برطانیہ: ’تحقیق کی جا رہی ہے کہ ایشیائی اور دیگر اقلیتیں بیماری سے زیادہ متاثر کیوں‘

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 21 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں تین ہفتوں جبکہ ریاست نیویارک میں لاک ڈاؤن 15 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ میں لاک ڈاؤن ختم کرنے پر غور

    capitol hill

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو کورونا وائرس کے حوالے سے نئی حکومتی حکمت عملی کا اعلان کریں گے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ سماجی دوری کے حوالے سے عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کریں گے۔

    بدھ کو وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے لیے نئی ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد اپنی بلند ترین سطح پار کر چکی ہے۔

    انھوں نے زیادہ موثر ٹیسٹنگ اور حفاظتی سامان کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ملک کی بڑی بزنس اور کاروباری شخصیات سے مشاورت ہو چکی ہے۔

    اس وقت زیادہ تر امریکی شہری سماجی دوری کے سخت اقدامات میں جی رہے ہیں۔

    امریکہ میں اب تک تقریباً 31 ہزار اموات ہو چکی ہیں جن میں سے 11 ہزار صرف نیو یارک میں ہوئی ہیں۔

  2. بریکنگ, روس میں ایک دن میں تقریباً 3500 نئے کورونا متاثرین

    russia

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہے اور ایک دن میں 3448 مریضوں میں وائرس کی تشخیص کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 27938 ہوگئی ہے۔

    حکام کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ان میں سے 1370 مریض دارالحکومت ماسکو میں ہیں۔ روس میں اب تک کورونا کی وجہ سے 232 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 2304 ہے۔

  3. کورونا وائرس: مختلف ممالک میں اموات کی شرح مختلف کیوں؟

  4. کورونا وائرس: وہ مسلمان جو ہندوؤں کی آخری رسومات ادا کرتا ہے

  5. برطانیہ میں ’لاک ڈاؤن ختم کرنے کی باتیں قبل از وقت ہیں‘

    matt hancock

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    برطانیہ کی حکومت کی جانب سے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید توسیع متوقع ہے اور اس ضمن میں اعلان جمعرات کو کیا جائے گا۔

    ہیلتھ سیکریٹری میٹ ہینکاک نے کہا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن جلدی ختم کر کے عوام کی جانب سے لیے گئے قابل تحسین سماجی دوری کے اقدامات کو ضائع نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ایسے وائرس کو ایک بار پھر پھیلنے کا موقع ملے گا۔

    بی بی سی بریک فاسٹ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جمعرات کو کیے جانے والے سرکاری اعلان میں مزید تفصیلات دی جائیں گی لیکن حکومت میں اس بات پر اتفاق ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے کی باتیں قبل از وقت ہیں۔

  6. آسٹریلیا: مریض کو ٹیسٹ کیے بغیر کورونا کی تشخیص کرنے کے سسٹم کا تجربہ

    CSIRO

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آسٹریلیا میں سائنسدانوں نے کہا ہے کہ وہ عنقریب انسانی فضلے میں کورونا وائرس کی تشخیص کرنے کے لیے نئے ٹیسٹ تشکیل دے سکیں گے۔

    ان کے مطابق اس طرح ایسی بستیوں کی نشاندہی ہو سکے گی جہاں کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ وہاں بسنے والوں کے جسم میں وائرس کے آثار موجود ہیں۔

    امید کی جا رہی ہے کہ آسٹریلیا کی قومی سائنسی ایجنسی اور یونیورسٹی آف کوینزلینڈ کے اشتراک سے کیے جانے والے حالیہ تجربوں کی مدد سے قومی سطح پر ایک مانیٹرنگ سسٹم ترتیب دیا جا سکے گا جو اس وقت کام آئے گا جب حکام سماجی دوری اور لاک ڈاؤن جیسے پابندیوں میں نرمی لانے کی سوچیں گے۔

    یہ نیا سسٹم ایک پہلے سے موجود ٹیسٹ پر مبنی ہے جس کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے ادارے فضلے میں موجود منشیات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے تو اس کے ذریعے کسی بھی شخص کا ٹیسٹ کیے بغیر مریض کی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے۔

  7. 'میں شاید وائرس کے بجائے بھوک سے مر جاؤں'

  8. ایران میں کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے لگیں

    iran

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ایران کی حکومت نے ملک میں کم خطرے والے کاروبار اور صنعتوں کو کھولنے کی اجازت دین شروع کر دی ہے۔

    کاروباری افراد یا ادارے جو اپنے کاروبار کھولنے کے خواہش مند ہیں انھیں وزارت صحت کی ویب سائٹ پر آج رات تک اپنا اندراج کروانا ہوگا اور تہران میں کاروباری سرگرمیاں 18 اپریل سے شروع ہونے کی توقع ہے۔

    ایران میں اس وقت متاثرین کی تعداد 76 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ وائرس کے باعث اب تک 4777 اموات ہو چکی ہیں۔

  9. کورونا وائرس کے لیے ویکسین دریافت کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  10. کینیا: قرنطینہ مرکز سے فرار کی کوشش

    kenya

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کینیا کے دارالحکومت نائروبی میں درجنوں افراد کی قرنطینہ مرکز سے فرار ہونے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔

