آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عالمی ہلاکتیں 1 لاک 24 ہزار سے بڑھ گئیں، کہیں لاک ڈاؤن جاری کہیں پابندیاں نرم

دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 19 لاکھ اور ہلاکتیں ایک لاکھ 23 ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ دنیا کے جو ممالک اب کورونا وائرس کے پیش نظر عائد کی گئی پابندیاں ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں ان کے لیے عالمی ادارہ صحت نے معیار طے کر دیا ہے۔ دریں اثنا برطانیہ میں ہلاکتیں 12 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, روس: ایک دن میں کورونا متاثرین کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ, مصدقہ متاثرین: 18328، ہلاکتیں 148

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس میں 2550 افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ روس میں کسی بھی ایک روز میں مصدقہ متاثرین کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    روس میں اب مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 18328 ہو چکا ہے۔ ان مریضوں میں سے بیشتر یعنی ساڑھے گیارہ ہزار مریضوں کا تعلق روس کے دارالحکومت ماسکو سے ہے۔

    ملک میں اب تک 148 مصدقہ مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ بہت سے یورپی ممالک کے برعکس روس میں متاثرین کی تعداد نسبتاً کم ہے تاہم یہاں کی حکومت نے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے بہت سے احتیاطی اقدامات اٹھا رکھے ہیں۔

    روس کے بیشتر علاقوں میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا جا چکا ہے اور عوامی آمد و رفت پر پابندیاں ہیں۔

  2. ایران: مصدقہ متاثرین 73303، گذشتہ 24 گھنٹوں میں 111 اموات, بی بی سی مانیٹرنگ

    حکومتِ ایران نے آج (سوموار) ملک میں کورونا وائرس کے 1617 نئے مصدقہ مریضوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 73303 ہو چکی ہے۔

    ایران کی وزارتِ صحت کے ترجمان کیانوش جہان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 111 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 4585 ہو گئی ہے۔

  3. کورونا وائرس کے دنوں میں ٹک ٹاک پر ’دھوم مچانے والے دادا‘

    اگرچہ ٹک ٹاک کے زیادہ صارفین نوجوان ہیں لیکن ایک 87 سالہ دادا نے تین مہینوں سے بھی کم عرصے میں اس ویڈیو شیئرنگ ایپ پر دھوم مچا دی ہے اور بے شمار افراد ان کی ویڈیوز سے محظوظ ہو رہے ہیں۔

    اپنے 15 لاکھ فالورز کے لیے جو ایلنگٹن نے کورونا وائرس اور قرنطینہ کے متعلق کئی ویڈیوز بنائی ہیں۔

    ایسی ہی ایک ویڈیو جسے 457000 مرتبہ دیکھا گیا ہے، اس میں انھیں داستانے اور ماسک پہنے متعدد بن بیگز دھوتے دکھایا گیا ہے۔

    لیچفیلڈ سے تعلق رکھنے والے ایلنگٹن نے 1940 کی دہائی کے آخر میں جب ان کی عمر 14 سال تھی، سکول کو خیر آباد کہہ دیا اور کئی دہائیوں تک پیٹرول ٹینکر کے ڈرائیور رہے۔

    بعد میں انھوں نے ٹرانسپورٹ مینجمنٹ میں کام شروع کیا اور 65 برس کی عمر میں ریٹائر ہوگئے اور اپنی 54 سالہ بیٹی، وینڈی پینٹین اور پوتیوں کا دل بہلانے کے لیے فیملی کامیڈین بن گئے۔

    وہ بتاتے ہیں کہ جب میری پوتیوں نے مجھے ٹک ٹاک کا مشورہ دیا تو ایسا لگا ’مجھے اپنا بچپن واپس مل گیا ہے۔‘

  4. وبا کا پھیلاؤ سمجھنے کے لیے گوگل کا نیا منصوبہ

    کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران گوگل عوامی سطح پر لوگوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرے گا تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ کورونا وائرس کی وبا کیسے پھیلتی ہے۔

    ٹیکنالوجی کمپنی گوگل برطانیہ کے ایک ایک دیہی علاقے کے مختلف مقامات اور افراد کی نقل و حرکت سمیت دیگر 130 ممالک کے افراد کا ایسا ہی ڈیٹا شائع کرے گی۔

