کورونا: برطانیہ میں مزید 737 ہلاکتیں، ملک میں مجموعی اموات 10 ہزار سے زائد

دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 17 لاکھ 89 ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتیں ایک لاکھ نو ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ایسٹر کی تقریبات مختلف انداز میں جاری ہیں۔ سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق ملک میں کرفیو میں ’غیر معینہ مدت‘ تک توسیع کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. 'عمر رسیدہ افراد کو اگلے سال تک تنہائی میں رہنا پڑ سکتا ہے'

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپی یونین کی سربراہ اُرسلا وون در لیئن نے کہا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کو خود کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے اگلے سال تک خود ساختہ تنہائی میں رہنا پڑ سکتا ہے۔

    انھوں نے ایک جرمن اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کووِڈ-19 کی کوئی ویکسین تیار نہیں ہوجاتی، تب تک ‘بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ میل جول کو محدود رکھنا ہوگا۔’

    یاد رہے کہ زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے مدافعت فراہم کرنے والی کوئی ویکسین اگلے سال سے پہلے نہیں بنے گی۔

    انھوں نے کہا کہ انھیں تنہائی کی مشکل کا اندازہ ہے لیکن انھوں نے زور دیا کہ ‘جب یہ زندگی اور موت کا سوال ہو تو ہمیں نظم و ضبط اور صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔’

    یاد رہے کہ یورپی یونین پر کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اس کی حکمتِ عملی پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔

  2. برطانیہ: کیا 20 ہزار اموات تک محدود رہنا اب بھی ممکن؟

    برطانیہ کے اعلیٰ ترین سائنسی مشیر سر پیٹرک ویلینس نے کہا تھا کہ اگر برطانیہ میں کووِڈ-19 سے ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار سے کم رکھی جا سکتی ہے تو یہ ایک ‘اچھا نتیجہ’ ہوگا۔

    اس پر آج پریس بریفنگ میں جب برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکوک سے پوچھا گیا کہ کیا ‘اچھا نتیجہ’حاصل کرنا اب بھی ممکن ہے جبکہ آج اموات کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے؟

    جواب میں میٹ ہینکوک کا کہنا تھا کہ ‘اس ملک میں اس وبا کا مستقبل عوام کے رویوں پر منحصر ہے۔’

    انھوں نے مزید کہا کہ ‘پیشگوئیاں ممکن نہیں کیونکہ سب کچھ برطانوی عوام کے رویوں پر منحصر ہے۔’

  3. اٹلی: امدادی کشتی پر سوار تمام تارکینِ وطن کو قرنطینے میں رکھا جائے گا

    اٹلی نے کہا ہے کہ وہ اپنے جنوبی ساحل کے قریب موجود ایک امدادی کشتی پر سوار تمام 156 تارکینِ وطن کو قرنطینے میں رکھ کر ان کی صحت کا جائزہ لے گا۔

    یہ تارکینِ وطن ایلن کردی نامی ایک جرمن پرچم بردار غیر سرکاری جہاز پر ہیں۔

    اتوار کو اٹلی کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ تارکینِ وطن کو ایک اور کشتی میں قرنطینے پر منتقل کیا جائے گا جہاں اٹلی کی ریڈ کراس اور مقامی طبی حکام ان کی صحت کا جائزہ لیں گے۔

    چند دن قبل اٹلی کی حکومت نے ایک حکمنامہ جاری کیا تھا کہ سمندر سے بچائے گئے لوگوں کا بندرگاہوں پر اترنا ‘غیر محفوظ’ ہے، جب تک کہ ملک میں نافذ عوامی صحت کی ایمرجنسی نافذ ہے۔

    یہ پابندی 31 جولائی تک نافذ رہے گی۔ ہیومن رائٹس واچ نے اٹلی سے کہا ہے کہ وہ اس حکمنامے کو کالعدم کرے اور فوراً اس امدادی کشتی کو محفوظ بندرگاہ پر پہنچائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. بریکنگ, اٹلی: ہلاکتوں کی یومیہ تعداد تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 431 ہلاکتیں ہوئی ہیں جو کہ تین ہفتوں سے بھی زیادہ عرصے کی کم ترین تعداد ہے۔

