کورونا: برطانیہ میں مزید 737 ہلاکتیں، ملک میں مجموعی اموات 10 ہزار سے زائد
دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 17 لاکھ 89 ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتیں ایک لاکھ نو ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ایسٹر کی تقریبات مختلف انداز میں جاری ہیں۔ سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق ملک میں کرفیو میں ’غیر معینہ مدت‘ تک توسیع کر دی گئی ہے۔
لائیو کوریج
’خوف زدہ نہ ہوں‘ پوپ کی اپیل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پوپ فرانسس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس سے ’خوف زدہ‘ نہ ہوں اور ’اس وقت میں جب ہر طرف موت کے سائے منڈلا رہے ہیں، زندگی کے پیامبر‘ بنیں۔
رومن کیتھولک چرچ کے رہنما نے سنیچر کی شام سینٹ پیٹر باسیلیکا میں ایک تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر سینٹ پیٹر باسیلیکا تقریباً خالی تھا۔
اس سال پوپ فرانسس بند دروازوں کے پیچھے سے ایسٹر سنڈے کا خطاب کریں گے۔
ایسا عبادت گزاروں کے بڑے ہجوم کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
اٹلی اور دنیا بھر کے کئی ممالک لاک ڈاؤن میں ہیں۔
آسٹریلیا: طبی عملہ وائرس کا شکار، دو مشہور ہسپتال بند
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلین ریاست تسمانیہ کے دو بڑے ہسپتالوں کے عملے میں بڑے پیمانے پر انفیکشن کے باعث، دونوں ہسپتال دو ہفتوں تک بند رہیں گے۔
ریاست کے وزیر اعظم پیٹر گٹ وین نے اعلان کیا ہے کہ نارتھ ویسٹ ریجنل ہسپتال اور نارتھ ویسٹ پرائیوٹ ہسپتال کا ایک ہزار سے زائد عملہ دو ہفتے قرنطینہ میں گزارے گا۔
تسمانیہ میں کووڈ-19 کے 133 تصدیق شدہ کیسز ہیں جن میں سے 49 مریض وہ ہیں جو ہسپتالوں سے وبا کا شکار ہوئے۔
انڈیا: لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی سے روکنے پر ایک پولیس اہلکار کا ہاتھ کٹ گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی ریاست پنجاب میں ایک پولیس افسر کا ہاتھ اس وقت کٹ گیا جب وہ لوگوں کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے سے روک رہے تھے۔
اس حملے میں ان کے دو اور ساتھی بھی زخمی ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ پٹیالہ ضلعے میں اس وقت پیش آیا جب ایک کار پولیس چوکی سے ٹکرا گئی۔ کار میں سوار افراد نے گاڑی سے نکل کر افسران پر حملہ کردیا۔
کم از کم تین حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن کا تعلق مبینہ طور پر ایک مذہبی فرقے سے بتایا جاتا ہے۔
پنجاب پولیس کے سربراہ دنکر گپتا نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ دو گھنٹے مقابلے کے بعد مجرمان نے ہتھیار ڈال دئیے اور ’تلواریں اور چاقو اٹھائے باہر نکلے آئے۔‘
سرکاری عہدیداروں کے مطابق ریاست کے سب سے بہترین ڈاکٹر ان افسران کا علاج کر رہے ہیں۔
انڈیا میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کی کوششوں کے دوران، ملک کے دیگر حصوں سے بھی پولیس پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
دنیا بھر کے کاروبار ٹھپ لیکن تابوت بنانے کی فیکٹری میں ملازمین ’اوور ٹائم‘ پر مجبور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوورنا وائرس کے سبب جہاں ایک طرف دنیا بھر کے کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں وہیں ایک ایسی صنعت بھی ہے جہاں روزبروز بڑھتی مانگ کے باعث فیکٹری ملازمین اوور ٹائم کرنے پر مجبور ہیں۔
اور وہ ہے تابوت یا میت کو دفن کرنے والے صندوق بنانے کی صنعت۔
یہ حقیقت ہے کہ جہاں آج کل بہت سے افراد کے لیے برا وقت چل رہا ہے وہیں تابوتوں کی صنعت سے جڑے افراد کے لیے وقت اچھا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کی ایک فیکٹری میں ملازمین اپنے پیاروں سے جدا ہونے والے خاندانوں کی مانگیں پورا کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔
فیکٹری کے ڈائریکٹر ایمانوئل گیریٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ عموماً فروخت ہونے والے 15 ڈیزاینوں کے مقابلے میں ’اس وبا کی وجہ سے ہم نے تابوتوں کے صرف وہ چار ماڈل تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خریداروں میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’اس تبدیلی سے ہم پیداوار بہتر بنانے کے قابل ہوئے ہیں۔‘
عام دنوں میں 370 تابوتوں کے مقابلے میں آج کل روزانہ 410 تابوت تیار ہو رہے ہیں۔ اور مزدوروں کو روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔
تابوتوں کے لیے لکڑی کا انتخاب کرنے والی ٹیم کی سربراہ ڈیڈیئر پیڈنسٹ کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو پہلے ہی پیشگی اطلاع دی جا چکی ہے اور وہ ہفتے کے روزبھی آکر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
فرانس، کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کس رفتار سے پھیل رہی ہے؟
،تصویر کا ذریعہJohn Hopkins university
گزرتے وقت کے ساتھ ملک سے ملک کی بنیاد پر، کیسوں کی کل تعداد کو دیکھ کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی دنیا بھر میں کووڈ 19 کے مصدقہ مریضوں اور ہلاکتوں کے حوالے سے اعداد و شمار جمع کر رہی ہے اور اسے سب سے معتبر حیثیت حاصل ہے۔
انھوں نے دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کا جائزہ لیا ہے۔
اوپر دیا گیا چارٹ تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد ظاہر کرتا ہے۔ یعنی کسی بھی ملک میں ان لوگوں کی تعداد جن میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے ( قطع نظر اس سے کہ وہ صحتیاب ہوئے ہیں یا نہیں)۔
چونکہ اس وبا کا آغاز مختلف ممالک میں مختلف اوقات میں ہوا تھا ، اسی وجہ سے ہر ملک کو ایک ہی نقطہ آغاز سے دیکھنے سے ہم اس کا موازنہ با آسانی دوسرے ممالک سے کرسکتے ہیں۔
اس چارٹ کا نقطہ آغاز وہ دن ہے جب ہر ملک میں 50 ویں کیس کی تصدیق ہوگئی تھی۔ یہاں 50ویں کیسز سے اب تک کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔
کچھ ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے وینٹیلیٹرز کا استعمال کرنے سے گریز کیوں کر رہے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہReuters
کورونا وائرس کا شکار مریضوں کے علاج کے لے لیے جہاں ایک طرف دنیا بھر میں محکمہ صحت کے کارکنان مزید وینٹیلیٹر حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں وہیں کچھ ایسے ڈاکٹر بھی ہیں جو کورونا کا شکار مریضوں کو وینٹیلیٹروں سے ہٹا رہے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس کی وجہ چند ہسپتالوں میں ایسے مریضوں کی شرح اموات میں غیر معمولی اضافہ ہے جنھیں وینٹیلیٹرز پر رکھا گیا تھا۔
کچھ ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ یہ مشینیں بعض مریضوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
علاج کے بدلتے طریقہ کار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر ابھی بھی اس چند مہینے پہلے سامنے آنے والے نئے وائرس سے نمٹنے کے بہترین طریقے سیکھ رہے ہیں۔ مریضوں کی دو بدن بڑھتی تعداد اور بنیادی سہولت کے سامان کی قلت کے باوجود وہ حقیقی اعداد و شمار پر انحصار کر رہے ہیں۔
مکینیکل وینٹیلیٹر ان مریضوں کو سانس لینے میں مدد دیتے ہیں جن کے پھیپھڑے ناکام ہو رہے ہوں۔ ان مشینوں کے استعمال میں مریض کو بے ہوش کرکے گلے میں ٹیوب لگانا شامل ہے۔ اور سانس لینے میں دشواریوں کے سبب، اس طرح کے بیمار مریضوں میں اموات عام ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر سانس کی تکلیف کا شکار 40 فیصد سے 50 فیصد مریض وینٹیلیٹر پر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔
نیو یارک ریاست کے عہدیداروں کے مطابق کورونا وائرس کا شکار 80 فیصد سے زیادہ مریضوں کی موت وینٹیلیٹرز پر ہوئی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس: کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 13832 ہوگئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 13832 ہوگئی ہے۔ لیکن ایسے مریض جن کی حالت تشویش ناک ہے، ان کی تعداد میں مسلسل تیسرے دن کمی دیکھی گئی۔