    اس منصوبے کا مقصد لوگوں کی گذشتہ دو سے تین روز کی سرگرمی کا مسلسل جائزہ لینا اور باقاعدگی سے ان کے اعداد و شمار جاری کرنا ہے تاکہ بہتر طور پر لوگوں کی نقل و حرکت کے بارے میں جانا جا سکے۔

  5. کورونا وائرس: جرمنی میں ’نصف سے زیادہ متاثرین صحتیاب‘

    جرمنی میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد ان مریضوں سے زیادہ ہے جو ابھی بھی کووڈ-19 کا شکار ہیں۔

    پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران 2537 نئے تصدیق شدہ مریض سامنے آئے اس طرح ملک میں کوورنا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 127854 ہو گئی ہے۔

    یہ کسی یورپی ملک میں چوتھی بڑی تعداد ہے لیکن ان میں سے تقریباً 50 فیصد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

    سپین میں متاثرہ 166831 افراد میں سے 37 فیصد صحت یاب ہوچکے ہیں، اٹلی میں یہ تعداد 156363 کا 22 فیصد اور فرانس میں 133670 کا 21 فیصد ہے۔

    برطانیہ میں 85208 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے لیکن ابھی تک صرف 0.3 فیصد صحت یاب ہوسکے ہیں۔

    جرمنی میں بھی اموات کی شرح کم ہے جس کی وجہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا عمل ہے۔ ان میں بہت سے ٹیسٹ ایسے افراد کے ہیں جن میں وائرس کی کم علامات ظاہر ہوئی ہیں۔

    چانسلر انجیلا میرکل اور اعلی سرکاری عہدیدار پیر کو ملک گیر لاک ڈاؤن میں نرمیوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

  6. انڈونیشیا: لوگوں کو گھروں میں رکھنے کے لیے ’بھوت‘ حرکت میں آ گئے

    حال ہی میں انڈونیشیا کے ایک گاؤں میں بھوتوں نے ڈیرے جما لیے!

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سفید لباس میں لپٹی یہ پُراسرار شخصیات راہگیروں پر چھلانگیں لگاتی اور پھر مزے سے رات بھر باہر سڑک پر بیٹھی نظر آئیں۔

    دراصل معاملہ کچھ یوں ہے کہ جاوا جزیرے میں واقع اس گاؤں نے سڑکوں پر گشت کے لیے ’بھوتوں‘ کی ایک فورس تعینات کی ہے اور انھیں امید ہے کہ صدیوں پرانی تواہم لوگوں کو گھر کے اندر اور کورونا وائرس سے محفوظ رکھے گی۔

    سماجی دوری کو فروغ دینے کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کام کرنے والے دیہاتی نوجوانوں کے گروپ کے سربراہ انجار پینکیننگیاس کا کہنا تھا ’ہم کچھ مختلف کرنا چاہتے تھے تاکہ ایسا اثر ڈالا جا سکے جو ڈراؤنا اور خوفناک ہو۔‘

    ’پوکونگ‘ کے نام سے مشہور کاجل سے چھلکتی آنکھوں والے یہ بھوت چہرے پر پاؤڈر لگائے کفن جیسی سفید چادروں میں لپٹے نظر آتے ہیں۔ انڈونیشیا کی لوک داستانوں میں ان کا ذکر ہلاک ہونے والوں کی پھنسی ہوئی روحوں کے طور پر کیا گیا ہے۔

  7. برطانیہ میں اموات کی تعداد 10000 سے تجاوز کر گئی، حکومت کو تنقید کا سامنا

    برطانیہ میں ایک اعلی سائنسی مشیر کے اس بیان کے بعد کہ یہ ملک یورپ میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہو گا، حکومت پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔

    اتوار کے روز برطانیہ کے ہسپتالوں میں 1000 اموات کے بعد سر جیریمی فریئر کی طرف سے یہ تنبیہ دی گئی تھی۔

    رائل کالج آف سرجنز کی نائب صدر، سیو ہل کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد 30000 سے بڑھ سکتی ہے۔

    ’کابینہ کے وزرا ہر روز کھڑے ہو کر ہمیں مخاطب کرتے ہیں جیسے ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور کچھ کرنے جیسا کہ پلاسٹک اور پیپر(طبی عملے کے لیے ذاتی حفاظتی سازوسامان) کی زیادہ مقدار حاصل کرنے کے بجائے، چرچل کے بیانات کا حوالہ دیتے ہیں۔‘

