کورونا: برطانیہ میں مزید 737 ہلاکتیں، ملک میں مجموعی اموات 10 ہزار سے زائد

دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 17 لاکھ 89 ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتیں ایک لاکھ نو ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ایسٹر کی تقریبات مختلف انداز میں جاری ہیں۔ سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق ملک میں کرفیو میں ’غیر معینہ مدت‘ تک توسیع کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. روس میں کورونا وائرس سے متاثرہ 1667 نئے کیسز

    روس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس میں کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 1667 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس طرح اس وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 13584 ہو گئی ہے۔

    روس میں کورونا وائرس سے اب تک 106 ہلاکتیں جبکہ 1045 صحتیاب ہوئے ہیں۔

  2. کورونا وائرس: انڈیا میں لاک ڈاؤن کے دوران بچوں پر کیا بیت رہی ہے؟

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اچانک لگائے گئے 21 روزہ لاک ڈاؤن سے لاکھوں بچوں کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔

    سب کام کاج رک جانے سے روزانہ دسیوں ہزاروں بچے ہیلپ لائنز پر کال کر رہے ہیں جبکہ کئی ہزار بھوکے سو رہے ہیں۔

    انڈیا میں بچوں کی آبادی دنیا میں سب سے زیادہ (47 کروڑ 20 لاکھ) ہے۔ بچوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس لاک ڈاؤن نے غریب خاندانوں کے لگ بھگ چار کروڑ بچوں کو متاثر کیا ہے۔

    ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو دیہی علاقوں کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بچے بھی جو شہروں میں کچرا چننے کا کام کرتے ہیں یا سڑکوں پر لگے اشاروں پر غبارے، قلم اور دیگر چیزیں فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔

  3. دنیا بھر کے ممالک میں کورونا وائرس سے شرحِ اموات مختلف کیوں ہے؟

    اموات

    ،تصویر کا ذریعہاموات

    جان ہاپکنز یونی ورسٹی دنیا بھر میں کووڈ 19 کے مصدقہ مریضوں اور ہلاکتوں کے حوالے سے اعداد و شمار جمع کر رہی ہے اور اسے سب سے معتبر حیثیت حاصل ہے۔

    انھوں نے اس پر مزید کام کرتے ہوئے دنیا بھر میں اموات کی شرح کا جائزہ لیا ہے۔

    کووڈ-19 وائرس دنیا بھر میں کیا تباہی لا رہا ہے، اسے جاننے کا ایک طریقہ شرح اموات ہے۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کی شرح اموات کے تناسب میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔

    اس فرق کی مندرجہ ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:

    1۔ جن افراد پر ٹیسٹ کیے گئے ان کی تعداد میں فرق: زیادہ ٹیسٹنگ کرنے سےان افراد کی شناخت بھی ہو جاتی ہے جن میں وائرس کی کم علامات ظاہر ہوں۔

    2۔ آبادیات: مثال کے طور پر عمر رسیدہ آبادی میں اموات کی شرح زیادہ ہے۔

    3۔ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی خصوصیات: مثال کے طور پر اگر ہسپتال مریضوں سے بھر جائیں اور ان میں وسائل کم ہونے کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    4۔ دوسرے عوامل جو ابھی تک نامعلوم ہیں۔

    نیچے دیئے گئے چارٹ میں دنیا بھر میں کووڈ-19 سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شرح اموات دکھائی گئی ہیں۔

    سب سے اوپر وہ ممالک ہیں جہاں آبادی یا تصدیق شدہ کیسز کے تناسب سے شرح اموات زیادہ ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں باقی ممالک سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی

    ،تصویر کا ذریعہJohn Hopkins University

    جان ہاپکنز یونیورسٹی

    ،تصویر کا ذریعہJohn Hopkins University

  4. طبی عملے نے مریضوں کو ماسکوں کے پیچھے چُھپی مسکراہٹیں دکھانے کا حل ڈھونڈ نکالا

    Instagram پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    Instagram پوسٹ کا اختتام, 1

    ہسپتالوں میں زیرِ علاج کورونا وائرس کا شکار مریض حفاظتی ماسکوں کے پیچھے چھپے اپنے مسیحاؤں کی شناخت سے بےخبر ہیں۔

    نرسوں اور ڈاکٹروں کے لیے بھی اپنی مسکراہٹ سے پریشان حال مریضوں کی دل جوئی ممکن نہیں رہی۔

    لیکن امریکی میں طبی عملے نے اس مشکل کا حل ڈھونڈ نکالا ہے اور اب وہ حفاظتی لباس پر اپنی مسکراتی ہوئی تصاویر لٹکائے نظر آتے ہیں۔

    سین ڈیاگو کے ہسپتال میں سانس کے معالج روبرٹینو روڈریگو یہی تکنیک استعمال کررہے ہیں۔

    ایک انسٹاگرام پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میں چہرے کو ڈھانپ کر کمرے میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے اپنے مریضوں کے لیے برا محسوس ہوگا۔‘

    ان کی تقلید کرتے ہوئے کئی دوسرے طبی کارکنوں نے بھی ڈاکٹر روبرٹینو کو اپنی تصاویر بھیجی ہیں۔

