آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اب امریکی صدر ٹرمپ کا روزانہ کورونا ٹیسٹ ہوگا:وائٹ ہاؤس

دنیا میں کورونا وائرس سے 38 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر جبکہ دو لاکھ 70 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ جرمنی کی ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے چین کی کسی لیبارٹری میں بنائے جانے کے الزامات مشکوک ہیں اور یہ امریکہ کی بیماری سے نمٹنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. پولینڈ میں ڈاک کے ذریعے الیکشن ہوں گے

    پولینڈ کے ایوان زیریں، دا سجم میں موجود حکمراں جماعت لا اینڈ جسٹس پارٹی نے ایک بل کے منظوری دی ہے جس میں کورونا کی وبا کی وجہ سے صدارتی انتخاب میں پوسٹل یعنی ڈاک کے ذریعے حق رائے دہی کی اجازت ہو گی۔

    اگلے اتوار کو انتخاب ہونا تھا لیکن گذشتہ شب ہی حکمراں اتحاد نے عوامی صحت کو لاحقتحفظات کے پیشِ نظر الیکشن کو معطل کرنے پر اتفاق کیا۔

    لیکن لا اینڈ جسٹس پارٹی نے ووٹروں اور الیکشن کے لیے کام کرنے والے عملے کی صحت کو درپیش خطرات کے باوجود انتخاب کے انعقاد کی بات کی۔ ان کا موقف ہے کہ یہ آئین میں لجزم ہے۔

    وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ صدرایندرزیج دودا، ان کے اتحادی اس وقت نمایاں کامیابی حاصل کریں گےبنسبت آگے گرمیوں میں دیر سے انتخاب ہونے کے جب معاشی صورتحال ابتر ہو جائے گی۔

    پولینڈ میں اب تک کورونا وائرس کی وجہ سے 737 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 14898 افراد متاثرین میں شامل ہیں۔

    یہ تعداد دیگرمغربی یورپی ممالک کی نسبت انتہائی کم ہے۔ تاہم وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں ابھی وبا کی وجہ سے انتہائی کیسز کی تعداد سامنے نہیں آئی۔ جبکہ رائے عامہ کے جائزوں میں بھی بڑی تعداد الیکشن کو معطل کرنے کا کہہ رہی ہے۔

    ابھی الیکشن کے لیے نئی تاریخ نہیں دی گئی مگر نائب وزیراعظم جیسک ساسن کا کہنا ہے کہ یہ جلد ہی جون میں ہوں گے۔ صدر دودا کی مدت ملازمت اگست میں ختم ہو رہی ہے۔

  2. بورس جانسن اتوار کو خطاب کریں گے

    برطانوی وزیراعظم اتوار کی شام خطاب کریں گے۔

    بی بی سی کی سیاسی امور سے متعلق مدیر لورا کوئنسبرگ کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام سات بجے عوام کے نام جاری بیان میں لاک ڈاؤن سے آگے کے راستے پر بات کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے بیان سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ برطانوی عوام کو یہ معلوم ہو سکے گا کہ آگے کیا ہونا ہے۔ اس میں اگلے پیر سے انگلینڈ میں متوقع طور پر ہونے والی کچھ تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔

    ادھر برطانوی وزرا آج کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کریں گے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔

  3. شام میں الیکشن کا انعقاد دو ماہ بعد

    شامی خبر رساں ادارے صنعا نیوز کے مطابق ملک میں پارلیمیانی انتخابات کا انعقاد ایک بار پھر دو ماہ کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔

    صنعا نیوز کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ کے مطابق صدر بشارالاسد کی جانب سے جاری کردہ حکمنامے کے مطابق 20 مئی 2020 کے طے شدہ انتخابات اب 19 جولائی 2020 کو منعقد ہوں گے۔

    یہ اقدام کورونا وائرس کی وبا سے نمنٹے کے سلسلے میں ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر لیا گیا ہے۔

    اس سے قبل مارچ کے وسط میں بھی کورونا کی وبا کی وجہ سے ہی صدر نے 20 مئی تک انتخابات ملتوی کیے تھے۔

    یہ نو سالہ جنگ کے دوران ملک میں تیسری بار حکومتی کنٹرول کے اندر موجود علاقوں میں انتخابات کا انعقاد ہو گا۔

    گذشتہ انتخابات سنہ 2016 میں ہوئے تھے اس وقت حکمراں جماعت اور اس کے حامی کامیاب ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے نتائج کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

  4. کورونا وائرس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں بڑھتا غصہ, جیرمی بوین، مدیر برائے مشرق وسطیٰ

