اب امریکی صدر ٹرمپ کا روزانہ کورونا ٹیسٹ ہوگا:وائٹ ہاؤس

دنیا میں کورونا وائرس سے 38 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر جبکہ دو لاکھ 70 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ جرمنی کی ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے چین کی کسی لیبارٹری میں بنائے جانے کے الزامات مشکوک ہیں اور یہ امریکہ کی بیماری سے نمٹنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ایسے طبی مشورے جو آپ کی جان لے سکتے ہیں, ریئلیٹی چیک

    mustard seeds

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس وقت انٹرنیٹ ایسے بے شمار طبی مشوروں سے بھرا پڑا ہے جن کا کوئی سائنسی پس منظر نہیں اور یہ آپ کے لیے جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں:

    • اس بات پر بھی یقین مت کریں کہ الکوحل پینے سے وائرس رک جائے گا۔
    • اس بات پر بھی یقین مت کریں کہ زیادہ دیر تک سانس روکنے سے پتا چل جاتا ہے کہ آپ کو وائرس لاحق ہے یا نہیں۔
    • اس بات پر بھی یقین مت کریں کہ مسٹرڈ آئل (سرسوں کا تیل) اس کا علاج کر سکتا ہے۔
    • چونکہ جراثیم کش محلول کسی بھی سطح کو صاف کر سکتے ہیں اس لیے اس بات پر بھی یقین مت کریں کہ انہیں جسم میں داخل کرنے سے بھی فائدہ ہوگا۔ ایسا کرنا آپ کی جان لے سکتا ہے۔
  2. بنگلہ دیش: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد مساجد کھول دی گئیں

    bdesh

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش میں جہاں کووڈ 19 کے 12000 مصدقہ کیسز ہیں اس کے باعث 200 ہلاکتیں ہو چکی ہیں وہاں اجتماعی نمازوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    ڈھاکہ ٹریبیون کے نامہ نگار کے مطابق دارالحکومت ڈھاکہ میں کئی مساجد میں کھولے جانے کے لیے بتائے گئے ضوابط پر عمل نہیں کیا جا رہا۔

    بنگلہ دیش میں ایک ماہ کے بعد مساجد کھولی گئی ہیں۔

    اخبار کے مطابق زیادہ تر مساجد میں داخلے سے قبل ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے انتظامات نہیں جبکہ کئی لوگ ماسک پہن کر بھی نہیں آئے۔

    اپریل میں بھی ایک امام مسجد میں کورونا مثبت آیا تھا وہ کم از کم دو درجن نمازیوں کی امامت کرتے رہے۔ اس واقعے کے بعد حکام نے لوگوں سے گھروں پر رہنے کو کہا اور مساجد میں اجتماعات پر پابندی لگائی۔

  3. چین وائرس کی تحقیقات میں ’ڈبلیو ایچ او کا ساتھ دے گا‘

    china

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    چین کا کہنا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت کو وبا کے آغاز سے متعلق معلومات دینے کی کوشش کر رہا ہے تاہم یہ تحقیقات سائنسی ہونی چاہیئں نہ کہ سیاسی مقاصد کے تحت۔

    امریکہ نے چین پر وائرس کے آغاز سے متعلق معلومات کے حوالے سے شفاف معلومات نہ دینے اور وبا کو جلد روکنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

    بیجنگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور حال ہی میں اس نے کہا کہ یہ وائرس شاید چین کے باہر پیدا ہوا تھا۔

    چین کی وزرات خارجہ کے ترجمان نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے شواہد بنا کر ایک جھوٹ کو چپھانے کے لیے دوسرا جھوٹ بول رہے ہیں۔

    چین نے گذشتہ روز ایک نئے کیس کی تصدیق کی جبکہ کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

  4. یہ آر نمبر کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟

    کورورنا وائرس کے خطرے کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ لیکن نہایت اہم چیز ریپروڈکشن نمبر ہے جسے عرف عام میں اس کے مخفف ’آر‘ سے شناخت کیا جاتا ہے۔