    پروفیسر جان اشٹن، سابقہ ​​پبلک ہیلتھ ڈائریکٹر نے حکومت سے ’مکمل طور پر دیانتدار‘ ہونے کا مطالبہ کیا ہے کیوںکہ اموات کی ریکارڈ شدہ تعداد صرف وہی لوگ ہیں جو ہسپتال میں دم توڑ چکے ہیں اور اس میں کیئر ہومز اور کمیونٹی میں ہونے والی اموات شامل نہیں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا ’سوشل میڈیا پر بہت لوگ پریشان ہیں کہ ہمیں پوری صورتحال نہیں بتائی جارہی۔ برطانوی شہریوں کے ساتھ بڑوں والا رویہ اپنانا ہوگا۔‘

    این ایچ ایس کے درجنوں کارکن ہلاک ہو چکے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ ڈاکٹرز اور سیاہ فام ، ایشیائی اور اقلیتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے کارکنان کی غیر متناسب تعداد بھی اس میں شامل ہے۔

    کورونا وائرس سے نمٹنے کے معاملے میں اس سے پہلے بھی برطانوی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  8. چین کی توجہ ’دوسرے ممالک سے آنے والے‘ کیسز پر, روبن برانٹ، بی بی سی نیوز شنگھائی

    گذشتہ کئی ہفتوں سے دوسرے ممالک سے آنے والے کیسز چین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ اب سب سے بڑا خطرہ ملک میں باہر سے وائرس لانے والے افراد ہیں۔

    بیرونِ ممالک سے بہت سے چینی افراد اب گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔

    اس وبا سے نمٹنے، اس پر قابو پانے اور اسے ختم کرنے کے لیے چینی کوششوں کا سلسلہ کچھ اس طرح تھا:

    1۔ مقامی عہدے داروں کوایک نئی وبا کے بارے میں علم تھا لیکن انھوں نے اس سلسے میں کچھ نہیں کیا۔

    2۔ حکومت نے ووہان میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔

    3۔ چین نے اندونِ ملک سفر پر پابندیاں عائد کردیں لیکن اصرار کیا کہ چین سے بیرونِ ملک آنے اور جانے پر مسافروں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آنی چاہئے۔

    4۔ وائرس بیرون ملک پھیل گیا۔

    5۔ چین کا خیال تھا کہ اس نے اس وبا پر کامیابی سے قابوپا لیا ہے اور پھر انھوں نے اپنی توجہ لوگوں کو بیرون ملک سے چین واپس لانے پر مرکوز کردی۔

    یہ کچھ بلی اور چوہے کے کھیل جیسا ہے - چین میں بین الاقوامی پروازوں میں زبردست کمی کرنے، بیجنگ میں براہ راست آمد پر پابندی عائد کرنے اور اس بات پر زور دینے کے باوجود کہ مسافروں کو اب قرنطینہ کی سخت ہدایات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، مسافروں نے حکومتی کمزوری پکڑ لی۔

    شمالی صوبے ہیلونگجیانگ میں روس اور چین کے درمیان ایک غیر واضح سرحدی راستہ ہے۔۔ بے شمار مسافر اس راستے سے واپس آئے اور اپنے ساتھ وائرس لاتے رہے۔

    بیرونی ممالک سے آنے والے نئے کیسز میں تقریباً سبھی ایسے چینی افراد ہیں جو اپنے گھروں کو واپس لوٹے اور وہی اس وائرس کو پھیلاتے دکھائی دیتے ہیں۔

    تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار میں 10 نئے کیسز کا انکشاف ہوا ہے جو گھروں میں موجود تھے۔ ان میں سے 7 لینڈ ہانگینگ میں واقع ہیں جو اس زمینی راستے سے آنے والوں کا مرکز ہے۔

  9. کورونا وائرس: ہم ویکسین کی تیاری میں کامیابی کے کتنا نزدیک ہیں؟

    آکسفورڈ یونیورسٹی میں ویکسینولوجی کی ایک پروفیسر کے مطابق، ممکن ہے ستمبر تک عام لوگوں کے لیے کورونا وائرس کی ایک ویکسین دستیاب ہوسکے۔

