آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانیہ: ’تحقیق کی جا رہی ہے کہ ایشیائی اور دیگر اقلیتیں بیماری سے زیادہ متاثر کیوں‘

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 21 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں تین ہفتوں جبکہ ریاست نیویارک میں لاک ڈاؤن 15 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. دس سال میں پیدا ہونے والی نوکریاں چار ہفتوں میں ختم

    امریکہ میں فقط ایک مہینے میں کورونا کی وبا نے تقریباً اتنی نوکریوں کے برابر نوکرایاں ختم کر دی ہیں جو امریکہ میں سنہ 2008 اور 2009 کے معاشی بحران کے بعد پیدا کی گئی تھیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1930 کی دہائی کے گریٹ ڈپریشن کے بعد سب سے بڑا بحران ہے۔

    معاشی ماہرین پرامید ہیں کہ آنے والے دنوں میں جیسے ہی چھوٹے کاروباروں سے منسلک افراد کو حکومت کی جانب سے مدد ملے گی تو بیروزگاری کی تعداد میں کمی آنے لگے گی۔

    اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب گورنرز اس پر بات چیت کریں گے کہ ملک کے مختلف علاقوں جہاں کورونا کے کیسز کی بڑی تعداد کا دور گزر چکا ہے، ان کو کیسے کھولا جائے تو اس کے بعد ہی بیروزگار افراد کی تعداد میں کمی ہو گی۔

    یکم مئی کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں کو کھولے جانے کے سلسلے میں نئی گائیڈ لائنز یعنی نئے ضوابط کیا ہوں گے اس حوالے سے صدر ٹرمپ کا اعلان آج متوقع ہے۔

    امریکی حکومت نے آٹھ کروڑ امریکیوں کو فی کس 1200 امریکی ڈالر کے چیک اور ہر بچے کے لیے 500 ڈالر دینے کا آغاز کیا ہے۔ یہ فیڈرل حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مختص دو کھرب ڈالر کے امدادی پیکج کا حصہ ہے۔

    یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بیروز گاری کے الاؤنس کی درخواستوں کے اعداد و شمار پوری تصویر پیش نہیں کرتے کیوں کہ ہر کوئی اس الاؤنس کا حقدار نہیں۔ اس کے علاوہ اپنا کام کرنے والے افراد اور آن لائن یا آن ڈیمانڈ کام کرنے والے افراد جن کے پاس عارضی مدت کے لیے کام ہوتا ہے کو درخواستین دینے میں تاخیر ہوئی ہے کیوں کہ وہ مارچ ریلیف بل کے بعد ہی وہ اس کے اہل ہوئے ہیں۔

    اس لیے کتنے افراد بیروز گار ہوئے یہ اعدادوشمار سامنے آنے والی تعداد سے ممکنہ طور پر کہیں زیادہ ہیں۔

  2. نیویارک میں زندگی کیسی ہے

    امریکہ کی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس کے باعث دنیا میں متاثرہ کئی ممالک سے بھی زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لاک ڈاؤن میں شہر کے حالات اور معمولاتِ زندگی کے بارے میں جانیے نیویارک سٹی میں مقیم ایک پاکستانی طالبعلم سے۔۔۔ ویڈیو: حسن عباس، محمد نبیل

  3. جب روم میں ہوں تو پالتو کچھوے کے ساتھ واک پر مت جائیں

    اٹلی یورپ کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں لاک ڈاؤن کے دوران سخت پابندیاں ہیں لیکن اس کے باوجود آپ اپنے پالتو کتے کو چہل قدمی کے لیے گھر سے باہر تھوڑی دور تک لے جا سکتے ہیں۔

    لیکن اٹلی کی میڈیا رپورٹ کے مطابق روم کی پولیس نے 60 سالہ خاتون کو 260 یورو جرمانہ ادا کرنے کو کہا کیونکہ وہ اپنے پالتو کچھوے کو چہل قدمی کے لیے گھر سے باہر لے کر گئیں تھیں۔

