آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانیہ: ’تحقیق کی جا رہی ہے کہ ایشیائی اور دیگر اقلیتیں بیماری سے زیادہ متاثر کیوں‘

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 21 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں تین ہفتوں جبکہ ریاست نیویارک میں لاک ڈاؤن 15 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ٹیسٹنگ اتنی ضروری کیوں ہے؟

    کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کے بارے میں مختلف ممالک میں بات ہو رہی ہے۔ برطانیہ کی حکومت نے محکمہ صحت کے اہلکاروں کے لیے مزید ٹیسٹنگ کٹس کا وعدہ کیا ہے۔

    لیکن ٹیسٹنگ اتنی ضروری کیوں ہے؟

    ٹیسٹنگ سے نہ صرف انفرادی سطح پر لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوتی ہے بلکہ اس سے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وائرس ایک ملک میں کہاں تک اور کن جگہوں میں پھیل چکا ہے۔

    اس سے صحت کے مراکز اپنے وسائل کا جائزہ لے سکتے ہیں، جیسے انتہائی نگہداشت کے یونٹس اور وینٹی لیٹرز کی دستیابی۔

    ٹیسٹنگ سے حکومت اپنی پالیسی کا بھی جائزہ لے سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر اکثر لوگوں میں وائرس پھیلا چکا ہے تو شاید لاک ڈاؤن کا اتنا فائدہ نہ ہو سکے۔

    اگر ٹیسٹنگ کٹس دستیاب نہیں تو شاید بعض لوگوں کا تنہائی میں رہنا غیر ضروری ہو، جیسے کے طبی عملہ جس کا کردار اہم ہے۔

  2. انڈیا میں لوگ قرنطینہ مراکز سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟, گیتا پانڈے، بی بی سی

    انڈیا میں جب حکومت نے لاک ڈاؤن نافذ کیا تو ہزاروں لوگ شہر چھوڑ کر اپنے گاؤں جانے لگے اور انھوں نے قائم کردہ قرنطینہ مراکز سے بھاگنا شروع کر دیا۔

    اوتر پردیش اور بِہار میں حکومت نے سکول اور کونسل کی عمارتوں میں ہزاروں پناہ گاہیں بنائی ہیں۔ لیکن ان میں سے کئی پناہ گاہوں میں سہولیات کی کمی ہے۔

    بِہار کے کچھ قرنطینہ مراکز کے لوگ رات باہر گزارتے ہیں اور دن کے وقت کھانے کے لیے لوٹ آتے ہیں۔

    یہ سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں ہیں اور ادھر کل آبادی 35 کروڑ سے زیادہ ہے۔ ان میں وائرس کا پھیلاؤ تباہ کن ہوسکتا ہے۔

    حکومت نے ان لوگوں کے لیے 14 دن قرنطینہ میں رہنا لازم قرار دیا تھا۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت انڈیا میں کورونا وائرس کے 11,487 متاثرین ہیں جبکہ اموات کی تعداد 396 ہے۔

  3. ایران میں 4,683 اموات

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ایران میں اموات کی تعداد 4,683 ہوگئی ہے جبکہ ملک میں متاثرین کی تعداد 74,877 ہے۔

    بعض ماہرین کے مطابق یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

  4. برازیل: سالگرہ کی ایک تقریب نے ’ایک ہی خاندان میں کورونا پھیلا دیا‘

    برازیل میں سالگرہ کی ایک تقریب میں شرکت کرنے کے دو ہفتے بعد ہی تین بہن بھائی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک ہی خاندان کے 10 دیگر افراد بیمار ہوئے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ کم از کم ایک کی ہلاکت کورونا وائرس سے ہوئی ہے۔

    ایک محفل جو شروع تو خاندان میں جشن کی تقریب کی طور پر ہوئی مگر اس کا اختتام ایک سانحے کی شکل میں ہوا۔

    برازیل میں سالگرہ کی ایک تقریب کے بارے میں شبہہ ہے کہ اس کے دوران ایک ہی خاندان کے متعدد افراد میں کورونا وائرس پھیلا۔