    مشرق وسطیٰ کے لیے کورونا وائرس کی عالمی وبا سے پریشان ہونے کی بہت سی وجوحات ہیں مگر جہاں تک اس کا مقابلہ کرنے کی بات ہے تو اس خطے کو باقی جگہوں کے مقابلے میں فوقیت حاصل ہے۔ اس خطے کی زیادہ تر آبادی کم عمر ہے۔

    کچھ اندازوں کے مطابق 60 فیصد کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ اس وجہ سے ان کو کورونا وائرس لگنے کا امکان باقیوں کی نسبت کم ہے، ایسے ممالک جن کی آبادی میں بڑی عمر کے افراد کی تعداد زیادہ ہے وہاں اس بیماری سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔

    خطے کے بیشتر ممالک نے جب باقی جگہ حالات دیکھے تو انھیں کرفیو اور سماجی فاصلوں کے نفاذ کے لیے وقت مل گیا مگر یہیں اس خطے کو باقی دنیا پر حاصل فوقیت ختم ہو گئی۔ کئی برسوں کے عدم استحکام کی وجہ سے نظام میں کمزوریاں بڑھ گئی ہیں اور جو اس عالمی وبا کی وجہ سے مزید بڑھیں گی۔

    طبی سہولیات کہیں ہیں اور کہیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسرائیل کے ہسپتال دنیا کے بہترین ہسپتالوں کی طرح ہیں۔ یمن، شام اور لیبیا میں نظام صحت جو پہلے بھی اتنا اچھا نہیں تھا اُسے کئی برسوں کی جنگ کی وجہ سے یا شدید نقصان پہنچا ہے یا کچھ جگہوں پر یہ نظام تباہ ہو چکا ہے۔

  5. جرمنی میں فٹبال شروع ہونے کو ہے!

    جرمن فٹبال لیگ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ملک میں فٹبال لیگ بنڈسلیگا کا سیزن 16 مئی سے شروع ہوگا۔

    اس طرح جرمنی اپنے فٹبال کے سیزن کا آغاز کرنے والا یورپ کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ تاہم فٹبال لیگ کے مطابق کھیل سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ شروع ہوگا اور شائقین کو سٹیڈیم آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

  6. امریکی صدر ٹرمپ کی توجہ معیشت کی بحالی کی جانب

    امریکہ میں کورونا وائرس کے انفیکشن قابو میں نہ ہونے پر تحفظات کے باوجود صدر ٹرمپ اب ملک میں معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے کے منصوبے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    بدھ کو انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ لاک ڈاؤن اٹھانے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے تاہم انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امید ہے ایسا نہیں ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ٹاسک فورس اب اپنی توجہ معیشت کو دوبارہ کھولنے پر مرکوز کرے گی۔

    صدر نے ایک روز پہلے ہی ٹاسک فورس کو ختم کیا تھا۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ٹاسک فورس کیسے بدلے گی لیکن صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شاید وہ اس فورس میں کچھ لوگوں کو شامل کریں اور کچھ کو نکال دیں۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں اس وقت کورونا وائرس کے کل 12 لاکھ مصدقہ مریض ہیں۔ اور ہلاکیوں کی تعداد 73 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

    اب تک ملک میں یین کروڑ افراد بے روزگاری الاؤنس کے لیے اپنی درخواستیں دے چکے ہیں۔ اس حوالے سے ابھی مزید ڈیٹا موصول ہو گا جس سے امریکہ میں کورونا وائرس کے بعد سے معاشی صورتحال پر پڑنے والے اثرات مزید واضح ہوں گے۔

  7. ترکی میں بنے حفاظتی گاؤنز کا معاملہ: ترک کمپنی کا مؤقف

    اب اس ترک کمپنی کا مؤقف بھی سامنے آ گیا ہے جو برطانیہ کے حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتے ۔ سلینگا ٹیکسٹائل کے ترجمان محمد دوزین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی کمپنی کو اپنی مصنوعات کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق برطانیہ کی جانب سے نہ این ایچ ایس، نہ ہی برطانوی سفارتخانے یا حکومت کے کسی نمائندے نے ان کے بنائے ہوئے گاؤنز کے معیار کی شکایت کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ این ایچ ایس کا ان سے آخری رابطہ بدھ کو ہوا تھا اور اس وقت بھی گاؤنز کے حوالے سے کوئئ شکایت سامنے نہیں آئی تاہم ایک پیشاوارانہ کمپنی کے طور پر اگر ان کی مصنوعات میں کوئی مسئلہ نکلا تو وہ اس کا ازالہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  8. ماسکو میں مریضوں کی تعداد ’سرکاری اعدادوشمار سے تین گناہ زیادہ‘