ایسا لگا رہا ہے کہ ملک بھر میں کیا گیا لاک ڈاون اس وبا کے پھیلاؤ پر قابو پا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانس کی وزارتِ صحت کے فراہم کردہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ گذشتہ روز انتہائی نگہداشت کے یونٹوں میں مریضوں کی تعداد 7004 سے کم ہو کر 6883 ہوگئی، جو تقریباً 2 فیصد کم ہے۔
جبکہ ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں کی تعداد، صرف 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 31320 ہے۔
635 یا 5 فیصد اضافے کے ساتھ اموات کی مجموعی تعداد 13832 ہے۔ ان میں سے 8943 ہسپتالوں جبکہ 4889 نرسنگ ہومز میں ہلاک ہوئے۔
وزارت صحت کے ڈائریکٹر جیروم سالومون نے روزانہ دی جانے والی بریفنگ میں کہا ’ہم بڑے پیمانے پر ایک قاتلانہ وبا کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں نئے کیسز مسلسل آرہے ہیں اور فرانسیسی عوام کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
انڈونیشیا میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی، عید کے موقع پر آبائی گھروں کو جانے والے لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرزکے مطابق رمضان کی آمد کے پیشِ نظر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انڈونیشیا نے پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔
انڈونیشیا میں ہر سال رمضان کے آخری دنوں میں تقریباً 75 ملین افراد بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
ایک نئے ضابطے کے تحت پبلک بسوں، ٹرینوں، ہوائی جہازوں اور جہازوں کو صرف نصف مسافر نشستیں ہی بھرنے کی اجازت ہوگی۔ اس نئے ضابطے کے تحت نجی کاروں میں بھی صرف نصف افراد کو بیٹھنے کی اجازت ہو گی جبکہ موٹرسائیکل پر بھی صرف ایک شخص ہی سوار ہوسکے گا۔
پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو مسافروں کے درجہ حرارت چیک کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ جبکہ بس ٹرمینلز، ٹرین اسٹیشنوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو لازمی طور پر صابن اور ہینڈ سینیٹائزر اور بروقت میڈیکل عملے کی فراہمی ممکن بنانا ہو گی۔
کورونا وائرس: دنیا بھر میں کیا ہوا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق، عالمی سطح پر کوورنا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 108866 ہوگئی ہے۔
تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکہ کی 50 ریاستیں ’ڈیزاسٹر ڈیکلیریشن‘ کے زیرِ اثر ہیں، یعنی ان ریاستوں میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
پوپ فرانسس نے اپنے ایسٹر خطاب میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ’خوف زدہ نہ ہوں‘۔ کورونا وائرس کی وجہ سے اس تقریب میں صرف دو درجن افراد شریک ہوئے۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے مطابق انھیں دوبارہ زندگی این ایچ ایس کی وجہ سے ملی ہے۔ بورس جانسن اتوار کی رات سے ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور انھوں نے تین راتیں انتہائی نگہداشت میں گزاری ہیں۔ ۔
سات افریقی ریاستوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افریقی شہرگوانگزو میں شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات کی وضاحت کریں۔ رپورٹس کے مطابق متعدد بار لوگوں کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ لیے گئے لیکن انھیں نتائج فراہم نہیں کیے گئے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔
کریملن نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے سبب ماسکو کے ہسپتال دباؤ کے زیرِ اثر ہیں۔
