دس سال میں پیدا ہونے والی نوکریاں چار ہفتوں میں ختم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں فقط ایک مہینے میں کورونا کی وبا نے تقریباً اتنی نوکریوں کے برابر نوکرایاں ختم کر دی ہیں جو امریکہ میں سنہ 2008 اور 2009 کے معاشی بحران کے بعد پیدا کی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1930 کی دہائی کے گریٹ ڈپریشن کے بعد سب سے بڑا بحران ہے۔
معاشی ماہرین پرامید ہیں کہ آنے والے دنوں میں جیسے ہی چھوٹے کاروباروں سے منسلک افراد کو حکومت کی جانب سے مدد ملے گی تو بیروزگاری کی تعداد میں کمی آنے لگے گی۔
اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب گورنرز اس پر بات چیت کریں گے کہ ملک کے مختلف علاقوں جہاں کورونا کے کیسز کی بڑی تعداد کا دور گزر چکا ہے، ان کو کیسے کھولا جائے تو اس کے بعد ہی بیروزگار افراد کی تعداد میں کمی ہو گی۔
یکم مئی کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں کو کھولے جانے کے سلسلے میں نئی گائیڈ لائنز یعنی نئے ضوابط کیا ہوں گے اس حوالے سے صدر ٹرمپ کا اعلان آج متوقع ہے۔
امریکی حکومت نے آٹھ کروڑ امریکیوں کو فی کس 1200 امریکی ڈالر کے چیک اور ہر بچے کے لیے 500 ڈالر دینے کا آغاز کیا ہے۔ یہ فیڈرل حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مختص دو کھرب ڈالر کے امدادی پیکج کا حصہ ہے۔
یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بیروز گاری کے الاؤنس کی درخواستوں کے اعداد و شمار پوری تصویر پیش نہیں کرتے کیوں کہ ہر کوئی اس الاؤنس کا حقدار نہیں۔ اس کے علاوہ اپنا کام کرنے والے افراد اور آن لائن یا آن ڈیمانڈ کام کرنے والے افراد جن کے پاس عارضی مدت کے لیے کام ہوتا ہے کو درخواستین دینے میں تاخیر ہوئی ہے کیوں کہ وہ مارچ ریلیف بل کے بعد ہی وہ اس کے اہل ہوئے ہیں۔
اس لیے کتنے افراد بیروز گار ہوئے یہ اعدادوشمار سامنے آنے والی تعداد سے ممکنہ طور پر کہیں زیادہ ہیں۔















