میں اکیلے نہیں ہیں۔
لیکن اگر آپ امریکی ریاست جارجیا کے مکین ہیں تو آپ کے لیے اچھی خبر ہے۔ وہاں تقریباً 20 ہزار ایسے افراد کو جو ابھی گاڑی چلانا سیکھ رہے تھے عملی طور پر ٹیسٹ لیے بغیر ہی ڈرائیونگ لائسنس دے دیا گیا ہے۔
لیکن اس فیصلے سے ہر کوئی خوش نہیں کیونکہ بہت سے لوگ اب سڑک پر عدم تحفظ کا شکار ہوں گے۔
ایک آن لائن پٹیشن میں بھی ٹیسٹ لیے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اب تک اس پٹیشن پر 1000 افراد نے سائن بھی کیے ہیں۔
شمالی کینیڈا میں داخلے پر پابندی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سی بی سی نیوز کے مطابق شمالی کینیڈا کے علاقوں میں بیرونی افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور 100 سے زیادہ افراد کو وہاں داخل ہونے سے روکا گیا۔
یوکون، نوناوت اور دیگر شمالی علاقوں میں باہر سے آنے والوں کو روکا جا رہا ہے ماسوائے ضروری کام کے لیے آنے والے، گھروں کو لوٹنے والے اور وہ جنھیں معاہدے کی رو سے حقوق حاصل ہیں۔
کچھ مکینوں کو بھی داخل ہونے سے روکا گیا ہےاور وہ سرحدی صوبے پر اپنی درخواستوں کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔
کورونا وائرس: کیا مجھے حمل کے دوران خطرہ ہے؟
خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے میں جدید جراثیم کُش گیٹ نصب
،تصویر کا ذریعہ@hsharifain
العربیہ نیوز نے سعودی پریس ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات مکہ کی مسجد الحرام اور مدینہ میں مسجد نبوی میں داخلے کے لیے جدید جراثیم کش گیٹ نصب کر دیے گئے ہیں۔
اب ان مساجد میں داخل ہونے والے ہر شخص کو ان سے گزرنا ہو گا۔ یہ جراثیم کش سپرے ان کے سر سے پاؤں تک کیا جائے گا۔
جمعرات کو جنرل پریزیڈینسی برائے امور کعبہ و مسجد نبوی کی جانب سے ان جدید داخلی گزرگاہوں کا افتتاح کیا گیا۔
یہاں ایسے کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں جن سے ایک ہی وقت میں مسجد کے احاطے میں داخل ہونے والے 25 لوگوں کے جسم کا درجہ حراست چیک کیا جا سکتا ہے۔
یہ کیمرے رواں ماہ کے آغاز میں دونوں مساجد میں نصب کیے گئے تھے۔
یہ دونوں مساجد عام عوام اور غیر ملکی زائرین کے لیے بند ہیں۔
برطانوی جیلوں میں کیا صورتحال ہے؟
وزیر خارجہ سے بریفنگ میں یہ سوال پوچھا گیا کہ برطانیہ میں موجود جیلوں میں قیدیوں کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا اس حوالے سے بھی منصوبہ موجود ہے اور اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم پراعتماد ہیں کہ صورتحال قابو میں ہے۔
ہم اگلے مرحلے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں: راب
وزیر خارجہ ڈومینک راب کا کہنا ہے کہ ہم سب کے لیے برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد تشویشناک رہی ہے اور بحران کے دوران کیئر ہومز میں حفاظتی لباس اور سامان ہمارے لیے امتحان رہا ہے۔
انھوں نے آج ہونے والے کابینہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کو سائنسی بنیادوں پر انفیکشن کے تناسب کے حوالے سے ایڈوائس کے بارے میں تازہ ترین صورتحال بتائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کے انفیکشن ریٹ کا تناسب اب اعشاریہ پانچ اور اعشاریہ نو کے درمیان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ہم برطانیہ مں پابندیوں پر سختی سے کاربند رہے اس لیے اب برطانیہ اگلے مرحلے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔
بریکنگ, برطانیہ میں مزید 539 ہلاکتیں
برطانوی حکام نے تازہ بریفنگ کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے باعث مزید 539 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ اب ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 30615 ہو گئی ہے۔