بیلا روس میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے وہاں کے حکام کو کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے مزید کارروائی کرنے پر زور دیا ہے۔ بیلاروس میں اب بھی فٹ بال کے مقابلے منعقد ہو رہے ہیں، اور ان کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو پابندیوں کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ووڈکا پینے اور سوانا میں نہانے سے وائرس سے لڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔
عالمی سطح پر پُرتشدد جرائم کی شرح میں کمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسا لگتا ہے زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں بچا جو اس وبا سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکا ہو۔۔ حتیٰ کہ پُرتشدد جرائم بھی۔
نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے عالمی سطح پر جرائم کی شرح کا جائزہ لیا ہے اور ان کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی ممالک میں پُرتشدد جرائم میں کمی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق:
جنوبی افریقہ میں، گذشتہ سال کی اسی مدت کا موازنہ اگر لاک ڈاؤن کے پہلے ہفتے سے کیا جائے تو قتل عام 326 سے کم ہو کر 94 ہو گئے ہیں۔
دنیا کے پُرتشدد ترین ممالک میں سے ایک ایل سلواڈور میں مارچ میں 65 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ فروری میں ان کی تعداد 114 تھی۔
پیرو میں گذشتہ ماہ جرائم کی شرح میں 84 فیصد کمی ہوئی۔
اور امریکہ میں وبا کے مرکز نیو یارک سٹی میں فروری سے مارچ کے دوران قتل، عصمت دری، ڈکیتی، چوری اور کار چوری جیسے جرائم میں 12 فیصد کمی ہوئی
جرائم میں کمی کی وجوہات میں سڑکوں پر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں اٰضافے کے ساتھ ساتھ لوگوں کا گھروں پر رہنا بھی شامل ہے۔
نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سابق سارجنٹ جو گیاکالون نے اے پی کو بتایا کہ ’مجرموں کے لیے فائدہ اٹھانے کے بہت کم مواقع موجود ہیں۔‘
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ایک جرم جس میں اضافہ ہوا وہ گھریلو تشدد ہے۔ یہ اضافہ اتنا زیادہ ہے کہ بدسلوکی کے مقدمات سے نمٹنے کے لیے عالمی ادارہ صحت نے خیراتی ادارں کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کا کہا ہے۔
دنیا بھر میں ایسٹر کی تقریبات کے مناظر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں مسیحی برادری آج ایسٹر منا رہی ہے اور لاک ڈاؤن کے باعث نت نئے طریقوں سے عبادت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کئی گرجا گھروں میں پادری کیمروں کے سامنے کھڑے خطبات دے رہے ہیں اور متعدد افراد آن لائن مستفید ہو رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
تاہم کچھ ممالک میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیشِ نظر پابندیوں کے باوجود تقریبات معمول کے مطابق جاری ہیں۔
پولینڈ کےایک قصبے میں گھوڑا گاڑی پر سوار ایک پادری سڑک کنارے موجود عقیدت مندوں پر مقدس پانی چھڑکتے بھی نظر آئے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پوپ فرانسس نے ایسٹر سے قبل ویٹیکن میں سینٹ پیٹرز بیسیلیکا میں عوام سے کہا ہے کہ وہ ’خوف کا شکار نہ ہوں‘ اور ’امید کے پیغام‘ پر غور کریں۔
،تصویر کا ذریعہAFP
کچھ گرجا گھروں نے ایسے افراد کی تصاویر نشستوں پر لگائیں جو تقریب میں شرکت نہیں کر سکے۔
بریکنگ, سعودی عرب میں کرفیو میں ’غیر معینہ مدت‘ تک توسیع، سرکاری خبر رساں ایجنسی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی بادشاہ سلمان نے سعودی عرب میں کیسز میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے باعث کرفیو میں غیر معینہ مدت تک توسیع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
خیال رہے کہ سعودی بادشاہ نے اس سے قبل 23 مارچ سے کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا جو 21 روز کے لیے شام سات بجے سے صبح چھ بجے تک نافذ کیا گیا تھا۔