    ماہرین کو امید ہے کہ ملک میں جاری سخت تر لاک ڈاؤن کے ثمرات موصول ہو رہے ہیں۔

    اتوار کو ہلاکتوں کی تعداد 19 مارچ کے بعد سے اب تک کم ترین ہے جب ایک دن میں 427 اموات ریکارڈ کی گئیں۔

    اس کے علاوہ اٹلی میں کووِڈ-19 سے متاثرہ لوگوں کی انتہائی نگہداشت میں موجود تعداد میں بھی کمی آئی ہے اور اب ایسے افراد کی مجموعی تعداد 3343 ہے۔

    اٹلی میں اب تک اس مرض سے 19 ہزار 899 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہاں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 56 ہزار 363 ہے۔

    اٹلی یورپ کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

    اتوار کو امریکہ نے 20 ہزار اموات کا ہندسہ عبور کیا جس کے بعد وہاں اموات کی تعداد اب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

  5. نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو: 'چیزیں واپس کھولنے میں سمجھداری سے کام لینا ہوگا'

    امریکہ کی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ریاست کو ‘جتنا جلد ممکن ہو سکے کھول دیں’ لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ ‘ہمیں سب کچھ واپس کھولنے کے لیے سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔’

    انھوں نے پڑوسی ریاستوں کے درمیان زیادہ ہم آہنگی، ٹیسٹوں کی زیادہ دستیابی اور زیادہ وفاقی مالی امداد پر زور دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ‘کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ ایک عوامی صحت کی حکمتِ عملی اور ایک اقتصادی حکمتِ عملی میں سے ایک کا انتخاب کرے۔’

    انھوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں داخلے اور اموات کی تعداد اب ہموار ہوتی جا رہی ہے لیکن گذشتہ روز بھی 758 لوگ اس مرض سے ہلاک ہوئے۔

    کیومو نے کہا کہ ‘اگر ہم اس کو 11 ستمبر کے حملوں کے تناظر میں دیکھیں جسے میں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ سمجھا تھا، اس میں 2753 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اب ہلاکتوں کی تعداد 9385 ہے۔’

  6. 'سماجی دوری اختیار کرنا ہی ہمیں معمول کی زندگی پر واپس لائے گا'

    برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکوک نے اپنی بریفنگ کے اختتام میں لوگوں کو یاد دہانی کروائی کہ وہ ایسٹر پر اپنے گھروں میں رہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ‘ایسے وقت میں جب ہم عام طور پر ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، ہمیں ایک دوسرے سے دور رہنا چاہیے۔ یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے مگر ہمیں اس پر قائم رہنا ہوگا۔’

    انھوں نے کہا کہ اگر ہم قواعد کی پاسداری کریں گے تو وائرس کا پھیلاؤ کم ہوگا، اور ہر گزرتا دن ہمیں نارمل زندگی کے قریب لائے گا۔

  7. حکومت ذاتی حفاظتی سامان کی فراہمی کے لیے تیز تر کوششیں کر رہی ہے، برطانوی وزیر

    برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکوک نے کہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس کے خلاف صفِ اول پر موجود طبی عملے کو ذاتی حفاظتی سامان کی فراہمی کے لیے تیز تر کوششیں کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ دو دنوں کے اندر ملک بھر میں ایک لاکھ 21 ہزار گاؤن تقسیم کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ برطانیہ میں اس حوالے سے مسلسل خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ طبی عملہ حفاظتی سامان کی کمی کی وجہ سے خود کو خطرے میں ڈال کر کام کر رہا ہے۔

  8. ‘نیشنل ہیلتھ سروس کا عملہ برطانیہ میں اموات میں اضافے پر افسردہ’

