کورونا: برطانیہ میں مزید 737 ہلاکتیں، ملک میں مجموعی اموات 10 ہزار سے زائد

دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 17 لاکھ 89 ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتیں ایک لاکھ نو ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ایسٹر کی تقریبات مختلف انداز میں جاری ہیں۔ سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق ملک میں کرفیو میں ’غیر معینہ مدت‘ تک توسیع کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. اٹلی، فرانس میں اموات میں اضافہ لیکن انتہائی نگہداشت کے مریضوں میں کمی

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سنیچر کے روز اٹلی میں کورونا وائرس سے 619 اموات ہوئیں جس کے بعد ملک میں کل اموات 19468 ہو گئی ہیں۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق آج امریکہ میں اموات اٹلی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔

    اٹلی میں اب تک جن افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان کی تعداد 152271 ہو گئی ہے۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ انتہائی نگہداشت کے مریضوں میں گذشتہ دن سے 116 افراد کی کمی بھی دیکھنے آئی ہے۔

    فرانس میں کل اموات کی تعداد 13832 ہو گئی ہے تاہم یہ تیسرا لگارتار دن ہے کہ جب ملک میں انتہائی نگہداشت کے مریضوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کل کی نسبت آج 121 کم افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔

    فرانس کے ڈائریکٹر جیروم سیلومون صحت نے ان اعداد و شمار کو روشنی کی کرن قرار دیا ہے۔

    خیال رہے کہ ماہرین انتہائی نگہداشت میں موجود مریضوں کے ذریعے صحت کے نظام پر موجود دباؤ کا اندازہ لگاتے ہیں۔

  2. بریکنگ, سپین کا تعمیرات اور مینوفیکچرنگ کے شعبے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپین ملک سپین کی حکومت کے سینیئر وزرا نے کہا ہے کہ ہزاروں لوگوں کے اگلے ہفتے سے دوبارہ کام سے جانے کےح فیصلے کو ملک میں عائد پابندیوں میں نرمی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

    خیال رہے کہ امریکہ اور اٹلی کے بعد سپین کورونا وائرس سے دنیا کا تیسرے نمبر پر سب سے متاثرہ ملک ہے۔

    تاہم سپین میں کچھ دن سے اموات کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    اگلے سوموار سے تعمیرات اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کام کرنے والوں کو دوبارہ اپنے کام پرجانے کی اجازت مل جائے گی۔

    تاہم ان پر تمام حفاظتی اقدامات اور سماجی دوری کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہوگا۔ ,"

    سپین کے اس فیصلے پر تنقید بھی ہو رہی ہے کہ عائد پابندیوں پر نرمی کرنا قبل از وقت اقدام ہے۔

    سپین کے وزیر داخلہ فرنینڈو گرینڈ مارلاسکا نے وزیر صحت سلوالاڈور الا کے ساتھ مشترکا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی بھی گھروں تک محدود رہنے والے مرحلے میں ہیں۔ ہم نے عائد پابندیوں میں نرمی برتنا شروع نہیں کی ہے۔

  3. بریکنگ, کورونا وائرس: امریکہ میں اٹلی سے زیادہ اموات

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 19،701 ہو گئی ہے، جو دنیا میں کسی بھی ملک میں اس وائرس سے ہونے والی سب زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

    اٹلی میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19،468 بنتی ہے۔

    اتنی بڑی تعداد میں کورونا وائرس سے اموات دونوں ممالک کے لیے بہت بڑا المیہ ہے۔

  4. ایسٹر منسوخ نہیں ہوا: ملکہ برطانیہ

    Queen

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملکہ برطانیہ نے اپنے ایسٹر کے موقع پر دیے گئے پیغام میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

    ملکہ برطانیہ کا کہنا تھا کہ دور رہ کر اہم ایک دوسرے کو محفوظ رکھ سکتے ہیں، تاہم انھوں نے زور دیا کہ ایسٹر کو منسوخ نہیں کیا گیا، درحقیقت ہمیں ایسٹر کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی پہلے تھی۔

    ملکہ کا آڈیو پیغام شاہی خاندان کے آن لائن اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پرنشر کیا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ملکہ نے اپنے پیغام کا اختتام ان دعائیہ کلمات سے کیا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہم (غیر یقینی سے) مسقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں، ایسے میں ایسٹر ہمارے لیے امید کی شمع اور آئندہ کے لیے مشعل راہ بن جائے۔

    ملکہ کی طرف سے قوم سے پانچویں خطاب کے چند بعد ایسٹر کا پیغام سامنے آیا ہے۔

  5. ڈالر کے لیے انسانی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے: گورنر نیویارک

