آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عالمی ہلاکتیں 1 لاک 24 ہزار سے بڑھ گئیں، کہیں لاک ڈاؤن جاری کہیں پابندیاں نرم

دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 19 لاکھ اور ہلاکتیں ایک لاکھ 23 ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ دنیا کے جو ممالک اب کورونا وائرس کے پیش نظر عائد کی گئی پابندیاں ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں ان کے لیے عالمی ادارہ صحت نے معیار طے کر دیا ہے۔ دریں اثنا برطانیہ میں ہلاکتیں 12 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. عالمی ادارہ صحت: ’کووِڈ 19 سوائن فلو سے 10 گنا زیادہ مہلک ہے‘

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ نیا کورونا وائرس، کووِڈ 19، سنہ 2009 میں پھیلنے والی وبا سوائن فلو سے دس گنا زیادہ مہلک ہے۔

    ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈنوم نے کہا ہے کہ دنیا بھر سے سامنے آنے والے نئے اعدادوشمار ’ہمیں اس نئے وائرس کی واضح تشریح فراہم کر رہے ہیں، یہ کیسا برتاؤ کرتا ہے، اسے کیسے روکا جا سکتا ہے اور اس کا علاج کیسے کیا جائے۔‘

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس کے مطابق ’ہمیں معلوم ہے کہ کووِڈ 19 زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ یہ زیادہ مہلک ہے، سنہ 2009 کے سوائن فلو سے دس گنا زیادہ مہلک۔‘

    سنہ 2009 میں سامنے آنے والے سوائن فلو سے ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سوائن ’ایچ ون این ون‘ انفلوئینزا وائرس کی قسم تھا۔

  2. کورونا وائرس سے کس طرح ٹھہر گیا ہے بالی وڈ

  3. لاک ڈاؤن سے پہلے اور بعد: اطالوی جوڑے کی زندگی

    کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کا نظام شدید متاثر ہوا ہے اور کام کرنے کے طریقہ کار سے لے کر رہن سہن سب بدل گیا ہے۔

    اٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نے اس ویڈیو میں بتایا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے اور اس کے بعد ان کی زندگی کیسے تبدیل ہوئی اور اب ان کی زندگی کیسے چل رہی ہے۔

  4. بریکنگ, برطانیہ میں ہلاکتیں 11 ہزار سے زیادہ

    برطانیہ کے وزیرخارجہ ڈومینک راب نے کورونا وائرس کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 11329 ہو گئی ہے۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ یہ نمبر بہت بڑا ہے لیکن اس کے باوجود ایک امید کی کرن ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ کم ہو رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی اسی وقت ہوگی جب حکومت کو اطمینان ہو گی کہ ایسا کرنے میں کوئی خطرہ نہیں۔

    انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ لاک ڈاؤن کے بارے میں حکومت کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں اور گھر پر رہیں۔

  5. بریکنگ, امریکہ: ریاست نیویارک میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی

    امریکہ کی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کوومو نے کہا ہے کہ گذشتہ اتوار کو ریاست میں 671 نئی ہلاکتوں کے بعد نیویارک میں اموات کی مجموعی تعداد دس ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

    گورنر کوومو کا کہنا ہے کہ اگرچہ یومیہ بنیاد پر ہونے والی ہلاکتوں کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے مگر اس کے باوجود ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    علاوہ ازیں امریکہ کے ’سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن‘ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ کووِڈ 19 وبا کی انتہا (پیک) سے گزر رہا ہے اور اب اس کے بعد پورے ملک میں کورونا کے کیسوں کی تعداد میں استحکام آئے گا۔

    امریکی چینل این بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر رابرٹ کا کہنا تھا کہ وبا کی انتہا سے گزرنے کے بعد ملکی معیشت بتدریج انداز میں دوبارہ کھلنا شروع ہو جائے گی۔

    امریکہ میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 557663 ہے جبکہ یہاں ہلاکتوں کی تعداد 21600 ہے۔

  6. سپین: گھریلو تشدد کا شکار کرینہ کی یاد میں پرچم سرنگوں

    سپین کے قصبے الماسسورا میں 35 سالہ کرینہ نامی خاتون کی ہلاکت کے بعد ان کی یاد میں جھنڈے سرنگوں ہیں اور اس قصبے میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اگر حالات نارمل ہوتے تو شاید اس علاقے میں رہنے والے افراد کرینہ کے جنازے کے موقع پر باہر نکلتے، اکھٹے ہوتے اور خاموشی اختیار کر کے اپنی پڑوسن کو خراج عقیدت پیش کرتے۔