    یہ نمبر دنیا بھر میں حکومتوں کی رہنمائی کر رہا ہے کہ وبا کے دوران انسانی جانیں بچانے کے لیے انھیں کیا کرنا چاہیے اور یہ ہمیں ایسے اشارے دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کہ کس حد تک لاک ڈاؤن اٹھایا جا سکتا ہے۔

    مزید جاننے کے لیے دیکھیے یہ ڈیجیٹل ویڈیو۔

    ،ویڈیو کیپشنکورونا وائرس: یہ آر نمبر کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
  5. اگر میں حاملہ ہوں تو کیا مجھے کام پر جانا چاہیے؟

    work

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگر آپ حاملہ ہیں اور گھر سے کام کر سکتی ہیں تو ایسا ہی کریں۔

    اگر حمل کو 28 ہفتے سے زیادہ ہوچکے ہیں اور آپ کو کوئی دوسرے طبی مسائل بھی ہیں تو پھر یہ بہت اہم ہے کہ آپ سماجی رابطوں سے گریز کریں۔

    اگر آپ کے حمل کو 28 ہفتے پورے نہیں ہوئے تو آپ دفتر میں کام جاری رکھ سکتی ہیں بشرطیکہ آپ ساری حفاظتی تدابیر پر عمل کریں اور دوسروں سے کم از کم 2 میٹر کے فاصلہ پر رہیں۔

  6. بریکنگ, دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز 39 لاکھ کے قریب

    covid

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 3846861 ہو گئی ہے۔

    کووڈ 19 نامی وبا سے اب تک دنیا بھر میں 268584 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    اس وقت امریکہ 75670 ہلاکتوں کے ساتھ سر فہرست ہے۔ یہ تعداد برطانیہ کے مقابلے میں دو گنا ہے جس کا نمبر دوسرا ہے۔

    • برطانیہ میں کووڈ 19 کے باعث 30689 افراد ہلاک ہوئے
    • اس کے بعد اٹلی کا نمبر ہیں جہاں 29958 ہلاکتیں ہوئیں
    • سپین میں 26070 لوگ ہلاک ہوئے
    • فرانس میں 25990 ہلاکتیں

    چین میں سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 4637 بتائی گئی ہے۔ چین سے ہی دسمبر میں اس وائرس کا آغاز ہوا اور ناقدین کا کہنا ہے کہ چین میں ہلاکتوں کی تعداد معلوم تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

  7. کورونا وائرس: انڈیا میں جان لیوا انفیکشن منتقل کرنے پر عمر قید کی سزا

    prison

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش نے ایک جز وقتی قانون منظور کیا ہے جس کے مطابق اگر کسی شخص کی جانب بوجھ کر کسی شحض کو کووڈ 19 سے متاثر کرنے کی وجہ سے کسی کی ہلاکت ہوئی تو اسے سات سال قید سے عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

    بدھ کو منظور کیے جانے والے اس قانون کے تحت جان بوجھ کر وائرس منتقل کرنے کی سزا دو سے پانچ سال کی قید ہے۔

    تاہم اس جان بوجھ کر پھیلائے گئے انفیکشن کی وجہ سے اگر کسی کی جان چلی جاتی ہے تو اس کی سزا سخت ہوگی جو سات سال قید کے ساتھ ساتھ 3970 سے 6610 ڈالر جرمانے تک ہوگی۔

    کچھ ماہرین صحت نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے ریاست کی جانب سے سخت کارروائیاں کیے جانے کا امکان بڑھ جائے گا۔

    تاہم حکام نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ اگر ان میں سے کسی کو انفیکشن ہوتا ہے تو وہ متعلقہ اداروں کو بتائیں۔

    انڈیا میں اس وقت 38000 انفیکشنز ہیں جبکہ 1886 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

  8. آسٹریلیا میں لاک ڈاؤن کے خاتمے کے لیے تین مرحلوں کا منصوبہ

    sydney

    ،تصویر کا ذریعہgett

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے اس ہفتے کے آخر میں لاک ڈاؤن کے خاتمے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