گدشتہ ہفتے سعودی عرب نے اپنے دارالحکومت ریاض اور دوسرے بڑے شہروں میں بھی 24 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, امریکہ میں اموات 20 ہزار سے تجاوز کر گئیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اس وقت کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اموات کی تعداد 20071 ہو گئی ہے۔
اتوار کے جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک کورونا وائرس کے 522,000 مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
امریکہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست نیویارک ہے جہاں اب تک 8627 اموات ہوئی ہیں اور 181026 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
کورونا وائرس: برطانیہ میں ایک تہائی تشویش ناک مریضوں کا تعلق اقلیتوں سے, ریانا کراکسفرڈ، نامہ نگار کمینوٹی افیئرز بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہPA Media
اس بات کے ’ابھرتے ہوئے ثبوت‘ سامنے آ رہے ہیں کہ برطانیہ میں کورونا وائرس نے سیاہ فام، ایشیائی اور دیگر اقلیتوں کو زیادہ متاثر کیا ہے۔
تحقیق کے مطابق برطانیہ میں اس وقت ایک تہائی ایسے مریض جو اس وائرس کے باعث تشویش ناک حالت میں ہیں اور ہسپتالوں میں داخل ہیں ان کا تعلق انہی اقلیتی گروہوں سے ہے۔
یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لیبر کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ فوراً تحقیق کرائی جائے کے آخر یہی افراد اس وائرس سے زیادہ متاثر کیوں ہو رہے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھے گی کہ اس حوالے سے عدم مساوات کو کم کیا جا سکے۔
سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں صرف 14 فیصد افراد اقلیتی برادریوں سے ہیں۔
تاہم انتہائی نگہداشت کے قومی تحقیقی ادارے کے مطابق 3000 سے زیادہ ایسے مریض جن کی حالت تشویش ناک ہے ان میں سے 34 فیصد کا تعلق سیاہ فام، ایشیا یا دیگر اقلیتی گروہوں سے ہے۔
بریکنگ, کورونا وائرس: دنیا بھر میں چار لاکھ سے زائد افراد صحتیاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس سے کی عالمی وبا سے جہاں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے وہیں کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔
اب تک پوری دنیا میں چار لاکھ سے زائد افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔ ان میں سب بڑی تعداد چین سے ہے جہاں اب 77877 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ اس وبا کا آغاز چین کے صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان سے ہوا تھا۔ اس کے علاوہ یورپی ملک سپین میں اب تک 59109 جبکہ جرمنی میں 57400 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
ووہان میں صحت کے حکام کو کورونا وائرس کیسز کی دوسری لہر کا خدشہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دو مہینے سے لاک ڈاؤن میں رہنے والے چینی شہر ووہان میں پابندیاں ہٹے ہوئے اب تقریباً تین روز بیت چکے ہیں۔
ایک اعشاریہ ایک کروڑ کی آبادی والے شہر سے کورونا وائرس کی عالمی وبا کا آغاز ہوا تھا۔
تاہم ووہان اور ملک کے دیگر حصے جیسے جیسے کھل رہے ہیں چینی صحت کے حکام کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کہ کہیں کورونا وائرس کی دوسری لہر شہر کو متاثر نہ کرے۔
شہر میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے بنائے جانے والے ایک ہسپتال کے صدر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘
حالیہ دنوں میں چین میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں سے اکثر بیرونِ ملک سے آئے ہیں۔
چین میں صحت کے حکام کے مطابق جمعے کے روز وائرس کے 46 نئے کیسز رپورٹ کیے گئے۔ ان نئے کیسز میں سے 42 بیرون ملک سے آئے تھے۔
ساتھ ہی 34 ایسے کیسز بھی سامنے آئے جن میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں تھیں جس کے یہ خطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اکثر ایسے افراد جو بیرونِ ملک سے آ رہے ہیں ان میں اس وائرس کی تشخیص نہیں ہو پا رہی۔