    کومو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے پریس بریفنگ میں کورونا وائرس سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے نیویارک میں لاک ڈاون اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

    گورنر کا کہنا تھا کہ ریاست نیو یارک کی معیشیت کا انحصار عوامی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت تک پابندیوں کو نہیں ہٹایا جائے گا جب تک کہ ایسا کرنا مکمل محفوظ نہ ہو۔ گورنر نے کہا کہ آپ نیویارک اور امریکہ کے لوگوں کو یہ اختیار نہیں دے سکتے کہ وہ ڈالر اور زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایک ہی دن میں 2000 سے زائد اموات کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ امریکہ میں عائد پابندیاں اٹھا کر کاروبار زندگی کو معمول پر لانے کا مشکل فیصلہ کر سکتے ہیں۔

    نیو یارک کے گورنر نے امریکی صدر کی طرف سے نیو یارک کی مدد کو سراہا ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ کب ریاست نیو یارک میں عائد پابندیوں کو ہٹا کر اسے معمول کے مطابق دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔

    اگرچہ نیویارک کے میئر دی بلاسیو نے اعلان کیا کہ جون تک تمام سکول بند رہیں گے، گورنر اینڈریو کومو نے واضح کیا کہ ابھی تک سکول کھولنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے انھیں قانونی اختیارات حاصل ہیں۔

    نیویارک امریکہ کی کورونا وائرس کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے۔

    گورنر نے مزید کہا ہے کہ ریاست نیو یارک درد اور کرب سے گزر رہی ہے۔

  6. ایسٹر منایا تو 14 دن قرنطینہ میں گزارنے ہوں گے

    امریکی ریاست کینٹکی کے گورنر اینڈی بیشر نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایسٹر پر کسی نے بڑے مجمعے میں شرکت کی تو پھر انھیں 14 دن کے لیے زبردستی قرنطینہ میں بھیج دیا جائے گا۔

    کورونا وائرس سے متعلق روزانہ دی جانے والی معمول کی پریس بریفنگ میں گورنر نے کہا کہ ہم تمام لائنسنس پلیٹس کا ریکارڈ جمع کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہی ایک طریقہ بچا ہے کہ جس سے ہم یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ آپ کے فیصلے سے کسی اور کی زندگی خطرے میں نہ پڑ جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انھوں نے کہا ریاست میں ذیادہ تر لوگ جن کی تعداد 99.99 فیصد تک بنتی ہے گھروں میں رہ کر بڑی قربانی دے رہے ہیں اور ہم یقینی بنائیں گے کہ کسی کے باہر نکلنے کے فیصلے سے اس قربانی کی نفی نہ ہو۔

    گورنر نے کہا کہ شہریوں کا گھروں میں رہنا ایک درست اقدام ہے۔

    انھوں نے اپنی بریفنگ میں شہریوں سے کہا کہ وہ باہر جمع نہ ہوں اور اس طرح دوسرے لوگوں کو بھی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ ریاست کینٹکی نے مارچ 26 تک گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔

  7. کیا برطانیہ کورونا وائرس کے لیے ویکسین تیار کر رہا ہے؟

    UK

    ،تصویر کا ذریعہPA Wire

    برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے میڈیکل ڈایریکٹر سٹیفن پووس نے ویکسین کی تیاری سے متعلق ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین کی تیاری سے متعلق کام ہو رہا ہے۔

    انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ڈرگ اور دوائیاں برطانیہ حکومت کی اس وائرس سے چھٹکارے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    ان کے مطابق ویکسین سے بھی پہلے ڈرگ اس کےعلاج کے لیے سامنے لائی جا سکیں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی ہم اس کے پہلے مرحلے میں ہیں اور ہم ابھی بھی اس وائرس سے لڑ رہے ہیں۔

    لاک ڈاؤن اور نقل و حرکت سے متعلق عائد پابندیوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی مدت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وہ اور ان کی طرح کے اس شعبے کے دیگر مشیر اس حوالے سے اپنی تجویز دے رہے ہیں۔

