پولینڈ میں ڈاک کے ذریعے الیکشن ہوں گے
پولینڈ کے ایوان زیریں، دا سجم میں موجود حکمراں جماعت لا اینڈ جسٹس پارٹی نے ایک بل کے منظوری دی ہے جس میں کورونا کی وبا کی وجہ سے صدارتی انتخاب میں پوسٹل یعنی ڈاک کے ذریعے حق رائے دہی کی اجازت ہو گی۔
اگلے اتوار کو انتخاب ہونا تھا لیکن گذشتہ شب ہی حکمراں اتحاد نے عوامی صحت کو لاحقتحفظات کے پیشِ نظر الیکشن کو معطل کرنے پر اتفاق کیا۔
لیکن لا اینڈ جسٹس پارٹی نے ووٹروں اور الیکشن کے لیے کام کرنے والے عملے کی صحت کو درپیش خطرات کے باوجود انتخاب کے انعقاد کی بات کی۔ ان کا موقف ہے کہ یہ آئین میں لجزم ہے۔
وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ صدرایندرزیج دودا، ان کے اتحادی اس وقت نمایاں کامیابی حاصل کریں گےبنسبت آگے گرمیوں میں دیر سے انتخاب ہونے کے جب معاشی صورتحال ابتر ہو جائے گی۔
پولینڈ میں اب تک کورونا وائرس کی وجہ سے 737 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 14898 افراد متاثرین میں شامل ہیں۔
یہ تعداد دیگرمغربی یورپی ممالک کی نسبت انتہائی کم ہے۔ تاہم وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں ابھی وبا کی وجہ سے انتہائی کیسز کی تعداد سامنے نہیں آئی۔ جبکہ رائے عامہ کے جائزوں میں بھی بڑی تعداد الیکشن کو معطل کرنے کا کہہ رہی ہے۔
ابھی الیکشن کے لیے نئی تاریخ نہیں دی گئی مگر نائب وزیراعظم جیسک ساسن کا کہنا ہے کہ یہ جلد ہی جون میں ہوں گے۔ صدر دودا کی مدت ملازمت اگست میں ختم ہو رہی ہے۔