    یہ تین مرحلوں پر مشتمل منصوبہ ہوگا۔ پہلا مرحلہ آج جمعے سے شروع ہوگا جس کے دوران

    • کسی بھی گھر میں پانچ مہمانوں کی اجازت ہوگی۔ جبکہ باہر 10 افراد کے جمع ہونے کی اجازت ہو گی۔
    • ریستوران، کیفے اور ریٹیل دکانیں کھل جائیں گی۔
    • اگر ممکن ہو تو گھروں سے دفاتر کے کام جاری رکھیں گے
    • سکول اور کھیل کے میدان کھل جائیں گے
    • اندورون شہر سفر کی اجازت ہوگی۔

    دوسرے مرحلے میں 20 افراد کے اجتماع کی اجازت ہوگی۔ اور سینیما، جم، بیوٹی سیلون اور کھیلوں کے مقامات کھولنے کی اجازت ہوگی۔

    تیسرے مرحلے میں 100 افراد کے مجمعے کی اجازت دی جائے گی۔

    ملک کی تمام ریاستوں کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنے اپنے حالات کے مطابق اس منصوبے پر عمل کریں۔ کوئنز لینڈ اور ناردرن ٹیرٹری نے کچھ چیزوں پر عمل بھی شروع کر دیا ہے۔

    وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ’ممکن ہے کہ کہیں وبا پھوٹے، مزید کیسز سامنے آئیں، ضروری نہیں سب منصوبے کے مطابق ہو۔‘

    ’لیکن ہم نہیں چاہیے کہ ہمیں پیچھے جانے کا خوف آگے بڑھنے سے روک دے۔‘

  9. بریکنگ, آئس لینڈ کورونا وائرس سے تقریباً پاک

    iceland

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آئس لینڈ کا کہنا ہے کہ اس نے کورونا وائرس کی وبا کو ملک سے تقریباً ختم کر دیا ہے۔

    گذشتہ ہفتے صرف دو نئے کسیز سامنے آئے جبکہ مریضوں میں 97 فیصد صحت یاب ہو گئے۔

    ملک میں چیف ماہر وبا تھرولفر گڈینسن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں خوش کن حیرت ہے کہ آئس لینڈ میں وبا بہت جلد ختم ہو گئی۔‘

    تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں محتاط رہنا ہو گا اور مزید کسی وبا کے پھوٹنے سے بچنے کے لیے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا۔

    آئس لینڈ نے آبادی میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کیے اور جس کسی نے بھی ٹیسٹ کروانا چاہے اس کے ٹیسٹ کیے گئے۔

    آبادی کے بے ترتیب ٹیسٹ کرنے پر لگ بھگ کسی میں بھی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

  10. کورونا وائرس: برازیل کی ’معیشت ایک ماہ میں تباہ ہو جائے گی‘

    Brazil

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    برازیل کے وزیر اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ لاک ڈاؤن اقدامات کے باعث ملکی معشیت کو تباہی کا خطرہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’گھروں پر رہنے کے احکامات کی وجہ سے خوراک کی کمی اور سماجی بد امنی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔‘

    وہ سپریم کورٹ کے باہر تاجروں کے اس مظاہرے میں شامل ہوئے جو وہ ریاستی گورنرز کی جانب سے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے خلاف کر رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا ’30 دن کے اندر اندر خوراک کا سامان ختم ہونے لگے گا اور پیداوار بد انتظامی کا شکار ہو جائے گی، جس کی وجہ سے معاشی نظام تباہ ہو جائے گا۔‘

    برازیل جنوبی امریکہ میں اس وبا کا مرکز ہے جہاں 130000 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 9000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ملک اس حوالے سے بری طرح بٹا ہوا ہے کہ لاک ڈاؤن کیا جائے یا معاشی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔

  11. لاک ڈاؤن میں ہر کوئی ’بنانا بریڈ‘ کیوں ڈھونڈ رہا ہے؟

  12. انڈیا کی شہریوں کے انخلا آپریشن کی پہلی پرواز وطن پہنچ گئی

    flights

    ،تصویر کا ذریعہManoj Mundackal

    بیرون ملک پھنسے 300 سے زائد انڈین شہری دبئی سے آنے والی پرواز کے ذریعے ملک واپس پہنچ گئے ہیں۔

    انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ آنے والی دو پروازوں میں یہ افراد جمعرات کی رات پہچنے اور انہیں قرنطینہ بھجوا دیا گیا ہے۔

