برطانیہ: مذہبی رسومات کے لیے’ وقت مناسب نہیں‘، مقامی میڈیا کی فلاح کے لیے اخبار خریدنے کی اپیل

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 36 لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 58 ہزار سے زیادہ ہے۔ برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 649 اموات ہوئی ہیں، جس سے ملک میں مرنے والوں کی تعداد 30 سے بڑھ گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. وبا کے دوران گھروں میں پھنسے افراد کے لیے ورزش کتنی ضروری؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  2. کورونا بحران: گوگل، فیس بک، ایپل اور ایمازون کا کاروبار کس طرح چمکا؟

    اس وقت دنیا کا بڑا حصہ لاک ڈاؤن کی زد میں ہے۔ صارفین خرچ نہیں کررہے اور بہت ساری صنعتیں تو دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔

    لیکن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کچھ بڑی کمپنیوں پر اس عالمی وبا کا صرف معمولی اثر نظر آتا ہے۔

    ٹیکنالوجی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  3. ’معیشت سے زیادہ اہم انسانی جانیں‘

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین، فرانس، جرمنی، انڈیا، میکسیکو، سعودی عرب اور امریکہ سمیت دنیا کے 11 ممالک میں ہونے والے ایک سروے میں حصہ لینے والے دو تہائی افراد نے اس بات پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے کہ حکومتوں کو معیشت کا دوبارہ آغاز کرنے کی بجائے انسانی جانیں بچانے کو ترجیح دینی چاہیے۔

    سروے کرنے والی کمپنی ایڈلمین کے سی ای او رچرڈ ایڈلمین کا کہنا ہے کہ ’یہ پیچجدہ معاملہ ہے کیونکہ آپ کو ایک وقت میں دو بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایک صحت کا بحران اور ایک معیشت کا بحران۔ لیکن لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم ان پابندیوں میں چھ سے سات ہفتے گزار چکے ہیں تو ایک دو ہفتے مزید کیوں نہیں؟‘

  4. بریکنگ, ’امریکہ میں ہلاکتیں ایک روز میں تین ہزار تک پہنچ سکتی ہیں‘

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نیویارک ٹائمز کو حاصل ہونے والی ٹرمپ انتظامیہ کی ایک اندرونی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون تک امریکہ میں یومیہ اموات کی تعداد تین ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

    یہ موجودہ تعداد، جو کہ 1750 ہے، میں 70 فیصد اضافہ ہے۔

    رپورٹ کے اعدادوشمار میں اس ماہ کے آخر تک یومیہ تقریبا دو لاکھ نئے کیس سامنے آنے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے، جو ابھی تقریبا 25 ہزار ہیں۔

    امریکہ میں کئی ریاستیں لاک ڈاؤن کے اقدامات میں نرمی کر رہی ہیں۔ فلوریڈا سے سامنے آنے والی درجنوں تصاویر میں لوگوں کو ساحل سمندر پر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ ریاست میں کچھ کاروبار دوبارہ کھل چکے ہیں۔

    امریکہ میں اب تک کورونا سے 68920 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 1180332 ہے۔

  5. فلسطین: ایمرجنسی 5 جون تک نافذ رہے گی

    فلسطین

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    فلسطینی صدر محمود عباس نے پیر کے روز مغربی کنارے کے فلسطین کے زیر اقتدار علاقوں میں لگائی گئی ہنگامی حالت میں توسیع کر دی ہے۔ تاہم کچھ قواعد میں نرمیاں پیدا کی جائیں گی۔

    محمود عباس نے اعلان کیا کہ 22 مارچ کے بعد سے جاری ہنگامی صورتحال کم از کم 5 جون تک رہے گی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی مقبوضہ علاقے میں شہروں کے مابین نقل و حرکت میں آسانی پیدا کی جائے گی اور دکانوں اور دیگر کاروباروں کو دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    ان اقدامات کا اطلاق غزہ کی پٹی پر نہیں ہوتا، یہ فلسطینی علاقوں کا ایک اور حصہ ہے جو حریف حماس کی زیرقیادت حکومت چلاتی ہے اور جہاں پہلے ہی پابندیوں میں نرمی لائی جا چکی ہے۔

    اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں ناول کورونا وائرس کے 345 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دو اموات کی اطلاع ہے۔

    اسرائیل میں 15000 سے زیادہ کیسز ہیں اور فلسطینی حکومت کو خدشہ ہے کہ خاص طور پر ماہ کے آخر میں عید الفطر کی تعطیلات کے وقت، اسرائیل کے اندر کام کرنے والے دسیوں ہزار فلسطینی تازہ انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔

  6. جاپان: کاروباری اداروں سے ابھی کام نہ شروع کرنے کی درخواست

    tokyo

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جاپان میں مرکزی حکومت نے ہنگامی حالت میں توسیع کر دی ہے جس کے بعد ٹوکیو کی گورنر یوریکو کوائیک جاپان کے سب سے بڑے شہر میں کاروباری اداروں سے رواں ماہ کے آخر تک کام کرنے سے گریز کرنے کی سفارش کریں گی۔

    عوامی نشریاتی ادارے این ایچ کے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹوکیو حکومت اس مدت کے دوران بند رہنے والے کاروباری اداروں کو مزید مالی امداد فراہم کرے گی۔

    گورنر کا مزید کہنا تھا کہ وہ منگل کے روز بعد میں میڈیا بریفنگ کے دوران تفصیلات کا اعلان کریں گی۔

    جاپان نے پیر کے روز ملک بھر میں ہنگامی صورتحال میں 31 مئی تک توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس میں اضافے کی شرح کے مزید کم ہونے تک پابندیوں میں نرمی ممکن نہیں۔

  7. بنگلہ دیش: روہنگیا پناہ گزینوں کو ایک جزیرے پر قرنطینہ کر دیا گیا

    rohingya

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بنگلہ دیشی حکومت نے 29 روہنگیا پناہ گزینوں کو ہفتوں تک سمندر میں پھنسے رہنے کے بعد خلیج بنگال میں ایک طوفان سے متاثرہ دور دراز جزیرے پر قرنطینہ کر دیا ہے۔

    بحریہ کے لیفٹیننٹ عبد الرشید نے سی این این کو بتایا کہ پناہ گزینوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ انھیں سنیچر کے روز بنگلہ دیش میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے کے بعد حراست میں لیا گیا اور پھر بھاشن چار جزیرے پر لیجایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کاکس بازار کے پناہ گزین کیمپوں کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے یہ اقدام لیا گیا۔

    یہ پناہ گزین ان سینکڑوں افراد میں شامل تھے جو میانمار سے ملائیشیا فرار ہونے کی کوششوں کے بعد ہفتوں تک سمندر میں پھنسے رہے۔ میانمار میں انھیں شہری تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔

    کاکس بازار میں اپریل سے لاک ڈاؤن نصب ہے اور یہاں تقریباً 10 لاکھ روہنگیا پناہ گزین رہائش پذیر ہیں۔

    بنگلہ دیش میں اب تک کورونا وائرس کے 10000 سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

  8. بریکنگ, انڈیا: 24 گھنٹوں میں 3900 نئے متاثرین، یومیہ تعداد میں سب سے بڑا اضافہ

    india

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 3900 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو کووڈ 19 متاثرین کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    تازہ ترین اضافے کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں اب کووڈ 19 کے 46433 کیسوں کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اس میں 12000 سے زیادہ ایسے مریض شامل ہیں جو صحتیاب ہو چکے ہیں یا انھیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

    اب تک ہونے والی اموات کی تعداد 1568ہے۔

    متاثرین کی تعداد میں اضافے کی وجہ ٹیسٹنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ پیر کے روز ملک بھر میں 80000 سے زیادہ افراد کا ٹیسٹ کیا گیا اور صحت کے حکام کو امید ہے کہ جلد ہی روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ کے قریب نمونوں کی ٹیسٹنگ شروع کردی جائے گی۔

