برطانیہ: ’تحقیق کی جا رہی ہے کہ ایشیائی اور دیگر اقلیتیں بیماری سے زیادہ متاثر کیوں‘
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 21 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں تین ہفتوں جبکہ ریاست نیویارک میں لاک ڈاؤن 15 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس: مشرقِ وسطیٰ میں کیا ہو رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنغزہ کی پٹی میں دس میں سے صرف ایک گھر میں پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔ - اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی کمی کے شکار عرب خطے میں سات کروڑ 40 لاکھ افراد کووِڈ-19 سے متاثر ہونے کے شدید خطرے کی زد میں ہیں کیونکہ وہ ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
- اس کے علاوہ آٹھ کروڑ 70 لاکھ افراد کے گھروں میں پینے کے پانی کا ذریعہ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے انھیں کسی عوامی جگہ سے پانی اکھٹا کرنا پڑتا ہے اور مرض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
- ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ قطر میں حکام نے درجنوں تارکِ وطن مزدوروں کو کووِڈ-19 کا ٹیسٹ کرنے کے بہانے گرفتار کیا اور ملک بدر کر دیا۔ انسانی حقوق کے اس ادارے نے نیپال سے تعلق رکھنے والے 20 افراد کا انٹرویو کیا جنھوں نے کہا کہ انھیں مارچ میں سینکڑوں دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ ان افراد نے الزام عائد کیا کہ انھیں کئی دنوں تک خراب حالات والے حراستی کیمپوں میں رکھا گیا اور پھر طیاروں میں زبردستی سوار کروا دیا۔ قطر نے کہا ہے کہ ‘حکام نے غیر قانونی کاموں میں ملوث افراد کا پتا لگایا تھا۔’
- ایران میں لگاتار دوسرے روز بھی اموات کی یومیہ تعداد 100 سے نیچے رہی۔ وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 94 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس سے یہاں ہلاکتوں کی کُل تعداد 4777 ہوچکی ہے۔
بریکنگ, کورونا وائرس: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں اب تک کووِڈ-19 سے 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد افراد کی اس سے موت ہو چکی ہے۔
دنیا بھر میں پانچ لاکھ ایک ہزار سے زائد افراد اس مرض سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔ امریکہ اس مرض سے دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں چھ لاکھ نو ہزار 696 افراد میں کووِڈ-19 کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 26 ہزار 59 افراد اس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
اموات کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر اٹلی ہے جہاں 21 ہزار 67 افراد کی اس مرض سے ہلاکت ہوئی ہے جبکہ مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد کے اعتبار سے سپین دوسرے نمبر پر ہے جہاں ایک لاکھ 77 ہزار 633 افراد میں کووِڈ-19 کی تصدیق ہوئی ہے۔
سپین میں اب تک 18 ہزار 579 افراد کووِڈ-19 سے ہلاک ہوئے ہیں۔
دنیا کے دیگر ممالک میں کووِڈ-19 سے ہلاکتوں کی تعداد کچھ یوں ہے:
فرانس: 15 ہزار 729
برطانیہ: 12 ہزار 868
ایران: چار ہزار 777
بیلجیئم: چار ہزار 440
جرمنی: تین ہزار 502
کورونا: برطانیہ کے معمر افراد جن کی موت کوئی شمار نہیں کر رہا
بریکنگ, برطانیہ: کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں 761 کا اضافہ