    اس تقریب میں شرکت کرنے کے دو ہفتے بعد ہی تین بہن بھائی ہلاک ہو گئے جبکہ 10 دیگر افراد بیمار ہوئے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ کم از کم ایک کی ہلاکت کورونا وائرس سے ہوئی ہے۔

  5. برطانیہ میں ’لاک ڈاؤن ختم کرنے کی بات ابھی قبل از وقت ہے‘

    امپیریل کالج لندن کے پروفیسر پیٹر کے مطابق برطانیہ میں ابتدائی معلومات سے لگتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے مثبت اثرات ہوئے ہیں۔

    یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت جمعرات کو لاک ڈاؤن میں توسیع کر دے گی۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے کی بات ابھی قبل از وقت ہوگی۔

    ’لاک ڈاؤن یا اس کے اقدامات ختم کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ فی الحال نئے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور کچھ جگہوں ہر یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ اثرات ملک گیر نہیں۔ لندن میں صورتحال خراب رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ لاک ڈاؤن جلدی کیا جاتا تو مزید اچھے اثرات مرتب ہوتے۔

  6. چین: تیزی سے تعمیر ہونے والے عارضی ہسپتال میں اب کوئی مریض نہیں

    چین نے اپنا ایک عارضی ہسپتال اب بند کر دیا ہے جہاں ایک وقت میں کورونا کے 2000 مریض زیرعلاج تھے۔

    آپ کو یاد ہی ہوگا کہ چین میں تیزی سے ہسپتال تعمیر کیے گئے تھے۔

    ان میں سے ایک تھنڈر گاڈ ماؤنٹین ہسپتال تھا جو ووہان میں وائرس کے مرکز کے قریب تعمیر کیا گیا تھا۔ اب یہ عارضی ہسپتال بند کر دیا گیا ہے کیونکہ تمام مریض صحتیاب ہو کر جا چکے ہیں۔

    لیکن تاحال چین نے اس کی عمارت برقرار رکھی ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس ہسپتال کی مزید ضرورت نہیں پڑے گی۔

    چین نے سرکاری میڈیا چائنہ ڈیلی کے مطاب: ’یہ اہم موڑ ہے کیونکہ اس ہسپتال میں مریض صفر ہوچکے ہیں۔‘

    یہ کہا گیا ہے کہ اس ہسپتال میں ایک وقت میں 2000 مریض زیر علاج رہ چکے ہیں۔ ان میں سے 45 فیصد سنگین کیسز تھے۔

  7. بل گیٹس صدر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف بول پڑے

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کے لیے امریکی فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا ذمہ دار یہ ادارہ ہے۔ ردعمل میں اقوام متحدہ نے عالمی ادارہ صحت کا دفاع کیا ہے۔

    فیصلے کے ردعمل میں بل گیٹس نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں صحت کے اس بحران کے دوران عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنا اتنا ہی خطرناک ہے جتنا لگتا ہے۔

    دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے بل گیٹس نے مزید لکھا کہ ’ان کا کام کووڈ 19 کا پھیلاؤ روک رہا ہے اور اگر یہ کام روکا گیا تو اس ادارے کی جگہ لینے والا اور کوئی ادارہ نہیں۔ اس وقت دنیا کو عالمی ادارہ صحت کی ضرورت اتنی زیادہ ہے جتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔‘

    یاد رہے کہ بل گیٹس کی فلاحی تنظیم بھی عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ کرتا ہے۔