    روس کا دارالحکومت ماسکو دنیا کے سب سے بڑے ملک میں کورونا کی وبا کا مرکز رہا ہے اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق روس کے 177160 مصدقہ مریضوں میں سے 92676 کا تعلق یہاں سے ہے۔

    لیکن ماسکو کے میئر سرگے سوبائنن کا کہنا ہے کہ مریضوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تاس نیوز ایجنسی کی خبر کے مطابق مئیر نے کہا کہ صرف ان کے شہر متاثرین کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہے۔

  9. وہ مریض جن کی کورونا وائرس جان نہیں چھوڑ رہا

  10. انڈیا: جب شراب کی دکانیں کھولنا سماجی دوری کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا

  11. کووڈ 19 کی جانوروں سے انسانوں میں منتقلی کی گمشدہ کڑی

    تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کورونا وائرس ایک 'درمیانی میزبان' کے واسطے سے چمگادڑ سے انسان میں آیا ہے۔

    اگرچہ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ تحقیق وائرس کے قدرتی پیدائش کی جانب اشارہ کرتی ہے، مگر بعض سائنسدان کہتے ہیں کہ شاید یہ کبھی معلوم نہ ہو سکے کہ یہ پہلے انسان کو کیسے لگا تھا۔

    یہ واضح نہیں کہ آیا یہ میزبان جانور ووہان میں جنگلی جانوروں کی مارکیٹ میں فروخت کیا گیا تھا۔ مگر جنگلی حیات کے کاروبار کو اس وبا کے ممکنہ ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار مختلف انواع کے درمیان امراض کے انتقال کا ذریعہ ہے، اور جس سے پچھلی وبائیں بھی پھیلی ہیں اور اس عالمی وبا کا ذمہ دار بھی سمجھا جا رہا ہے۔

  12. ایران: گذشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 1500 نئے مریض، 68 ہلاکتیں

    ایران میں کورونا وائرس کے 1485 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 103135 ہو گئی ہے، وزارتِ صحت کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 68 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ایران میں کورونا کی وجہ سے کُل 6486 اموات ہوئی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ملک میں 82744 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ 2728 مریض انتہائی نگہداشت وارڈز میں موجود ہیں۔

    ملک میں اب تک کووڈ 19 کے 544702 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

  13. ورلڈ ٹوئر کے دوران مجھے بھی کورونا ہوا تھا: امریکی گلوکارہ میڈونا

    امریکی گلوکارہ میڈونا نے کہا ہے کہ انھیں بھی میڈیم ایکس ورلڈ ٹوئر کے دوران کورونا ہوا تھا۔

    امریکی پاپ ائیکون نے بدھ کو اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ میڈیم ایکس ورلڈ ٹوئر کے دوران کورونا کا شکار ہوئی تھیں تاہم انھوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت بیمار نہیں ہیں تاہم ان میں کووڈ 19 کی اینٹی بوڈیز کی تصدیق ہوئی تھی۔

    انھوں نے اپنے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’جب آپ میں کووڈ 19 کی اینٹی بوڈیز کی تصدیق ہوتی ہے تو اس کا مطلب کہ آپ وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ جو واضح طور پر مجھے بھی ہوا تھا جب میں سات ہفتے قبل پیرس میں اپنے دیگر ساتھی فنکاروں کے ساتھ پرفارم کر رہی تھی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب نے یہ سمجھا کہ ہمیں بہت ہی برا فلو ہوا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ان سمیت ان کے تمام ساتھی صحت مند اور تندرست ہیں۔

    فرانس کی حکومت کی جانب سے کورونا کی وبا کے پیش نظر عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کے بعد میڈونا نے اپنا ورلڈ ٹور مختصر کر دیا تھا۔

    میڈونا نے کورونا کی ویکسین میں تحقیق کے لیے دس لاکھ ڈالرز کا عطیہ بھی کیا ہے۔

  14. ٹینس سٹارز جوکووچ اور نڈال کی ٹینس کورٹ میں واپسی پر تنقید

    جیسا کہ بعض ممالک نے کورونا کے باعث لاک ڈاون میں نرمی کرتے ہوئے پیشہ وارانہ کھیل پر سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن دو عالمی ٹینس سٹارز جوکووچ اور نڈال کی سپین میں ٹینس کورٹ میں جلد واپسی پر تنقید کی گئی ہے۔

