برطانیہ: مذہبی رسومات کے لیے’ وقت مناسب نہیں‘، مقامی میڈیا کی فلاح کے لیے اخبار خریدنے کی اپیل
دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 36 لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 58 ہزار سے زیادہ ہے۔ برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 649 اموات ہوئی ہیں، جس سے ملک میں مرنے والوں کی تعداد 30 سے بڑھ گئی ہے۔
لائیو کوریج
برطانیہ: یومیہ 2 لاکھ ٹیسٹ سے مراد لیبارٹریوں کی گنجائش ہے
بی بی سی کے صحت کے نامہ نگار ہیو پِم نے وزیر اعظم بورس جانسن کے بیان کو سمجھاتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کا مئی کے آخر تک یومیہ دو لاکھ ٹیسٹ کرنے سے مراد انفرادی ٹیسٹ نہیں بلکہ لیبارٹریوں کی گنجائش ہے۔
فی الحال برطانیہ میں یومیہ 1 لاکھ 8 ہزار ٹیسٹ کرنے کی گنجائش ہے۔
لیبارٹریوں کی گنجائش سے مراد یہ ہے کہ ایک دن میں وہ کتنے نتائج دے سکتی ہیں ناکہ کتنے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں وہ ٹیسٹ کِٹس بھی شامل ہیں جو لوگوں کو بھیجی جاتی ہیں اور جو شاید واپس نہیں آتیں، اس لیے ان کا شمار روزانہ کے اعداد و شمار میں نہیں کیا جاتا۔
23 برس کی ایرانی فری سٹائل فٹبالر حسنہ میرہادی ٹریننگ میں مصروف

،تصویر کا ذریعہReuters
وبا کے دوران 23 سالہ ایرانی فری سٹائل فٹبالر حسنہ میرہادی کی ٹریننگ جاری ہے۔ ان تصاویر میں انھیں ایک عمارت کی چھت اور باہر ایک پارک میں ٹریننگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters
سپین میں یومیہ اموات میں اضافہ: وزیر اعظم ہنگامی حالت میں توسیع کے لیے سرگرم

،تصویر کا ذریعہReuters
گذشتہ 24 گھنٹوں میں سپین میں کل 244 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے۔ سنیچر کے بعد پہلی دفعہ یہ تعداد 200 سے بڑھی ہے۔
اس وقت وائرس سے سپین میں کل 25،857 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 220،325 بنتی ہے۔ منگل کے مقابلے میں 996 متاثرین کا اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پارلیمنٹ سے ہنگامی صورتحال میں مزید چند ہفتوں کی توسیع کی درخواست کر رہے ہیں۔ بدھ کو انھوں نے پارلیمان کے ارکان سے کہا کہ مقصد قریب ہے لیکن ہم جہاں پہنچنا چاہتے ہیں ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں۔
واضح رہے کہ سپین کی حزب اختلاف ہنگامی حالت میں توسیع کی مخالفت کر رہی ہے۔
نیوزی لینڈ: ایک ہی جگہ سے 97 گاڑیوں کی چوری

