آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عالمی ہلاکتیں 1 لاک 24 ہزار سے بڑھ گئیں، کہیں لاک ڈاؤن جاری کہیں پابندیاں نرم

دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 19 لاکھ اور ہلاکتیں ایک لاکھ 23 ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ دنیا کے جو ممالک اب کورونا وائرس کے پیش نظر عائد کی گئی پابندیاں ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں ان کے لیے عالمی ادارہ صحت نے معیار طے کر دیا ہے۔ دریں اثنا برطانیہ میں ہلاکتیں 12 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس: برطانوی سائنسدان لاک ڈاؤن کے اثرات کا جائزہ لیں گے

    برطانیہ میں سائنسی امور کے مشیر کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ملاقات کریں گے۔

    اس جائزے کو حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا تاہم وزارا کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی امکان نہیں کہ یہ پابندیاں تبدیل کی جائیں گی۔

    ادھر حکومت نے تصدیق کی ہے کہ انگلینڈ میں دو ہزار سے زیادہ کیئر ہومز میں وائرس پھیل گیا ہے۔ برطانیہ کے چیف میڈیکل ایڈوائزر نے کہا ہے کہ کیئر ہومز میں ’وسیع پیمانے پر جانچ‘ کی ضرورت ہے۔

  2. چین: غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کی اطلاع دینے پر نقد انعام

    چین نے غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کی اطلاع دینے پر نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کی اطلاع دینے والے کو تین ہزار یوآن جبکہ ان کو پکڑنے والے کو پانچ ہزار یوآن انعام دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ہم نے اس سے قبل اس بارے میں اطلاع دی تھی چین میں کورونا وائرس کے ایسے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو روس سے سرحدی صوبے ہیلونگ جیانگ پہنچے تھے۔

  3. چین کے شہر گوانگجو میں 111 افریقی باشندوں میں کورونا وائرس کی تشخیص

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق سوموار کے روز گوانگجو شہر میں 111 افریقی باشندوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    حکام کے مطابق چار اپریل سے اب تک شہر میں 4500 افریقی باشندوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے مثبت آنے والے 19 کیسز میں یہ وائرس بیرون ملک سے منتقل ہوا۔

    چین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ وہ افریقی باشندوں کی زبردستی جانچ کررہا ہے۔ تاہم ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ افریقی باشندوں کو ان کے گھروں سے نکال کر قرنطینہ میں رہنے کے لیے مجبور کیا گیا۔

    افریقی شہریوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انھیں ریستوران اور دیگر عوامی مقامات پر جانے سے روکا گیا جبکہ کچھ افریقی سفارت کاروں کی طرف سے بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔

  4. نریندر مودی: ’آئندہ ہفتے میں مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے‘, شکیل اختر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    انڈیا میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید 19 دنوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ملک میں جاری 21 دن کے لاک ڈاؤن کی مدت منگل کی رات رات ختم ہو رہی تھی لیکن اب اس میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    انڈیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 10363 ہو گئی ہے جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 339 ہے۔

    منگل کی صبح عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ انڈیا کورونا سے ہونے والے نقصان کو کافی حد تک ٹالنے میں کامیاب رہا ہے اور سماجی فاصلے اور لاک ڈاؤن سے ملک کو بہت فائدہ ہوا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اگر اقتصادی نقظہ نظر سے دیکھیں تو ملک کو لاک ڈاؤن کی بہت بڑی اقتصادی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے لیکن اس کا موازنہ عوام کی زندگی سے نہیں کیا جا سکتا۔

    مودی نے عوام اور بالخصوص ورکرز اور غریب آبادی کو درپیش پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’میں جانتا ہوں کہ آپ کو کتنی دقتوں کا سامنا ہے۔ کسی کو کھانے کی پریشانی ہے، کسی کو آنے جانے کی پریشانی ہے۔ کوئی گھر اور خاندان سے دور ہے لیکن آپ ایک فرض شناس سپاہی کی طرح اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ آپ لوگوں نے تکلیف سہہ کر ملک کو بچا لیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ جب ہمارے یہاں کورونا کے صرف 550 کیس تھے تو ہم نے اس وقت اکیس دن کے لاک ڈاؤن کا قدم اٹھایا اور مسئلے کے بڑھنےکا انتظار نہیں کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں کورونا کے کیسز 25 سے 30 گنا بڑھ چکے ہیں اور ہزاروں لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

    ’انڈیا نے تیزی سے فیصلے کیے۔ یہ ایک سچائی ہے اگر ان ملکوں کے اعداد شمار دیکھیں تو آج انڈیا ان کے مقابلے میں بہت سنبھلی ہوئی حالت میں ہے۔‘

    نرینرر مودی نے کہا کہ آئندہ ایک ہفتے یعنی بیس اپریل تک لاک ڈاؤن کو مزید سختی سے نافذ کیا جائے گا۔