    پروفیسر سارہ گلبرٹ نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام میں بتایا کہ اس ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز ’بہت جلد شروع ہوجائیں گے‘ اور اس کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’ہمیں ویکسین کی بڑی مقدار میں تیاری شروع کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    ’ویکسین بنانے والی کمپنیوں کے لیے یہ معلوم ہونے سے پہلے ہی کہ ویکسین واقعی کام کرتی ہے، زیادہ تعداد میں ویکسین بنانا کوئی نئی بات نہیں۔ کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں رہنا چاہتا ہے جہاں آپ کے پاس ایک ویکسین ہے اور آپ نے ثابت کیا ہے کہ یہ کام کرتی ہے لیکن پھر استعمال کے لیے آپ کے پاس ویکسین بچی نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا ’جتنی جلدی ہم زیادہ پیداوار شروع کریں گے اتنی جلدی ہم اربوں کی ضرورت پوری کرنے کے قابل ہوں گے۔‘

    ’شاید اس سال یہ ممکن نہیں ہوگا لیکن اگر ہم شروع ہی نہیں کرتے ہیں تو اگلے سال بھی مطلوبہ تعداد نہیں حاصل کر پائیں گے۔‘

  10. سپین: حکومت نے کچھ کاروبار کھولنے کی اجازت سے دی

    سپین میں حکومتی اجازت سے کچھ کچھ کاروبار دوبارہ کھل گئے ہیں اور ضروری سامان بنانے والوں کے علاوہ، چند دوسرے کارکنوں کو پیر سے دوبارہ کام پر جانے کی اجازت ہوگی۔

    سپین میں لاک ڈاؤن کے اقدامات میں جزوی طور پر نرمی کی جا رہی ہے۔

    ایسے کاروبار جنھیں دوبارہ کھلنے کی اجازت ملی ہے ان میں مینوفیکچرنگ اور تعمیرات بھی شامل ہیں، جب تک کہ وہ سخت حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    غیر ضروری سامان کی دکانیں، ریستوران اور تفریحی مقامات بند رہیں گے۔

    اس ہفتے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والوں کو دس ملین فیس ماسک بھی دیے جائیں گے کیونکہ لوگ کام پر واپس آنا شروع کردیں گے۔

    سپین ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں اتوار تک کورونا وائرس سے متاثرہ 166000 سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز اور تقریباً 17000 اموات ہو چکی ہیں۔ لیکن نئے کیسز کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

  11. جاپان میں بے گھر افراد انٹرنیٹ کیفیز کی بندش سے پریشان

    جاپان کے بہت سے شہروں میں بنے انٹرنیٹ کیفے بے گھر افراد کے لیے ایک بڑی سہولت ہیں۔ یہ کیفے 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں اور ان میں نجی بوتھ ، شاور اور تفریح ​​کا سامان میسر ہوتا ہے۔

    بہت سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں جاپان میں بے گھر افراد کی تعداد خاصی کم ہے لیکن صرف دارالحکومت ٹوکیو میں ہی 4000 سے زیادہ افراد انٹرنیٹ کیفے میں رہتے ہیں۔

    اب ان کیفیز کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور حکام ہزاروں بے گھر افراد کے لیے عارضی رہائش تلاش کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔

    اور اس کام کے لیے ہوٹلوں کے کمرے اور سپورٹس ہالز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  12. اقوام متحدہ کی سینیئر عہدیدار نے جنگلی حیات کی مارکیٹ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا

    اقوام متحدہ کی بائیو ڈاورسٹی چیف (حیاتیاتی تنوع کے سربراہ) نے مستقبل میں وبائی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جنگلی حیات کی منڈیوں پر عالمی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    الزبتھ ماروما مریمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ منڈیوں میں جنگلی جانوروں کی خرید و فروخت کا رواج انسانی صحت کے ساتھ ساتھ معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں کی نسلوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    مریمہ کا کہا تھا ’ہم جانتے ہیں کہ پچھلے 60 سالوں میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں حیوانوں میں نئی ​​بیماریاں ابھرنا شروع ہوئی ہیں۔۔۔ اور جنگلی جانور انسانوں کے زیادہ قریب آ گئے ہیں اور بیماریوں کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔‘

    ’لہذا ہمیں ایسے بازاروں میں صفائی اور ان کی اچھے طریقے سے نگرانی ممکن بنانا ہو گی تاکہ وہاں جنگلی جانوروں کی غیر قانونی تجارت نہ ہو سکے۔‘

    انھوں نے اعتراف کیا کہ دنیا بھر میں بہت سی دیہی آبادی ’معاشی اور غذائی تحفظ کی وجوہات کی بنا پر‘ جنگلی جانوروں کی تجارت پر انحصار کرتی ہے۔

    ان اطلاعات کے بعد کہ موجودہ کورونا وائرس کی ابتدا ووہان کی ایک ایسی مارکیٹ سے ہوئی ہے جہاں زندہ جانور خریدے اور بیچے گئے تھے، چین نے جنگلی جانوروں کے استعمال پر عارضی پابندی عائد کردی ہے۔ لیکن ابھی تک اس بات کا کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں ہے کہ جنگلی حیات کی مارکیٹ اس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب تھی۔ .