،تصویر کا ذریعہJUCY
یہ ان کو اپنی خوابوں کی ڈکیتی کا طرح نظر آیا ہوگا۔
ایک پورا صحن بہترین کرائے کی گاڑیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ان سب کے اندر چابیاں لگی ہوئی ہیں اور یہ سفر پر روانہ ہونے کے لیے بالکل تیار ہیں۔
نیوزی لینڈ میں سخت لاک ڈاؤن کے دوران چوروں کا ایک گروہ اپنے مشن پر روانہ ہوا۔
آکلینڈ میں انھوں نے مقامی کرائے کی گاڑیوں کی کمپنی جُوسی کی باڑ کاٹ کر گیٹ توڑ دیا اور کاروں کو چلا کر باہر نکالنا شروع کردیا۔
لاک ڈاؤن کے دوران نیوزی لینڈ صحیح معنوں میں جیسے رک سا گیا تھا اور یہ صورتحال چوری کے لیے بہت سازگار تھی۔ درحقیت یہ سب کرنا اتنا آسان تھا کہ چور بار بار ایک دوسرے کی مدد کے لیے واپس آتے رہے۔ اس صحن سے کل 97 کاریں چوری ہو گئیں۔
چور کاروں کو تھوڑی تھوڑی تعداد میں آکلینڈ کی ویران سڑکوں پر چلا کر لے گئے۔
لیکن جیسے ہی خبر پھیلی تو جو لاک ڈاؤن اس چوری کی وجہ بنا اسی وجہ سے وہ پکڑے بھی گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اصل میں لاک ڈاون کی وجہ سے ان گاڑیوں کو ٹریک کرنے اور چوروں کو پکڑنے میں مدد ملی۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے کیے گئے سوالات سے کیا معلوم ہوا؟
اب سے کچھ دیر پہلے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن پارلیمان میں موجود تھے جہاں اس وبا کے شروع ہونے کے بعد پہلی بار اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے ان سے سوالات کیے۔
بورس جانسن نے مئی کے آخر تک یومیہ 2 لاکھ ٹیسٹ کرنے کا عظم کیا ہے۔ اس سے پہلے حکومت کا یہ ٹارگٹ یومیہ ایک لاکھ ٹیسٹ تھا جو اپریل کے آخری دن حاصل کر لیا گیا تھا۔
بورس جانسن اتوار کو لاک ڈاؤن میں نرمی کے بارے میں اقدامات کا اعلان کریں گے جن کا اطلاق پیر سے ہوگا۔
بورس جانسن نے لیبر کے رہنما سر کیئر سٹیرمر کے سوال کے جواب میں کہا کہ جب تک پی پی ای یا ذاتی حفاظت کے سامان سے متعلق ایک جامع منصوبے پر کام شروع نہیں کر لیا جاتا اس وقت تک لوگوں سے کام پر واپس آنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ اور انہوں نے ساتھ ہی یہ وعدہ کیا کہ ایسے منصوبے پر کام جاری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والی اموات کا موازنہ دوسرے ممالک سے کرنا فی الحال جلد بازی ہوگی۔ منگل کو برطانیہ میں اموات کی تعداد اٹلی سے بھی بڑھ گئی تھی۔
کساد بازاری: یورپی یونین اور واحد کرنسی کا تصور خطرے میں

،تصویر کا ذریعہReuters
یورپین کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کو تاریخ ساز کساد بازاری جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔
کمیشن کی پیش گوئی کے مطابق اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت میں سات اعشاریہ سات فیصد کمی دیکھنے میں آئے گی، جو ایک غیر یقینی صورتحال کو جنم دے گی۔
سب سے زیادہ سنگین پیش گوئی یونان کے لیے ہے جہاں معیشت میں یہ کمی تقریباً دس فیصد تک بنتی ہے، جو اس معاشی بحران کے دوران ملک میں پیش آنے والے بدترین سال سے بھی قدرے زیادہ ہوگی۔
معاشی امور کے کمشنر پاولو جینتیلونی نے کہا کہ کسی مشترکا امدادی پیکج کے بغیر یوروپی یونین کا منصوبہ اور واحد کرنسی کا تصور بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
جرمنی کی معیشت میں جلد بہتری کی جانب گامزن ہو گی، جو سال 2020 میں 6.5 فیصد کی کمی ہو گی اور 2021 میں 5.9 فیصد کی کی ریکوری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
2020 میں یورو زون میں بے روزگاری میں دو فیصد اضافے سے 9.6 فیصد تک اضافے کی پیش گوئی کی جارہی ہے جبکہ یونان اور سپین سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
کورونا وائرس سے متعلق ’اہم حقائق کے قریب پہنچنے‘ والے ڈاکٹر امریکہ میں ہلاک