    رواں ہفتے ٹینس میں عالمی نمبر ایک اور نمبر دو نووک جوکووچ اور رافیل نڈال کو ٹینس کورٹ میں ٹریننگ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ تاہم انھیں ٹینس کورٹ میں اپنی واپسی پیر تک موخر کرنے کا کہا گیا ہے۔

    جوکووچ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو پیونٹے رومانو ماربل ٹینس کلب سے پوسٹ تھی۔ جس کے بعد کلب نے معافی مانگی کہ ہمیں سپین کی قوانین کا علم نہیں تھا اور ہم نے انھیں ٹریننگ کرنے دی۔

    اسی طرح رافیل نڈال بھی اپنے ایک دوست کے کورٹ میں ٹریننگ کر رہے تھے اور انھیں ایسا نہ کرنے کا کہنا گیا کیونکہ کہیں کھلاڑی زخمی نہ ہو جائے اور ایسے میں صحت کے شعبے پر مزید بوجھ پڑے گا۔

  15. کورونا کے باعث مسلسل تین ماہ سے خوراک کی قیمتوں میں کمی

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا کے باعث معاشی اثرات کے سبب اپریل میں مسلسل تین ماہ سے عالمی سطح پر اشیا خوردو نوش کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے۔

    عالمی ادارہ برائے خوراک کی انڈیکس جو کہ اناج، خوردندی تیل کے بیجوں، دودھ کی بنی اشیا، گوشت اور چینی کی مجموعی قیمت پر نظر رکھتی ہے، مارچ کے مہینے میں اس میں 3.4 فیصد کمی آئی ہے۔

    اسی طرح چینی کی قیمت پر نظر رکھنے والی انڈیکس میں گذشتہ ماہ 14.6 فیصد کمی آئی ہے جو کہ گذشتہ 13 برسوں کی کم ترین قیمت ہے۔

    ویجیٹیبل آئل کی قیمتیں بھی 5.2 فیصد کم ہوئی ہے جن میں پام آئل، سویا بین آئل بھی شامل ہیں جبکہ دودھ سے بنی اشیا کی قیمتوں میں 3.6 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    اسی طرح گوشت کی قیمت میں 2.7 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کے باعث اشیا خوردو نوش کی ترسیل کاعمل بند ہو چکا ہے جبکہ بہت سے ممالک میں حوراک کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

  16. روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے11231 نئے متاثرین

    روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 11231 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرین کی کل تعداد 177160 ہو گئی ہے۔

    روس میں یہ اب تک یہ ایک دن میں کیسز سامنے آنے کی سب سے بڑی تعداد ہے اور گذشتہ چار روز سے مسلسل متاثرین میں یومیہ 10 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں 88 افراد کورونا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں کل اموات کی تعداد 1625 ہو گئی ہے۔

    جبکہ ملک میں 23803 افراد اب تک صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    روس کے کورونا سے متعلق بنائے گئی کمیٹی کے ہیڈکوراٹر کے مطابق ملک میں 48.7 فیصد افراد میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

    جبکہ دارالحکومت ماسکو میں 6703 افراد میں کورونا کی تصدیق کی گئی ہے۔

  17. کورونا وائرس: یہ آر نمبر کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟

  18. امریکہ کے حراستی مرکز میں کورونا کے باعث پہلی ہلاکت

    امریکی ریاست کیلی فورنیا میں زیر حراست تارکین وطن کی کورونا وائرس کے باعث پہلی ہلاکت کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

    57 سالہ کارلوس ارنسٹو ایسکوبار میجا نامی شخص کو سین ڈیاگو کے اوٹے میجیا کو جنوری سے حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا۔

    سین ڈیاگو یونین ٹریبیون کے مطابق وہ کورونا سے متاثر ہونے کے بعد گذشتہ ایک ہفتے سے ہسپتال میں وینٹیلیٹر پر تھے۔

    ایسکوبار کی بہن روسا کے مطابق وہ 1980 میں ایلسالواڈور میں ہونے والی خانہ جنگی سے بھاگ کر امریکی میں مقیم اپنی دوسری بہن کے پاس آئے تھے۔ دونوں بہنوں کو امریکی شہریت مل گئی لیکن ایسکوبارمستقل امریکی شہریت حاصل نہ کرسکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میرا بھائی ایک نفیس انسان تھا۔‘

    البتہ یہ امریکا میں امیگریشن اور کسٹمز سنٹر کے حراستی مراکز میں کورونا کے باعث ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔

    اوٹے میسا کے حراستی مرکز میں تقریباً 1000 کے قریب افراد قید ہیں۔ اور یہاں قید افراد میں کورونا کے انفیکشنز بڑھ رہے ہیں جبکہ قیدیوں کا کہنا ہے کہ انھیں مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

    اب تک 200 سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

  19. چاپان: کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے ’ریمڈیسیور‘ کی منظوری پر غور

    جاپان حکومت کا کہنا ہے وہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے ایبولا وائرس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا ’ریمڈیسیور‘ کے استعمال کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    جبکہ اس ماہ جاپان کورونا کے علاج کے لیے ایک اور دوا ’آویگان‘ کی بھی منظوری کا ارادہ رکھتا ہے۔

    اس طرح جاپان امریکا کہ بعد دنیا کا دوسرا ملک بن جائے گا جو ’ریمڈیسیور‘ کو کورونا کے علاج کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دے گا۔

    چاپان کی وزارت صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار یوشیودہ سوگا نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اگر کوئی مسئلہ نہ ہوا تو ہمیں امید ہے کہ ہم آج سے ہی اس دوا کے استعمال کی اجازت دے دیں گے۔‘

    جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے گذشتہ ہفتے کہا تھا حکومت امریکی کمپنی جیلاڈ سائینسز کی تیار کردہ دوا کو تجرباتی بنیادوں پر استعمال کرنے کی اجازت دینے کی تیاری کر رہی ہے۔

    امریکا کی جانب سے ’ریمڈیسیور کے استعمال کی اجازت اس صورت میں دی گئی تھی جب اس بات کے شواہد ملے تھے کے اس دوا کو ایبولا کے علاج کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

    اس دوا کے استعمال سے کورونا کے چند مریضوں میں صحت یابی کے دورانیہ میں ایک تہائی کا فرق پڑا ہے جبکہ اس دوا کے استعمال کے دوران اموات کی شرح بھی زیادہ نہیں تھی۔

    ’ریمڈیسیور‘ جسے انجیکشن کے ذریعے دیا جاتا ہے پہلے سے ہی چند مریضوں کو دی جا چکی ہے جنھوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو تجربات کے لیے پیش کیا تھا۔

    تاہم جہاں تک ’آویگان‘ کا معاملہ ہے اس دوا کو ایک جاپانی کمپنی فیوجی فلم تیویاما کیمیکل نے تیار کیا ہے۔ وزارت صحت کے اہلکار سوگا کا کہنا تھا کہ اگراس دوا کے 100 مریضوں پر تجربات مفید ثابت ہوئے تو ’حکومت اس کی منظوری دینے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔‘

    اس دوا کا کیمیائی نام فاویپیراویر کو سنہ 2014 میں فلو کی وبا کے لیے استعمال کی اجازت دی گئی تھی تاہم اس کو دیگر دوائوں کے مقابلے میں زیادہ سود مند نہیں قرا دیا گیا تھا۔

    آویگان کے جانوروں پر کیے جانے والے تجربات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کے حمل کی نشو نما پر برے اثرات مرتب ہوئے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے حاملہ خواتین کو نہیں دیا جا سکتا۔

  20. اقوام متحدہ کی وائرس کے خلاف جنگ کی فنڈنگ کے لیے تازہ اپیل

    اقوام متحدہ نے دنیا کے سب سے غیر محفوظ مملاک کے تحفظ اور لاکھوں جانے بچانے کے لیے رکن ممالک سے مزید 470 کروڑ ڈالر کی اپیل کی ہے۔

    اس سے قبل اقوام متحدہ نے مارچ کے مہینے میں کورونا کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے 200 کروڑ ڈالر کی اپیل کی تھی جس میں سے اب تک صرف آدھی رقم اکٹھی ہو سکی ہے۔

    اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل مارک لوکاک نے کہا کہ دنیا کے سب سے غریب ممالک پر اس وبا کے سب سے تباہ کن اثرات ہوں گے۔

    انھوں نے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ’اگر ہم نے ابھی کچھ نہیں کیا تو ہمیں غربت، بھوک اور پر تشدد واقعات میں اضافے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں ایک نہیں کئی قحطوں کا خطرہ ہے۔‘

    اقوام متحدہ کے مطابق امداد دینے والے ممالک نے دنیا کے سب سے پسماندہ ملکوں کی مدد کے لیے 90 کروڑ ڈالر کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن بی بی سی کی لیز ڈوسیٹ کے مطابق اس کام کے لیے کہیں زیادہ رقم درکار ہوگی۔