برطانیہ کے ہسپتالوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے سبب 761 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک بھر کے ہسپتالوں میں کووِڈ-19 سے 12 ہزار 868 افراد کی موت ہوچکی ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کورونا کے دور میں جیف بیزوس کی دولت میں 24 ارب ڈالر کا اضافہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آن لائن خرید و فروخت کی دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ ایمازون کے بانی اور مالک جیف بیزوس کی دولت میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران 24 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا کیونکہ آن لائن خریداری میں اضافے کی وجہ سے کمپنی کے حصص کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق اب جیف بیزوس 138 ارب ڈالر کے اثاثوں کے مالک ہیں اور دنیا کے امیر ترین شخص کے طور پر ان کی حیثیت برقرار ہے۔
ایمازون اس وقت کام میں اضافے کی وجہ سے ہزاروں افراد کو بھرتی کر رہی ہے لیکن اس پر امریکہ میں ملازمین نے کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کرنے پر تنقید بھی کی ہے۔
پانچ لاکھ ڈی این اے نمونوں کی مدد سے کورونا وائرس کو سمجھنے کی کوشش شروع

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
،تصویر کا کیپشنسائنسدان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کچھ لوگ کورونا وائرس سے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ کیوں متاثر ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں سائنسدان پانچ لاکھ رضاکاروں سے حاصل کردہ ڈی این اے نمونوں کا تجزیہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کورونا وائرس کے مرض میں علامات کی شدت مختلف لوگوں میں مختلف کیوں ہوتی ہے۔
یو کے بائیو بینک نامی اس ادارے میں لوگوں سے ڈی این اے کے نمونوں کے ساتھ ساتھ ان کی صحت کی تفصیلی معلومات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
امید کی جا رہی ہے کہ انسانوں میں موجود جینیاتی فرق سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ کیوں مکمل طور پر صحتیاب افراد شدید بیمار پڑ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں اب تک کووِڈ-19 سے 19 لاکھ 99 ہزار 628 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 28 ہزار 11 افراد کی اس سے موت ہو چکی ہے۔ دنیا بھر میں پانچ لاکھ 996 افراد اس مرض سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔
دنیا بھر کے 15 ہزار سائنسدانوں کو یو کے بائیو بینک تک رسائی حاصل ہوگی۔
کچھ لوگوں میں کورونا وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے لوگوں کا تناسب کتنا ہے۔
چند لوگوں میں علامات معمولی سے لے کر درمیانی شدت تک کی ہوتی ہیں۔
لیکن ہر پانچ میں سے ایک شخص میں اس مرض کی علامات نہایت شدید ہوتی ہیں اور اعشاریہ پانچ فیصد سے لے کر ایک فیصد کے درمیان لوگ اس مرض سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنمحققین کا خیال ہے کہ جینیاتی تحقیق کورونا وائرس کے بارے میں ہماری فہم کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے یو کے بائیو بینک میں پانچ لاکھ رضاکاروں کے خون، پیشاب اور تھوک کے نمونے موجود ہیں جن کی صحت کی گذشتہ ایک دہائی کے دوران نگرانی کی جاتی رہی ہے۔
اور اس بینک نے کینسر، سٹروک اور ڈیمینشیا جیسے امراض کے بارے میں ہمارے سوالات کا جواب تلاش کرنے میں ہماری مدد کی ہے۔
اب اس میں کورونا وائرس کے مثبت ٹیسٹوں، ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کا ڈیٹا بھی شامل کیا جائے گا۔
اس پراجیکٹ کے مرکزی محقق پروفیسر روری کولنز نے کہا کہ ‘ہم یو کے بائیو بینک میں موجود ڈیٹا کو دیکھ کر ان افراد کے درمیان فرق کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی جینیات میں کیا فرق ہے؟ کیا ان کے جینز میں فرق کا ان کی قوتِ مدافعت سے کوئی تعلق ہے؟ کیا اس کا ان کی مجموعی صحت پر فرق پڑتا ہے؟’
انھوں نے کہا کہ یہ ڈیٹا سیٹ نہایت منفرد اور بڑا ہے اور ان کے خیال میں یہ اس مرض کے بارے میں ہماری فہم کو مکمل طور پر بدل کر رکھ سکتا ہے۔