،تصویر کا ذریعہUniversity of Pittsburgh School of Medicine
امریکی حکام کے مطابق امریکہ میں ایک محقق کو جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متعلق اہم معلومات کے قریب پہنچ گئے تھے، گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے یا انھوں نے خود کشی کر لی ہے۔
مقامی طبی معائنہ کار نے بتایا کہ پٹسبرگ سکول آف میڈیسن یونیورسٹی کے محقق بنگ لیو کی لاش سنیچر کو پٹسبرگ کے شمال میں راس ٹاؤن شپ کے ایک گھر سے ملی۔
اس کے کچھ دیر بعد پولیس کو تھوڑے سے فاصلے سے ایک کار میں ایک دوسرے شخص کی لاش ملی، جس کا نام ہاؤ گو تھا۔
تفتیش کاروں نے ایک امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ ہاؤ گو نے ڈاکٹر لیو کی جان لی اور پھر اس نے اپنے آپ کو گولی مار دی۔
پولیس کے مطابق اس واقعے کی تفتیش ابھی جاری ہے۔
میڈیکل سکول نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں ڈاکٹر لیو کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی اور وہ ایک انتہائی قابل محقق تھے، جن کی سائنس کی شعبے میں قابل ذکر خدمات ہیں۔
امریکی یونیورسٹی کے حکام کے مطابق ڈاکٹر لیو کورونا وائرس کی وجہ بننے والے ’سیلولر میکینزم‘ کو سمجھنے کے سلسلے میں بہت اہم نتائج کے قریب پہنچ چکے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر لیو نے سائنس کے شعبے میں جو انتہائی اہم خدمات انجام دی ہیں ہم ان کو تکمیل تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
بریکنگ, ایران میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں حکومت کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کے انفیکشنز کے مصدقہ کیسز کی تعداد 101650 ہوگئی ہے۔ ملک میں وائرس کے کیسز کم ہونے کے بعد ایک بار پھر بڑھنے لگے ہیں۔
وزراتِ صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس وبا کے باعث مزید 78 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 6418 ہو گئی ہے۔
ایران وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار شاید اصل صورتحال کی ترجمانی نہیں کرتے۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: ’لوگ اب کورونا سے زیادہ زمینی حالات سے خوفزدہ ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس کے پھیلاوٴ کو روکنے کے لیے 40 روز سے سخت لاک ڈاوٴن جاری ہے اور اس دوران مزید شدت سے شروع کیے گئے فوجی آپریشن میں اب تک 34 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے ہیں۔
تاہم آپریشن میں شدت کی وجہ سے کشمیر میں لوگ اب کورونا سے زیادہ زمینی حالات سے خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں۔
لال چوک کے ایک تاجر عامر احمد شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دُنیا کو کورونا کا خوف ستا رہا ہے لیکن ہم کہتے ہیں کورونا تو چھوڑ دے گا، لیکن اُس کے بعد کشمیر کے میدان جنگ میں جو کچھ ہو سکتا ہے، اُس سے بچنے کی کیا صورت ہے؟‘
خیال رہے کہ گذشتہ برس اگست میں کشمیر کی نیم خودمختاری ختم کر کے جن پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا اُن میں سے بیشتر ابھی جاری ہیں۔
چین میں ’ماسک کی وجہ سے طالب علموں کی موت‘ کے بعد بحث, ٹیسا وونگ، بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہAFP
چین میں اب بچے سکول جانے لگے ہیں اور ان سے بیشتر چہرے کا ماسک معمول کے طور پر پہنا کریں گے تاہم اس حوالے سے شکایات بھی ہیں کہ کچھ لوگوں کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
حالیہ دنوں میں چین کے سوشل میڈیا پر ایک نوجوان طالب علم کی موت پر کافی بحث ہوئی جو بظاہر چہرے کا ماسک پہنے سکول میں ورزش کے دوران بے ہوش ہو کر گر پڑا۔
اطلاعات کے مطابق دو مختلف معاملات ایک 15 سالہ نوجوان فزیکل ایجوکیشن کی کلاس کے دوران ہلاک ہوگیا جبکہ ایک 14 سالہ نوجوان فزیکل فٹنس کے ٹیسٹ کے دوران بے ہوش ہو گیا۔
دونوں معاملات میں سرکاری طور پر چہرے کے ماسک کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا اور نہ ہی دونوں خاندانوں نے پوسٹ مارٹم کے لیے رضا مندی دی۔ تاہم مقامی میڈیا کو انٹر ویو میں ہنان والے بچے کے والدین نے اصرار کیا کہ بچے کی موت اور ماسک میں تعلق تھا۔
چین میں نئی صورتحال کے پیش نظر مختلف پریشانیاں سامنے آ رہی ہیں اور یہ نئے کیسز مزید مباحثوں کا باعث بنے ہیں۔ کئی لوگ سکول حکام پر تنقید کر ہے ہیں کہ وہ بچوں کو ماسک پہن کر ورزش پر مجبور کر رہے ہیں۔ چین کے کچھ علاقوں میں جسمانی فٹنس کے ٹیسٹ کو حالات کی مناسبت سے ڈھالا جا رہا ہے۔
چینی میڈیا میں ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ماسک پہن کر ورزش کرنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس سے سانس رک سکتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ ماسک سے کسی کی جان جا سکتی ہے۔ اور شاید ’ان طلبہ کی موت پہلے سے موجود کسی بیماری کی وجہ سے ہوئی ہو گی۔ ‘
ایران کی ماہان ایئر کیسے مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا سبب بنی؟
برطانیہ: ہسپتال کے طبی عملے کے لیے مختلف رنگوں اور ڈیزاین کے یونیفارم
برطانیہ کے ایک ہسپتال رائل پیپورتھ کے طبی عملے کو مختلف رنگوں اور ڈیزاین کے نئے یونیفارم بھیجے گئے ہیں جو سلائی کا کام کرنے والے مخلتف گروپس اور کیمبرج شائر، ایسکس اور ہیرٹ فورڈ شائر کے مقامی افراد نے عطیہ کیے ہیں۔
ہسپتال کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنھوں نے ہمارے لیے یہ یونیفارم بنایا۔۔۔ انھوں نے ایک بڑی تبدیلی پیدا کرتے ہوئے ہمیں مسکرانے میں مدد کی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہRoyal Papworth Hospital