    ایئر انڈیا کی خصوصی 64 پروازوں کے ذریعے 15000 انڈینز اگلے ایک ہفتے کے دوران 12 مخلتف ممالک سے واپس آئیں ہیں۔

    ان پروازوں سے آنے والے مسافر اپنے کرائے کی رقم ادا کریں گے اور ان کے ٹیسٹ بھی کیے جائیں گے۔

    برطانیہ اور امریکہ کے لیے پروازیں عملے کے کووڈ 19 ٹیسٹ کی رپورٹس بر وقت نہ آنے کی وجے سے تاخیر کا شکار ہوئیں۔

  13. کورونا وائرس: ایران میں ہلاکتوں کے حوالے سے خاموشی کے احکامات, سیویش مہدی اردالان، بی بی سی فارسی

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے مرکزی رجسٹرار دفتر نے تصدیق کی ہے کہ انہیں احکامات دیے گئے ہیں کہ ایران میں گذشتہ تین ماہ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد شائع نہ کی جائے۔

    اس کے بعد ایران میں کورونا وائرس کے سرکاری اعداد و شمار پر مزید شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔

    ایران میں اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 19 فروری کو پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد 6418 ہے جبکہ کورونا وائرس ے متاثرین کی مصدقہ تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔

    ایران میں متاثرین کی اصل تعداد کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بتائی گئی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔

    گذشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک پارلیمانی رپورٹ کے مطابق اندازہ لگایا گیا کہ متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 10 گنا زیادہ ہے۔

    صدر روحانی کے حکومت کہتی ہے کہ ان کے بہتر انتظامی اقدامات سے وبا کو پھیلنے سے روکنے میں مدد ملی اور ہلاکتیں بھی زیادہ نہیں ہوئیں۔

  14. کیا موٹاپا کورونا وائرس کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے؟

    obesity

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ موٹاپا امراضِ قلب سے لے کر کینسر اور ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

    تاہم نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ موٹاپے کے شکار کورونا وائرس کے مریضوں کو کسی اور شخص سے زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    آپ کا وزن جتنا زیادہ ہوگا آپ میں اتنی ہی زیادہ چربی ہوگی ہے اور آپ کے پھیپھڑے اتنے ہی کمزور ہوں گے۔

    اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم کے لیے خون کی گردش کو یقینی بنانا زیادہ مشکل ہے اور یہ آپ کے جسم پر بوجھ ڈالتا ہے۔ اگر ایسے کسی شخص کو کورونا وائرس کا انفیکشن ہوجائے تو یہ بہت تشویشناک صورتحال بن سکتی ہے۔

    یونیورسٹی آف ریڈنگ کے ڈاکٹر دیان سیلایا بتاتے ہیں کہ ایسے زیادہ تر مریضوں کا جسم خون کو مختلف اعضا تک پہنچا نہیں پاتا، جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

  15. امریکی صدر ٹرمپ کا ووہان کی لیب پر ایک بار پھر شک کا اظہار، ’کچھ ہوا تھا‘

    china

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس شبہ کا اظہار کیا ہے کہ چین کی ووہان لیب میں کورونا وائرس کے حوالے سے ’کچھ ہوا‘ تھا۔

    ریاست ٹیکساس کے گورنر سے ملاقات کے دوران انھوں نے اس خیال کو دوہرایا اور کہا کہ ’شاید کسی کی نااہلی تھی، کوئی بے وقوف تھا۔‘

    اس سے قبل امریکہ کے سیکریٹری سٹیٹ مائیک پومپیو بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ بہت ’واضح شواہد‘ دیکھ چکے ہیں جو یہ ثابت کرتا ہے کہ کورونا وائرس کی شروعات ووہان انسٹٹیوٹ آف وائرولوجی میں ہوئی تھی۔

    صدر ٹرمپ پہلے ہی یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ ایک رپورٹ جاری کریں گے جس میں اس وبا کے پھیلاؤ میں چینی لیب کے کردار پر روشنی ڈالی جائے گی۔