  13. کورونا کے سائے تلے دنیا میں زندگی کیسی گزر رہی ہے کی تصویری جھلکیاں

    دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر کورونا کے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوئے ہیں۔

    ایسے میں رواں ہفتے دنیا بھر میں کوویڈ-19 کے سائے میں زندگی کیسی گزر رہی ہے، دیکھیے چند منتخب کردہ تصاویر۔

  14. کورونا وائرس: کیا آپ کو اب بھی سینیٹائزر دستیاب نہیں ہیں؟

    ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران اپنے ہاتھ دھوئیں اور ہینڈ سینیٹائزر استعمال کریں لیکن کووڈ -19 کے پھیلنے کے کئی ماہ بعد بھی بہت سے لوگ سینیٹائزر کی تلاش کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    پوری دنیا میں دکانوں کے شیلف خالی ہیں، آن لائن بھی کم ہی دستیاب ہیں اور جو فروخت کنندہ ہیں وہ بھی من مانی قیمت مانگ رہے ہیں تو کیا دنیا کو عالمی سطح پر سینیٹائزر کی کمی کا سامنا ہے؟

  15. چین میں کورونا متاثرین کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ کیا ظاہر کرتا ہے؟, رابن برانٹ بی بی سی نیوز، شنگھائی

    چین میں کورونا متاثرین کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ سامنے آیا ہے۔ اگرچہ نئے متاثرین کی تعداد نسبتاً کم ہے لیکن ان میں پھر سے اضافہ، چین کے لیے اچھا نہیں ہے۔

    حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق پچھلے پانچ ہفتوں کے دوران ایک دن میں 108 نئے تصدیق شدہ کیسز، روزانہ کی بنیاد پر سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    اعدادوشمار کے مطابق اس کی بنیادی وجہ وطن واپس آنے والے چینی شہریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہے اور یہ سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ واپس آنے والے تقریباً تمام افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ان میں سے نصف افراد کو شمالی صوبے ہیلونگجیانگ میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ یہاں روس سے آنے والے وہ چینی شہری بھی موجود ہیں جو واپسی پر اپنے ساتھ وائرس لے کر آئے تھے۔

    چین میں بیرونی مسافروں کی آمد پر سخت پابندیوں کے باوجود ، حقیقت یہ ہے کہ حکومت وائرس کے نئے کیسز کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکی ہے۔

    ہوبائی صوبہ جہاں سے یہ سب شروع ہوا، وہ منئے متاثرین کی تعداد بہت کم ہے لیکن لوگ ابھی بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔ وہاں دو نئی اموات کی اطلاع ملی ہے۔

    حالانکہ اس صوبے کا کھولا جانا،چین کے باقی صوبوں اور دنیا بھر کے ممالک کے لیے محفوظ سمجھا گیا تھا۔

  16. کورونا وائرس: انڈیا سے تازہ ترین صورتحال

    • سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا میں کورونا متاثرین کی تعداد میں تھوڑی لیکن ’نمایاں‘ کمی دیکھ رہے ہیں۔
    • مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈیا نے چین کو جن 500000 کے قریب تیز رفتار ٹیسٹنگ کٹس کا آرڈر دیا تھا، وہ ابھی تک نہیں پہنچیں۔ انڈیا کی کئی ریاستیں ٹیسٹنگ شروع کرنے کے لیے ان کٹس کے انتظار میں ہیں۔
    • اطلاعات کے مطابق کچھ ریاستوں نے پہلے ہی باضابطہ طور پر لاک ڈاون میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کر دی ہے لیکن وفاقی حکومت ابھی تک اس بات پر غور کر رہی ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔
    • مغربی ریاست مہاراشٹر میں متاثرین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے اور اسی لیے حکام ’حفاظتی اقدام کے طور پر‘ کچی آبادی کے رہائشیوں کو ملیریا سے بچنے والی دوائی دینے پر غور کر رہے ہیں۔
    • پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران انڈیا میں 918 نئے کیسز اور 34 اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس طرح متاثرین کی کل تعداد 8000 سے زیادہ ہوگئی ہے۔
  17. بورس جانسن نے نیوزی لینڈ کی نرس کا شکریہ ادا کیا