،تصویر کا ذریعہRoyal Papworth Hospital

،تصویر کا ذریعہRoyal Papworth Hospital
جرمنی: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کیا صورتحال ہے؟
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, روس میں لگاتار چوتھے دن 10 ہزار افراد کورونا سے متاثر

،تصویر کا ذریعہReuters
روس میں لگاتار چوتھے روز 10000 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 10559 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ جس کے بعد بدھ کو روس میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 165929 ہو گئی ہے۔
روس میں مزید 86 افراد کی ہلاکت کے بعد اب تک مجموعی ہلاکتیں 1537 ہو گئی ہیں۔
سمندر میں موجود پناہ گزینوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خدشات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوامِ متحدہ کے متعدد اداروں نے خلیج بنگال اور بحیرہ انڈمان کے سمندری پانیوں میں موجود ہزاروں بدحال پناہ گزینوں کی صورتحال سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کے باعث سرحدوں پر مزید سختی کی جائے گی تاہم ان اقدامات میں پناہ کے مقامات کو بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ نہ ہی لوگوں کو واپس خطرناک حالات میں لوٹ جانے کو کہا جائے، یا چوری چھپے بغیر سکریننگ کے داخلے کی وجہ بنیں۔
سمندر میں موجود لوگ زیادہ تر بد امنی اور میانمار میں قتل و غارت سے بھاگے ہوئے ہیں جہاں رونگیا اقلیت کی نسل کشی کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ لاکھوں لوگ میانمار سے نقل مکانی کر کے آئے تاہم سنہ 2015 میں بدترین بحران پیدا ہوا جب ہزاروں افراد تھائی لینڈ کی جانب سے لوگوں کی سمگلنگ کے ذریعے اپنی سرحد میں داخلے کے تمام راستے بند کر دیے۔
ایک بیان میں یو این ایچ سی آر، ائی او ایم اور یو این او ڈی سی کا کہنا تھا کہ وہ ان اطلاعات پر پریشان ہیں کہ سمندر میں مرد ، خواتین اور بچے کشتیوں میں ہیں اور ساحل تک نہیں آ سکتے۔ ان کے پاس فوری طور پر خوراک، پانی اور دوائیں بھی نہیں ہے۔
جنوبی کوریا: کِم جونگ اُن کا دل کا آپریشن نہیں ہوا
آسٹریلیا کا دو فضائی کمپنیوں سے معاہدہ, اشیائے خورد و نوش ایشیائی مارکیٹوں تک پہنچائی جائیں گی