  8. یورپ کی تازہ صورتحال

    • برطانیہ میں اس وقت کورونا وائرس کے 94,845 مصدقہ متاثرین ہیں۔ اب تک 12 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کووڈ 19 کی علامات والے کیئر ہومز کے رہائشیوں کی سکریننگ کی جائے گی۔ ایک 99 سالہ ریٹائرڈ فوجی نے این ایچ ایس کے لیے 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ امداد جمع کر لی ہے۔
    • جرمنی میں اموات کی تعداد 3000 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ملک میں کل 127,584 متاثرین ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ آدھے متاثرین صحتیاب ہوچکے ہیں۔
    • آسٹریا اور ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک نے سکول اور چھوٹی دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔
    • اٹلی اپنے کھانوں کے لیے مشہور ہے لیکن یہاں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس سے متعلق کاروبار بند ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریستوران اور بار مکمل طور پر بغیر رکاوٹ کھلنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
  9. عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ کون کرتا ہے؟

    عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ اس کے 194 رکن ملک، دو ایسوسی ایٹ ممبر اور بیرون امداد سے ہوتی ہے۔

    اس کی ممبرشپ فیس کا تعین ایک ملک کی دولت اور آبادی کے تحت کیا جاتا ہے۔

    سنہ 2020 سے 2021 کے لیے افغانستان کی ممبرشپ فیس 33500 ڈالر تھی جو کہ کل ممبرشپ فیس کا 0.007 فیصد تھا۔ امریکی کی ممبرشپ فیس 11 کروڑ 60 لاکھ تھی جو کل ممبرشپ فیس کا 22 فیصد ہے۔

    لیکن رکن ممالک کی طرف سے دی جانے والی ممبرشپ فیس عالمی ادارہ صحت کی کل فنڈنگ کا ایک چوتھائی سے بھی کم حصہ ہے۔ مختلف ممالک اور تنظیمیں اسے امداد دیتی ہیں جو اس کی فنڈنگ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2018 سے 2019 میں اسے امریکہ نے 40 کروڑ دے کر سب سے بڑی امداد دی تھی۔ اس کے بعد بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، برطانیہ اور جرمنی نے امداد دی تھی۔

    عالمی ادارہ صحت کے لیے یہ 40 کروڑ اس کی کل امداد کا 15 فیصد سے کم حصہ تھا۔

  10. پانی نہ ہو تو ہاتھ کیسے دھوئیں؟

    ہم سب جانتے ہیں کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بار بار ہاتھ دھونا کتنا ضروری ہے۔ مگر چند افریقی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پانی بہت ہی کم یاب ہے۔ تو ایسی صورتحال میں محفوظ کیسے رہا جائے؟ اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے گائے مبایو کا مشورہ دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  11. بریکنگ, انڈیا میں لاک ڈاؤن کے لیے نئی ہدایات

    انڈیا نے 3 مئی تک لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے اس حوالے سے نئی ہدایات جاری کی گئی ہے۔

    20 اپریل کے بعد زراعت کے شعبے سے متعلق کام اور کھیتی باڑی کی اجازت ہوگی۔

    پبلک ٹرنسپورٹ، پروازیں اور ٹرین سروس معطل رہیں گے تاہم محکمہ صحت کے اہلکاروں کو نقل و حرکت کی اجازت ہوگی۔

    سکول اور یونیورسٹی سمیت تعلیمی ادارے بند رہیں گے جبکہ کھیل اور عبادت کے لیے عوامی مراکز کو بھی بند رکھنے کا کہا گیا ہے۔

    ہسپتال اور صحت کے مراکز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ بنک بھی کھول دیے گئے ہیں تاکہ فلاحی کام جاری رہیں۔ کچھ علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے جہاں کووڈ 19 کے مریضوں کی تصدیق ہوئی تھی۔

    یہ فیصلے لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے کیے گئے ہیں۔

  12. عالمی ادارہ صحت سے متعلق امریکی اعلان پر اقوام متحدہ کا ردعمل

    کورونا وائرس کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کے لیے امریکی فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا ہے۔

    اس کے ردعمل میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ: ’وقت آئے گا جب ہم دیکھ سکیں گے کہ وبا کیسے پھیلی اور عالمی سطح پر اس سے اتنی تباہی کیسے ہوئی۔۔۔ لیکن ابھی یہ وقت نہیں۔۔۔ یہ ایسا وقت نہیں کہ عالمی ادارہ صحت کی امدادی کارروائیوں کے لیے اس کے وسائل کم کر دیے جائیں۔‘