    نیشنل ہیلتھ سروس کی پرووائیڈرز شاخ کے سربراہ کرس ہوپسن نے کہا ہے کہ برطانیہ کے ہسپتالوں میں روزانہ لوگوں کو کورونا وائرس کی وبا کے سبب ہلاک ہوتے دیکھنا سروس کے عملے کے لیے ‘افسردہ کن’ ہے اور وہ ‘بے یار و مددگار' محسوس کر رہے ہیں۔

    کچھ دیر قبل ہی سرکاری سطح پر برطانوی ہسپتالوں میں 10 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

    کرس ہوپسن نے بی بی سی نیوز ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگر آپ کسی انتہائی نگہداشت کے شعبے میں کام کرتے ہیں تو روزانہ ایک سے دو اموات دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔’

    ‘لیکن اس وقت عملے کے لیے جو پریشان کُن صورتحال ہے وہ یہ کہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں ایک ایک شفٹ کے دوران تین سے چار اموات ہو رہی ہیں۔’

    انھوں نے کہا کہ انھیں اپنے سٹاف سے بات چیت کر کے علم ہے کہ کئی مواقع پر وہ دوسروں کی مدد نہ کر پانے کی وجہ سے لاچاری کی کیفیت کے شکار ہیں۔’

  9. برطانیہ: ہسپتالوں میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی

    برطانیہ میں کورونا وائرس کے باعث مزید 737 ہلاکتوں کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 10 ہزار 612 ہوگئی ہے۔

    خیال رہے کہ یہ تعداد صرف ان افراد کی ہے جن کی ہلاکت برطانیہ کے ہسپتالوں میں ہوئی ہے۔

    گھروں پر یا کیئر ہومز میں ہلاک ہونے والے افراد ان میں شامل نہیں ہیں۔

  10. بورس جانسن کا ویڈیو پیغام میں طبی عملے کا شکریہ

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے اتوار کو ہسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کے بعد ایک ویڈیو میں نیشنل ہیلتھ سروس کے عملے کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    انھیں ایک ہفتہ قبل کورونا کے باعث انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کیا گیا تھا۔

    انھوں نے طبی عملے کا اپنی جان بچانے کے لیے شکریہ ادا کی اور کہا کہ ‘اس قرض کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈنا مشکل ہے۔‘

    انھوں نے ملک میں گرم موسم کے باوجود سماجی دوری کے ضوابط کی پاسداری کرنے پر لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. 'امریکہ میں اگلے ماہ سے چیزیں دوبارہ کھل سکتی ہیں'

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے سربراہ ڈاکٹر ڈاکٹر اینتھونی فوسی کا کہنا ہے کہ ممکن ہے ملک کے چند حصے ‘کچھ حد تک شاید اگلے مہینے’ معمول پر واپس لوٹنا شروع کریں۔

    سی این این سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ آپ جلد بازی میں کچھ نہیں کر سکتے، یہ بجلی کے بٹن کی طرح نہیں ہوگا، کیوںکہ اس سے مرض پھیلنے کا خدشہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ ملک میں کہاں موجود ہیں، وبا کی کس نوعیت کا سامنا کر چکے ہیں اور کس نوعیت کی وبا کا خطرہ آپ کے سامنے ہے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ اگر قوم معمول پر واپس آنے کے لیے نپی تلی حکمتِ عملی اپنائے تو 3 نومبر کے لیے طے شدہ امریکی صدارتی انتخابات وقت پر ہوسکتے ہیں۔

  12. بریکنگ, انگلینڈ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 657 ہلاکتیں، مجموعی تعداد 9594 ہوگئی

    انگلینڈ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 657 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 9594 ہوگئی ہے۔

    سکاٹ لینڈ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 24 مصدقہ متاثرین ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد وہاں ہلاکتوں کی تعداد 566 ہوگئی ہے۔

    ویلز کے محکمہ عوامی صحت کا کہنا ہے کہ وہاں مزید 18 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد ویلز میں ہلاکتوں کی تعداد مجموعی طور پر 369 ہوگئی ہے۔