    مگر کورونا وائرس کے باعث اس علاقے کے لوگ گھروں تک محدود ہیں اور اسی لیے انھوں نے مناسب فاصلے سے ہی انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ جب مقامی گرجا گھر میں گھنٹیاں بجیں اور تعزیتی گیت گایا گیا تو اس علاقے کے باسی اپنے اپنے گھروں کی کھڑکیوں اور بالکونیوں میں آ کر کھڑے ہو گئے۔

    کرینہ کورونا وائرس کے باعث ہلاک نہیں ہوئی تھیں بلکہ انھیں ان ہی کے گھر میں ان کے دو بچوں کے سامنے قتل کیا گیا تھا۔ قتل کے بعد ان کے شوہر جوس نے اپنے آپ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔

    بہت سے ملکوں میں کورونا کے پھیلاؤ سے بچاؤ کی غرض سے لاک ڈاؤن نافذ ہے اور لوگ اپنے خاندانوں کے ہمراہ اپنے اپنے گھروں میں محدود ہیں۔ سپین میں بھی قومی لاک ڈاؤن کی وجہ سے خواتین اپنے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے ساتھ گھروں پر رہنے پر مجبور ہیں، ایسی خواتین کے پاس موجودہ حالات میں بروقت مدد طلب کرنے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔

    کرینہ سپین میں ایسی 17ویں خاتون تھیں جو رواں برس کے دوران اپنے موجودہ یا سابقہ شریک حیات کے ہاتھوں قتل ہوئی ہیں۔ سپین میں لاک ڈاؤن کے بعد وہ گھریلو جھگڑوں کے باعث ہلاک ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔

  7. امریکہ اور کینیڈا میں بزرگ افراد کے کیئر ہومز تحقیقات کی زد میں

    امریکہ اور کینیڈا میں بزرگ افراد کی دیکھ بھال کرنے والے چند اداروں کو ان الزامات پر تفتیش کا سامنا ہے کہ یہ ادارے کورونا سے متاثرہ بزرگ افراد کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    ان کیئر ہومز کو اس الزام کا سامنا بھی ہے کہ یہاں کہ منتظمین نے حکام سے، ان بزرگ افراد کے خاندانوں سے اور اپنے ہی سٹاف سے کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کو چھپایا۔

    امریکہ کی ریاست میسیچوسٹس کے شہر ہولیاک میں قائم ایک ایسے ہی کیئر ہوم کو اب وفاقی سطح پر تحقیقات کا سامنا ہے۔ اس کیئر ہوم میں اب تک 38 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ اس مقام پر ریٹائرڈ فوجیوں کو رکھا گیا تھا۔ اس کیئر ہوم میں صورتحال سے نمٹنے اور مدد فراہم کرنے کے لیے نیشنل گارڈز کو طلب کیا گیا تھا۔

    ہولیاک کے میئر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’سولجرز ہوم‘ نامی کیئر ہوم کا سٹاف ریاستی انتظامیہ کو بروقت مطلع کرنے میں ناکام رہا حتی کہ اس وقت بھی جب یہاں کے رہائشی بہت سے بزرگ افراد کورونا وائرس جیسی علامات کا سامنا کرتے ہوئے انتقال کر گئے۔

    کینیڈا میں حکام ایک ایسے ہی کیئر ہوم کی تفتیش میں مصروف ہیں جہاں کورونا کے باعث 31 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ کیوبک کی انتظامیہ نے کیئر ہوم کی انتظامیہ پر ’بہت بڑی غفلت‘ برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کیئر ہوم کا سٹاف تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہا ہے۔ اسی طرح امریکی ریاستوں نیواڈا، واشنگٹن، کولوراڈو اور مشی گن میں بھی ہوم کیئر سینٹرز کو تحقیقات کا سامنا ہے۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ میں قائم نرسنگ ہومز میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 3600 سے زائد ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ تمام افراد جو کورونا کی باقاعدہ تشخیص سے قبل ہی ہلاک ہو گئے تھے وہ ان 3600 ہلاکتوں میں شامل نہیں ہیں۔