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو اتوار کے روز لندن کے ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تھا۔ انھیں ایک ہفتہ قبل داخل کیا گیا تھا اور کئی دن تک وہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں تھے۔

    انھوں نے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ این ایچ ایس نے ’میری جان بچائی ہے۔‘

    بورس جانسن نے براہ راست جس طبی عملے کا شکریہ ادا کیا ان میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی جینی بھی شامل ہیں۔

    نیوزی لینڈ کے میڈیا کو اس نرس کے اہل خانہ تک رسائی حاصل کر کے ان سے بات کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ ان کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ بہت حیران ہیں اور انھیں اپنی بیٹی پر فخر ہے۔

    جینی کی عمر 30 سال کے لگ بھگ ہے اور وہ نو سال سے لندن میں کام کررہی ہیں۔

    ان کی والدہ کا کہنا تھا کہ خبر پھیلنے سے پہلے تک جینی نے انھیں نہیں بتایا تھا کہ وہ بورس جانسن کی دیکھ بھال کررہی ہیں۔

    انھوں نے اپنی والدہ کو یہ بھی بتایا کہ سینٹ تھامس ہسپتال میں موجود تمام عملہ ’بہت تھک گیا ہے۔‘

  18. جنوبی کوریا: امریکہ سے آنے والے تمام افراد کا ٹیسٹ لیا جائے گا

    جنوبی کوریا ، پہلے تین دن کی سیلف آئسولیشن کے دوران امریکہ سے آنے والے ہر شخص کا ٹیسٹ کرے گا۔

    یون ہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق، جنوبی کوریا میں امراض پر قابو پانے اور روک تھام کے مرکز نے پیر کی صبح اس نئے اقدام کا اعلان کیا۔

    چین کی طرح ، جنوبی کوریا کو بھی بیرونی ممالک سے آنے والے کوورنا کیسز سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں کے دوران بیرونی ممالک سے آنے والے تصدیق شدہ کیسز میں سے نصف امریکہ سے آئے ہیں جو اس وبا کا مرکز بن چکا ہے۔

  19. کورونا وائرس: فرانس اور اٹلی میں شرحِ اموات میں کمی

    کوورنا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ دو یورپی ممالک، اٹلی اور فرانس میں کووڈ-19 کے باعث ہونے والی اموات میں روزانہ کی بنیاد پر کمی دیکھی گئی ہے۔

    اٹلی سے تازہ ترین اعداد و شمار 431 اموات ہیں جو تین ہفتوں میں سب سے کم ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیماری کے عروج کا وقت گزر چکا ہے۔

    فرانس میں مرنے والوں اور وائرس کا شکار افراد کی تعداد میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اتوار کے روز ہسپتالوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 315 اموات ہوئیں جبکہ اس سے پچھلے دن یہ تعداد 345 تھی۔

    تاہم سپین میں روز مرہ کی بنیاد پر ہونے والی اموات میں 600 سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نئے مریضوں کی تعداد میں کمی کے باوجود حکومت نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ ہوسکتا ہے۔

  20. نیوزی لینڈ: کورونا وائرس سے متاثرہ پانچواں شخص چل بسا

    نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس سے متاثرہ پانچویں شخص کی موت ہو گئی ہے۔ ان کی عمر 80 سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

    نیوزی لینڈ میں کم از کم 19 نئے تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد کووڈ-19 سے متاثرین کی کل تعداد 1349 ہو گئی ہے۔

    تاہم وزیر اعظم جسنڈرا آرڈرن کا کہنا ہے کہ کم تعداد کے باوجود ان کا ملک لاک ڈاؤن ختم کرنے میں جلدی نہیں کرنے گا۔

    پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا ’ہمارے ملک میں متاثرہ کیسز کی تعداد کم ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ابھی تک اس وائرس کوختم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔‘

    ’ایک متاثرہ شخص کئی دوسرے افراد کو بیمار کرسکتا ہے اور اسی وجہ سے ہمیں مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