برطانیہ: مذہبی رسومات کے لیے’ وقت مناسب نہیں‘، مقامی میڈیا کی فلاح کے لیے اخبار خریدنے کی اپیل

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 36 لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 58 ہزار سے زیادہ ہے۔ برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 649 اموات ہوئی ہیں، جس سے ملک میں مرنے والوں کی تعداد 30 سے بڑھ گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کیا کورونا وائرس سے کبھی ہماری جان چھوٹے گی؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  2. کیا کورونا وائرس اپنی شکل بدل رہا ہے؟, جیمز گیلیگر، صحت کے نامہ نگار

    mutation

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    کیا کورونا وائرس بدل رہا ہے اور کمزور ہو رہا ہے یا یہ زیادہ مہلک ہورہا ہے یا پھر کچھ بھی کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا؟ یہ تینںو خبریں باری باری آ چکی ہیں۔

    کورونا وائرس تبدیل تو ہو رہا ہے اور وائرس ہر وقت ایسا کرتے رہتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں وائرس کے رویے میں تبدیلی نہیں لاتیں۔ اب تک سائنسدان اس وائرس کے جینیاتی کوڈ کا جائزہ لیا ہے لیکن اا لیبارٹری میں جائزہ نہیں لیا گیا۔

    یو سی ایل میں محقق ڈاکٹر لوسی وین ڈراپ کا کہنا ہے کہ ’ مجپے جینوم پسند ہیں لیکن آپ ان کے بارے میں بہت کم بتا سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ اب تک کورونا وائرس میں 200 تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

    کورونا وائرس کو انسانی جسم میں لے جانے والی ’پروٹین کی نوکوں‘ میں ہونے والی تبدیلیاں سب سے زیادہ توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہیں اور شاید یہ اس لیے ہے کہ یہ وائرس کو متعدد بناتی ہیں یا پھر یہ محض یونہی ہے۔

    یونیورسٹی آف نوٹنگھم کے پروفیسر جاناتھن بال کا کہنا ہے کہ ’فی الوقت ہمارے پاس اس کی کوئی حیاتیاتی معلومات نہیں ہیں، یہ انتہائی دلچسپ مشاہدہ ہے، جو کافی اہم ہوگا، لیکن اس وقت یہ اس سے زیادہ نہیں ہے۔‘ان تبدیلیوں کو سمجھنا لازمی ہے۔ یہ ہمیں بتائے گا کہ کورونا وائرس اب کم خطرناک ہو گیا ہے، اس کے مدافعت اور ویکسین کیسے بنے گی۔

  3. امریکہ کا چین پر وائرس پھیلانے کا الزام اور چینی میڈیا کا جواب

  4. مشرق وسطیٰ میں کورونا کا پھیلاؤ اور ایرانی ایئر لائن کا کیا کردار؟

  5. انڈونیشیا کے صدر کا کورونا میں کمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کا حکم

    Joko Widodo

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    انڈو نیشیا کے صدر جو ویڈوڈو نے اپنی کابینہ کے وزرا کو حکم دیا ہے کہ مئی کے مہینے میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد کو گھٹانے کے لیے ’جو چاہے اقدامات کریں‘ تاکہ جولائی میں ان کی تعداد کم ہو جائیں۔

    ان کا کہنا تھا ’میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ اپنی تمام تر طاقت لگا دیں اور کووڈ 19 اور اس کے اثرات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں۔`

    انھوں نے وزرا کو یہ حکم بھی دیا کہ ایسے شعبوں کو بھی معاشی تعاون فراہم کریں جنہیں پہلی سہہ ماہی میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

  6. ووہان کے سکولوں میں امتحانات کا منظر

    wuhan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنطلبہ کے لیے ماسک پہننا لازم ہے

    چین کے شہر ووہان میں جہاں سے کورونا وائرس کی ابتدا ہوئی لاک ڈاؤن کے باعث مہینوں تک خاموش رہا۔

    لیکن آج وہاں آوازیں گونج رہی ہیں، شہر کے کچھ سکولوں میں کرسیاں گھیسنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    فی الحال شہر میں صرف کچھ بڑے کلاسوں کے طلبہ ک امتحانات کے لیے سکول آنے کی اجازت ملی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ووہان شہر میں 57000 طلبہ ہیں۔

    wuhan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفی الحال صرف بڑے بچوں کو سکول آنے کی اجازت ملی ہے
    wuhan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسکول میں داخلے ہوتے وقت طلبہ کا درجہ حرارت چیک کیا گیا
  7. آئندہ چند دن میں لاطینی امریکہ میں وبا عروج کو پہنچ جائے گی