  8. لاک ڈاؤن کے دوران ’پہلی نظر میں محبت‘ کی کہانی

    یہ زمانہ حال کے رومیو اور جولیٹ کی کہانی ہے۔

    کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی کے شہر ویرونا میں مکمل لاک ڈاؤن کے دوران ایک جوڑا نظریں چار ہوتے ہی ایک دوسرے کی محبت کا اسیر ہو گیا۔

    38 سالہ مائیکل ڈی الپاؤس اور 39 سالہ پاؤلہ ایگنیلی لاک ڈاؤن کے دوران ایک دوسرے کے پڑوس میں رہ رہے تھے جہاں وہ اپنی اپنی عمارت کی بالکونیوں میں ہر روز سرِشام چھ بجے موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے تھے۔

    اس جوڑے کے مطابق یہ بالکونیوں سے پہلی نظر میں ہونے والی محبت تھی۔

    اپنی بالکونی میں بیٹھ کر پاؤلہ ایگنیلی کی بہن روزانہ وائلن بجاتی تھیں۔ پاؤلہ کی بہن پروفیشنل وائلن بجاتی ہیں۔ اور جس روز جوڑے نے ایک دوسرے کو پہلی مرتبہ دیکھا اور محبت ہوئی اس روز پاؤلہ کی بہن نے آس پڑوس کے لوگوں کو محظوظ کرنے کے لیے ’کوئینز وی آر دی چیمپیئنز‘ گانے کے سُر وائلن پر بکھیرے اور پڑوسیوں سے داد موصول کی۔

    پاؤلہ نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں بتایا کہ ’میں اپنی بہن کو وائلن بجاتے ہوئے دیکھنے کے لیے اپنی بالکونی پر آئی تو میں نے مائیکل کو سامنے والی عمارت کی بالکونی میں کھڑے دیکھا۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ میرے دوست کا بھائی ہے اور میں نے کہا ’کیا خوبصورت آدمی ہے۔‘

    جب موسیقی ختم ہوئی تو مجھے انسٹاگرام پر ایک پیغام موصول ہوا۔ یہ مائیکل کی جانب سے بھیجا گیا تھا اور اس میں لکھا تھا کہ ’میں لوو اِن دی ٹائم آف کورونا کے عنوان سے پوری کتاب لکھ سکتا ہوں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس کے بعد ہم اس رات بہت دیر تک ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے۔ ہمیں احساس ہوا کہ ہماری بہت سے اقدار مشترک ہیں اور یہ مشترکہ اقدار ہمارے رشتے کو مضبوط بنیاد فراہم کریں گی۔‘

  9. ڈاکٹروں نے پولیس اہلکار کے کٹے ہوئے ہاتھ کو دوبارہ جوڑ دیا

  10. بریکنگ, دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال, مصدقہ متاثرین 1,864,629، مجموعی ہلاکتیں 115,286

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا کے 185 ممالک اور خطوں میں کورونا وائرس کے 18 لاکھ 64 ہزار سے زائد مصدقہ متاثرین موجود ہیں جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 115,286 ہے۔

    • امریکہ میں وائرس کے سب سے زیادہ 557,663 مصدقہ متاثرین موجود ہیں جبکہ اب تک یہاں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے کچھ زائد ہے
    • مصدقہ متاثرین کی فہرست میں سپین دوسرے نمبر پر ہے اور یہاں مریضوں کی مجموعی تعداد 169,496 ہے۔ سپین میں مجموعی اموات کی تعداد 17,489 ہے
    • اٹلی میں مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 56 ہزار سے زائد ہے جبکہ ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 19,899 ہے
    • فرانس میں اب تک 133,672 افراد کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور یہاں اموات کی تعداد 14,412 ہے
    • جرمنی میں مصدقہ متاثرین 127,854 ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 3,022 ہے
    • برطانیہ میں مصدقہ متاثرین 85,212 ہیں جبکہ 10,627 افراد اب تک اس وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں
    • چین جو کہ اس وبا کا اولین مرکز تھا وہاں مصدقہ متاثرین کی تعداد 83,213 جبکہ اموات کی تعداد 3,345 ہے
    • ایران میں مصدقہ متاثرین 73,303 ہے۔ ایران میں اب تک 4,585 افراد ہلاک ہو چکے ہیں
    • ترکی میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 56,956 ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 1,198 ہے
    • بیلجیئم میں مصدقہ متاثرین 30,589 ہیں۔ یہاں ہونے والی اموات کی تعداد 3,903 ہے
  11. ہاتھ دھونا اہم ہے لیکن اگر پانی ہی کم ہو تو افریقی ممالک کیا کریں؟