    کچھوے کی رفتار کے ساتھ انہیں بھی باہر سورج تلے رہنے کا زیادہ وقت مل رہا تھا لیکن اب یہ ایڈوینچر مزید نہیں ہو سکتا۔

    اٹلی میں جب آپ گھر سے باہر نکلتے ہیں تو ہر بار آپ کو باہر جانے کی وجہ ایک فارم پر تحریر کرنا ہوتی ہے۔ تاکہ پولیس جب آپ کو روکے تو آپ انھیں یہ دکھا سکیں۔

    اٹلی یورپ میں کورونا کی وبا سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے۔ وہاں اب تک 21645 اموات ہو چکی ہیں۔

    خبر رساں ادارے انسیٰ کے مطابق مسیحی کمیونٹی کے تہوار ایسٹر کے موقع پر اٹلی میں 14000 افراد کو لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی خلاف ورزی پر جرمانے کی سزا ہوئی۔

  4. محمد صلاح، رونالڈو، میسی اور لاک ڈاؤن

  5. بریکنگ, امریکہ میں 2 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ نوکریاں ختم

    امریکہ میں تازہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 4 ہفتوں میں 2 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ افراد کی نوکریاں ختم ہوئی ہیں۔

    ڈیپارٹمنٹ آف لیبر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 11 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے تک بیروزگاری سے متعلق 50 لاکھ بچیس ہزار افراد کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

    اس سے گذشتہ ہفتے 60 لاکھ 60 ہزار درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

    زیادہ تر امریکی لاک ڈاؤن میں ہیں جس سے امریکی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے اور بڑے چھوٹے کاروبار ملازمین کو نکال رہے ہیں۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں 6 لاکھ 40 ہزار مصدقہ متاثرین ہیں اور 30 ہزار 985 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  6. جنوبی افریقہ: بڑی بلیوں کا نیا ٹھکانہ

    جنوبی افریقہ کے کروگر نیشنل پارک کے ایک رینکر اہلکار نے کچھ تصاویر ٹوئٹر پر پوسٹ کی ہیں۔ ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شیر ان سڑکوں پر سستا رہے ہیں جہاں کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے اور لاک ڈاؤن سے پہلے تک سیاحوں کی گاڑیوں کی قطاریں ہوتی تھیں۔

    اب تک جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 2500 ہو گئی ہے۔ ملک میں چند ضروری سروسز کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور لاک ڈاؤن میں اپریل کے آخر تک حال ہی میں ایک مرتبہ پھر توسیع کی گئی ہے۔

  7. سکاٹ لینڈ میں مزید 80 اموات کی تصدیق

    سکاٹ لینڈ میں حکومتی سربراہ مِس نِکولا سٹرجیئن نے مزید 80 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    اس کے بعد گذشتہ 24 گنھٹوں کے اندر سکاٹ لینڈ میں کل ہلاکتوں کی تعداد 779 تک پہنچ چکی ہے۔

    حکومتی سربراہ نے آن لائن پارلیمنٹ کے اراکین کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انھوں نے محکمہ صحت کے حکام کا حوالہ دیا جن کا کہنا ہے کہ اس دوران ہسپتالوں میں مریضوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نہیں دیکھی گئی۔

  8. ایک ہزار پاؤنڈ جمع کرنے نکلے تھے 13 ملین پاؤنڈ سے زیادہ کر لیے

    99 برس کے کیپٹن ٹام مور نے اپنے گھر کے گارڈن کے 100 لیپ مکمل کر کے برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کے لیے 13 ملین پاؤنڈ سے زیادہ کی رقم جمع کر لی ہے۔

    گذشتہ ہفتے جب انھوں نے یہ فنڈ شروع کیا تھا تو ان کا مقصد 1000 پاؤنڈ جمع کرنا تھا۔

    وہ اپنے 100ویں سالگرہ سے پہلے اپنے گارڈن میں سو چکر مکمل کر کے یہ پیسے جمع کرنا چاہتے تھے۔

    ان کے فنڈ جمع کرنے کے صفحے پر چھ لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد چندہ دے چکے ہیں اور یہ فنڈ گذشتہ ہفتے ہی شروع کیا گیا تھا۔