    شمالی آئرلینڈ میں اتوار کو 11 مزید ہلاکتوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 118 ہوگئی ہے۔

    تھوڑی دیر میں برطانوی حکومت کی جانب سے پورے برطانیہ کے مجموعی اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے جو مندرجہ بالا اعداد و شمار سے کچھ مختلف ہو سکتے ہیں۔

  13. کورونا وائرس: روس کے دارالحکومت ماسکو میں کیا صورتحال ہے؟, سارا رینسفورڈ، بی بی سی نیوز، ماسکو

    کورونا، روس

    روس کے دارالحکومت ماسکو میں حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 30 افراد کو گھر پر قرنطینے کے سخت ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے جبکہ 1358 دیگر شہریوں پر بغیر کسی ‘مناسب’ وجہ کے سڑک پر نکلنے کی وجہ سے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    اگر کوئی ایسا شخص جسے گھر پر رہنے کے لیے کہا گیا ہے وہ اپنی عمارت سے باہر نکلے، تو چہرہ پہچان سکنے والے کیمرے پولیس کو فوراً الرٹ کر دیتے ہیں۔ اس میں کووِڈ-19 کے مصدقہ متاثرین بھی شامل ہیں اور بیرونِ ملک سے واپس آنے والے افراد بھی۔

    ہفتے کے اختتام پر پولیس کے گشت میں بھی کافی اضافہ ہوا۔ میں نے کئی پیدل اور سائیکل سوار افراد کو روکے جاتے اور پوچھ تاچھ کا سامنا کرتے دیکھا۔ پولیس کی گاڑیاں تقریباً خالی سڑکوں پر گشت کر رہی ہیں اور لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے لوگوں کو گھروں پر رہنے کی تاکید کر رہی ہیں۔

    یہاں پر رہائشیوں کو قریب ترین دکانوں اور میڈیکل سٹورز تک جانے یا اپنے کتوں کو گھمانے کی اجازت ہے مگر باغ اور میدان بند ہیں اور گھر سے باہر ورزش کرنے پر پابندی ہے۔

    پیر سے برقی اجازت ناموں کا ایک نظام نافذ کیا جا رہا ہے جس کے تحت گاڑی یا عوامی ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کرنے والوں کو ہر بار ایک اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ ماسکو کے ہسپتال پہلے ہی کورونا وائرس کی وبا کے باعث ‘اپنی حدوں کو پہنچ گئے ہیں۔’

    روس کے دار الحکومت کے باہر جہاں کم ہی متاثرین سامنے آئے ہیں، وہاں قدامت پسند گرجا گھروں میں آج بڑے اجتماعات ہوئے۔

    روس اب تمام گرجا گھروں کو قدامت پسندوں کے ایسٹر (19 اپریل) تک کے لیے بند کر دے گا۔

  14. بی بی سی کے براڈکاسٹر ٹم بروک ٹیلر کورونا وائرس کے باعث ہلاک

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کے براڈ کاسٹر اور کامیڈین ٹم بروک ٹلر کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد 79 سال کی عمر میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ان کی ہلاکت کا اعلان ان کے ایجنٹ کی جانب سے کیا گیا۔

  15. بورس جانسن فوراً کام پر نہیں لوٹیں گے: ترجمان

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن فوراً کام پر لوٹنے کے بجائے بکنگھم شائر میں اپنی دیہی رہائش گاہ میں کچھ وقت گزاریں گے۔

    وزیرِ اعظم کے ایک ترجمان نے بتایا: ‘اپنی میڈیکل ٹیم کے مشورے پر وزیرِ اعظم فوراً کام پر نہیں لوٹیں گے۔’

    ترجمان نے مزید بتایا کہ وزیرِ اعظم سینٹ تھامس ہسپتال کے عملے کے شکر گزار ہیں جنھوں نے ان کا زبردست خیال رکھا، اور یہ کہ ان کی تمنائیں کورونا وائرس کے دیگر متاثرین کے ساتھ ہیں۔