،تصویر کا ذریعہEPA
آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ اس کا دو فضائی کمپنیوں سنگاپور ائیر لائن اور قنٹس ائیر لائن کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے کہ وہ اشیائے خورد و نوش ایشیائی مارکیٹوں تک لے کر جائیں گی۔
یہ اقدام ان حکومتی کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد تحت کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کاروباروں کی مدد کرنا ہے۔
حکوممت کا کہنا ہے کہ قنٹس ایئر لائن ملک کے شمال سے ہفتہ وار پرواز میں کوئنز لینڈ سے سی فوڈ اور دیگر سامان لے کر ہانگ کانگ جائے گی۔ جبکہ سنگاپور ایئر لائن جنوبی آسٹریلیا سے کھانے کا سامان لے کر جائے گی۔
کورونا وائرس کے باعث پہلی ہلاکت، یمن میں مسجدیں بند

،تصویر کا ذریعہEPA
یمن میں کورونا وائرس کے باعث پہلی ہلاکت رپورٹ ہونے کے بعد حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا اور اپنے زیر اختیار علاقوں میں مساجد بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اس اقدام کااعلان حوثی علاقوں میں پہلی ہلاکت کی تصدیق کے بعد گذشتہ رات فیس بک پوسٹ میں کیا گیا۔
اس سے پہلے یمن کی عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے عدن میں تیسری ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ اس سے پہلے 29 اپریل کو دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم شہر میں موجود طبی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انھوں نے وائرس کے باعث ہلاکتوں کی ’خوفناک شرح‘ سے متعلق خبردار کیا ہے۔
انڈیا کا اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے ریسکیو مشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا حالیہ برسوں میں اپنے شہریوں کو ریسکیو کرنے کے لیے سب سے بڑا آپریشن کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
انڈیا کا منصوبہ ہے کہ وہ سات سے 13 مئی تک 64 پروازں کے ذریعے ان ہزاروں شہریوں کو واپس وطن لائے گا جو کورونا وائرس کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیگر ممالک میں پھنس گئے تھے۔
سول ایوی ایشن کے منسٹر ہردیپ پوری نے بتایا اس منصوبے کے پہلے ہفتے میں جسے ’وندے بھارت مشن‘ کا نام دیا گیا ہے 12 ممالک میں پروازیں بھیجی جائیں گی جس میں 15000انڈین شہری واپس آئیں گے۔
ان ممالک میں امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، سنگاپور، قطر اور ملائیشا شامل ہیں۔
لیکن واپس آنے کے خواہش مند انڈینز کو ٹکٹس خریدنا ہوں گے اور وہ صرف اسی صورت میں جہاز پر سوار ہو سکیں گے جب ان مںی کورونا وائرس کی علامات نہیں ہوں گی۔ اور واپسی پر بھی ان کی کڑی سکریننگ کی جائے گی اور انہیں قطرنطینہ میں رکھا جائے گا۔
مقامی میّیا کے مطاقب اندازاً دو لاکھ انڈینز واپس آئیں گے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ سنہ 1990 کے بعد انخلا کا سب سے بڑا آپریشن ہوگا۔ سنہ 1990 میں آخری بار انڈیا خلیجی جنگ کے باعث کویت سے ایک لاکھ ستر ہزار باشندوں کو نکالا تھا۔