    Instagram پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    Instagram پوسٹ کا اختتام, 2

  5. کورونا وائرس: وینٹیلیٹر کیا ہوتا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

    وینٹیلیٹرز

    ،تصویر کا ذریعہDYSON

    برطانوی حکومت نے کورونا وائرس کے مریضوں کی مدد کے لیے ہزاروں نئے وینٹیلیٹرز خریدنے کے آرڈر دیے ہیں۔

    ایسے مریض جن میں کورونا وائرس کے شدید اثرات پائے گئے ہوں ان کے لیے وینٹیلیٹر زندگی بچانے کی ایک بہتر امید فراہم کرتا ہے۔

    وینٹیلیٹر کیا ہوتا ہے اور یہ کیا کرتا ہے؟ مزید پڑھیے

  6. کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ایپل اور گوگل کا مشترکہ منصوبہ

    وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایپل اور گوگل مشترکہ طور پر ایسی ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں جو صارفین کو کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے کی صورت میں ایک الرٹ جاری کرے گی۔

    دونوں کمپنیوں کا ماننا ہے کہ وہ ایسا طریقہ کار اپنا رہے ہیں جس میں رضاکارآنہ طور پر شرکت کرنے والے صارفین کے پرائیویسی خدشات کا خیال رکھا جائے گا۔

    یہ منصوبہ سمارٹ فون میں موجود بلیوٹوتھ سگنلز کا استعمال کرتے ہوئے یہ پتہ لگائے گا کہ کیا اس فون کا مالک حال ہی میں کسی ایسے شخص کے ساتھ رابطے میں تھا جسے کورونا وائرس کا خدشہ ہو۔

    اگر بعد میں ان دونوں افراد میں سے کسی ایک میں بھی کووڈ-19 وائرس کی تشخیص ہو جاتی ہے تو فون کے اصل مالک کو انتباہ بھیجا جائے گا۔

    اس دوران جی پی ایس یا کوئی اور ذاتی معلومات ریکارڈ نہیں کی جا سکے گی۔

  7. ’کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے طالبان کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں‘

    ٹویٹ

    ،تصویر کا ذریعہ@State_SCA

    امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ برائے جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے طالبان کی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

    اپنی ٹویٹ میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ برائے جنوبی اور وسط ایشیائی امور کا کہنا تھا ’ہم کووڈ-19 کے خلاف آگاہی کے لیے طالبان کی کوششوں اور ان کی جانب سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز اور بین الاقوامی تنظیموں کو محفوظ راستے فراہم کرنے کی پیش کش کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

  8. کورونا وائرس: برازیل میں ایک ہزار سے زائد اموات

    برازیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی نصف کرہ پر واقع ممالک میں سے برازیل وہ پہلا ملک ہے جہاں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزارسے زیادہ ہے۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق برازیل میں اب تک کم از کم 1068 اموات جبکہ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 19789 ہے۔

    اگرچہ بیشتر ریاستی گورنروں نے قرنطینہ کے سخت اقدامات نافذ کر رکھے ہیں لیکن دوسری جانب برازیل کے صدر جائر بولسنارو ان پابندیوں کو مسلسل چیلنج کرتے آ رہے ہیں۔

    محکمہِ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ ہفتوں تک اس وبا کے پھیلنے کی توقع نہیں ہے۔

    جنوبی امریکہ سے بی بی سی کی نامہ نگار کیٹی واٹسن کے مطابق ’خدشہ ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ قابو سے باہر ہو سکتا ہے، خاص طور پر فاویلاس جیسے غریب علاقوں میں جہاں اتنی آبادی رہائش پذیر ہے کہ وہاں معاشرتی دوری پر عمل درآمد مشکل ہے اور ساتھ ساتھ صفائی کا بھی فقدان ہے۔‘

  9. کورونا وائرس: امریکہ میں 24 گھنٹوں میں 2000 سے زیادہ اموات

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے جہاں کورونا وائرس کے نتیجے میں ایک ہی دن میں 2000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2108 افراد ہلاک ہوئے جبکہ وہاں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد نصف ملین سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    ان اعدادوشمار کے ساتھ امریکہ جلد ہی اٹلی کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ یاد رہے اب تک کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد اٹلی میں ہے۔

    تاہم وائٹ ہاؤس کووڈ ۔19 ٹاسک فورس میں شامل ڈاکٹر ڈیبورا برکس کے مطابق پورے ملک میں وبا کی صورتحال مستحکم ہونا ایک اچھی علامت ہے۔

    لیکن ساتھ ہی متنبہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ابھی عروج پر نہیں پہنچے ہیں۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھیں توقع ہے امریکہ میں 100000 اموات کی پیش گوئی کے مقابلے میں کم ہلاکتیں ہوں گی۔

  10. عالمی ادارہ صحت: پابندیاں جلدی ہٹائی تو کورونا کی وبا ’تبا کن حد تک دوبارہ نمودار‘ ہو سکتی ہے

    ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن جیسی پابندیاں جلدی ہٹا لی گئیں تو کورونا وائرس کی وبا ’تبا کن حد تک دوبارہ نمودار‘ ہو سکتی ہے۔

    ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا ہے کہ تمام ممالک کو پابندیوں میں نرمی لانے کے بارے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

    یورپ کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک اٹلی اور سپین کچھ اقدامات میں نرمی کر رہے ہیں جبکہ دونوں ملکوں میں لاک ڈاؤن ابھی جاری ہے۔

    کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 16 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔

  11. ترکی کے 31 شہروں میں 48 گھنٹوں کا کرفیو

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر ترکی نے اپنے 31 شہروں میں دو دن کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

    ملک کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ دارالحکومت انقرہ اور استنبول سمیت ان شہروں میں رہنے تمام افراد کو جمعے کی رات سے اپنے گھروں میں ہی رہنا ہوگا۔

    ترکی میں کورونا وائرس سے اب تک 1006 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد 47029 ہے۔

  12. یمن میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق

    یمن میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کے بعد امدادی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ برسوں کی خانہ جنگی نے یہاں صحت کے نظام کو تباہ کردیا ہے۔

    آکسفیم نے کہا ہے کہ یہ ایک ’تباہ کن دھچکا‘ ہے جبکہ بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے اسے ’ڈراؤنے خواب کا منظر‘ قرار دیا ہے۔

    یمن دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شکار ہے جہاں لاکھوں افراد خوراک کے لیے امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

    یمن میں ہیضہ، ڈینگی اور ملیریا سمیت مختلف بیماریاں موجود ہیں اور ملک کے صرف آدھے ہسپتال ہی مکمل طور پر فعال ہیں۔

    یمن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  13. اٹلی میں لاک ڈاؤن میں 3 مئی تک توسیع

    اٹلی کے وزیراعظم نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں 3 مئی تک توسیع کر دی ہے۔

    اٹلی میں کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن پہلی بار 9 مارچ کو 3 اپریل تک نافذ کیا گیا تھا جس میں بعد ازاں 13 اپریل تک توسیع کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں۔

  14. ٹرمپ: امریکہ میں اموات ایک لاکھ سے کہیں کم ہوں گی

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP/Getty

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے انسانی زندگیاں بچانے کے لیے بہت زیادہ پیش رفت دیکھی ہے۔

    بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ غم اور تکلیف کے دوران ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ ہماری جارحانہ سٹریٹیجی لاتعداد زندگیاں بچا رہی ہے۔

    یہ کہتے ہوئے کہ ہلاکتوں کی تعداد خوفناک تھی ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کے مقابلے میں بہت سی جانیں بچا رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ کتنا ہو گا لیکن لگتا یہ ہے کہ یہ تعداد ایک لاکھ سے کم ہو گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ابتدا میں جتنا بتایا اور خیال کیا گیا تھا اس سے بہت کم ہے۔

    صدر نے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ یہ تعداد کم سے کم ایک لاکھ اور دو لاکھ 20 ہزار تک ہو گی اور اگر ہم کچھ نہ کرتے تو یہ تعداد 22 لاکھ تک ہو سکتی تھی۔

  15. بریکنگ, فرانس میں کورونا وائرس سے مزید 987 افراد ہلاک

    فرانس میں کورونا وائرس سے مزید 987 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ملک میں اموات کی کل تعداد 13197 ہو گئی ہے۔

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتوں میں فرانس کا تیسرا نمبر ہے جبکہ پہلے نمبر پر اٹلی اور دوسرے نمبر پر سپین ہے۔

    امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک فرانس میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 118000 ہے۔

  16. نیشنل ہیلتھ سروس کی قربانیوں کو یاد رکھیں

    مے

    انگلینڈ میں نرسنگ آفس کی سربراہ روتھ مئے نے اپنے پیغام میں عوام سے کہا ہے کہ اگرچہ ایسٹر کے موقع پر گھروں میں رہنا مشکل ہے لیکن یہ کرنا بہت اہم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ لوگوں کو نیشنل ہیلتھ سروس کے سٹاف کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے۔

  17. اٹلی میں ہلکی سی امید

    اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی میں جمعے کو ایک مرتبہ پھر امید کی ہلکی سی کرن نظر آئی جب دوبارہ سے ملک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی یومیہ تعداد کم ریکارڈ کی گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 570 افراد ہلاک ہوئے جمعرات کو یہ تعداد 971 تھی جبکہ ملک میں اب تک کل ہلاکتوں کی تعداد 18849 ہو چکی ہے۔

    ملک میں بدترین دن 28 مارچ کا تھا جب 971 افراد ہلاک ہوئے۔

    شہری تحفظ کے ادارے کے مطابق ملک میں کل مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 47 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ لمباردے کا ہے جہاں 10238 افراد اس وائرش کا نشانہ بنے۔

    لیکن اٹلی جہاں دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں وہاں امید یہ ظاہر کی جا رہی ہے کہ حالیہ اعداد و شمار اس بات کا اشارہ ہیں کہ ملک وائرس سے پیدا ہونے والے بحران کے بدترین وقت کے گزر گیا ہے۔

  18. بی بی اردو کی کوریج میں خوش آمدید

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