    کیپٹن ٹام کینسر اور ٹوٹی ہوئے کوہلے کی ہڈی کے اعلاج پر نینشل ہیلتھ سروس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے یہ فنڈ جمع کر رہے تھے۔

    انھوں نے چلنے کے لیے فریم کی مدد سے بیڈفورڈشائر میں اپنے گھر کے گارڈن کے 100 لیپ مکمل کیے جو کہ 25 میٹر کا ایک چکر بنتا ہے۔ وہ ہر روز 10 چکر لگا رہے تھے اور 30 اپریل کو اپنی سالگرہ سے پہلے 100 چکر مکمل کر لینا چاہتے تھے۔

    کیپٹن ٹام مور نے بی بی سی سے بات کرنے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک انتہائی زبردست رقم ہے۔‘

    انھوں نے اپنا آخری لیپ مکمل کرنے پر کہا کہ ’میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا کہ میں کسی ایسے موقعے پر اس میں خود کو شامل پاؤں گا‘۔

    کیپٹن مور کا تعلق مغربی یارکشائر سے ہے۔ وہ ایک سول انجینیئر تھے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران آرمی میں شامل ہوگئے تھے اور کیپٹن کے عہدے تک ترقی کے بعدانھوں نے انڈیا اور میانمنار میں فرائض انجام دیے تھے۔

  9. برطانوی حکومت نے وینٹی لیٹر کے نئے ڈیزائن کی منظوری دے دی

    برطانیہ میں کورونا کی وبا پھیلنے کے پیش نظر حکومت نے اس بات کا ادراک کیا کہ مزید وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں برطانوی انجینئیرز کو کہا گیا کہ وہ فرنٹ لائن پر کام کرنے والوں کے لیے نئی مشینیں بنائیں۔

    اب پہلے ڈیزائن کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    آکسفورڈ میں موجود فرم پینلون نے دیگر کمپنیوں جن میں فارمولہ ون ریسنگ ٹیمم کی فورڈ اینڈ سائمنز بھی شامل ہے، کے ساتھ ملکر یہ ڈیزائین مکمل کیا ہے۔ حکومت نے انھیں 15000 مشینوں کی تیاری کا آرڈر دیا ہے۔

    پینلون پرزما ای ایس 02 ماڈل کی ترسیل آج شروع ہو گی۔ اس میں 40 مشینیں موجود ہیں جو ہسپتالوں کو بھجوانے سے پہلے محکمہ دفاع کو بھیجی جائیں گی۔

    اگلے ایک ہفتے میں 100 ڈیوائسز کی تیاری کی توقع ہے۔

    فنانشل ٹائمز نے جمعرات کو ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ حکومت نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ مینوفیکچررز کو نئے وینٹی لیٹرز کی تیاری میں انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس پر ممکنہ قانونی دعوؤں یا مشینوں میں خرابی کی وجہ سے ہونے والے نقصان پر تحفظ فراہم کرے گی۔

  10. سپین میں ہلاکتیں 19130

    سپین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد جمعرات کو 19000 سے تجاوز کر گئی جب ایک ہی دن میں 511 افراد کی موت واقع ہوئی۔

    یہ پانچ ہفتوں کے لاک ڈاؤن کے دوران اموات کی کم ہوتی ہوئی تعداد ہے۔

    سپین دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ وہاں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اموات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    اب ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 19130 ہو گئی ہے۔

    لیکن وہاں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ شاید یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو کیونکہ میڈرڈ اور کاتالونیہ میں مقامی حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہاں سرکاری اعدادو شمار سے کہیں زیادہ اور ہزاروں مزید متاثرین موجود ہیں۔

    میڈرڈ میں جمعرات تک ہلاکتوں کی تعداد 6877 رہی جو ممکنہ طور پر 10 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ جبکہ کاتالونیہ میں یہ تعداد 3855 ہے۔ تاہم یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ہلاکتوں کو شمار کرنے کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے تو ہلاکتوں کی یہ تعداد تقریباً دوگنی ہو گی۔

  11. ایران میں 1600 نئے کیسز

    ایران کے محکمہ صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں ایک روز میں 1606 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