ایران میں گذشتہ ایک روز میں 1500 سے زیادہ نئے متاثرین, کل متاثرین 76,389، اموات کی تعداد 4,777

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ کووڈ 19 کے 1512 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ اس سے ملک میں متاثرہ افراد کی کل تعداد 76,389 ہوگئی ہے۔
وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 94 مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔ اموات کی کل تعداد 4,777 ہے۔
پچھلے دو دنوں میں یہ دوسری مرتبہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد دو ہندسوں میں ہے، ورنہ گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے دوران اموات 100 سے زیادہ رہتی تھیں۔
حکام کے مطابق 3,643 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 49,933 ہوگئی ہے۔
گذشتہ روز تک ایران کے اعداد و شمار 74,877 متاثرین اور 4,683 اموات تھے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں ایران کا نمبر آٹھواں ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے پر چین اور جرمنی کی امریکہ پر تنقید
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے کے فیصلے پر دنیا بھر میں تنقید کی جا رہی ہے اور اب چین اور جرمنی نے بھی اس تنقید میں اپنی آواز شامل کر لی ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ چین کو اس فیصلے پر ‘شدید تشویش’ ہے جو کہ وبا کے دوران ‘ایک اہم لمحے’ پر لیا گیا ہے۔
جرمنی کے وزیرِ خارجہ ہائیکو ماس نے کہا کہ ‘الزامات سے بات نہیں بنے گی۔’
انھوں نے کہا کہ وائرس کو روکنے کے بہترین طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں تاکہ ٹیسٹنگ کٹس اور ویکسین کی تیاری میں مدد مل سکے۔
یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ جوزف بورل نے کہا کہ انھیں اس اقدام پر ‘شدید تاسف’ ہے۔ انھوں نے کہا: ‘اس وقت جب وائرس کو روکنے کے لیے ان اداروں کی کوششیں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہیں، اس وقت اس اقدام کی توجیہ پیش کرنا بے عقلی ہوگی۔’
ٹور ڈی فرانس سائیکلنگ مقابلہ دو ماہ تاخیر سے شروع ہوگا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹور ڈی فرانس کا آغاز 27 جون کے لیے طے شدہ تھا مگر کورونا وائرس کے پیشِ نظر دنیا کا سب سے بڑا سائیکلنگ مقابلہ اب 29 اگست کو شروع کیا جائے گا۔
سائیکلنگ کے منتظم ادارے انٹرنیشنل سائیکلنگ یونین (یو سی آئی) نے اعلان کیا کہ ٹور ڈی فرانس منعقد ضرور ہوگا۔ اس کی تاریخیں دلچسپ اس لیے ہیں کیونکہ فرانس میں سکولوں کی تعطیلات یکم ستمبر کو ختم ہوں گی جبکہ یہ ایونٹ 20 ستمبر تک جاری رہے گا۔
انٹرنیشنل سائیکلنگ یونین نے کہا کہ اس ایونٹ کو بہترین حالات میں منعقد کرنا ضروری تصور کیا گیا ہے کیونکہ اس سے خاص طور پر ٹیموں کو فائدہ ہوتا ہے جنھیں اس ایونٹ سے زبردست تشہیر ملتی ہے۔
جرمنی: لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے آج مذاکرات ہوں گے

،تصویر کا ذریعہReuters
جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل اپنے ملک کی 16 ریاستوں کے سربراہان سے جلد ہی اس حوالے سے مذاکرات کریں گی کہ ملک میں کورونا وائرس کے پیشِ نظر عائد پابندیوں میں کب نرمی کی جا سکتی ہے۔
جرمن میڈیا کے مطابق برلن میں وفاقی حکومت کم از کم 3 مئی تک نقل و حرکت پر پابندی چاہتی ہے لیکن 20 اپریل سے کچھ دکانوں کو سخت ضوابط کے تحت کھلنے کی اجازت دی جائے گی۔
مغربی یورپ کے دیگر ممالک کی بہ نسبت جرمنی اتنا زیادہ متاثر نہیں ہوا ہے۔ آر کے آئی پبلک ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کے مطابق جرمنی میں اب تک اس وائرس سے 3254 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں 285 گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ہوئیں۔