    سنیچر کو 55 سالہ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کی زندگی نیشنل ہیلتھ سروس کے عملے کی مرہونِ منت ہے جس نے ان کورونا وائرس کا علاج کیا۔

    یاد رہے کہ ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ 27 مارچ کو مثبت آیا تھا۔

  16. بریکنگ, برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن ہسپتال سے ڈسچارج

    کورونا، بورس جانسن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزیرِ اعظم کئی دنوں تک کورونا وائرس کی وجہ سے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل رہنے کے بعد آج ڈسچارج کر دیے گئے ہیں۔

    وہ گذشتہ اتور سے لندن کے سینٹ تھامس ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔

    ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ نے ان کے ڈسچارج کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔

  17. 101 سالہ شخص کورونا وائرس سے صحتیاب

    دنیا بھر کے ہسپتالوں سے ویسے تو افسوسناک خبریں آ رہی ہیں، مگر انگلینڈ کے شہر ورسسٹرشائر میں نیشنل ہیلتھ سروس کے زیرِ انتظام ایک ہسپتال سے اچھی خبر یہ ہے کہ 101 سالہ شخص کیتھ نے کورونا وائرس کو شکست دی ہے۔

    ایلیگزینڈرا ہسپتال میں وارڈ کے عملے نے ان کی دو ہفتے تک نگہداشت کی جس کے بعد انھیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

  18. یروشلم: مسیحیوں کا مقدس ترین مقام ایسٹر کے روز بند

    ایسٹر، یروشلم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں آج مسیحی برداری ایسٹر کا تہوار منا رہی ہے مگر یروشلم کے مقدس شہر میں وہ جگہ جہاں مسیحی روایات کے مطابق پیغمبر عیسیٰ کو مصلوب کیا گیا تھا اور جہاں سے وہ دوبارہ اٹھائے گئے تھے، اسے ایک صدی سے بھی زیادہ کے عرصے میں ایسٹر کے موقع پر پہلی بار بند رکھا گیا ہے۔

    پادریوں کا ایک چھوٹا سا گروہ اتوار کو چرچ آف دی ہولی سیپلکر پر جمع ہوا جبکہ کچھ عبادت گزار اندرونی صحن میں جمع ہوئے۔ ایک نفیس سفید لباس پہنے شخص نے بند دروازے کے سامنے عبادت کی۔

    مغربی دیوار کی جانب تھوڑی سی تعداد میں یہودیوں نے پاس اوور کے مذہبی تہوار کی عبادات کیں۔

    اسرائیل میں فی الوقت سماجی دوری کے سخت ترین ضوابط نافذ العمل ہیں۔

    ایسٹر، یروشلم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  19. برطانیہ: کورونا سے نسلی اقلیتیں بڑی تعداد میں متاثر, ریانا کروکسفرڈ، بی بی سی نیوز

    اس حوالے سے مزید ثبوت سامنے آ رہے ہیں کہ برطانیہ میں کورونا وائرس سے نسلی اقلیتیں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔

    انگلینڈ اور ویلز میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق صرف 14 فیصد افراد نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

    لیکن انٹینسیو کیئر نیشنل آڈٹ اینڈ ریسرچ سینٹر نے پایا ہے کہ تشویشناک حالت میں موجود 3000 سے زائد افراد میں سے 34 فیصد سیاہ فام، ایشیائی یا کسی اور نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

    لندن میں امراضِ تنفس کے ماہر 50 سالہ ڈاکٹر جون کے والد حال ہی میں کورونا وائرس کے سبب ہلاک ہوئے ہیں۔

    وہ نائیجیریا سے تعلق رکھتے تھے۔

    ڈاکٹر جون نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نسلی اقلیتوں کے حوالے سے بھی ڈیٹا اکھٹا کرے تاکہ ‘مستقبل میں ان برادریوں کے تحفظ کے لیے سبق حاصل کیا جا سکے۔’