    ہم سب جانتے ہیں کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بار بار ہاتھ دھونا کتنا ضروری ہے۔ مگر چند افریقی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پانی بہت ہی کم یاب ہے۔ تو ایسی صورتحال میں محفوظ کیسے رہا جائے؟ اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے گائے مبایو کا مشورہ دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  12. ’امریکہ میں یومیہ 14 ملین لیٹر دودھ، صرف ایک فارم ہر ہفتے ساڑھے 7 لاکھ انڈے ضائع‘

    دنیا بھر میں ہوٹل اور مہمان نوازی کی صنعتیں بند ہونے سے کاشتکاروں اور ڈیری فارموں کے متاثر ہونے کا شدید امکان ہے۔ کاشتکاروں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ ان کے سٹاک میں پڑا ہوا مال ضائع ہو جائے گا۔

    دنیا بھر میں کیفے اور چائے خانے بند ہونے سے دودھ کا استعمال کم ہو گیا ہے۔ امریکی ڈیری فارموں کے مالکان کے مطابق انھیں سپلائی کی مشکلات کی وجہ سے 37 لاکھ گیلن(1 کروڑ 40 لاکھ لیٹر) دودھ یومیہ ضائع کرنا پڑ رہا ہے۔

    برطانیہ میں ڈیری فارم کہتے ہیں کہ ہر ہفتے 50 لاکھ لیٹر دودھ ضائع ہونے کا خطرہ ہے اور وہ لوگ شدید مالی دباؤ میں ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ فصلیں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔

    نیو یارک ٹایمز کی ایک خبر کے مطابق مرغیوں کی کاروبار سے وابستہ ایک شخص نے انھیں بتایا کہ وہ ہر ہفتے ساڑھے 7 لاکھ انڈے ضائع کر رہے ہیں۔ اسی طری ایک کاشت کار نے بتایا کے انھیں پیاز کی اپنی زیادہ تر فصل ضائع کرنا پڑی ہے۔

    انڈیا میں چائے کے باغات کے مالکان پہلے ہی متنبہ کر چکے ہیں کے لاک ڈاؤن کے بعد پہلی فصل صائع ہو چکی ہے اور دوسری کے بارے میں بھی انھیں ایسے ہی خدشات ہیں۔

    کاشتکاروں کو مزدوروں کی کمی کا بھی سامنا ہے اور گزشتہ ہفتے جرمنی کو کھیتوں میں پڑی ہوئی سبزیوں کی فصل اٹھوانے کے لیے خصوصی انتظامات کر کے پولینڈ اور رومانیہ سے ہوائی جہاز کے ذریعے مزدور لانے پڑے۔

    لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور تبدیلی جو دیکھی گئی ہے وہ برطانیہ میں آٹے کے استعمال اور فرانس میں آرگینک خوراک کی مانگ میں اضٰافہ ہے۔

    امریکہ میں مالٹے کے جوس کی مانگ میں کمی آ رہی تھی لیکن کورونا وائرس کی وبا کے بعد اس میں 38 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    مالٹے کی مانگ میں اضافہ سٹرس پیدا کرنے والے ممالک ے لیے اچھی خبر ہے۔

  13. کورونا کے علاج سے متعلق افواہوں کی حقیقت

    کیا سانس روکنے سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے؟

    ایسے سوالات اور ان سے جڑی کئی افواہیں انٹرنیٹ پر زیر گردش ہیں۔

    انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے؟ جاننے کی لیے دیکھیے ہماری یہ ڈیجیٹل ویڈیو۔

  14. کورونا وائرس: ’یہ حالتِ جنگ میں ہونے جیسا ہے‘

  15. برطانیہ: ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 11329 ہو گئی

    برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 11329 ہو گئی ہے۔

    یہ اعدادوشمار ان افراد کے ہیں جن میں کورونا کی باقاعدہ تشخیص ہوئی تھی اور وہ مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج تھے۔