    ان کا کہنا ہے اب متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 77995 تک پہنچ گئی ہے۔

    ملک میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں 92 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ وہاں ہلاکتوں کی کل تعداد 4869 ہو گئی ہے جو کسی بھی خلیجی ملک میں ہونے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    لیکن قم جو کہ ایران میں اس وبا کا مرکز ہے کے ایک سرد خانے کی فٹیج میں دیکھی جانے والی لاشوں کی ایک بڑی تعداد یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک کو ہلاکتوں سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

  12. روس: کورونا کے خطرے کو جھٹلانے والا ڈاکٹر سرکاری ترجمان مقرر

    روس نے ایک ایسے ڈاکٹر کو، جو کورونا وائرس کی وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، ملک میں کورونا وائرس پر حکومت کا ترجمان بنا دیا ہے۔

    الیگزینڈر میشناکوف جمعرات کو روس کے سرکاری چینل پر حکومت کے کورونا وائرس سے متعلق معلوماتی سنٹر کے سربراہ کے طور پر نظر آئے۔

    میشناکوف ماسکو کے ایک ہسپتال میں ہیڈ ڈاکٹر کے عہدے پر کام کرتے رہے ہیں اور ٹی وی چینلز پر اکثر نظر آتے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے انھوں نے کہا تھا کہ کورونا کا کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل مارچ میں انھوں نے کووڈ 19 کو عام نزلہ زکام جیسا قرار دیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا: ’ہر چیز خدا کے ہاتھوں میں ہے۔۔۔ آپ سب پرسکون ہو جائیں۔ میں 30 سال سے بیمار نہیں ہوا اور وہ اس لیے کیونکہ میں کسی وائرس کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتا۔‘

    تاہم اس کے بعد انھوں نے سوشل میڈیا پر اس بات کا اعتراف کیا کہ انھوں نے کورونا وائرس کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔

  13. عالمی ادارہ صحت: یورپ اب بھی طوفان کی آنکھ میں ہے

    عالمی ادارہ صحت کے یورپی دفتر نے کہا ہے کہ بُری طرح متاثر ہونے والے ممالک سے آنے والے چند خوشخبریوں کے باوجود براعظم میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 10 لاکھ کے قریب ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم اب بھی طوفان کی آنکھ میں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ سپین، اٹلی، جرمنی، سوٹزرلینڈ جیسے ممالک سے مریضوں کی تعداد میں کمی کی خبریں خوش آئند ہیں تاہم برطانیہ، ترکی، روس جیسے ممالک میں پیدا ہونے والی صورتحال تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے۔

  14. ’ہم آپ کے ساتھ نہیں کھڑے تھے‘: یورپی کمیشن کی اٹلی سے معافی

    یورپی کمیشن کی صدر ارسلا ون ڈی لین نے اٹلی کی مدد نہ کر پانے پر یورپ کی جانب سے روم سے معافی مانگی ہے۔

    انھوں نے جمعرات کی صبح یورپی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہاں، یہ سچ ہے کہ ہم اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہم شروع میں اٹلی کے ساتھ نہیں کھڑے تھے، جب انھیں ہماری مدد کی واقعی ضرورت تھی اور اس کے لیے پورا یورپ آپ سے تہہ دل سے معافی مانگتا ہے۔‘

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اٹلی میں اب تک 21 ہزار سے زائد افراد وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ یورپ میں ہلاک ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

  15. یمن: ’جنگ بندی‘ کے باوجود لڑائی جاری

    یمن میں سعودی اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے ایک ہفتے بعد بھی جھڑپیں جاری ہیں۔

    ملک میں کورونا کے پہلے مریض کی تشخیص گذشتہ جمعے کو ہوئی تاہم بینالاقوامی فلاحی اداروں کے مطابق ملک کا صحت عامہ کا نظام اس وبا سے نمٹنے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔

    جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی اتحاد نے کہا کہ اس کا مقصد ملک کو کورونا کے تباہ کن اثرات سے بچانا تھا۔ لیکن ان کے خلاف لڑنے والے حوثی باغیوں نے اسے محض سیاسی چالبازی کہہ کر رد کر دیا ہے۔