    انڈیا میں متاثرین کی یہ نئی تعداد اس وقت سامنے آئی ہے جب پیر کے روز سے لاک ڈاؤن اقدامات میں نرمی کی گئی۔

    قواعد میں نرمیوں کے تحت اب دکانوں اور نجی دفاتر کو 33 فیصد عملے کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

  9. کورونا وائرس انڈیا کے نیوز چینلز میں کیسے تباہی مچا رہا ہے؟

  10. ایرانی ائیر لائن مشرقِ وسطیٰ میں وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کا سبب بنی؟

    Mahan Air

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کی ایک تفتیش کے مطابق پاسداران انقلاب کے ساتھ تعلقات رکھنے والی ایک ایرانی ایئر لائن مشرق وسطی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کا باعث بنی۔

    ایران سے لبنان اور عراق تک مہان ایئر نے مسافروں کو وائرس سے متاثر کیا جس کے نتیجے میں ان دونوں ممالک میں پہلے متاثرین سامنے آئے۔

    مہان ایئر کے اندورنی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ جب کیبن کے عملے نے وائرس سے نمٹنے اور حفاظتی آلات کی کمی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تو ایئر لائن نے عملے کو خاموش کرا دیا تھا۔

    فلائٹ ٹریکنگ کے اعداد و شمار سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ تہران کی جانب سے پروازوں پر پابندی کے باوجود ایئر لائن بار بار چین گئی۔

    مہان ایئر نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

  11. نیوزی لینڈ میں مسلسل دوسرے دن کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا, جاسنڈا آرڈرن: ملک ایک طویل عرصے تک اپنی سرحدیں نہیں کھولے گا

    NZ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    نیوزی لینڈ میں سختی سے لگائے گئے لاک ڈاؤن اقدامات میں نرمی کے ایک ہفتہ بعد، مسلسل دوسرے دن کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ ’ہم سب کو اس کامیابی پر فخر ہونا چاہیے۔‘ تاہم نیوزی لینڈ کے باشندوں کو محتاط رہنے کی تاکید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ایسا کچھ بھی مت کیجیے گا جو ہماری اس ممکنہ فتح کو چھین لے۔‘

    اب تک نیوزی لینڈ میں 1137 تصدیق شدہ کیسز ہیں اور 20 اموات ہوئی ہیں۔

    جاسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایک طویل عرصے تک سرحدیں نہیں کھولے گا۔

    اس بات کا اظہار انھوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے آسٹریلیائی کابینہ کے اجلاس میں حصہ لینے کے بعد کیا۔

    اجلاس میں دونوں ممالک کے مابین سفر کے لیے راہدری کھولنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

    لیکن ان کا کہنا تھا کہ دور دراز سے آنے والے مسافروں کو لمبے عرصے تک داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دونوں ممالک نے اپنی سرحدیں تقریباً تمام غیر ملکیوں کے لیے بند کر رکھی ہیں۔

  12. کمبوڈیا: کئی ہفتوں سے وائرس کا کوئی نیا کیس نہیں

    Cambodia

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جنوب مشرقی ایشیا کے ملک کمبوڈیا میں تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے کورونا وائرس کے کوئی نئے کیسز سامنے نہیں آئے ہیں۔

    ملک میں بھی صحتیاب ہونے والے افراد کی شرح میں حیرت انگیز طور پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وائرس کے 122 متاثرین میں سے 120 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔ اور ایک بھی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

    لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا کم اعداد و شمار حقیقی صورتحال کی عکاسی کر رہے ہیں یا اس کی وجہ کم ٹیسٹگ ہے۔

    نوم پن پوسٹ کے مطابق ملک میں اب تک صرف 12304 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں یعنی ہر 10 لاکھ افراد میں سے صرف 757 افراد کے ٹیسٹ ہوئے ہیں

    کمبوڈیا کی آبادی تقریباً ایک کروڈ 60 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔

    لیکن کم تعداد کے باوجود ملک احتیاطی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ سکول اور تفریحی مقامات جیسے تھیٹر، بیئر گارڈن اور مساج پارلر بند ہیں۔

    وی او اے کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر مام بونہینگ کا کہنا تھا ’ہمیں لاک ڈاؤن کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ صورتحال قابو میں ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں رسک لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

  13. برطانیہ: مذہبی رسومات کے لیے’ وقت مناسب نہیں‘، مقامی میڈیا کی فلاح کے لیے اخبار خریدنے کی اپیل

  14. کورونا وائرس: عالمی سطح پر اموات کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی

    corona

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ میں جان ہاپکنز یونیورسٹی کے جمع شدہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 250000 سے تجاوز کرچکی ہے۔

    سب سے زیادہ 69000 اموات امریکہ میں ہوئیں۔ اس کے بعد اٹلی میں 29000 جبکہ برطانیہ میں بھی تقریباً 29000 افراد ہلاک ہوئے۔

    دنیا بھر کے ممالک میں اعداوشمار کے مختلف نظام اور طریقوں کے باعث، موازنہ کرنا ایک مشکل کام ہے کیونکہ کئی مماک میں صرف ہسپتالوں میں ہونے والی اموات کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔

    بیشتر ممالک میں کم ٹیسٹنگ بھی ایک بڑا اور پریشان کن مسئلہ ہے جس کی وجہ سے متاثرین کی صحیح تعداد سامنے نہیں آرہی۔

  15. انڈیا میں 40 دن بعد شراب کی دکانیں کھلتے ہی لمبی قطاریں اور مشتعل ہجوم

    liquor

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں نئے قوانین کی تحت شراب کی کچھ دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی جس کے بعد پیر کی شام کئی شہروں میں شراب کی دکانوں کے باہرلمبی قطاریں نظر آئیں۔

    دکانوں کے باہر مشتعل ہجوم کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں جس سے معاشرتی فاصلے کے اقدامات پر بھی تشویش پیدا ہوئی۔ دارالحکومت دہلی میں پہلے ہی الکوحل پر 70 فیصد ’خصوصی کورونا فیس‘ عائد کرنے پر کافی تشویش پائی جاتی ہے۔

    یہاں تک کہ دہلی میں حکومت نے 24 مارچ کے لاک ڈاؤن کے بعد پہلی بار پیر کے روز کھولنے کے چند گھنٹوں بعد ہی شہر کے کچھ حصوں میں شراب کی دکانوں کو بند کردیا۔

    انڈیا کی ریاستیں پچھلے کئی ہفتوں سے زور دے رہیں تھیں کہ شراب کی دکانوں کو دوبارہ کھولا جائے کیونکہ آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ شراب پر ایکسائز ڈیوٹی ہے۔

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے انڈین معیشت سست روی کا شکار ہے اور پابندیوں کو جزوی طور پر آسان کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  16. کورونا وائرس کے بارے میں سائنسدان کیا نہیں جانتے؟

    نول کویڈ-19 وائرس نے پوری دنیا میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس سے متاثر ہیں، سائنسدان اس وائرس کی ویکسین بنانے میں کوشاں ہیں لیکن وہ اس وائرس کے متعلق کیا اور کتنا جانتے ہیں، جاننے کے لیے دیکھیے یہ ڈیجیٹل ویڈیو۔