    ’20 اپریل تک ہر ضلعے، ہر شہر، ہر قصبے، ہر تھانے میں اس بات کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا جائے گا کہ لاک ڈاؤن کتنے مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ جن ریاستوں میں کورونا کیسز مزید نہیں بڑھیں گے ان ریاستوں میں اہم سرگرمیاں ‎شروع کرنے کی مشروط اجازت دی جائے گی۔

  5. بریکنگ, انڈیا: لاک ڈاؤں میں 3 مئی تک توسیع

    انڈیا میں جاری لاک ڈاؤں میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے اپنے خطاب میں بتایا کہ یہ فیصلہ ریاستوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

    نریندر مودی نے اپنے خطاب میں انڈین عوام سے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کی اپیل بھی کی۔

  6. ’وائرس افغانستان کے لیے ’تباہ کن‘ ہو گا‘, لیز ڈوسیٹ، بی بی سی

    80 سے زائد افغان اور بین الاقوامی تنظیموں نے افغانستان میں مکمل اور فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ متعدد بحرانوں کے شکار افغانستان میں کورونا وائرس کے تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں۔

    اس مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان کو کورونا وائرس سے بدترین متاثرہ ممالک میں سے ایک بننے کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر صحت کے بحران میں شدت پیدا ہو گی۔

    سرکاری طور پر افغانستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کم ہے لیکن جانچ او علاج کے لیے دستیاب صلاحیت اور وسائل بھی کم ہیں اور یہ مہلک وائرس ایسے وقت میں پھیل رہا ہے جب طالبان کے حملوں میں شدت آرہی ہے اور حال ہی میں کابل میں طویل عرصے سے جاری سیاسی لڑائی کے سبب امریکہ نے 1 ارب ڈالر کی امداد کم کر دی ہے۔

    افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور شہریوں کے پاس اپنی حفاظت کے وسائل انتہائی کم ہیں۔

    حال ہی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد پڑوسی ملک ایران سے وطن واپس آئے ہیں، جو کہ اس خطے میں کورونا وائرس کا مرکز ہے، اور ان میں سے زیادہ تر کا ٹیسٹ نہیں کیا جا سکا۔

  7. چین میں مزید دو تجرباتی ویکسین آزمائش کے لیے تیار

    چین کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے خلاف دو مزید تجرباتی ویکسینز کی انسانوں پر آزمائش کی جائے گی۔

    حال ہی میں عالمی ادارہ صحت کی ایک دستاویز کے مطابق دنیا بھر میں 70 سے زیادہ ممکنہ ویکسین تیار کی جارہی ہیں، جن میں سے تین طبی جانچ کے مرحلے میں ہیں۔

    ان تین میں سے دو ویکسین امریکہ جبکہ ایک چین میں تیار کی گئی ہے۔ یہ دو نئی ممکنہ ویکسین طبی جانچ کے مرحلے تک پہنچنے میں چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہوں گی۔

  8. نریندر مودی کا آج قوم سے خطاب، لاک ڈاؤن میں توسیع متوقع

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی آج قوم سے خطاب کریں گے اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کریں گے جو کہ کل ختم ہو رہا ہے۔

    نریندر مودی نے گذشتہ چند روز میں انڈین ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور اپوزیشن سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں وہ کہہ چکے ہیں کہ لاک ڈاؤن کو ہٹانا ’ممکن نہیں۔‘

    انڈیا میں اب تک کورونا وائرس سے 339 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد 8988 ہے۔

  9. امریکہ جلد دوبارہ کھل جائے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بریفنگ کے دوران امریکہ میں وبا سے نمٹنے کے اپنے طریقے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے جو کچھ کیا وہ ٹھیک تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا اگر وہ ملک میں جلدی لاک ڈاؤن کر دیتے تب بھی ان پر تنقید کی جاتی۔ انھوں نے صورتحال کا ذمہ دار آلات کی کمی اور 50 ریاستوں کے گورنرز کو ٹھہرا دیا۔

    انھوں نے بتایا کہ اب تک ملک میں 30 لاکھ افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    امریکی صدر کے مطابق اس وقت ملک میں 115000 ٹیسٹ یومیہ کیے جا رہے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ جلد ہے نئے اور اہم رہنما اصول مرتب کر لے کی جو گورنرز کو دیے جائیں گے جن کی مدد سے وہ اپنی اپنی ریاست میں حفاظت کے ساتھ لاک ڈاؤن ختم کر سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے نئے رہنما اصول ’چند دنوں میں جاری کر دیے جائیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا یہ نیا منصوبہ ’امریکہ کے لوگوں کو وہ اعتماد دے گا جو انہیں پھر سے معمولات ِ زندگی شروع کرنے کے لیے اعتماد فراہم کرنے گا۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہمارا ملک کھل جائے گا۔‘