  8. کورونا وائرس: برطانیہ کی وزیر داخلہ پریٹی پٹیل کی پریس کانفرنس

    یوکے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ کی وزیر داخلہ پریٹی پٹیل پہلی بار کورونا وائرس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے برطانیہ کے محکمہ صحت این ایچ ایس کو خراج تحسین پیش کیا ہے، جو بہادری سے اس وبا کے خلاف لڑ رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ افسوسناک خبر ہے کہ اس وبا سے برطانیہ کی ہسپتالوں میں مزید 917 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق کل مرنے والوں کی تعداد 9،875 ہو چکی ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران پریٹی پٹیل کے ساتھ نیشنل پولیس چیفس کونسل کے چیئرمین مارٹن ہیوٹ اور این ایچ ایس کے پروفیسر سٹیفن پووس بھی موجود تھے۔ وزیر داخلہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت بھی کیا۔

    پریٹی پٹیل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کی طبیعت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔

    انھوں نے اس وائرس کے تباہ کن اثرات سے متعلق بات کی۔

    وزیر داخلہ کے مطابق لوگوں کے گھروں میں رہنے کی وجہ سے جرائم میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم کچھ لوگ ابھی بھی خطرے کا شکار ہے۔

    ان کے مطابق فراڈیے اس وائرس کی آڑ میں لوگوں سے پہلے ہی 1.8 ملین پاؤنڈز سے زیادہ رقم لوٹ چکے ہیں۔

    ان کے مطابق پولیس کو ابھی گھریلو تشدد جیسے واقعات میں اضافے کی شکایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ تاہم ایسے واقعات کے متاثرین ہاٹ لائن پر شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

    Uk

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے جرائم کے شکار افراد کے لیے گھر محفوظ ٹھکانہ نہیں ہوتا ہے۔

    وزیر داخلہ نے لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کے کردار کی خصوصی تعریف کی ہے۔ انھوں نے اس حوالے سے لوگوں سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کا کہا ہے تاکہ پولیس ہر طرح کے جرائم سے نمٹ سکے۔

    پولیس چیفس کونسل کے چیئرمین کے مطابق اس ایسٹر کے اختتام ہفتہ کے احساسات ہم سب کے لیے مختلف تھے۔

    ان کے مطابق قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نئے خطرات مول لے رہی ہے۔

    ان کے مطابق پولیس اب بھی جرائم کا مقابلہ اسی طرح کر رہی ہے۔

    ان کے مطابق سماجی دوری کے اصول پر عمل پیرا کرانے کے لیے پولیس مضبوط پوزیشن میں ہے۔ انھوں نے عوام سے یہ اپیل کی ہے کہ جرائم سے متعلق تفصیلات پولیس کوضرور بتائیں۔

    ان کے مطابق لاک ڈاون کے دوران 37 سکیورٹی فورسز کے جمع کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق 1،087 جرمانے ایسے افراد پرعائد کیے گئے ہیں جنھوں نے ضابطہ کار کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

  9. کورونا وائرس: امریکہ میں کاروبار زندگی بحال کرنے پر غور

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں ایک دن میں سب سے زیادہ 2000 اموات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دوسری ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    اس ٹاسک فورس کا مقصد اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ملک میں کاروبار زندگی کو دوبارہ کیسے کھولا جا سکتا ہے۔

    یہ ٹاسک فورس محکمہ صحت کے حکام اور کاروباری رہنماؤں پر مشتمل ہو گی۔

    دو امریکی کمپنیاں: ایپل اور گوگل مل کر ایک ایسی ٹیکنالوجی بنا رہی ہیں جو کسی کورونا وائرس متاثرین سے رابطے کی صورت میں ملنے والے افراد کو الرٹ جاری کر سکے گی۔

    اس ٹیکنالوجی کا مقصد کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

  10. کورونا وائرس: انڈیا میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا امکان

    India

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    انڈین حکومت کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے حکومت نے گذشتہ ماہ نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔

    سنیچر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس کی جس میں اکثریت نے اس بات پر زور دیا کہ لاک ڈاؤن اورپابندیوں میں مزید سختی اور توسیع کی جائے۔

    دلی کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی لاک ڈاؤن میں توسیع کی تجویز پر رضامند ہو گئے ہیں۔ انڈیا میں 21 دن کے لیے نافذ کیے جانے والے لاک ڈاؤن کی مدت منگل کو مکمل ہو رہی ہے۔

    دلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے تفصیلات کا زکر کیے بغیر ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ مسٹر مودی نے لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ کر کے ایک درست قدم اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ابھی اسے نہ روکا گیا تو تمام کیا دھرا ضائع ہو جائے گا۔

    ان کے مطابق اس پر قابو پانے کے لیے توسیع ضروری ہے۔

    انڈیا میں لاک ڈاؤن سے متعلق تحفظات بھی پائے جاتے ہیں کہ یہ معیشیت اور غریبوں پر برے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