  17. کورونا وائرس: امریکہ کی تازہ ترین صورتحال

    us

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • امریکہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 سے مزید 1015 اموات ہوئیں جو ایک مہینے میں یومیہ ہلاکتوں کی سب سے کم تعداد ہے۔ مجموعی طور پر اس وائرس سے اب تک 68920 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
    • نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ میں بیماریوں پر کنٹرول اور ان سے بچاؤ کے ادارے، سی ڈی ایس کے ایک اندرونی میمو کے مطابق امریکہ میں یکم جون تک روزانہ کی بنیاد پر ہلاکتوں کی تعداد 1750 سے بڑھ کر 3000 کے قریب ہونے کا خدشہ ہے۔
    • چینی میڈیا نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے وائرس کے کسی لیبارٹری میں وجود میں آنے سے متعلق تبصروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انھیں ’پاگل پن‘ اور ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔
    • ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی پر یہ بھی کہا گیا کہ یہ نظریہ ایک ’مکمل اور سراسر جھوٹ ہے۔ امریکہ بیماری پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے اس لیے امریکی سیاستدان سارا الزام چین کے سر تھوپنا چاہتے ہیں۔‘
    • کوورنا وائرس سے متعلقہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے امریکی حکومت پہلی مرتبہ 30 کھرب ڈالر کا قرضہ لے گی۔ یہ رقم پچھلی مرتبہ لیے گئے قرض سے پانچ گنا زیادہ ہے جو 2008 کے مالی بحران کے عروج پر لیا گیا تھا۔
  18. بیرونِ ملک پھنسے شہریوں کو واپس لانے کے انڈیا نے تین بحری جہاز بھیج دیے

    navy

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    انڈین حکومت نے مالدیپ اور متحدہ عرب امارات میں پھنسے ہوئے شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے تین بحری جہاز بھیجے ہیں۔

    ایک ترجمان نے پی ٹی آئی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ان میں سے دو بحری جہاز پیر کی رات مالدیپ روانہ ہوئے جبکہ تیسرا دبئی گیا ہے۔

    ٹائمز آف انڈیا کے مطابق تقریباً 200000 افراد نے دبئی اور ابوظہبی میں انڈین سفارت خانوں میں اندراج کروایا ہے۔ حکام کی طرف سے بیرون ملک پھنسے شہریوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق حکومت 7 مئی سے بیرون ملک پھنسے انڈین شہریوں کی وطن واپسی کے لیے کوششوں کا آغاز کر رہی ہے۔ بحری اور ہوائی جہاز تیار کیے جارہے ہیں جبکہ سفارت خانوں میں شہریوں کی ایک فہرست مرتب کی گئی ہے۔

  19. کورونا وائرس: کووڈ 19 کو قابو کرنے کے پانچ ثابت شدہ طریقے

    کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔ یہ وبا ہر طرف خوف و ہراس اور افراتفری کا سبب بن گئی ہے۔ ہر روز ہزاروں نیے متاثرین کی تشخیص اور اس سے سینکڑوں ہلاکتوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔

    کئی شہر بلکہ پورے ملک لاک ڈاؤن کر دیے گئے ہیں اور اس سے ممالک کے درمیان پروازیں، بین الاقوامی تقریبات اور سالانہ تہوار بھی منسوخ ہوگئے ہیں۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

  20. ’دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر فیس بک پر انفوڈیمک پھیلا رہے ہیں‘, کارل ملر، بی بی سی کلک

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی ادارۂ صحت نے معاشرے میں پھیلائی جانے والی ایسی افواہوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اب افواہوں کی وبا دیکھ لی ہو گی۔۔۔۔'

    چاہے یہ آپ کو ایسی خبریں ای میل کے ذریعے موصول ہو یا آپ کا کوئی دوست یا رشتہ دار بھیجے، یہ ایک ایسی افواہ یا اطلاع ہو گی جو اتنی حیران کن اور سنگین نوعیت کی ہو گی کہ آپ کے لیے اس کو نظر انداز کر دینا مکمن نہیں ہو گا۔

    کورونا وائرس کے بارے میں جھوٹے دعوؤں کا نظر سے بچنا مشکل ہے لیکن ان کے پیچھے چھپے نظریات اور مفادات کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔

    بی بی سی کے پروگرام کلک اور انسداد شدت پسندی کے ادارے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اسٹڈیز کی مشترکہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کس طرح دائیں بازو کے انتہا پسند سیاسی عناصر اور بعض طبی حلقوں نے کورونا وائرس کی عالمی وبا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