    برطانیہ کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ایسٹر کے اتوار سے اب تک 717 مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق برطانیہ میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 85 ہزار سے زائد ہے۔

  16. جاپان میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد کیا ماحول ہے؟

    کورونا کی وبا نے دنیا بھر کی طرح جاپان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس وقت وہاں کورونا سے متاثرین کی تعداد 7000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہمارے نمائندے نعمان مسرور نے جاپان میں پاکستانی جژاد شہری محمد زبیر سے ٹوکیو کی صورتحال جانی۔ دیکھیے اس رپورٹ میں

  17. ولادیمیر پوتن: ’روس میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے‘

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    ریاستی سرپرستی میں چلنے والے چینل روسییا 24 پر نشر کی جانے والے ایک سرکاری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صورتحال روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہی ہے، اور یہ بہتر نہیں ہو رہی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بیمار افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ایسے افراد کی بھی جو بیماری کی وجہ سے شدید بیمار ہو رہے ہیں۔ بہت سے حوالوں سے آئندہ آنے والے چند ہفتے فیصلہ کُن ہوں گے۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس میں 2550 افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ روس میں کسی بھی ایک روز میں مصدقہ متاثرین کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    روس میں اب مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 18328 ہو چکا ہے۔ ان مریضوں میں سے بیشتر یعنی ساڑھے گیارہ ہزار مریضوں کا تعلق روس کے دارالحکومت ماسکو سے ہے۔

    ملک میں اب تک 148 مصدقہ مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ روس کے بیشتر علاقے مکمل لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں اور عوامی آمد و رفت پر پابندیاں ہیں۔

  18. لاک ڈاؤن جلد ختم نہ ہوا توشراب خانوں میں پڑی کروڑوں پائنٹ شراب کا کیا ہو گا؟, جسٹن پارکنسن بی بی سی نیوز

    برطانیہ میں دوسرے کاروبار کی طرح کورونا وائرس کی وبا کے دوران ’پب‘ یا شراب خانے بھی بند پڑے ہیں۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ صورتحال زیادہ دیر قائم رہتی ہے تو ان میں پڑی شراب کا کیا ہو گا؟ جس کی مقدار کل ملا کر تقریباً 5 کروڑ پائنٹ ہو سکتی ہے۔

    برطانیہ میں ’ریئل ایل‘ (روایتی طریقے سے بننے والی ایک شراب) کے لیے مہم چلانے والی تنظیم کے ٹام سٹینر کتہے ہیں کہ اتنی شراب کا ضائع ہونا بڑی افسوس کی بات ہو گی کیونکہ اس کو بنانا بہت محنت اور مہارت کا کام ہے۔

    ان کا اندازہ ہے کہ برطانیہ میں 39 ہزار ’پب‘ ہیں اور اوسطاۙ ہر ایک میں ہر وقت تقریباً 15 بیرل ہوتے ہیں جن میں ہر ایک میں 11 گیلن شراب ہوتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ زیادہ تر بیئر تین سے چار ماہ تک رکھی جا سکتی ہے اور ’ریئل ایل‘ کی عمر چھ سے نو ہفتے ہوتی ہے۔

    لندن میں ایک ’ریم اِل‘ نامی پب کی مالک کیریس ڈی ولیئرز نے کہا کہ ان کے ایک شراب خانے میں 10 ہزار پاؤنڈ مالیت کی شراب کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ انھوں نے کے کاریگر جو بیئر کشیدہ کرتے ہیں اپنے کام سے بہت پیار کرتے ہیں بلکہ ان کا بروؤر(شراب کشیدہ کرنے والا) ’تو اپنے ٹینک سے باتیں کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ بیئر بنانا ایک فن ہے اور لوگوں کو اپنے کام سے جذباتی لگاؤ ہے۔

    گزشتہ مہینے شراب خانے اور ہوٹل بند ہونے کے بعد سپرماکیٹوں میں شراب کی فروخت میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔

    سٹینر نے کہا کہ یہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن سنیما یا کیفے جانا اور ایک آدھے پائنٹ کے لیے ’پب‘ جانا ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے۔