    فرار ہونے کی کوشش کرنے والوں کا کہنا ہے کہ قرنطینہ مرکز میں ناقابل برداشت حالات کی وجہ سے انھوں نے یہ قدم اٹھایا۔

    کینیا نے اپنی سرحدوں کی بندش سے قبل ملک میں داخل ہونے والے تمام افراد کو قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے۔ تاہم وہاں موجود کئی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی قرنطینہ کے دورانیے میں اضافہ کر دیا گیا ہ جس کی وجہ سے وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

    ان افراد میں سے ایک نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ قرنھینہ مرکز واپس جانے کے لیے تیار نہیں۔ سائمن مگامبی نے کہا: ’نہ تو میں اس کا خرچہ برداشت کر سکتا ہوں اور نہ ہی یہاں رہنے کا سائنسی اعتبار سے کوئی فائدہ ہے۔‘

    مرکز میں رکھے گئے افراد کے مطابق کئی لوگوں کے دو، دو منفی ٹیسٹ آنے کے باوجود انھیں گھر جانے کی اجازت نہیں ملی۔

  11. بریکنگ, انڈیا کے چھ بڑے شہر ’کورونا ہاٹ سپاٹ‘ قرار

    corona

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا کے چھ بڑے شہروں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے مرکز یا ’ہاٹ سپاٹ‘ قرار دے دیا گیا ہے۔

    ان میں دارالحکومت نئی دہلی، ممبئی، چنائی، بنگلور کولکتہ اور حیدرآباد شامل ہیں۔

    بدھ کی رات کو جاری کی گئی ہدایات میں حکومت نے ملک کو رنگوں کے حساب سے مختلف زون میں بانٹ دیا ہے۔

    چھ بڑے شہروں کو ’ریڈ زون‘ یا سرخ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نارنجی رنگ ان علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں قدرے کم متاثرین ہیں جبکہ سبز یا ’گرین زون‘ کا مطلب ایسے علاقے ہیں جہاں کوئی مریض سامنے نہیں آیا۔

    ملک میں کُل 170 ضلعوں کو ’ریڈ زون‘ قرار دیا گیا ہے تاہم اب تک کسی گرین زون کی نشاندہی نہیں ہو پائی۔

  12. چین کے شہر ووہان میں شادیوں کی بھرمار

    wuhan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے شہر ووہان میں جوڑے بڑی تعداد میں سرکاری دفاتر اور فوٹو سٹوڈیوز کا رخ کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں زندگی اب معمول پر واپس آنے لگی ہے۔

    ووہان وہی جگہ ہے جہاں سے کورونا وائرس کی وبا پھیلی اور یہاں 11 ہفتے لاک ڈاؤن کے بعد شہر کو 8 اپریل کو دوبارہ کھولا گیا۔

    لاک ڈاؤن ختم ہوتے ساتھ ہی کئی ماہ سے ملتوی شادی کی تقریبات کے لیے تیاریاں بھی زور و شور سے دوبارہ شروع ہوگئی ہیں۔

    لیکن جہاں شادی کے فوٹوگرافر بہت مانگ میں ہیں، ایک فوٹوگرافرنے بتایا کہ وہ صحت کے خدشات کے باعث دن میں صرف دو سے تین جوڑوں کی تصاویر بناتے ہیں۔

    wuhan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    wuhan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  13. چین میں مقامی منتقلی کے کیس دوبارہ نظر آنے لگے

    china

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین میں ایک طرف بیرون ملک سے آئے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے تو دوسری جانب مقامی منتقلی کے کیسز میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے۔

    بدھ کو مقامی منتقلی کے نئے مریضوں کی تعداد 12 تھی جن میں سے تین مریض دارالحکومت بیجنگ سے ہیں۔ یہ کئی ہفتوں بعد سامنے آنے والے مقامی منتقلی کے پہلے کیسز تھے۔

    بیرون ملک سے آنے والے مریضوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے اور جب سے ملک سے اپنی سرحدوں پر سختی کر دی ہے تو یہ تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے۔

  14. سنگاپور: ایک ہی دن میں کورونا کے 447 نئے کیس، متاثرین کی کل تعداد 3699 ہو گئی

    سنگاپور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سنگاپور میں بدھ کے روز کورونا وائرس کے مزید 447 کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 3699 ہو گئی ہے۔

    یہ سنگاپور میں ایک ہی دن میں کورونا وائرس کے متاثرین کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    سنگاپور میں سامنے آنے والے نئے کیسز کی اکثریت ان ہوسٹلوں سے آئی ہے جو سنگاپور نے غیر ملکی ورکرز کے لیے بنا رکھے ہیں۔

    ان ہاسٹلوں میں رہنے والے سینکڑوں تارکین وطن ملازموں کے روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں مزید اضافہ سامنے آ سکتا ہے۔

    ان ہاسٹلوں میں مقیم تقریباً ایک ہزار صحت مند ملازمین کو پہلے ہی یہاں سے نکال کر دوسری رہائش گاہ میں منتقل کیا جا چکا ہے۔