    چین نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

  16. یورپ میں مجموعی اموات کی تعداد میں کمی کا رجحان، فرانس میں 178 اور اٹلی میں 274 افراد کی موت

    europe

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپ کے مختلف ممالک میں کئی سو افراد کی اموات کی تصدیق ہوئی تاہم مجموعی طور پر ہلاکتوں کے تناسب میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    فرانس: یورپ میں تیسرے سب سے زیادہ متاثرہ ملک فرانس میں 178 یومیہ اموات ریکارڈ کی گئیں جبکہ بدھ کو 278 ہلاکتیں سامنے آئی تھیں۔ اب ملک میں مجموعی طور پر 25987 افراد ہسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں فوت ہو چکے ہیں۔

    یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک کے وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس اور ملک کے شمال مشرقی حصوں میں لاک ڈاؤن بدستور نافذ رہے گا۔

    اٹلی: جنوبی یورپ میں اٹلی میں بھی اموات میں کمی دیکھنے میں آئی اور 24 گھنٹوں میں 274 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ہزار سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    اس وقت اٹلی میں کُل ہلاکتوں کی تعداد 29958 ہے جو کہ دنیا میں کسی بھی ملک میں تیسری سب سے زیادہ اموات ہیں۔

    سپین: اٹلی کے پڑوسی ملک سپین میں بھی اموات میں کمی نظر آئی اور گذشتہ 24 گھنٹوں میں 213 اموات ریکارڈ کی گئیں۔

    بدھ کی شب سپین کی پارلیمان نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے دورانیہ کو مزید دو ہفتوں کے لیے بڑھانے کی منظوری دی ہے۔ اب تک سپین میں 26 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یورپ میں سب سے کم اموات والے ممالک میں سے ایک پولینڈ میں 324 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ ملکمیں 22 نئے ہلاکتوں کے ساتھ کل تعداد 755 ہو گئی ہے۔

  17. کورونا نے روس کے خفیہ جوہری شہروں کو کیسے متاثر کیا

  18. صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے والے وائٹ ہاؤس کے اہلکار کا کورونا ٹیسٹ مثبت

    trumpg

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کورونا وائرس کے ہفتہ وار ٹیسٹ کے بجائے اب روزانہ ٹیسٹ ہوا کریں گے۔

    انھوں نے یہ بات اس خبر کے سامنے آنے کے بعد کی جس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے والے ایک اہلکار کا ٹیسٹ مثبت آیا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے آفس میں صحافیوں سے بات کرتے کہا کہ اُن کا اُس اہلکار سے زیادہ رابطہ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے بدھ اور جمعرات کو ٹیسٹ کروائے جو نیگیٹو آئے۔

    خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس میں کورونا وائرس سے متاثرہ شخص امریکی بحریہ کا اہلکار تھا اور وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ڈیوٹی ادا کرتا تھا۔

  19. یورپ میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات برطانیہ میں کیوں؟

  20. دنیا سے آج کی اہم خبریں

    • برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن میں نرمی کے عمل میں انتہائی احتیاط سے کام لے گی۔ وزیراعظم کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کا اعلان اتوار کو متوقع ہے۔
    • برطانوی حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں یہ پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس کےشکار ہونے والے سیاہ فام افراد کی تعداد سفید فام افراد سے دوگنّی ہے۔
    • فرانس اگلے ہفتے لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز کرے گا لیکن دارالحکومت پیرس میں یہ پابندیاں برقرار رہیں گی۔
    • امریکہ میں گذشتہ ہفتے تک بے روزگاری الاؤنس کے لیے مزید 33 لاکھ کے قریب درخواستیں دائر کی گئیں۔ مارچ کے وسط سے اب تک ملک میں بے روزگار ہونے والی کی تعداد تین کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
    • ناروے نے منگل سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے اور ملک میں بار یکم جون سے کھل جائیں گے۔ اس کے علاوہ کھیلوں کے میدان اور تقافتی مراکز کو 15 جون سے کھولے جانے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم وہاں 200 کے قریب افراد سے زیادہ کو اجازت نہیں ہو گی۔
    • سویڈن کے محکمہ صحت کے سینییر اہلکار اندرس تگنیل کو ہمسایہ ممالک کی مانند ملک میں لاک ڈاؤن اور سخت اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے تقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 3000 سے اوپر ہو گئی ہے۔