’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران برطانوی وقت کے مطابق سات مئی کی صبح نو بجے تک برطانیہ میں کورونا کے 86583 تشخیصی ٹیسٹ ہوئے۔ یہ گذشتہ روز سے 17 ہزار زیادہ ٹیسٹ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ پانچواں دن ہے کہ حکومت اپنے ہدف کے مطابق ایک لاکھ ٹیسٹ نہیں کر سکی۔
حکام 30 اپریل کو یہ ہدف حاصل کر سکے تھے تاہم یکم مئی کے بعد سے یہ تعداد پھر سے کم ہو گئی۔
اب تک ملک میں 15 لاکھ ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔
گھر کےدروازے پر سب تیار کھڑے ہیں لیکن جانا کہیں نہیں
،تصویر کا ذریعہRobin Sinha
یہ تصاویر رابن سنہا نے لی ہیں۔ انھوں نے اپنے ہمسایوں سے کہا کہ وہ تیار ہو کر اپنے اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوں۔ تصویر میں بالکل ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ یہ لوگ کہیں جا رہے ہیں لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ برطانوی شہری نہ کسی پارٹی میں جا سکتے ہیں نہ ہی باہر تفریح کے لیے گھوم پھر سکتے ہیں۔
طبّی سامان کے بہانے 285 کلو کوکین کی سپلائی کی کوشش
برطانیہ میں داخلے کی کوشش کرنے والی ایک وین سے ڈھائی کروڑ برطانوی مالیت کی کوکین پکڑی گئی ہے۔ بظاہر وین کے ڈرائیور کی جانب سے طبّی سامان لے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم تلاشی لیے جانے پر سرحدی فورس کے افسران کو 285 کلو نشہ آور دوا ملی۔
وزارت داخلہ نے جمعرات کوبتایا کہ اس وین کو جو بیلجیئم میں رجسٹرڈ تھی برطانوی باڈر کنٹرول فورس نے شمالی فرانس کے علاقے کوکولس کی سرحد پر پکڑا۔
ماسکو میں لاک ڈاؤن میں مزید توسیع
،تصویر کا ذریعہAFP
ماسکو کے میئر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے روسی دارالحکومت میں لگی پابندیوں کو 31 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔
سرگئی سوبیانن نے اپنے ذاتی بلاگ پر اس بات کا اعلان کیا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 12 مئی سے کچھ پابندیوں میں نرمی بھی کی جائے گی جس میں صنعتی اور تعمیراتی شعبے میں کام پر واپسی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کھیل، ریسٹورنٹس اور تھیٹر کی سہولیات کو کھول دینا بہت جلد بازی ہو گی۔
ماسکو روس میں کورونا کی وبا کا مرکز ہے۔ ملک کے کل 177160 کیسوں میں سے 92676 ماسکو میں موجود ہیں۔
شہر کے میئر کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کے اندازوں کے مطابق شہر میں انفیکشن کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق ملک میں اب تک کورونا کی وجہ سے 1625 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں سے 900 ہلاکتیں دارالحکومت ماسکو میں ہوئیں۔
سویڈن میں کل 3040 ہلاکتیں، سختی نہ کرنے پر حکام پر تنقید
،تصویر کا ذریعہEPA
سویڈن میں کورونا وائرس کی وجہ سے مزید 99 ہلاکتوں کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 3040 ہو گئی ہے۔
ملک میں محکمہ صحت سے منسلک سینئر اہلکار اندرس تیگنل کو ہمسایہ ممالک کے برعکس لاک ڈاؤن کی سخت پابندیاں نافذ نہ کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم انھوں نے جمعرات کو بھی بریفنگ کے دوران ملک کی جانب سے اپنائی گئی پالیسی کا دفاع کیا۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارا صحت کا نظام اپنی صلاحیت کے تحت کورونا کو جس قدر کنٹرول کر سکتا تھا اس لحاظ سے ہم بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔
سویڈن میں اب بھی لوگ قحبہ خانوں اور ریٹورنٹس میں جا سکتے ہیں۔ لیکن انھیں حکام کی جانب سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ سماجی دوری اور صفائی کے اصولوں کی سختی سے پابندی کریں۔ وہاں 16 سال سے کم عمر بچے سکول بھی جا رہے ہیں۔
ہسپانوی فلو: 1918 کی عالمی وبا کے بعد دنیا کیسے بدلی تھی؟
تنہائی میں الگ تھلگ رہنے کے مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟
جاپان میں کورونا کے مریضوں کے لیے دوا کے استعمال کی اجازت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جاپان نے وائرس سے بچاؤ کی دوا ریمڈیزائور (Remdesivir) کو کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس ماہ میں ایک اور دوا ایویگان (Avigan)کے استعمال کی منظوری کے معاملے کو بھی دیکھ رہی ہے۔
جاپان وہ دوسرا ملک ہے جس نے کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے ریمڈیزائور کے استعمال کی اجازت دی ہے۔
گذشتہ ہفتے امریکہ کی جانب سے ایمرجنسی کی صورت میں اس دوا کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔
اس دوا کے استعمال کے تجربے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس سے کورونا وائرس کے مریض کو صحت یابی میں کم وقت لگتا ہے۔ یہ دوا ایبولا کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہو چکی ہے۔
بریکنگ, انگلینڈ میں مزید 383 اموات
این ایچ ایس کی جانب سے انگلینڈ میں کورونا وائرس کے مزید 383 مریضوں کی ہلاکت کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بعد لندن کے ہسپتالوں میں کل ہلاکتوں کی تعداد 22432 ہو گئی ہے۔
ویلز میں مزید 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد کورونا کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 1062 ہو گئی ہے۔
اس سے پہلے سکاٹ لینڈ کے ہسپتالوں میں مزید 59 اموات کی رپورٹ دی گئی تھی۔
امریکی گھروں میں بڑھتی ہوئی بھوک
امریکہ ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق ہر 5 میں سے ایک گھر کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔
کورونا کی وبا سے پیدا ہونے والے حالات نے امریکہ میں تین کروڑ سے زیادہ لوگوں کو بیروزگار کر دیا ہے اور یہ لوگ اب کھانے پینے کے لیے فوڈ بینک اور خیراتی اداروں سے رجوع کر رہے ہیں۔
بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے مطابق اپریل کے آخر تک ہر 5 میں سے 2 بارہ برس سے چھوٹے والے گھروں کو خوراک کی کمی کے شکار گھر قراد دیا گیا تھا۔
اس کا مطلب ہے کہ ان گھروں میں لوگوں نے بتایا تھا کہ ان کے پاس کھانا ختم ہو گیا ہے اور مزید کھانا خریدنے کے پیسے نھیں ہیں یا یہ کہ کم پیسوں کی وجہ سے بچے کم کھا رہے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق یہ صورتحال سن 2008 میں اقتصادی بحران کے دوران صورتحال سے تین گنا زیادہ خراب ہے۔
سکاٹ لینڈ میں مزید 59 ہلاکتیں
سکاٹ لینڈ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 59 مزید ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں اور اب وہاں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 1762 ہو گئی ہے۔
اس میں کیئر ہوم اور ہسپتال سے باہر ہونے والی ہلاکتیں شامل نھیں ہیں۔
امریکہ: بے روزگاری الاؤنس کے لیے مزید 32 لاکھ درخواستیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تقریباً 32 لاکھ امریکیوں نےگذشتہ ہفتےبے روزگاری کی وجہ سے حکومتی الاؤنس لینے کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔
یوں ملک میں مارچ کے وسط سے کورونا وائرس کی وجہ سے کاروبار زندگی معطل ہونے کی وجہ سےاب تک بے روز گار ہونے والوں کی تعداد 33 ملین کے قریب پہنچ گئی ہے۔
جمعرات کو لیبر ڈیپارٹمنٹ کی ہفتہ وار رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار پہلے سامنے آنے والے نمبروں سے کم ہیں۔ اس سے پہلے بے روز گار افراد کی تعداد 38 لاکھ بتائی گئی تھی۔
یہ تعداد حالیہ ہفتوں میں کم ہوئی ہے لیکن امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انھیں سنہ 2008 میں امریکہ میں آنے والے مالیاتی بحران سے بھی موازنہ کیا جائے تو یہ اعداد غیر معمولی ہیں۔
جمعے کو اپریل یعنی رواں ماہ کے دوران امریکہ میں بے روز گار افراد کی تعداد کے بارے میں ڈیٹا سامنے آنے کی توقع ہے۔
سینٹ لوئس میں یو ایس فیڈرل ریزرو بینک کے صدر جیمز بلرڈ نے سی این بی سی کو بتایا کہ جمعے کو آنے والی رپورٹ ممکنہ طور پر امریکی تاریخ کی بدترین رپورٹ ہو گی۔
لاک ڈاؤن میں نرمی نہایت احتیاط سے کرنی ہو گی: بورس جانسن
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کابینہ سے کہا ہے کہ حکومت کو لاک ڈاؤن میں کسی بھی قسم کی نرمی کرنے میں نہایت احتیاط برتنا ہو گی۔
10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ایسا کچھ نہیں کرے گی جس سے وبا کی وجہ سے کیسز میں دوسری مرتبہ انتہائی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر قدم سائنس اور ڈیٹا کی بنیاد پر ملنے والی معاونت کے تحت اٹھایا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت سماجی دوری میں کمی کے اثرات کو بہت غور سے دیکھ رہی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ ان پابندیوں کو سخت کرنے میں ہچکچاہت کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔
بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے اگلے ہفتے لاک ڈاؤن میں کی جانے والی نرمی بہت ہی محدود ہو گی۔
کورونا سے سیاہ فاموں میں دوگنّی ہلاکتیں
برطانیہ میں قومی شماریات کے دفتر سے جاری نئے تجزیے کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے سفید فام مردوں اور عورتوں کی نسبت سیاہ فام مرد و خواتین میں تقریباً دو گنّی اموات ہو رہی ہیں۔
انگلینڈ اور ویلز میں اگر کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے غیر حتمی اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو نسلی اعتبار سے یہ بات بہت واضح ہیں۔
یہاں کی آبادی میں سیاہ فاموں کی تعداد فقط تین فیصد ہے لیکن کورونا وائرس کے شکار ہونے والوں میں سیاہ فام آبادی کا تناسب چھ فیصد ہے۔
مگر اس کی وجہ کیا ہے؟
یہ تعداد ہمیں اس کی وجہ نہیں بتاتی۔ اس میں آپ کو ان کمیونیٹیز میں فرق کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے جو اس کی وضاحت کرسکتی ہیں۔
سیاہ فام، ایشیائی یا نسلی اقلیتیں زیادہ تر شہروں میں آباد ہیں جو وبا کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن سفید فام کمیونٹیز میں زیادہ تر عمر رسیدہ ہیں اور کورونا وائرس نے ضعیف افراد کو بھی بہت زیادہ نشانہ بنایا ہے۔
اگر آپ عمر کے فرق کو دیکھیں اور دوسروں کو نہ دیکھیں، ممکنہ طور پر سیاہ فاموں کی ہلاکت چار گنّا زیادہ ہو رہی ہے۔
اگر آپ یہ بھی مدنظر رکھیں کہ لوگ کن علاقوں میں رہتے ہیں تو یہ فرق کم ہو گا لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں سیاہ فاموں کی ہلاکت ممکنہ طور پر دوگّنی سے زیادہ ہو گی۔
تجزیے کے مطابق اگر ہم عمر، لوگ کہاں رہتے ہیں، ان کی صحت اور ان کی زندگی میں کچھ کمیوں کو نظر انداز بھی کر دیں تو ہلاکتوں کی شرح میں یہ فرق قائم رہتا ہے۔
بی بی سی کے شماریات کے سربراہ نے کھا کے یہ تجزیہ مختلف کمیونیٹیز میں ہلاکتوں کی شرح کے فرق کو پوری طرح نھیں سمجھاتا کیونکہ اس میں لوگوں کی موجودہ صحت، آیا وہ بہت سے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں، کیا وہ اپنے فرنٹ لائن رول کی وجہ سے یا کمیونیٹیز میں کسی دوسرے فرق کی وجہ کورونا کا شکار ہوئے۔