    Latin America

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لاطینی امریکہ بھی کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے متاثر ہو رہا ہے اور بدھ تک وہاں 15000 افراد اس کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس پورے خطے میں کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کی تعداد 282000 ہو چکی ہے۔

    سب سے زیادہ ہلاکتوں کے ساتھ برازیل سر فہرست ہے جہاں 7921 افراد ہلاک و چکے ہیں اور وہاں 114715 افراد میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کے بعد میکسیکو ہے جہاں 2271 ہلاکتیں ہوئی جبکہ ایکواڈور میں 1569 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس آنے والے دنوں میں لاطینی امریکہ میں اپنے عروج کو پہنچ جائے گا۔

  8. جرمنی میں مزید 165 ہلاکتیں

    germany

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جرمنی میں مزید 947 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد بدھ کو وہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 164807 ہوگئی ہے۔

    اس کے علاوہ ہلاکتوں میں بھی 165 کا اضافہ ہوا اور اب جرمنی میں کورونا وائرس کے سبب مرنے والوں کی تعداد 6996 ہو گئی ہے۔

  9. بریکنگ, برطانیہ میں کورونا وائرس کے لیے مشیر مستعفی

    Neil Ferguson

    ،تصویر کا ذریعہImperial College London

    برطانیہ میں حکومت کے کورونا وائرس کے لیے مشیر نیل فرگوسن نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    ان کا یہ فیصلہ ڈیلی ٹیلی گراف کی خبر کے بعد سامنے آیا جس کے مطابق ان کے ’شادی شدہ‘ معشوقہ لاک ڈاؤن کے دوران ان سے ملنے ان کے گھر آئیں۔

    نیل فرگوسن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے صورتحال کے پیش نظر غلطی کی اور میں نے ایک غلط قدم اٹھایا‘۔

    پروفیسر فرگوسن کے ہی مشورے پر برطانیہ کے وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اگر اس وقت کڑے اقدامات نہ لیے گئے تو ملک میں 250000 افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔

  10. چین: ہوبائی میں 32 دن میں کوئی نیا انفیکشن نہیں

    china

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے سرکاری میڈیا ژنہوا کے مطابق چین کے صوبے ہوبائی میں جس کے شہر ووہان سے کورونا وائرس کے ابتدا ہوئی گذشتہ 32 دن میں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    یہ چین میں وائرس کے خلاف لڑائی میں اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ چین میں آہستہ آہستہ پابندیاں ہٹائی جا رہی ہیں اور زندگی معمول کی طرف آ رہی ہے۔

    چین میں منگل کو صرف دو کیسز رپورٹ ہوئے۔ جس کے بعد وہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 82883 ہو گئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 4633 برقرار رہی۔

    تاہم ناقدین نے چین کے اعداد پر شبہات کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن چاہے چین کے متاثرین کے حوالے سے اعداد و شمار درست ہیں یا نہیں لیکن چین میں آنے والی تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ چین بحران کی بدترین صورتحال سے باہر نکل رہا ہے۔

  11. کورونا وائرس: کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز امریکہ اور چین دونوں ہی کورونا وائرس کے لیے ویکسین تیار کرنے کی الگ الگ کوششوں میں لگے ہیں۔

    ایسے میں یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

    لیکن اس بارے میں پہلے ہی خدشات موجود ہیں کہ تیار ہونے والی ویکسین کی امیر ممالک ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے ؟ اس حوالے سے مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

  12. پروازوں کی بحالی پر فضائی سفر کے کرائے بڑھنے کا امکان

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فضائی سفر کے حوالے سے ایک عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ بظاہر پروازوں کے بحالی پر کرایوں میں کمی ہونی چاہیے لیکن امکان ہے کہ کرائے 50 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں۔

    انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ فضائی کمپنیاں جلد از جلد پروازیں شروع کرنا چاہتی ہیں۔

    مسافروں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے پروازوں کی لاگت پر آنے والے خرچ کے باعث کمپنیوں پر بوجھ پڑ سکتا ہے۔

    لیکن اگر پروازوں میں مسافروں کے درمیان نشستیں خالی رکھنے پر زور دیا گیا تو شاید کرایوں میں ایک واضح اضافہ ہو سکتا ہے۔