آسٹریا نے منگل کو کچھ دکانیں کو کاروبار کی اجازت دے دی ہے اور جرمنی بھی ممکنہ طور پر ایسا ہی کرے گا۔
ڈنمارک نے 11 سال سے کم عمر بچوں کے سکول کھولنے شروع کر دیے ہیں۔
مذاکرات عالمی وقت کے مطابق دن 12 بجے شروع ہوں گے چنانچہ حتمی فیصلے مختلف ہو سکتے ہیں۔
یہ بحران گذشتہ ماہ جرمنی کی معیشت کو کساد بازاری میں دھکیل چکا ہے۔
عالمی ہلاکتیں 1 لاک 24 ہزار سے بڑھ گئیں، کہیں لاک ڈاؤن جاری کہیں پابندیاں نرم
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے وائرس کی تشخیص کے لیے مقناطیسی آلہ متعارف کروا دیا
ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کے کمانڈر نے ایک ایسے دستی آلے کی رونمائی کی ہے جو ان کے مطابق 100 میٹر کے فاصلے سے کورونا وائرس متاثرین کی شناخت کر سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق میجر جنرل حسین سلامی نے کہا کہ یہ آلہ ایک مقناطیسی میدان پیدا کرے گا جس کے بعد اس کا اینٹینا وائرس سے متاثرہ کسی بھی جگہ کو پانچ لمحوں میں پہچان سکے گا۔
انھوں نے کہا کہ اس کے درست ہونے کی شرح 80 فیصد ہے لیکن اپنے دعوے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق کووِڈ-19 کے قابلِ اعتبار ٹیسٹنگ کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ناک یا گلے سے نمونہ حاصل کیا جائے، جسے بعد میں لیبارٹری بھیج کر وائرس کا جینیاتی مواد تلاش کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTasnim
جاپان میں شہریوں سے اپنی برساتی عطیہ کرنے کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جاپان کے شہر اوساکا میں شہریوں سے پلاسٹک کی برساتی یا رین کوٹ عطیہ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ ہسپتال میں طبی عملے کی مدد ہوسکے جن کے پاس حفاظتی لباس کی کمی ہے۔
شہر کے میئر نے کہا ہے کہ کچھ عملہ کوڑے کی تھیلیاں پہننے پر مجبور ہے۔
’اگر ڈاکٹر بیمار ہوتے ہیں تو ہم کورونا کو شکست نہیں دے سکتے۔۔۔ حفاظتی سامان کی قلت ہے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شہر کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ اس کام میں بڑی عمر کے افراد کے لیے ہر قسم اور رنک کی برساتی قابل قبول ہوگی۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹوکیو کے بعد سب سے زیادہ متاثرین اوساکا میں ہیں۔ یہاں 900 کے لگ بھگ متاثرین موجود ہیں۔
جاپان میں اب تک 8000 سے زیادہ متاثرین اور 166 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔
’مفتی منیب سعودی عرب میں ہوتے تو آج وہاں طواف ہو رہا ہوتا‘
’لاک ڈاؤن کے خاتمے کے لیے پہلے بتدریج نرمی لائیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
لاک ڈاؤن سے متعلق بحث پر یورپی یونین نے یہ تجویز جاری کی ہے کہ اگر کوئی رکن ملک لاک ڈاؤن ختم کرنا چاہتا ہے تو وہ پہلے اس میں مسلسل نرمی لائے۔
یورپی ممالک کی تنظیم نے رکن ملکوں کے لیے تجاویز کا اعلان کیا ہے اور تمام اراکین کو خبردار رہنے کا کہا ہے۔
یورپی یونین کی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے لیے ملکوں کے سامنے بڑی شرط یہ ہوگی کہ انفیکشن کے متاثرین میں کمی آئی ہو، ان کے صحت کے نظام میں مناسب صلاحیت ہو اور وہ شہریوں کی حفاظت اور نگرانی کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تجویز سب کے لیے ہے کہ لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی لائی جائے اور تمام اقدامات کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔
انھوں نے مزید کہا ہے کہ چار مئی کو ایک آن لائن کانفرنس کے ذریعے فنڈنگ کے مسائل کے حل پر بات چیت کی جائے گی۔
بریکنگ, جب تک ویکیسن نہیں ملتی کچھ پہلے جیسا نہیں ہو سکتا: ہسپانوی وزیراعظم, سپین میں 5100 نئے مریض، مزید 532 ہلاکتیں

،تصویر کا ذریعہEPA