    لاک ڈاؤن کے باوجود انڈیا کی متعدد ریاستوں میں کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کروڑوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں اور پابندیوں سے غریب آبادی ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔

    امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی، جو دنیا بھرمیں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کا ڈیٹا مرتب کر رہی ہے، کے مطابق انڈیا نے کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 7،600 ہے جبکہ اس وائرس سے 249 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حقیقی تعداد سرکاری طور پر بتائی جانے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    وزیر اعظم مودی نے 25 مارچ کو اچانک ملک بھر میں 21 دن تک کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا، جس سے کئی ملین افراد پھنس کر رہ گئے اور انھیں خـوراک کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

  11. بریکنگ, برطانیہ میں مزید 917 افراد ہلاک، ملک میں کل ہلاکتیں 9875 تک پہنچ گئیں

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 917 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو کر جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

    برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں مزید 917 افراد کی کورونا کے باعث ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ جس کے بعد ملک میں کل ہلاکتوں کی تعداد 9875 تک پہنچ گئی ہے۔

    برطانیہ کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح تک 78991 افراد میں کوویڈ 19 وائرس کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

  12. بریکنگ, سکاٹ لینڈ میں مزید 47 ہلاکتیں

    لندن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے سکاٹ لینڈ میں مزید 47 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ان اموات سے سکاٹ لینڈ میں اس وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 542 ہو گئی ہے۔ ابھی تک سکاٹ لینڈ میں کل 5،590 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    گذشتہ رات سکاٹ لینڈ میں 202 مریض انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل تھے۔

  13. بریکنگ, کورونا وائرس: انگلینڈ میں مزید 823 افراد ہلاک

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انگلینڈ کے محکمہ صحت کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے مزید 823 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ان اموات سے انگلینڈ میں کل اموات 8،937 ہو گئیں ہے۔

    انگلیڈ کے این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ مریض 11 سال سے 102 سال تک کے تھے۔ ان میں سے 33 افراد میں پہلے سے کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا۔

  14. بریکنگ, برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی طبیعیت میں بہتری

    بورس

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بورس جانسن کی طبیعیت میں اب بہت بہتری آ رہی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم

    بورس جانسن اتوار سے لندن کی سینٹ تھامس ہسپتال میں داخل ہیں لیکن اب وہ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ سے باہر ہیں۔

  15. کورونا وائرس: برازیل نے 1000 سے زائد اموات کی تصدیق کی ہے

    Brazil

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برازیل جنوبی ہیمپشائر کا پہلا ملک بن چکا ہے جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ برازیل کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے متاثرین کی کل تعداد 19،638 ہے جبکہ کل اموات 1،056 تک پہنچ چکی ہیں۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کہ کیونکہ ابھی صرف ان کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں جو ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ ماہرین کی پیشگوئی کے مطابق اس ماہ کے آخر تک یہ وبا ذیادہ تیزی سے پھیلے گی۔

    کئی ممالک نے قرنطینہ جیسے اقدامات اٹھائے ہیں لیکن برازیل کے صدر جیر بولسونارو پابندیوں پر خود ہی سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایسی غیر ضروری پابندیاں معیشیت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انھوں نے یہ دھمکی بھی ہے کہ وہ وفاقی سطح پر کاروبار دوبارہ کھولنے سے متعلق احکامات جاری کر سکتے ہیں۔

    اپنی ہی حکومت کے سماجی دوری سے متعلق اقدامات کو نظر انداز کرتے ہوئے، انتہائی دائیں بازو والے رہنما جمعے کو ملک کے دارالحکومت براسیلیا کی سڑکوں پر آ گئے۔ جمعے کو برازیل میں عام تعطیل تھی۔ ان کے باہر آنے کی وجہ سے لوگوں اور ان کے حامیوں کی بھی بڑی تعداد باہر نکل آئی۔

    ایک جگہ پر بولسونارو نے اپنے حامیوں کے ساتھ تصویر بھی بنوائی۔

    کچھ شہریوں نے غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ ان کے حریف یہ نعرہ لگا رہے تھے کہ گو ہوم یعنی گھر جاؤ۔

    ان پر خاص طور پر یہ تنقید کی گئی کہ جب انھوں نے اپنی دائیں کلائی سے اپنا ناک کو دبایا اور پھر ایک ضعیف خاتون سے مصافحہ بھی کیا۔