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ ’ایسے وقت میں ہمیں معلومات کا تبادلہ کرنا چاہیے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ایسی ہدایات ملیں جن پر ہم عملدرآمد کر سکیں۔ ایسا عالمی ادارہ صحت نے کیا ہے۔ ہم اس کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘

    امریکی ایوان نمائندگان میں وزارت خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین ایلیئٹ اینجل نے کہا ہے کہ ’اس بحران کی صورتحال مزید خراب ہونے سے صدر اپنا اصل سیاسی رویہ ظاہر کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پر الزام لگایا جائے، چین پر الزام لگایا جائے، سیاسی حریفوں پر الزام لگایا جائے یا اپنے سے پہلے رہنے والے سربراہان پر الزام لگایا جائے۔‘

    تاہم صدر ٹرمپ کو ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنماؤں کی طرف سے حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔

  13. جنوبی کوریا میں انتخابات وہ بھی عالمی وبا کے دوران؟

    جنوبی کورونا میں قومی اسمبلی کے انتخابات جاری ہیں اور صبح سے شہری پولنگ سٹیشنز میں ووٹ ڈالنے کے لیے موجود ہیں۔

    شہریوں نے ماسک اور پلاسٹک کے دستانے پہن رکھے ہیں تاکہ کورونا سے خود کو بچا سکیں۔

    ملک میں پولنگ سٹیشنز کی صورتحال آپ ان تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

    متاثرین کی تعداد اب بتدریج کم ہو رہی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق مسلسل تیسرے دن 30 سے کم نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    منگل کو ملک میں 27 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جس سے کل متاثرین کی تعداد 10591 ہوگئی ہے۔

  14. بیلجیئم میں زندگی کیسے متاثر ہورہی ہے؟

    دنیا بھر کی طرح بیلجیئم بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوا ہے۔

    میاں شعیب ایک پاکستانی ہیں اور 20 سال سے وہاں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے وہاں کی صورتحال کے بارے میں بی بی سی کو کیا بتایا، دیکھتے ہیں اس ویڈیو میں۔۔۔

  15. آسٹریلیا کی تازہ صورتحال

    آسٹریلیا میں بعض سکول اب بھی کھلے ہیں اور اس حوالے سے بحث جاری ہے۔

    وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے فیس بک پر ایک ویڈیو لگائی ہے جس میں وہ سکولوں کے اساتذہ سے کہہ رہے ہیں کہ کلاس روم واپس لوٹ جائیں۔

    بعض ریاستوں میں انتظامیہ نے ہدایت دی ہے کہ والدین بچوں کو گھر میں پڑھائیں اگر وہ اس حوالے سے کوشش کر سکتے ہیں۔

    آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق آسٹریلیا کی معیشت 6.7 فیصد تک گِر سکتی ہے۔ یہ ان ممالک میں شامل ہے جنھیں اس خطے میں کورونا سے سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔

    ملک میں اس وقت 6415 متاثرین ہیں جبکہ 62 اموات ہوچکی ہیں۔

  16. نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم اپنی تنخواہ میں 20 فیصد کٹوتی کریں گی

    نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کابینہ نے اگلے چھ ماہ تک اپنی تنخواہوں میں 20 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان لوگوں سے اظہار یکجہتی ہوسکے جنھیں اپنی نوکریوں سے نکال دیا گیا یا تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے۔

    جسنڈا آرڈرن کی تنخواہ 285 ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کے سربراہان اور دیگر سیاستدانوں کی تنخواہوں میں بھی کٹوتی کی جائے گی۔ یہ فیصلہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو اپنی قائدانہ صلاحیت کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہے۔ انھوں نے وائرس کے متاثرین سامنے آنے کے فوراً بعد مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا تاکہ نیوزی لینڈ اس وبا سے بچ سکے۔

    آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق نیوزی لینڈ کی معیشت کو رواں سال 7.2 فیصد کا نقصان ہوگا۔