  15. برطانیہ: کورونا وائرس سے متاثرہ حاملہ نرس کی ہلاکت کے باوجود بچے کو بچا لیا گیا

    nurse

    ،تصویر کا ذریعہOther

    کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والی ایک حاملہ برطانوی نرس کے بچے کو بچا لیا گیا ہے۔

    28 سالہ میری ایگاپونگ پانچ سال سے لوٹن اینڈ ڈنسٹیبل یونیورسٹی ہسپتال میں کام کر رہی تھیں اور ان کی وفات وہیں ہوئی۔

    ہسپتال کی ایک ترجمان کے مطابق ان کا بچہ بالکل صحت مند ہے لیکن مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

    میری کو 7 اپریل کو ہسپتال لایا گیا تھا اور اس سے دو دن قبل ان میں وائرس کی تشخیس ہوئی تھی۔

  16. ٹام ہینکس کی اہلیہ کے کلوروکوین کے حوالے سے خدشات

    rita and tom

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی اداکار ٹام ہینکس اور ان اہلیہ ریٹا وِلسن میں گذشتہ ماہ کورونا وائرس کی تشخیص اس وقت ہوئی جب دونوں آسٹریلیا میں تھے۔

    اب ریٹا ولسن نے کورونا کے علاج کے لیے تجویز کی جانے والی دوا کلوروکوین کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے اس کے منفی اثرات انتہائی شدید ہیں۔

    امریکی چینل سی بی ایس کو دیے انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ انھیں یہ دوا لینے کے بعد چکر آنا شروع ہو گئے۔ ’مجھے قے آ رہی تھی، میں چل نہیں سکتی تھی، جیسے میرے پٹھوں سے جان نکل گئی ہو۔ میرے خیال میں لوگوں کو اس دوا کے حوالے سے محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ نے کلوروکوین کا ذکر کر کے اسے مقبول کیا لیکن عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ کورونا وائرس کے علاج میں کامیابی سے استعمال ہو سکتی ہے۔

  17. کیا کورونا وائرس موسمیاتی تبدیلی پر اثرا انداز ہو سکتا ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  18. تھائی لینڈ: سونے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

    gold

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    تھائی لینڈ میں سونے کی قیمت سات سال کی ریکارڈ سطح پر ہے۔ اس حیرت انگیز اضافے کے بعد لوگوں نے اپنے زیورات بیچنے شروع کر دیے ہیں۔ ساتھ ساتھ ملک کی معیشت کی صورتحال بگڑتی چلی جا رہی ہے۔

    بنکاک کے علاقے یاو ورات میں لوگ بُندوں، کڑوں اور انگوٹھیوں کے عوض کیش حاصل کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    gold

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  19. G20 کا 77 ترقی پذیر ممالک کے قرضے مؤخر کرنے کا فیصلہ, اینڈریو واکر، بی بی سی ورلڈ سروس

    g20

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    دنیا کے 20 ترقی یافتہ ممالک کے عالمی گروہ G20 نے دنیا کے 77 پسماندہ ترین ملکوں کے قرضوں کو مؤخر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    معاہدے کے مطابق اس سکیم کے تحت ایسے ممالک کے جانب G20 ممالک کو واجب الادا وہ قرضے مؤخر ہوں گے جو انھیں رواں سال کے آخر تک ادا کرنے ہیں۔

    قرضوں کی ادائیگی کو مؤخر کرنے کا مقصد ترقی پزیر ممالک کی کورونا کی وبا سے پیدا ہونے والے صحت اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے میں مدد کرنا ہے۔

    تاہم برطانوی جوبلی ڈیٹ کیمپین کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں محض 12 ارب ڈالر کی ادائیگیوں پر فرق پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنے کے لیے اس کہیں زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرضے معاف کر دیے گئے ہیں۔ یہ ادائیگیاں اب 2022 اور 2024 تک مؤخر ہوئی ہیں اور اس دوران ان پر سود بڑھتا جائے گا۔

  20. چین: ایک اور شہر میں کتے، بلیاں کھانے پر پابندی

    ZUHAI

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    چین کے ایک اور شہر نہ کتے اور بلی کا گوشت کھانے پر پابندی لگا دی ہے۔

    ہاگ کانگ کے قریب واقعے شینزین کے بعد جوہائے نے بھی یہ فیصلہ کر لیا ہے اور دونوں شہروں میں اس پابندی کا اطلاق یکم مئی سے ہونا ہے۔

    جانوروں کے حقوق کے لیے کا کرنے والے اداروں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس وبا کے باعث ان جانوروں کے گوشت کی مقبولیت میں کمی آئے گی۔

    بینالاقوامی ہیومین سوسائٹی کے اندازے کے مطابق ایشیا بھر میں سالانہ تین کروڑ کتوں کو ان کے گوشت کے لیے مارا جاتا ہے۔ تاہم چین میں کتے کا گوشت کھانا اتنا بھی عام نہیں اور زیادہ تر چینی کہتے ہیں کہ انپوں نے اسے کبھی نھیں چکھا۔