    سعودی عرب کی جانب سے 9 اپریل سے جنگ بندی کا آغاز ہونا تھا، لیکن تب سے زمینی اور فضائی جھڑپیں جاری ہیں۔

  16. سماجی دوری: ایک دوسرے سے دو میٹر دور رہنے کا کیا مطلب ہے؟

  17. ’جب تک ویکسین تیار نہیں ہوتی، سماجی دوری قائم رکھیں‘

    پروفیسر نیل فرگیوسن، جنھوں نے برطانیہ کا کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، کہتے ہیں کہ جب تک کوئی ویکسین تیار نہیں ہوتی، شہریوں کو سماجی دوری برقرار رکھنی ہوگی۔

    بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے میں ان سے پوچھا گیا کہ آیا تین ہفتوں تک لاک ڈاؤن ختم کیا جا سکے گا۔ انھوں نے جواب دیا کہ: ’میرے خیال میں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ مریضوں کی تعداد میں کمی کس رفتار سے نظر آتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہسپتالوں اور کیئر ہومز میں وائرس کی منتقلی کی شرح میں کمی لائیں۔‘

    لندن کے امپیریئل کالج سے وابسطہ ڈاکٹر فرگیوسن کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس بات کا تعین کرنے کی بھی ضروت ہے کہ کون کس سے رابطے میں آیا ہے اور اگر ایسا کیے بغیر سماجی دوری کے اقدامات میں نرمی لائی گئی تو وائرس ایک بار پھر پھیلنا شروع ہو جائے گا۔

    ان کے مطابق جب تک کوئی ویکسین تیار نہیں ہوتی، شہریوں کو کسی نہ کسی سطح پر سماجی دوری برقرار رکھنی پڑے گی۔

    اب تک کورونا وائرس کے لیے کوئی مؤثر ویکسین نہیں دریافت ہوئی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ ستمبر تک ویکسین تیار کرنے کی توقع کرتے ہیں لیکن اسے عام دستیاب ہونے میں ایک سال لگ سکتا ہے۔

  18. حکمران جماعت کی جنوبی کوریا کے ’وبا زدہ‘ انتخابات میں جیت

    ان جیسے انتخابات پہلے کبھی نہیں ہوئے ہوں گے۔

    کورونا وائرس کی وبا کے درمیان جنوبی کوریا کے شہری گذشتہ روز ووٹ ڈالنے نکلے تھے جہاں سماجی دوری کے سخت اقدامات دیکھنے میں آئے اور انتخابات میں صدر مون جائے ان کی جماعت نے واضع برتری حاصل کر لی ہے۔

    چین کے بعد جنوبی کوریا کورونا سے متاثر ہونے والے پہلے ملکوں میں تھا لیکن یہاں وائرس کے پھیلاؤ پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

    مریضوں کی تعداد میں تھوڑا تھوڑا اضافہ ہو رہا ہے اور اموات میں بھی واضع کمی آئی ہے۔ شاید اسی لیے حکمران جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے باآسانی فتح حاصل کر لی۔

  19. انڈونیشیا میں لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کرنے کا انوکھا طریقہ

  20. سابق برطانوی فوجی کے لیے گارڈ آف آنر

    یہ ایک ایسی خبر ہے جو کسی کے بھی چہرے پر مسکراہٹ لا سکتی ہے!

    99 سالہ سابق برطانوی فوجی ٹام مور نے اپنے گھر کے باغ کے 100 چکر کاٹ کر برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے لیے ایک کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ اکٹھے کر لیے ہیں۔

    برطانوی افواج کا ایک حاضر سروس یونٹ بھی ٹام کی بیڈفورڈ شائر میں واقع رہائش گاہ پر موجود تھا اور جیسے ہی انھوں نے اپنا آخری چکر مکمل کیا تو سپاہیوں نے انھیں اعزازی گارڈ پیش کیا۔

    ٹام اس ماہ کے اختتام میں اپنی 100وی سالگرہ منائیں گے۔