  17. دنیا بھر میں ہلاکتیں ایک لاکھ 26 ہزار سے زیادہ

    عالمی سطح پر کووڈ 19 سے اموات کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار 539 ہوگئی ہے۔

    سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکہ میں 23,992، اس کے بعد اٹلی (21,067)، فرانس (15,729) اور پھر برطانیہ (12,107) میں پیش آئی ہیں۔

    چین میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 3,345 ہلاکتیں ہوئیں جنھیں اس وبا سے جوڑا گیا۔

  18. امریکہ شاید یکم مئی سے پہلے کھل جائے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی ریاستوں کے گورنرز کے درمیان لاک ڈاؤن کے خاتمے کے حقوق کے حوالے سے لڑائی جاری ہے۔

    تاہم منگل کے بریفنگ میں انداز گفتگو بدلتے ہوئے صدر نے کہا ’گورنر ذمہ دار ہیں انہیں اس کی ذمہ داری لینی ہوگی اور بہترین کام کریں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ملک کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے منصوبہ حتمی مراحل میں ہے اور یہ شاید یکم مئی سے پہلے ہو جائے۔

    انھوں نے بتایا کہ ہر ریاست کے گورنر کو لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اختیار ہوگا اور وہ جب تیار ہو ایسا کر سکتے ہیں تاہم وفاقی حکومت ان معاملات پر نظر رکھے گی۔ ’ہم گورنرز کو جواب بنائیں گے تاہم ہم ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کے معاملات ٹھیک رہیں۔‘

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’اگر ہم کسی ریاست سے خوش نہیں ہوئے تو ہم انہیں بتائیں گے کہ ہم خوش نہیں ہیں۔‘

  19. بریکنگ, اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا ذمہ دار ڈبلیو ایچ او ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر نے دنیا بھر میں کورنا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار ڈبلیو ایچ کو ٹھہرایا ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’کئی ممالک نے کہا کہ وہ ڈبلیو ایچ او کی بات سنیں گے اور اب وہ ایسے مسائل کا شکار ہیں کہ انہیں یقین نہیں آ رہا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’دنیا میں ہر طرح کی غلط معلومات پہنچائیں گئیں جس میں معلومات اور ہلاکتوں کے بارے میں غلط اطلاعات بھی تھیں۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ڈبلیو ایچ او چین میں جا کر اس وبا کا جائزہ لیتا تو زیادہ زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔ ’ان کا (ڈبلیو ایچ او) اس وبا کو ظاہر کرنے کے لیے چین پر انحصار کرنا ہی دنیا بھر میں کیسز کو 20 گنا بڑھانے کا باعث بنا اور شاید یہ اس سے بھی زیادہ ہو۔‘

    ’اتنی زیادہ اموات ان کی غلطی کی وجہ سے ہوئیں۔‘

    امریکی صدر نے ڈبلیو ایچ او پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے زندگیاں بچانے سے زیادہ سیاسی بنیادوں پر فیصلے کیے اور وبا کے بارے میں چین کے دعووں کو ہی تسلیم کیا۔

    انھوں نے ڈبلیو ایچ او پر چین کے لیے طرف داری کا الزام عائد کیا۔

    ڈبلیو ایچ او کے لیے سنہ 2019 میں کی جانے والی فنڈنگ میں امریکہ کا حصہ 15 فیصد سے بھی کم تھا۔

  20. بریکنگ, امریکی صدر کا عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران عالمی ادارہِ صحت کے لیے فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’میں اپنی انتظامیہ کو ہدایت کر رہا ہوں کہ وہ عالمی ادارہِ صحت کی فنڈنگ روک دیں اور ڈبلیو ایچ او کے کردار کا جائزہ لیں جس نے انتہائی بد انتظامی کی اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو چھپایا۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’ڈبلیو ایچ اور اپنا بنیاد فرض ادا کرنے میں ناکام رہا اس کا احتساب ہونا چاہیے۔‘