  10. بریکنگ, انفیکشن کی رفتار مدھم ہو رہی ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جاری بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ملک میں انفیکشن کے پھیلنے کی رفتار مدھم ہو رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران ملک بھر میں نئے کیسز کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا ’لوگ ہسپتال کم آ رہے ہیں خصوصا زیادہ متاثر علاقوں جیسے کے نیویارک میں، نیوجرسی، مشیگن اور لوئیزیانا میں۔ اور ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ امریکی رہنما اصولوں کی پابندی کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا ’اگر آپ چارٹس کو دیکھیں تو ابتدائی ماڈلز کے مطابق پیش گوئی تھی کہ ایک لاکھ تک لوگ ہوں گے لیکن امید ہے کہ ان اعداد سے کافی نیچے جا رہے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے جارحانہ حکمت عملی کام کر رہی ہے۔‘

  11. بریکنگ, یورپ کی تازہ صورتحال

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فرانس میں مزید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جبکہ اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 20000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ پیر کے روز یورپ کی صورتحال کچھ یوں رہی:

    • فرانس کے صدر نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن کو 11 مئی تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے یہ فیصلہ 24 گھنٹوں میں مزید 574 ہلاکتوں کے بعد کیا گیا جبکہ ملک میں ہلاکتوں کی مجمبوعی تعداد 15000 کے قریب پہنچ چکی ہے۔
    • اٹلی میں مزید 566 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں جس کے بعد ملک میں کل ہلاکتیں 20465 ہو گئیں، تاہم ملک میں نئے کیسز کی تعداد اور انتہائی نگہداشت میں رکھے جانے والے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
    • سپین میں تعمیراتی اورمینوفیکچرنگ کے کام کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم ایسا صرف لوگوں کی جانب سے سخت رہنما اصولوں پر عمل درآمد کے بعد ہی ہوگا۔
    • روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں وبا کے باعث حالات ٹھیک نہیں ہیں لہٰذا فوج کی مدد کے لیے طلب کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ روس میں تازہ مصدقہ کیسز کی تعداد 2550 ہے جو اب تک روس میں ایک دن میں سب ِ زیادہ تعداد ہے۔ ملک میں مجموعی کیسز 18238 ہو گئے ہیں۔
  12. کورونا وائرس ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

    دنیا بھر کی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف مختلف طریقوں سے اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور اس سلسلے میں سب سے واضح نظر آنے والا مختلف پہلو، اس بیماری کی ٹیسٹنگ یا جانچ کا طریقہِ کار ہے۔

    تو کون کون سے ٹیسٹ دستیاب ہیں اور مختلف ممالک میں یہ کتنے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں؟

  13. بریکنگ, فرانس: لاک ڈاؤن میں 11 مئی تک توسیع کا اعلان

    فرانس کے صدر عمانوئیل میکرون نے ملک میں لاک ڈاؤن کی مدت میں 11 مئی تک توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    فرانس کے صدر کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں کورونا وائرس کی وبا اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد اب تنزلی کا شکار ہے۔

    عمانوئیل میکرون کا کہنا ہے کہ ’امید واپس لوٹ رہی ہے مگر کچھ بھی یقینی نہیں ہے۔‘

    فرانس کے صدر نے سوموار کو کورونا وائرس کے مسئلے پر قوم سے خطاب کیا ہے۔ فرانس کے محکمہ صحت کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 574 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد فرانس میں اموات کی مجموعی تعداد 15 ہزار کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ تاہم اب یہاں انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں مریضوں کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔

    صدر کا مزید کہنا تھا کہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے فرانس ’مناسب حد تک تیار نہیں تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’دوسرے بہت سے ممالک کی طرح فرانس کو بھی حفاظتی کپڑوں اور ماسک کی قلت کا سامنا تھا۔۔۔ مگر حکومت نے مشکل فیصلے کیے۔‘

    انھوں نے متنبہ کیا کہ ملک کے چند حصوں میں واقع ہسپتال اور صحت کی سہولیات اب بھی دباؤ میں ہیں۔

    صدر کا کہنا تھا کہ ملک کے تعلیمی ادارے 11 مئی کے بعد سے کھولے جا سکتے ہیں۔

  14. کورونا وائرس: مریضوں کے لیے اتنے بڑے بڑے ہسپتال کیسے تعمیر ہو رہے ہیں؟

    کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتے ہوئی تعداد کا علاج کرنے کے لیے دنیا بھر میں بڑے بڑے صحت کے مراکز بنائے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ان مریضوں کو کسی عام ہسپتال بھیجا گیا تو وہاں کا نظام بری طرح متاثر ہو گا اور وہاں موجود دیگر مریضوں کو بھی کورونا کے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    تاہم برازیل، انڈونیشیا، سپین اور ایران جیسے ممالک میں بڑے بڑے ہالز اور ایکسپو سنٹرز کو عارضی ہسپتال میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ مکمل تفصیلات بی بی سی کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  15. عالمی ادارہ صحت: ’صرف ویکسین ہی وائرس کے عالمی پھیلاؤ کو روک سکتی ہے‘

