آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانیہ: ’تحقیق کی جا رہی ہے کہ ایشیائی اور دیگر اقلیتیں بیماری سے زیادہ متاثر کیوں‘

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 21 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں تین ہفتوں جبکہ ریاست نیویارک میں لاک ڈاؤن 15 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی ہلاکتیں

    دنیا بھر میں اس وقت کورونا وائرس کے 20 لاکھ کے قریب کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ وائرس 185 ممالک میں پھیل چکا ہے اور 120000 افراد اس کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

    تازہ ترین اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ کورونا وائرس کئی ممالک میں انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے اور اکثریت کے اس وائرس سے صحت یاب ہونے کے باوجود ہلاکتوں کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    چین میں دسمبر سے شروع ہونے والے اس وائرس کے پھیلاؤ سے اب تک کی ڈیٹا کو بی بی سی کی ٹیم نے ترتیب دیا ہے۔

  2. فلوریڈا: جج وکیلوں پر ناراض، ’زوم پر سماعت کے دوران مناسب لباس پہنیں‘

    امریکی ریاست فلوریڈا کی براڈ وے کاؤنٹی میں ایک جج نے شکایت کی ہے کہ وکلا ویڈیو کانفرنس پر قانونی مقدمات کی سماعت کے دوران مناسب لباس پہن کر نہیں آتے۔

    جج ڈینس بیلے نے ویسٹرن بار ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ پر ایک خط میں لکھا کہ ’یہ بات کافی غیر معمولی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اٹارنی کیمرے کے سامنے نامناسب انداز میں آتے ہیں۔‘

    ’ہم نے کئی وکلا کو عام قمیضوں میں دیکھا اور انہیں اپنی بد لباسی کی کوئی پرواہ بھی نہیں۔‘

    جج نے مزید لکھا کہ ایک وکیل بغیر قمیض کے ویڈیو کال پر آ گئے جبکہ ایک اور وکیل اپنے بستر پر لیٹے ہوئے سماعت میں پیش ہوئے۔

    جج کا کہنا تھا ’اگر آپ برا نہ منائیں تو کیا ہم عدالتی سماعت کو عدالتی سماعت کا طرح لے سکتے ہیں۔ چاہے ہم زوم پر سماعت کر رہے ہیں یا نہیں۔‘

  3. کورونا وائرس: کیا آپ جانتے ہیں کہ سماجی دوری یا خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

    جب ہمیں کسی عالمی وبا کا سامنا ہو تو عام آدمی کے لیے اس سے متعلق معلومات کا حصول اہم ہوتا ہے۔

    کورونا وائرس کے عالمی پھیلاؤ کے بعد ’سوشل ڈسٹینسنگ‘ یا ’سیلف آئسولیشن‘ جیسی اصطلاحات بھی کچھ ایسے ہی الفاظ ہیں۔ بی بی سی کے اس مضمون کی مدد سے جانیے کہ سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کا مطلب کیا ہے اور یہ کہ آپ ان اقدامات کی وجہ سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

  4. جسٹن ٹروڈو: ’کینیڈا میں لاک ڈاؤن جلدی ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں‘

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے لگائی گئی پابندیوں کو کم کرنے میں ابھی کئی ہفتے لگیں گے۔

    منگل کو اپنی پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا ’اچھے وقت کے لیے کچھ عرصہ لاک ڈاؤن میں رہنا پڑے گا۔‘

    ایسا لگتا ہے کینیڈا کے شہری بھی وزیر اعظم ٹروڈو کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 21 فیصد کینیڈین پابندی کو کم کرنے کے لیے کوئی ویکسین آنے تک انتظار کرنا چاہتے تھے جس میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

    13 فیصد امریکییوں کے مقابلے میں صرف چھ فیصد کینیڈین چاہتے ہیں کہ اب معیشت کی بحالی کا آغاز کیا جائے۔

    اونٹاریو صوبے میں، جو کینیڈا کی آبادی کا 41 فیصد ہے، پیر سے ہنگامی حالت کے نفاذ کو چار ہفتوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔

  5. کورونا وائرس: امریکی ریاستوں کے گورنر اور صدر ٹرمپ آمنے سامنے

    نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو نے صدر ٹرمپ کے اس الزام کا جواب دیا ہے جس میں صدر کا کہنا تھا کہ گورنر اپنی حکومت کی سربراہی کرنے کے بجائے، لاک ڈاؤن کے متعلق خود ہی فیصلے لے کر ’بغاوت‘ کر رہے ہیں۔

    انھوں نے صدر ٹرمپ کی صبح کی گئی ٹویٹس کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ٹویٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’واضح طور پر وہ ناخوش ہیں۔‘

    اینڈریو کامو کا کہنا تھا ’میں ان کے ساتھ بحث میں نہیں پڑوں گا‘۔ یاد رہے اس سے قبل سی این این پر وہ انھیں بادشاہ کی طرح برتاؤ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

    ایک بیان میں کومو کا کہنا تھا ’نوآبادیات نے وفاقی حکومت تشکیل دی، وفاقی حکومت نے ریاستیں نہیں بنائیں۔۔۔ کالونیوں نے اپنے کچھ اختیارات وفاقی حکومت کے حوالے کیے تھے۔‘

    اپنی ٹویٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’کومو روزانہ تقریبا ہر گھنٹے فون کر رہے ہیں۔۔۔ ہر چیز مانگ رہے ہیں، جن میں سے بیشتر ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے تھی جیسا کہ نئے ہسپتال، بستر، وینٹیلیٹر وغیرہ۔ میں نے ان کے لیے اور باقی سب کے لیے اس سب کا انتظام کروایا لیکن اب لگتا ہے کہ وہ آزادی چاہتے ہیں! ایسا نہیں ہوگا!‘

  6. بی بی سی کی کوریج میں خوش آمدید

    دنیا میں کورونا وائرس کے متاثرین اور ہلاکتوں میں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