پوپ فرانسس کی عوام سے ’خوف کا شکار نہ ہونے‘ کی اپیل
،تصویر کا ذریعہEPA
پوپ فرانسس نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ’خوف کا شکار نہ ہوں‘ اور ’امید کے پیغام‘ پر غور کریں۔ انھوں نے یہ بات ایسٹر سے قبل ویٹیکن میں سینٹ پیٹرز بیسیلیکا میں کہی۔
انھوں نے لوگوں کو ’موت کے دنوں میں زندگی کے پیغمبر‘ بننے کی تلقین کی اور مخیر حضرات سے غربا کی مدد کرنے کی اپیل بھی کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
جب لکھاری جوڈی سمتھ نے ٹوئٹر پر لوگوں سے اپنے 12 برس کے بیٹے کی سالگرہ منانے میں مدد مانگی تو انھیں جو ردِعمل ملا وہ شاید سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
ان کے بیٹے برینڈن چاہتے تھے کہ وہ دنیا کے نقشے پر ہر اس جگہ پر نشان لگائیں جہاں کے لوگوں نے یہ ٹویٹ ری ٹویٹ کی ہے۔
،تصویر کا ذریعہTwitter/JodySmith
تاہم یہ ان کے لیے اس لیے مشکل ہو گیا کیونکہ تقریباً ایک لاکھ افراد نے اس ٹویٹ کا جواب دیا یا اسے ری ٹویٹ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے برینڈن کی سالگرہ عالمی دنیا میں ایک ٹرینڈ بھی بن گئی۔
امریکہ میں ’پہلی مرتبہ‘ تمام ریاستیں آفت زدہ قرار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ریاست ویومنگ وہ آخری ریاست بن چکی ہے جسے صدر ٹرمپ کی جانب سے آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے تحت اب ریاستوں کے پاس کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے وفاقی فنڈز بھی موجود ہوں گے۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این کے مطابق ایسا امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ تمام ریاستوں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہو۔
واشنگٹن ڈی سی، پوئرٹو ریکو اور گوام جیسی ریاستوں کو پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔
امریکہ میں کورونا وائرس کی دوا کے ’اچھے ابتدائی نتائج سامنے آئے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس وقت اربوں ڈالر کا سوال یہ ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین کتنی جلدی تیار کی جا سکے گی۔
تاہم سائنسدان ساتھ ساتھ مریضوں کے علاج کے حوالے سے بھی کام کر رہے ہیں اور ایسی ادویات کی آزمائش کر رہے ہیں جن کی مدد سے جانیں بچائی جا سکیں گی اور مریضوں کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے گی۔
ان میں سے ایک دوا ’ریمڈیسور‘ ہے جسے آزمائش کے طور پر عالمی ادارہ صحت کی نگرانی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکہ میں 53 مریض جنھیں یہ دوا دی گئی ان میں سے دو تہائی میں اچھے نتائج سامنے آئے۔
عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنسدان ڈاکٹر سومیا سوامینتھن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دواؤں کی آزمائش اس وقت شروع کی گئی جب سائنسدانوں نے ایسی دواؤں کو دیکھنا شروع کیا جو سارس اور مرس کورونا وائرسز کےدوران استعمال کی گئیں تھیں اور ان کے اچھے نتائج سامنے آئے تھے۔ ان وائرسز کے باعث 2003 اور 2012 میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔
تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ ریمڈیسور کی آزمائش کنٹرول گروپ میں نہیں کی گئی یعنی یہ دوا تمام مریضوں کو دی گئی اس لیے اس دوا کے نتائج کا موازنہ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس حوالے سے سامنے آنے والے ابتدائی تنائج صحیح ثابت ہوں گے۔ تاہم ڈاکٹر سوامینتھن کا کہنا ہے کہ اس وقت اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس دوا سے مریضوں کی حالت میں کس حد تک بہتری آئی۔
انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ اس آزمائش کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا اندراج کریں لیکن میرے خیال میں یہ وبا ابھی مزید کچھ عرصہ ہمارے ساتھ رہے گی۔‘