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈنوم کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف ایک مؤثر ویکسین ہی دنیا بھر میں اس بیماری کی منتقلی کو ’مکمل طور پر روک سکتی ہے۔‘

    ڈاکٹر ٹیڈروس نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ’عالمی رابطے‘ کا مطلب یہ ہے کہ کوویڈ 19 کے بار بار سامنے آنے کا خطرہ جاری رہے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’محفوظ اور موثر ویکسین کی تیاری اور فراہمی ہی اس وبا کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روک سکتی ہے۔‘

    بہت سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ویکسین کی تیاری، جو کورونا کے خلاف انسانوں میں قوت مدافعت پیدا کر سکے اور اس کی روک تھام کر سکے، میں ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

    اگرچہ چند ممالک سماجی دوری اور آمدورفت پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کا سوچ رہے ہیں تاہم ڈاکٹر ٹیڈروس نے ایسا کرنے کے حوالے سے تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسا اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک درست عوامی صحت کے اقدامات مکمل نہ کر لیے جائیں۔‘

  16. ’جنوبی کوریا میں 116 افراد میں کوروناوائرس واپس آ گیا‘

    جنوبی کوریا میں بتایا گیا ہے کہ 116 ایسے افراد میں پھر سے کورونا وائرس سامنے آیا ہے جو اس سے پہلے اس بیماری سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔

    حکام ان لوگوں میں دوبارہ کووڈ 19 کی تشخیص کی وجوہات سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    تاہم کوریا کے بیماریوں کے کنٹرول اور بچاؤ کے مرکز کے ڈائریکٹر جیونگ ان کیونگ نے کہا اس بات کا امکان ہے کہ ان لوگوں میں وائرس واپس نہ آیا ہو بلکہ وہ دوبارہ متحرک ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تشویش بھی ظاہر کی گئی ہے کورونا کے ٹیسٹ میں غلطیاں ہو رہی ہیں اور لوگوں کو غلطی سے بتایا جا رہا ہے کہ ان کا ٹیسٹ نیگیٹیو ہے۔

  17. کیا صحت مند افراد کو ماسک پہننے چاہییں؟, جیمز گیلغر، نمائندہ سائنس و صحت، بی بی سی نیوز

    کورونا کے وبائی مرض میں ایک پریشان کُن مسئلہ یہ بن گیا ہے کہ آیا صحت مند افراد کو اپنے چہروں پر ماسک پہننے چاہییں یا نہیں۔

    برطانوی حکومت کے چیف سائنسی مشیر سر پیٹرک ویلنس نے کہا ہے کہ اس حوالے سے برطانیہ اپنے پہلے مؤقف پر نظرثانی کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ وبا کے اس دور میں صحت مند افراد کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔

    ایک تشویش یہ بھی لاحق ہے کہ ماسک پہننے سے لوگوں کو محفوظ محسوس کرنے کا ایک غلط احساس ملتا ہے، اور اس کے نتیجے میں وہ بار بار ہاتھ دھونے اور اس جیسے دیگر حفاظتی اقدامات کو اتنی ترجیح نہیں دیتے اور صرف ماسک پہننے پر ہی اکتفا کر بیٹھتے ہیں۔

    تاہم امریکہ بھی اب اپنی رائے بدل چکا ہے اور اب امریکی حکام صحت مند افراد کو بھی ماسک پہننے کی تجویز دیتے ہیں۔

    امریکہ میں رائے کے تبدیل ہونے کی بڑی وجہ یہ سائنسی تحقیق ہے کہ جو لوگ وائرس سے متاثرہ ہو چکے ہوتے ہیں وہ اس بیماری کی علامات کے ظاہر ہونے سے کم از کم ایک روز قبل وائرس کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے کورونا وائرس پر خصوصی مشیر ڈاکٹر ڈیوڈ نابارو کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں ماسک پہننا شاید اب ایک ’معمول‘ بن جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ترجیح طبی عملے اور پھر ان لوگوں کو دی جانی چاہیے جو اس مرض کا شکار ہیں تاکہ یہ وائرس مزید نہ پھیل سکے۔

    لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ایسے تمام افراد کو ماسک پہننے کی سفارش کی جائے جو اپنی کام کی جگہوں پر سماجی فاصلے کو برقرار نہ پاتے ہوں جیسا کہ ہیرڈریسر، اور اس کے بعد شاید ہر کسی کو ماسک پہننے کی تجویز دی جائے۔