  16. روس کی ایک ہسپتال میں 170 افراد میں کورونا کی تشخیص

    Russia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کی ایک ہسپتال میں پورے عملے کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق ہسپتال میں کام کرنے والے 1100 افراد میں سے 170 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے یعنی ان میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نے انگریزی اخبار ماسکو ٹائمز کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روسی حکام ان 170 افراد کے دوبارہ ٹیسٹ کرے گا تاکہ ایک بار پھر معلوم کر سکے کہ کیا وہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔

    پانچ ڈاکٹرز اور دو دیگر افراد کے میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد اوفا کے شہر میں کواتو ریپلک کلینکل ہاسپٹل کو پیر کے روز سخت لاک ڈاؤن میں رکھا گیا ہے۔

  17. کورونا وائرس: نیو یارک کے میئر نے شہریوں کو کرایے نہ ادا کرنے کا کہہ دیا

    نیو یارک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جیسے جیسے کورونا وائرس کووڈ-19 نیو یارک میں مزید پھیل رہا ہے، شہریوں کے لیے کام پر جانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ نیور یارک کے میئر بل دی بلاسیو نے کرایے نہ دینے کا کہہ دیا ہے، جس سے دو ملین کے قریب نیویارک میں رہنے والے مستفید ہوں گے۔

    جمعے کو ایک نیوز کانفرنس میں نیو یارک کے میئر نے وعدہ کیا کہ ہم آپ کے سر پر چھت کو یقینی بنائیں گے۔

    لیکن جو لوگ نیو یارک کے علاقے بروکلن کے گھروں میں رہ رہے ہیں جن کے مالک خود مئیر نیویارک ہیں تو وہ ابھی بھی کرایہ دے رہے ہیں۔

    جب میئر سے ان سے ان کے کرایے داروں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ وہ سب ملازمت پیشہ ہیں اور اپنا کرایہ دے سکتے ہیں۔

    بعد میں نیو یارک کے مئیر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ دی بلاسیو نے اپنے کرایہ داروں سے پوچھا ہے کہ انھیں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہے تو کرایہ داروں نے صاف انکار کر دیا ہے۔

    ترجمان کا یہ بیان نیو یارک ڈیلی نیوز نے شائع کیا ہے۔

  18. چین میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی اطلاعات، زیادہ تر کا تعلق بیرونی ملک سے

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کے روز چین میں کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعداد میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ متاثرین میں سے زیادہ تر بیرون ملک آنے والے مسافر ہیں۔

    چین نے سخت پابندیوں کے ذریعے اس وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پالیا ہے جبکہ یہ وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے اور اب تک اس کا شکار 100000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    لیکن چینی حکام کو ڈر ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے اے سمٹومیٹک مریضوں (ایسے متاثرین جن میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں) کے آنے کی وجہ سے دوسری لہر کا آغاز ہو سکتا ہے۔

  19. کورونا وائرس: کیا آپ کو اب بھی سینیٹائزر دستیاب نہیں ہیں؟ جانیے ایسا کیوں ہے

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران اپنے ہاتھ دھوئیں اور ہینڈ سینیٹائزر استعمال کریں لیکن کووڈ -19 کے پھیلنے کے کئی ماہ بعد بھی بہت سے لوگ سینیٹائزر کی تلاش کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    پوری دنیا میں دکانوں کے شیلف خالی ہیں، آن لائن بھی کم ہی دستیاب ہیں اور جو فروخت کنندہ ہیں وہ بھی من مانی قیمت مانگ رہے ہیں تو کیا دنیا کو عالمی سطح پر سینیٹائزر کی کمی کا سامنا ہے؟

  20. کورونا وائرس: سپین میں اموات میں کمی

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین کی وزارت صحت کے مطابق تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جمعہ اور سنیچر کے درمیانی شب کورونا وائرس کا شکار 510 افراد ہلاک ہوئے۔ 23 مارچ کے بعد ایک دن میں ہونے والی اموات کی یہ سب سے کم تعداد ہے۔

    سپین میں اب تک کورونا وائرس کے 161852 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اموات کی تعداد 16353 ہے۔ نئے کیسز میں شرح نمو تقریباً 3 فیصد ہے جو مارچ کے آخر میں یومیہ اوسطاً 12 فیصد اور مارچ کے وسط میں 20 فیصد سے کم ہے۔

    اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے اقدامات سے متاثرین کی تعداد میں کمی ہوئی ہے اور یہ کہ سپین ایک طرح سے ’استحکام والے مرحلے‘ میں ہے۔

    سپین میں 14 مارچ کو ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد سے لاک ڈاؤن جاری ہے جس میں اس ہفتے ایک بار پھر توسیع کر دی گئی اور اب یہ کم از کم 26 اپریل تک نافذ العمل رہے گا۔