گذشتہ کئی ہفتوں سے دوسرے ممالک سے آنے والے کیسز چین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ اب سب سے بڑا خطرہ ملک میں باہر سے وائرس لانے والے افراد ہیں۔
بیرونِ ممالک سے بہت سے چینی افراد اب گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
اس وبا سے نمٹنے، اس پر قابو پانے اور اسے ختم کرنے کے لیے چینی کوششوں کا سلسلہ کچھ اس طرح تھا:
1۔ مقامی عہدے داروں کوایک نئی وبا کے بارے میں علم تھا لیکن انھوں نے اس سلسے میں کچھ نہیں کیا۔
2۔ حکومت نے ووہان میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔
3۔ چین نے اندونِ ملک سفر پر پابندیاں عائد کردیں لیکن اصرار کیا کہ چین سے بیرونِ ملک آنے اور جانے پر مسافروں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آنی چاہئے۔
4۔ وائرس بیرون ملک پھیل گیا۔
5۔ چین کا خیال تھا کہ اس نے اس وبا پر کامیابی سے قابوپا لیا ہے اور پھر انھوں نے اپنی توجہ لوگوں کو بیرون ملک سے چین واپس لانے پر مرکوز کردی۔
یہ کچھ بلی اور چوہے کے کھیل جیسا ہے - چین میں بین الاقوامی پروازوں میں زبردست کمی کرنے، بیجنگ میں براہ راست آمد پر پابندی عائد کرنے اور اس بات پر زور دینے کے باوجود کہ مسافروں کو اب قرنطینہ کی سخت ہدایات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، مسافروں نے حکومتی کمزوری پکڑ لی۔
شمالی صوبے ہیلونگجیانگ میں روس اور چین کے درمیان ایک غیر واضح سرحدی راستہ ہے۔۔ بے شمار مسافر اس راستے سے واپس آئے اور اپنے ساتھ وائرس لاتے رہے۔
بیرونی ممالک سے آنے والے نئے کیسز میں تقریباً سبھی ایسے چینی افراد ہیں جو اپنے گھروں کو واپس لوٹے اور وہی اس وائرس کو پھیلاتے دکھائی دیتے ہیں۔
تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار میں 10 نئے کیسز کا انکشاف ہوا ہے جو گھروں میں موجود تھے۔ ان میں سے 7 لینڈ ہانگینگ میں واقع ہیں جو اس زمینی راستے سے آنے والوں کا مرکز ہے۔