    شراب تیار کرنے والی بہت سی کمپنیوں نے لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد استعمال نہ ہونے والے بیرل واپس لینے کی پیشکش کی ہے جس سے شراب خانوں کے مالکان پر سے کافی مالی دباؤ کم ہو جائے گا۔

  19. بریکنگ, برطانوی وزیر اعظم کا کورونا ٹیسٹ منفی آ گیا

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کورونا ٹیسٹ منفی آ گیا ہے۔

    ایک حکومتی ترجمان نے بتایا کہ اس ٹیسٹ کے نتائج وزیر اعظم کے کل (اتوار) ہسپتال سے ڈسچارج ہونے سے قبل آئے تھے۔

    ترجمان کے مطابق بورس جانسن ’چیکرز‘ میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر موجود ہیں اور روبہ صحت ہیں۔ جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ وہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں رہائش پذیر کیوں نہیں ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ چیکرز میں سرکاری رہائش گاہ کو ’مناسب جگہ‘ سمجھا جاتا ہے۔

    وزیر اعظم بورس جانسن نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اپنے وزیر خارجہ ڈومینک راب سے بھی بات چیت کی تھی۔ وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں ڈومینک راب ان کے فرائص سرانجام دے رہے ہیں۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم اپنی مکمل صحت یابی پر توجہ دے رہے ہیں اور فی الحال حکومتی فرائض سرانجام نہیں دے رہے ہیں۔‘

    اتوار کو وزیرِ اعظم بورس جانسن نے ہسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کے بعد ایک ویڈیو میں نیشنل ہیلتھ سروس کے عملے کا شکریہ ادا کیا تھا۔

    انھیں ایک ہفتہ قبل کورونا کے باعث انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کیا گیا تھا۔

    انھوں نے طبی عملے کا اپنی جان بچانے کے لیے شکریہ ادا کی اور کہا کہ ‘اس قرض کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈنا مشکل ہے۔‘ انھوں نے ملک میں گرم موسم کے باوجود سماجی دوری کے ضوابط کی پاسداری کرنے پر لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

  20. نکِراگوا میں سب کچھ اتنا ’نارمل‘ کیوں ہے؟

    وسطی امریکی ملک نکراگوا سے چند ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جنھیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کورونا وائرس شاید ابھی اس ملک تک نہیں پہنچا۔

    ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد ایک میلے میں شمولیت کے لیے اکھٹے ہیں جبکہ دوسری تصویر میں پروفیشنل فٹبالرز کو لیگ میچ کھیلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    تاہم ایسا نہیں ہے کہ نکراگوا میں اب تک یہ عالمی وبا نہیں پہنچی ہے۔ اتوار کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں کووِڈ 19 کے نو مصدقہ مریض موجود ہیں جبکہ وائرس کے باعث یہاں ایک ہلاکت بھی ہو چکی ہے۔ تاہم دیگر وسط امریکی ممالک کے برعکس یہاں فرق یہ ہے کہ نکراگوا کی حکومت خطے کی دیگر حکومتوں کی نسبت الگ طرح سے وبا سے نمٹ رہی ہے۔

    خطے کے دیگر ممالک میں آمد و رفت پر شدید پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ سرحدیں مکمل طور پر بند ہیں، مگر نکراگوا کی نائب صدر روساریو موریلو نے حال ہی میں اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور اپنا روزمرہ کا کام کاج جاری رکھیں، ایسے ہی جیسا کہ وبا آنے سے قبل جاری تھا۔

    نائب صدر روساریو کے شوہر ڈینئیل اورٹیگا اس وقت ملک کے صدر ہیں۔ صدر بذات خود حالیہ دنوں میں بڑے اجتماعات میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن نے نکراگوا کی جانب سے ’وبا کو کنٹرول کرنے اور اس کی پھیلاؤ کے حوالے سے ناکافی اقدامات‘ کرنے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

    صدر اورٹیگا کی عمر 74 برس ہے اور انھیں آخری مرتبہ 12 مارچ کو ایک کانفرنس کال میں حصہ لیتے دیکھا گیا تھا۔ ان کی اہلیہ اور ملک کی نائب صدر کا دعوی ہے کہ وہ ’ادھر ہی ہیں اور اپنا کام کر رہے ہیں۔‘ تاہم صدر کی صحت کے حوالے سے ملک میں کافی افواہیں سرگرم ہیں۔