برطانیہ میں قومی شماریات کے دفتر سے جاری نئے تجزیے کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے سفید فام مردوں اور عورتوں کی نسبت سیاہ فام مرد و خواتین میں تقریباً دو گنّی اموات ہو رہی ہیں۔
انگلینڈ اور ویلز میں اگر کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے غیر حتمی اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو نسلی اعتبار سے یہ بات بہت واضح ہیں۔
یہاں کی آبادی میں سیاہ فاموں کی تعداد فقط تین فیصد ہے لیکن کورونا وائرس کے شکار ہونے والوں میں سیاہ فام آبادی کا تناسب چھ فیصد ہے۔
یہ تعداد ہمیں اس کی وجہ نہیں بتاتی۔ اس میں آپ کو ان کمیونیٹیز میں فرق کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے جو اس کی وضاحت کرسکتی ہیں۔
سیاہ فام، ایشیائی یا نسلی اقلیتیں زیادہ تر شہروں میں آباد ہیں جو وبا کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن سفید فام کمیونٹیز میں زیادہ تر عمر رسیدہ ہیں اور کورونا وائرس نے ضعیف افراد کو بھی بہت زیادہ نشانہ بنایا ہے۔
اگر آپ عمر کے فرق کو دیکھیں اور دوسروں کو نہ دیکھیں، ممکنہ طور پر سیاہ فاموں کی ہلاکت چار گنّا زیادہ ہو رہی ہے۔
اگر آپ یہ بھی مدنظر رکھیں کہ لوگ کن علاقوں میں رہتے ہیں تو یہ فرق کم ہو گا لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں سیاہ فاموں کی ہلاکت ممکنہ طور پر دوگّنی سے زیادہ ہو گی۔
تجزیے کے مطابق اگر ہم عمر، لوگ کہاں رہتے ہیں، ان کی صحت اور ان کی زندگی میں کچھ کمیوں کو نظر انداز بھی کر دیں تو ہلاکتوں کی شرح میں یہ فرق قائم رہتا ہے۔
بی بی سی کے شماریات کے سربراہ نے کھا کے یہ تجزیہ مختلف کمیونیٹیز میں ہلاکتوں کی شرح کے فرق کو پوری طرح نھیں سمجھاتا کیونکہ اس میں لوگوں کی موجودہ صحت، آیا وہ بہت سے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں، کیا وہ اپنے فرنٹ لائن رول کی وجہ سے یا کمیونیٹیز میں کسی دوسرے فرق کی وجہ کورونا کا شکار ہوئے۔