سپین میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد میں 24 گھنٹے میں 5100 کا اضافہ ہوا ہے اور اب ملک میں 177633 متاثرین موجود ہیں۔
5100 نئے مریضوں کا اضافہ سپین میں گذشتہ پانچ دن میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ خیال رہے کہ سپین نے رواں ہفتے ہی لاک ڈاؤن میں نرمی کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
تاہم نئے مریضوں کی ریکارڈ تعداد کے باوجود کورونا سے ہلاکتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے اور سپین میں مزید 523 افراد اس وبا کا شکار بنے ہیں۔
سپین میں اب تک کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساڑھے 18 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔
سپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے یہ اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ زندگی دوبارہ معمول پر تبھی آ سکتی ہے جب کہ کورونا کی ویکسین دریافت کر لی جائے۔
ہر امدادی چیک پر ’صدر ٹرمپ کا نام درج ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے کورونا وائرس سے معاشی نقصان کے پیش نظر لاکھوں شہریوں کو امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ مستحق افراد کو 1200 امریکی ڈالر کا چیک ملے گا۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تقسیم ہونے والے ہر چیک پر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام درج ہو گا۔
اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انٹرنل ریونیو سروس کے چیک پر کسی امریکی صدر کا نام درج کیا جائے گا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے رقم کی تقسیم میں کچھ دنوں کی تاخیر ہوسکتی ہے۔ تاہم ایک سینیئر اہلکار نے سی این این سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی ہے۔
چین کے بغیر عالمی مسائل کا حل ممکن نہیں, جوناتھن مارکس، دفاعی و سفارتی امور کے تـجزیہ نگار، بی بی سی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پالیسی کے کئی ماہرین عالمی معاشی نظام میں چین کے کردار پر بحث کر رہے ہیں۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران چین اپنی ترجیحات کو فوقیت دے رہا ہے اور اپنے بنائے اصولوں پر چل رہا ہے۔
لیکن دنیا کو چین کی صنعتی صلاحیت کی ضرورت ہے تاکہ ادویات اور طبی سامان تیار کیا جا سکے اور اسے دنیا بھر میں بھیج کر معیشت کی بحالی ممکن ہوسکے۔
برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ لارڈ ہیگ کا کہنا ہے کہ ’ہم حکمت عملی میں ٹیکنالوجی سے تیار کردہ طبی سامان کے اعتبار سے چین پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘
لیکن انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’ہم چین کے بغیر عالمی مسائل حل نہیں کر سکتے۔‘
اس سلسلے میں مغربی ممالک، جاپان اور انڈیا کی کوششوں کی بھی ضرورت ہے۔
لیکن اب آئندہ امریکی صدارتی انتخابات کی اہمیت نہ صرف امریکہ کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے بڑھ گئی ہے۔
مختلف ممالک میں اموات کی شرح مختلف کیوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد جرمنی کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مرنے والوں کی تعداد میں اتنا فرق ہے؟
پہلے پہل یہ بات بہت حیران کن لگ رہی تھی کہ ایک وائرس جس میں کوئی تبدیلی بھی نہیں آئی اس کی وجہ سے مختلف ملکوں میں مرنے والوں کی تعداد میں اس قدر فرق ہو سکتا ہے۔ حتی کہ ایک ہی ملک میں بھی وقت کے ساتھ اموات کی تعداد بدل رہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟
جو فرق ہم دیکھ رہے ہیں وہ کئی عناصر کی وجہ سے ہے۔ غالباً اس کی سب سے بڑی مگر سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ہم متاثرہ افراد کے کتنے ٹیسٹ کر رہے ہیں اور ان کا شمار کیسے کر رہے ہیں؟