    حالیہ سماجی دوری کے اصول کے تحت فضائی کمپنیوں کو شاید نشستیں خالی رکھنے کو کہا جائے اور اس وجہ سے ان کے منافع پر اثر پڑے گا۔

  13. ’کورونا کے خطرے کے باوجود وہ اپنے مریضوں کی خدمت کرتے رہے‘

  14. تنقید کے بعد فرانسیسی حکومت ’فیک نیوز‘ سے مقابلہ کرنے والا ویب پیج ہٹانے پر مجبور

    france

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانسیسی حکومت کو اپنے لیے گئے ایک فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑا جب انھوں نے سرکاری ویب سائٹ پر ’فیک نیوز‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے شائع کیے گئے پیج کو حذف کر دیا۔

    ’ڈس انفو کورونا وائرس‘ کے نام سے جاری کیا گیا ویب پیج گذشتہ ہفتے شائع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد بتایا گیا کہ یہ ’قابل بھروسہ اور مصدقہ ذرائع سے کورونا وائرس سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔‘

    اس ویب پیج پر پانچ میڈیا اداروں کی جانب سے حقائق جاننے والے مضامین شامل کیے گئے تھے۔

    لیکن حکومت کو اس ویب پیج جاری کرنے کے بعد شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور سیاستدانوں اور صحافیوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ میڈیا کے صرف اُن اداروں کا سہارا لے رہے ہیں جو ان کے حامی ہیں اور ان کے لیے نرمی رکھتے ہیں۔

    یہ الزام عائد کرنے والوں میں ان میڈیا اداروں کے مدیران بھی شامل ہیں جن کے مضامین حکومتی ویب پیج پر ’قابل بھروسہ ذرائع‘ کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    منگل کو حکومت کی جانب سے ویب پیج حذف کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر ثقافت فرینک ریسٹر نے کہا کہ حکومت کا قطعی یہ مقصد نہیں تھا کہ کیسی خبر رساں ادارے کی تضحیک کی جائے اور وہ اٹھائے گئے خدشات کو سمجھ سکتے ہیں۔

  15. بریکنگ, دنیا میں کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتیں 256000 سے بڑھ گئیں، امریکہ، برطانیہ میں سب سے زیادہ اموات

    world

    دنیا بھر میں کووڈ 19 سے متاثرین کی تعداد 36 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جس میں سے اب تک تقریباً 257000 افراد کی موت ہو چکی ہے۔

    اب تک سب سے زیادہ اموات امریکہ میں نظر آئی ہیں جہاں 71 ہزار افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ منگل کو برطانیہ نے اٹلی کو پیچھے چھوڑ دیا اور اب وہ اموات کے حوالے سے دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔

    پہلے دس ممالک میں سوائے امریکہ (پہلے نمبر)، ایران (نویں نمبر) اور برازیل (ساتویں نمبر) کے علاوہ باقی تمام ملک برِ اعظم یورپ میں ہیں۔

    • امریکہ - 71031
    • برطانیہ - 29501
    • اٹلی - 29315
    • سپین - 25613
    • فرانس - 25537
    • بیلجئیم - 8016
    • برازیل - 7921
    • جرمنی - 6993
    • ایران - 6340
    • نیدرلینڈز - 5185
  16. بریکنگ, امریکی صدر ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس ختم کرنے کا فیصلہ

    usa

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس سے نپٹنے والی ٹاسک فورس کو ختم کیا جا رہا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اس ٹاسک فورس نے اپنا کام بخوبی نبھایا مگر اب اس میں تبدیلی کی جائے گی۔

    امریکی نائب صدر مائیک پینس نے بھی ساتھ ساتھ کہا ہے کہ یہ ٹاسک فورس اگلے چند ہفتوں میں ختم کر دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اس وقت امریکہ میں اوسطاً 20000 نئے کورونا وائرس کے متاثرین روزانہ سامنے آ رہے ہیں جبکہ 1000 سے زیادہ افراد کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

    امریکہ میں صحت کے ماہرین اور سرکاری اہلکاروں نے اس خدشے کا اعلان کیا ہے کہ کہ اگر ملک میں لاک ڈاؤن ختم کر دیا جائے گا اور کاروبار کو دوبارہ کھول دیا جائے تو وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ٹاسک فورس کے خاتمے کے اعلان پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسے ختم کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وائرس کے خلاف جنگ ختم ہو گئی ہے۔

    ’ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ مشن اس وقت مکمل ہوگا جب یہ ختم ہو جائے گا۔‘

    کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر دوسرے کورونا وائرس ٹاسک فورس کی سربراہی کریں گے جو کہ کاروبار کی بحالی پر توجہ دے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے لیہ میک اینانی نے ان خدشات کو مکمل طور پر رد کیا جس میں کہا گیا کہ امریکی حکومت سائنسدانوں اور ماہرین کو فیصلہ سازی سے دور کر رہی ہے۔

  17. امریکہ کے سینئیر ترین جرنیل نے کورونا وائرس کے آغاز کے بارے مفروضوں کو مسترد کر دیا

    get

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کہ سب سے سینئیر فوجی جرنیل نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن کے مطابق کورونا وائرس کا آغاز چین میں ووہان کی لیب میں ہوا تھا۔

    منگل کو پینٹاگون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مارک ملے نے کہا: ’کیا وہ وہان کی وائرولوجی کی لیب سے نکلا ہے؟ کیا وہ ووہان میں جنگلی جانوروں والی مارکیٹ سے آیا ہے؟ کیا وہ کہیں اور سے شروع ہوا؟ ان تمام سوالات کا جواب ہے: ہمیں نہیں معلوم۔‘

    دو روز قبل امریکہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ’ہمارے پاس کافی سارے شواہد ہیں‘ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس چینی لیب سے نکلا ہے۔

  18. ایشیا میں ڈھائی لاکھ متاثرین، دنیا میں کل مریضوں کا 7 فیصد

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان، انڈیا، چین، سنگاپور، جنوبی کوریا اور جاپان میں اس وقت کورونا وائرس کی وبا امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں کم رفتار سے پھیل رہی ہے جبکہ ان ممالک میں کل متاثرین کی تعداد ڈھائی لاکھ بنتی ہے۔

    پہلی بار چین کے شہر ووہان سے اس وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق ہوئی تھی۔ جس خطے سے اس وبا کا آغاز ہوا وہاں حالات امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں۔

    ایشیا میں چار ماہ بعد کل متاثریں ڈھائی لاکھ ہی ہیں۔ یہ وہ تعداد ہے جو دو ماہ پہلے صرف ایک یورپی ملک سپین میں تھی۔

    ایشیا میں دنیا کے سات فیصد متاثرین ہیں جبکہ یورپ میں یہ تعداد 40 فیصد بنتی ہے اور شمالی امریکہ میں یہ 34 فیصد ہے۔ تاہم ماہرین نے اس خدشےکا اظہار کیا ہے کہ غیر مصدقہ متاثرین کی وجہ سے تعداد کم ہو سکتی ہے۔

  19. سابق امریکی صدر ورچوئل گریجوایشن تقریب کے میزبان ہوں گے، ملالہ بھی شریک ہوں گی

    اوباما اور مشعل اوباما

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وبا کی وجہ سے گھروں میں محصور ہو کر رہ جانے والے ہائی سکول کے سینیئرز طلبا کی گریجوایشن تقریب کی میزبانی سابق امریکی صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشعل اوبامہ کریں گی۔

    یہ تقریب ٹی وی پر دکھائی جائے گی۔

    گریجوایٹ ٹوگیدر: امریکہ نے ہائی سکول کے کلاس 2020 کے لیے اس تقریب کا اہتمام کیا ہے جسے 16 مئی کو تقریباً تمام ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھایا جائے گا۔

    اس میں باسکٹ بالر لیبرون جیمس ، نوجوانوں کی تعلیم کے لیے سرگرم کارکن ملالہ یوسف زئی، پاپ اسٹار جوناس برادرز، اور امریکی فٹ بال کھلاڑی میگین ریپنو جیسی مشہور شخصیات بھی شریک ہوں گی۔

    چھ جون کو سباق صدر اوباما اور ان کی اہیلہ یو ٹیوب کے پروگرام ڈیئر کلاس آف 2020 میں بھی شریک ہوں گے۔

    سابق صدر اوباماکے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ علیحدہ علیحدہ ان تقریبات سے خطابات کریں گے اور طلبا کو ایک مشترکا پیغام دیں گے۔

    یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ملک بھر سے طلبا نے ٹویٹر پر #ObamaCommencement2020 ایک مہم چلائی کہ ان کی تقریب سے سابق صدر خطاب کریں۔

  20. کورونا کی وبا آخر کب ختم ہوگی؟

    کورونا وائرس کی وجہ لاک ڈاؤن ہے اور دنیا بھر میں لوگ اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں۔ معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ مگر کیا یہ وبا کبھی ختم ہوگی اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام