آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانیہ: ’تحقیق کی جا رہی ہے کہ ایشیائی اور دیگر اقلیتیں بیماری سے زیادہ متاثر کیوں‘

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 21 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں تین ہفتوں جبکہ ریاست نیویارک میں لاک ڈاؤن 15 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سری نگر میں خود ساختہ حفاظتی لباس بنانے والے رضاکار

  2. بریکنگ, کورونا وائرس: ڈبلیو ایچ او کو علم تھا کہ کیا ہو رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کل یعنی جمعرات کو امریکہ کی بیشتر ریاستوں کو کھولنے کے بارے میں رہنما اصول جاری کر سے گی۔

    امریکہ میں آبدی کا بیشتر حصہ اس وقت کووڈ 19 کے باعث سماجی دوری کی پابندی میں ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا اب تک ملک میں تین کروڑ 30 لاکھ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ یہ یہ تعداد امریکی آبادی کا ایک فیصد ہے۔

    امریکی صدر نے یومیہ بریفنگ کے دوران ایک بار پھر عالمی ادارہ صحت پر جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ انہیں علم تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں (ڈبلیو ایچ او) نے چین کے ساتھ امریکی سرحدیں بند کرنے کے فیصلے پر غلط تنقید کی۔

    ’افسوناک ناک طور پر دیگر قوموں نے ڈبلیو ایچ او پر بھروسہ کیا اور کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی۔ آپ ننے دیکھا اٹلی کے ساتھ کیا ہوا، آپ نے دیکھا سپین کے ساتھ کیا ہوا ، آپ نے دیکھا فرانس کے ساتھ کیا ہوا۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ یہ ’ایک خوفناک غلطی تھی ۔۔۔ یا پھر شاید وہ سب جانتے تھے۔‘

    ’مجھے یقین ہے وہ اس کی شدت سے واقف نہیں تھے لیکن بہرحال وہ اس سے آگاہ تھے۔‘

  3. کینیڈا کی معیشت کو کورونا وائرس سے کتنا نقصان ہوا؟

    کینیڈا کی معیشت کو کووِڈ-19 سے شدید دھچکا پہنچا ہے اور خدشہ ہے کہ اسے مزید خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    کینیڈا کے ادارہ شماریات کے مطابق مجموعی قومی پیداوار میں مارچ میں 9 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ دس لاکھ افراد نے اپنی ملازمتیں گنوائیں۔

    آج بینک آف کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ اوورنائٹ شرحِ سود کو اعشاریہ 25 فیصد پر ہی رکھے گا جس میں اس نے مارچ کے اختتام میں کمی کی تھی۔

    بینک نے اطلاع دی ہے کہ پہلی سہ ماہی جس میں مارچ بھی شامل ہے، اس میں اقتصادی سرگرمیاں ایک سے دو فیصد تک کم ہوئیں۔ اس کا اندازہ ہے کہ دوسری سہ ماہی میں یہ کمی 15 سے 30 فیصد ہوگی۔

    بدھ کو وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ وہ کینیڈا کے ہنگامی امدادی پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے اس میں موسمی اور جُز وقتی ملازمین کو بھی شامل کر رہے ہیں۔ اب تک 60 لاکھ کینیڈین شہری انکم سپورٹ پروگرام کے لیے دعویٰ دائر کر چکے ہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روک لینے کے بعد کینیڈا کیا کرے گا، تو ان کا کہنا تھا: ‘ہم اس وبا سے اپنا راستہ سائنس اور ماہرین کی سفارشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہی بنا سکتے ہیں۔’

  4. امریکہ: پرچون کی فروخت میں شدید گرواٹ

    امریکہ میں پرچون فروشوں کے کاروبار میں شدید گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ کووِڈ-19 کی وجہ سے دکانیں بند کروائی گئی ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

    بدھ کو امریکہ کے محکمہ تجارت نے کہا کہ مارچ میں فروخت میں 8.7 فیصد کمی ہوئی ہے جو کہ 1990 کی دہائی میں یہ ڈیٹا اکھٹا کیے جانے کی شروعات سے اب تک کی سب سے بڑی گرواٹ ہے۔

    پرچون میں آن لائن اور دکانوں پر فروخت کے ساتھ ساتھ ریستورانوں اور شراب خانوں میں ہونے والی فروخت بھی شامل ہے۔

    ملک کا زیادہ تر حصہ اس وقت کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بند ہے اور صرف ضروری خدمات مثلاً سودا سلف اور دواؤں کی دکانوں کو ہی کھلے رہنے کی اجازت ہے۔

    محکمہ محنت کے مطابق مارچ میں 70 لاکھ سے زائد افراد نے بے روزگاری کا دعویٰ دائر کیا ہے۔

  5. افریقہ میں صورتحال کیا ہے؟

    ملاوی کی حکومت نے 21 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے جو 18 اپریل کی نصف شب کو شروع ہوگا۔ اب تک ملک میں کورونا وائرس کے 16 متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    کینیا کی پولیس اب گھر سے باہر ماسک نہ پہننے والے افراد کو گرفتار کرے گی۔ ماسک نہ پہننے والے کسی بھی شخص کو 20 ہزار کینیائی شلنگ (190 ڈالر) کے جرمانے یا چھ ماہ قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

    زمبابوے نے اس ماہ کے آخر تک 33 ہزار مشتبہ متاثرین کو ٹیسٹ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اب تک یہاں 18 متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    جنوبی افریقہ کی حکومت نے ساؤتھ ایفریکن ایئرویز کی جانب سے 50 کروڑ ڈالر کی ہنگامی فنڈنگ کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ جنوبی افریقہ کی قومی ایئرلائن سنہ 2011 سے خسارے کی شکار ہے اور اس کے اثاثے فروخت کر دیے جانے کا خدشہ ہے جس سے ممکنہ طور پر پانچ ہزار افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔

  6. امریکہ: نیویارک میں ہلاکتوں کی تعداد مستحکم

    امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے کہا ہے کہ ان کی ریاست ابھی مشکل دور سے باہر تو نہیں نکلی ہے، لیکن ‘ہم نے دکھا دیا ہے کہ ہم وائرس کا پھیلاؤ روک سکتے ہیں۔’

    اب ہسپتالوں میں داخل افراد کی کُل تعداد گھٹ چکی ہے اور اموات کی شرح بھی مستحکم ہے۔ گذشتہ روز 752 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

    کیومو نے اس پر بھی بات کی کہ نیویارک کو دوبارہ کیسے کھولا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عوامی صحت کے معیارات کو مدِنظر رکھتے ہوئے بتدریج اقتصادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔

    گورنر نے ایک مرتبہ پھر قومی حکمتِ عملی پر زور دیا۔

    نیویارک میں ابھی بھی کووِڈ-19 سے روزانہ 2000 لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

  7. بریکنگ, فرانس میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 17 ہزار 167

    فرانس میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 17 ہزار 167 ہوگئی ہے۔

    ان میں سے 10 ہزار 643 افراد ہسپتالوں میں ہلاک ہوئے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 500 سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

    لیکن پہلی مرتبہ ہے کہ ہسپتالوں میں داخلوں میں کمی آئی ہے۔ انتہائی نگہداشت میں سنگین حالت میں موجود متاثرین کی تعداد بھی مسلسل ساتویں روز کم ہوئی ہے۔

    6524 افراد کیئر ہومز میں ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ تعداد منگل تک 5600 تھی۔ مگر طبی شعبے کے سربراہ جیروم سیلومون نے کہا کہ یہ ایسٹر کے دوران رپورٹ کرنے میں تاخیر کی وجہ سے تھا۔

  8. 'لاک ڈاؤن کا وہی اثر ہوا ہے جس کی ہمیں امید تھی'

    برطانیہ کی ڈپٹی چیف سائنٹیفک افسر ڈاکٹر اینگلا میکلین نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن متعارف کروائے جانے سے پہلے کی بہ نسبت ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع کا استعمال ایک تہائی سے کم رہ گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ‘یہ ڈیٹا واضح طور پر بتاتا ہے کہ ہم لوگ کیسے گھروں پر رہ رہے ہیں۔’

    ڈاکٹر میکلین نے کہا کہ کووِڈ-19 کے متاثرین کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے اور ‘میرے لیے یہ ثبوت ہے کہ ہم میں سے ہر کسی نے جو کچھ کیا، اس نے کام کر دکھایا ہے۔’

    انھوں نے کہا کہ ‘اس سے وہ اثر ہوا ہے جس کے ہونی کی ہم سب کو امید تھی۔’

  9. کورونا وائرس: دنیا بھر میں کیا ہو رہا ہے؟

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

    چین نے کووِڈ-19 کے متاثرین کے لیے بنائے گئے اپنے عارضی ہسپتالوں میں سے ایک کو بند کر دیا ہے۔ یہ ہسپتال صرف 10 دن میں بنایا گیا تھا۔

    ملاوی نے 18 اپریل سے 21 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ اب تک یہاں 16 مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد دو ہے۔

    اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عرب خطہ کووِڈ-19 سے زیادہ متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ وہاں ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔

    کولمبیا میں جیلوں میں کورونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیشِ نظر 7000 قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔

    حکام نے اعلان کیا ہے کہ ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس منعقد کی جائے گی لیکن اسے جون کے بجائے اگست تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ادارے کی فنڈنگ روکنے پر تاسف کا اظہار کیا گیا ہے۔ بل گیٹس جو خود عالمی ادارہ صحت کے بڑے عطیہ کنندگان میں سے ہیں، انھوں نے اسے خطرناک قرار دیا۔

  10. 'دنیا کو سنہ 1930 کی دہائی کے بعد بدترین مندی کا سامنا'

  11. برطانیہ: حاملہ نرس کووِڈ-19 سے ہلاک، بچی کی کامیاب پیدائش

    برطانیہ کے لوٹن اینڈ ڈنسٹیبل یونیورسٹی ہسپتال میں ایک 28 سالہ حاملہ نرس کووِڈ-19 سے متاثر ہونے کے بعد اتوار کو ہلاک ہوگئیں۔

    میری ایگیاپونگ اس ہسپتال کے جنرل وارڈ میں پانچ سال سے تعینات تھیں۔

    ہسپتال کے مطابق ان کی بچی کی پیدائش کامیابی سے ہوئی ہے اور بچی بخیریت ہے۔

  12. بریکنگ, جرمن چانسلر اینگلا مرکل کا لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان

    جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے ملک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔

    تین مئی تک سماجی دوری کے ضوابط نافذ العمل رہیں گے اور چانسلر نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ عوامی ٹرانسپورٹ اور دکانوں میں چہرے پر ماسک پہنے رکھیں۔

    مگر اگلے ہفتے سے 800 مربع میٹر سے چھوٹی دکانوں کو کھلنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ بچے چار مئی سے سکول جانا شروع کریں گے۔

    جرمنی کے روبرٹ کوک انسٹیٹیوٹ (آر کے آئی) کے مطابق ملک میں ایک لاکھ 27 ہزار 584 مصدقہ متاثرین ہیں جبکہ اب تک 3254 افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

  13. 'برطانیہ کا ڈبلیو ایچ او کی فنڈنگ روکنے کا ارادہ نہیں'

    برطانیہ نے کہا ہے کہ اس کا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی فنڈنگ روکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک عالمی ادارہ صحت کو دی جانے والی فنڈنگ روک رہا ہے۔

    برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے ترجمان نے کہا کہ ‘عالمی ادارہ صحت کا عالمی ردِعمل کی قیادت کرنے میں ایک اہم کردار ہے۔’

    انھوں نے مزید بتایا کہ برطانیہ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ساڑھے سات کروڑ پاؤنڈ یا نو کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی رقم عطیہ کی ہے۔

    ترجمان نے امریکی صدر کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  14. کیا اعداد و شمار وبا کی حقیقی تصویر پیش کر رہے ہیں؟, روبرٹ کف، بی بی سی نیوز

    اب سے کچھ دیر قبل دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

    لیکن مصدقہ متاثرین کی تعداد درحقیقت متاثر ہونے والے افراد کی تعداد کا ایک معمولی اس حصہ ہے۔

    مصدقہ متاثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس شخص کا ٹیسٹ کیا جائے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص علاج کے لیے جائے۔

    کورونا وائرس کے کئی متاثرین اعداد و شمار میں اس لیے شامل نہیں کیونکہ یا تو ان میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں یا بہت معمولی ہوتی ہیں۔

    معمولی علامات والے افراد آرام کر کے یا خود ساختہ تنہائی اختیار کر کے نظامِ صحت کے اعداد و شمار سے بچ جاتے ہیں۔

    برطانیہ میں کچھ دن قبل تک بھی صرف ہسپتال میں داخل ہونے والے افراد یعنی جن میں مرض کی شدید علامات ظاہر ہو رہی تھیں، انھیں ہی ٹیسٹ کیا جا رہا تھا اور یوں وہ مصدقہ متاثرین میں شامل ہو رہے تھے۔

    مصدقہ متاثرین کی تعداد کے رجحان سے ہمیں کسی مخصوص ملک میں وبا کے بارے میں یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ وہاں وہ بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے۔

    مگر اعداد و شمار ہمیں کسی بھی ملک یا دنیا میں وبا کی حقیقی نوعیت کے بارے میں نہیں بتا سکتے۔

  15. بریکنگ, اٹلی: مزید 578 اموات، نئے یومیہ متاثرین ایک ماہ کی کم ترین سطح پر

    اٹلی میں بدھ کے روز اموات کی تعداد میں 578 کا اضافہ ہوا جس کے بعد وہاں اموات کی کُل تعداد 21 ہزار 645 ہوگئی ہے۔

    شہریوں کے تحفظ کے قومی ادارے کے مطابق نئے متاثرین کی تعداد 2667 ہے جو گذشتہ روز 2972 تھی۔ نئے متاثرین کی تعداد 13 مارچ سے اب تک کی کم ترین سطح پر ہے۔

    انتہائی نگہداشت میں موجود افراد کی تعداد فی الوقت تین ہزار 79 ہے۔ یہ عدد بھی گذشتہ 12 دن سے مسلسل گر رہا ہے۔

    متاثر ہونے والے افراد میں سے اب تک 38 ہزار 92 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

    اٹلی میں اموات کی تعداد امریکہ کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

  16. برطانیہ کے وزیرِ صحت: لاک ڈاؤن تب تک نہیں اٹھایا جائے گا جب تک ایسا کرنا محفوظ نہ ہو

    برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکوک نے آج برطانوی حکومت کی یومیہ پریس بریفنگ کے آغاز میں عوام کا اپنے گھروں پر رہنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ برطانیہ ‘وائرس کے پھیلاؤ میں کمی لا رہا ہے۔’

    انھوں نے بتایا کہ نیشنل ہیلتھ سروس کے پاس موجود اضافی بستروں کی تعداد 2657 ہوگئی ہے اور ‘اب تک’ برطانیہ یہ یقینی بنانے میں کامیاب رہا ہے کہ ہسپتال میں نگہداشت کی ضرورت رکھنے والے ہر شخص کو بستر ملے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ ‘اب تک کی محنت کو ضائع نہیں ہونے دے سکتا’ اور لاک ڈاؤن تک تب نہیں اٹھایا جائے گا ‘جب تک کہ ایسا کرنا محفوظ نہ ہو۔’

  17. عالمی ادارہ صحت: دنیا کے تمام لوگوں کی خدمت کرنے کا عزم قائم ہے

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم غیبریئسس نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کو اس فیصلے پر افسوس ہے لیکن ‘عوامی صحت، سائنس، اور خوف یا رعایت کے بغیر دنیا کے تمام لوگوں کی خدمت کرنے کا ہمارا عزم اب بھی قائم ہے۔’

    ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ امریکہ کی جانب سے فنڈنگ کے خاتمے کے اثرات کا ‘جائزہ’لے رہا ہے تاکہ ‘ہمارا کام بلاتعطل جاری رہے۔’

  18. پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا فائدہ کس کس کو؟

  19. لاطینی امریکہ: 99 سالہ شخص صحت یاب، سات ہزار قیدیوں کی رہائی متوقع

    • برازیل کی قومی پیٹرولیم ایجنسی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تیل اور گیس کی صنعت میں متاثرین کی تعداد ابتدائی اندازوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 126 مصدقہ جبکہ 897 مشتبہ متاثرین ہیں۔ یہ خطرہ بالخصوص سمندر میں موجود تیل کے کنوؤں اور جہازو پر موجود افراد میں زیادہ ہے کیونکہ وہاں اکثر اوقات عملہ بہت قریب قریب رہتا ہے۔
    • برازیل میں ہی دوسری عالمی جنگ میں حصہ لینے والے ایک 99 سالہ شخص کورونا وائرس سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ ارماندو پیویٹا نے افریقہ میں برازیلی توپ خانے کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا تھا۔ انھیں ہسپتال سے باجوں اور تالیوں کی گونج میں رخصت کیا گیا۔
    • کولمبیا میں جیلوں میں کورونا کے پیشِ نظر ہجوم کم کرنے کی خاطر سات ہزار قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔ تین ہفتے قبل 20 سے زائد قیدی ان مظاہروں کے دوران ہلاک ہوگئے تھے جن میں قیدیوں نے اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
  20. برطانیہ میں 106 سالہ خاتون کورونا سے صحت یاب ہو کر گھر روانہ

    برطانیہ میں 106 سالہ کونی ٹِچن جب کورونا وائرس سے صحت یاب ہو کر گھر کے لیے روانہ ہوئیں تو ہسپتال کے عملے نے تالیاں بجا کر انھیں رخصت کیا۔

    کونی مبینہ طور پر کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والی برطانیہ کی سب سے عمر رسیدہ مریض ہیں۔ وہ برمنگھم کے ایک ہسپتال میں تین ہفتوں تک زیرِ علاج رہیں۔

    انھیں نمونیا کی شکایت پر ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ کورونا وائرس کی شکار ہوئی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ‘میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میں نے اس وائرس کو شکست دی ہے۔ میں اپنے گھر والوں کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہوں۔’

    کونی کی پیدائش ستمبر 1913 میں ہوئی تھی اور وہ دونوں عالمی جنگیں دیکھ چکی ہیں۔